Tuesday, 24 June 2025

تعارف علیم طاہر

 🌟 تعارفِ علیم طاہر – ایک ہمہ جہت فلمی،علمی،ادبی شخصیت 🌟

(فلمی مصنف، گیت کار، اداکار، ہدایت کار، اسکرپٹ رائٹر)


🎬 "فلم صرف روشنی، کیمرے اور ایکشن کا کھیل نہیں، احساس، زبان، تہذیب اور تخیل کا کارخانہ ہے۔ اور میں… اسی کارخانے کا ایک محنتی مزدور ہوں!"


میرا نام علیم طاہر ہے۔

میں مالیگاؤں (مہاراشٹر) سے تعلق رکھنے والا ایک تجربہ کار، تخلیقی اور جذبہ سے بھرپور فلمی شخص ہوں، جس نے گزشتہ 30 برس ادب، تھیٹر اور فلمی دنیا میں گزارے ہیں۔


---


🎥 فلمی سفر کی جھلکیاں 


"Super Boys of Malegaon" 

میں ڈائلیکٹ کنسلٹنٹ کی حیثیت سے آن اسکرین کریڈٹ۔


"مالیگاؤں کے شعلے" میں دھرمیندر (ویرو ) کا کردار نبھایا۔


مالیگاؤں ٹو دبئی، (پروڈیوسر اور اداکار)

 عورت، (شارٹ فلم )

چھوٹو سنجیو، (اداکار)

پھکری فیملی،( نیگیٹیو لیڈ کامیڈی ویلن ،اداکار)

 چھوٹو سنگھم تھری (لیڈ کریکٹر)

 جیسی فلموں اور شارٹ فلموں میں اداکاری۔


فلم پروڈیوسر کے طور پر کئی فلمیں بنائیں۔


🎼 نغمہ نگاری:


فلم: آج کا لاوارث – چھ گیتوں کے نغمہ نگار۔


فلم "ابھی تو رات ہے" – (مشہور نغمہ: "دیوانہ ہوا دیوانہ ہوا" اور اداکاری)


انوپ جلوٹا کا گایا ہوا بھجن: "توجو کرے آج وہی کل ہے جیون" بھی میرے قلم کی دین ہے۔


کئی مشہور البمز جیسے: آئی آئی دیوالی، "ان پہ سب اعتبار کرتے ہیں" البم میں نغمہ نگاری۔

مشہور "موسم" البم میں گیت نگاری ۔


🖋️ ادبی خدمات:


(20+ کتابیں شائع، جن میں شامل ہیں:)


01) عورت کچے کان کی (ناول)

02) علیم طاہر کے چھ ناولٹس (ناولٹس)


03) بلیک ہول (ناول)


04دستکوں کا موسم ( دستک سیریز پر پچاس افسانوں کا مجموعہ)


05) دنیا مسافر راستے (غزلیں/نظمیں/قطعات)


06) سر سنگم سنگیت (300 گیتوں کا مجموعہ)

07) شاعری موسیقی نغمگی ( کئی اصناف میں 300 گیتوں کا مجموعہ)

08) منظر پس منظر (مضامین)

09) میں سستا ہوں (غزلیں)

10) سوچ کینواس (غزلیں)

11) عشق رنگ موسم ( ہائیکو،ثلاثیاں)


12) خوابوں کی گاڑی (بچوں کا ادب)


13) صبح نکلتا وہ سورج (بچوں کی نظمیں)


14) انشائیوں کا ذائقہ (ادبی انشائیے)


📚 میری کئی کتابیں Rekhta.org پر بھی دستیاب ہیں۔


---


📖 شخصیت پر تحقیقی کتب:


15) . گیتوں کا شہزادہ: علیم طاہر _ از ڈاکٹر سیفی سرونجی


16) . علیم طاہر کے گیت کا نیا منظرنامہ _ از _  ڈاکٹر مناظر عاشق ہرگانوی


17) دستک پہ دستک (افسانوں کا مجموعہ)


18) نئے افسانے ( مشہور افسانہ نگاروں کا  افسانوی انتخاب)


19) نئے افسانچے (مشہور افسانچہ نگاروں کا  انتخاب )


20) خاموش چیخیں ( 300/افسانچوں کا مجموعہ)


🎓 تعلیم:


ٹریپل ایم اے (تاریخ،/ اردو،/ ہسٹری /تعلیم)


بی ایڈ، ایم ایڈ


جرنلزم ڈپلومہ


پی ایچ ڈی زیر تکمیل


🗣️ زبانیں: اردو، ہندی، انگریزی، مراٹھی, گجراتی ، فارسی ، عربی ۔


---


📣 اب میری خواہش ہے کہ میں ممبئی فلم انڈسٹری (بالی ووڈ) میں بطور اسکرپٹ رائٹر، نغمہ نگار یا اداکار اپنی خدمات پیش کروں۔

اگر آپ کسی فلمی پروجیکٹ، البم، ویب سیریز یا ڈرامہ کے لیے اصل اور دل کو چھو لینے والے مکالمے، گیت یا کہانی چاہتے ہیں، تو مجھے ضرور یاد کیجیے۔


📞 رابطہ: 9623327923

📧 ای میل: aleemtahir12@gmail.com

📍 مالیگاؤں، مہاراشٹر

🎬 دستیاب برائے: فلم، ٹی وی، او ٹی ٹی، اشتہار، ویب سیریز، نغمہ نگاری، ڈبنگ، اسکرپٹ


---


🌟 اپنے الفاظ میں کہوں تو:

"میں صرف لکھتا نہیں، ہر لفظ کو جیتا ہوں… اور کرداروں کو نبھاتا نہیں، ان کی روح میں اُتر جاتا ہوں!"

                      #علیم #طاہر# 


---


📌 


#AleemTahir #BollywoodWriter #SongLyricist #ScreenplayWriter

#UrduPoet #IndianCinema #MalegaonFilms #StoryTeller #LyricistOfIndia

#BollywoodOpportunity #MumbaiFilmIndustry #ScriptWriterIndia

#DirectorActorWriter #HindiCinemaTalent #CreativeArtistIndia

#OriginalScreenplay #OTTWriter #ContentCreatorIndia

#UrduWriterInBollywood #AalimTahirInMumbai #SuperBoysOfMalegaon

#RekhtaAuthor #FilmIndustryTalent #NewBollywoodVoice


https://www.facebook.com/share/v/1AkrdRoXTA/


---

#(#C)#:

#AleemTahir 

#Emailid: #aleemtahir12@gmail.com 

#Mobileno.#9623327923#.

________________________

Wednesday, 18 June 2025

افسانہ نمبر 26 ایک چھت کے نیچے

  افسانہ لکھتے ہوئے مجھ میں محدود زندگی میں زندگی کا حق ادا کرنے کا احساس مزید شدت اختیار کرنے لگا تھا۔ )


افسانہ نمبر:26 

عنوان: "ایک چھت کے نیچے"

✍️ افسانہ نگار: علیم طاہر


---


           بارش زوروں پر تھی۔ بادلوں کی گرج میں کچھ ایسا تھا گویا آسمان بھی زمین پر گرتے انسانی رشتوں کو سنوارنے کی فریاد کر رہا ہو۔ شہر کے اس پرانے محلے کی گلی میں پانی گھٹنوں تک آ چکا تھا۔ پرانی، جھکی چھتوں والے مکان قطار در قطار کھڑے تھے، جیسے وقت کے تھکے سپاہی، جو اب بھی اپنے اندر زندگی کا چراغ جلائے ہوئے تھے۔


یہ گلی خاص تھی۔ یہاں ایک چھت کے نیچے چار خاندان رہتے تھے —

پنڈت ہری نارائن، امام بشیر الدین، سردار بلونت سنگھ، اور پاسٹر میتھیو۔

چار مذاہب، چار تہذیبیں، مگر ایک دیوار پر ٹنگا کیلنڈر سب کے لیے ایک تھا۔


---


منظر اول: 


صبح کے وقت پنڈت ہری نارائن اپنے آنگن میں تلسی پر جل چڑھاتے، اتنے میں امام بشیر کی اذان کی آواز فضاء میں گھلتی۔ سردار بلونت سنگھ اخبار کی گڈی تھامے سب کے دروازے پر باری باری رکھتا، اور پاسٹر میتھیو بچوں کو اسکول چھوڑنے سے پہلے سب کے لیے "خدا کا فضل ہو" کی دعائیہ آواز لگاتا۔


زندگی عام تھی، اور ایک دوسرے کی موجودگی، محض عادت نہیں بلکہ ضرورت بن چکی تھی۔


---


منظر دوم: 


         اس دن آسمان پر صرف بادل ہی نہیں چھائے تھے، کچھ خبروں کے کالے سائے بھی اتر آئے تھے۔ شہر میں مذہبی اشتعال کی لہر چل نکلی۔ جلوس، نعرے، شکوے، اور افواہوں نے فضا میں زہر گھول دیا۔


محلے کے باہر ہجوم بڑھتا جا رہا تھا۔ کسی نے چیخ کر کہا:

"اس گلی میں وہ سب رہتے ہیں، ایک ساتھ؟ انہی کی وجہ سے شہر خراب ہوا ہے!"


خطرے کی بو سب نے محسوس کی۔


---


منظر سوم:


          سردار بلونت سنگھ نے سب کو اپنے کمرے میں بلایا۔

"ہمیں اب ثابت کرنا ہے کہ ہمارا ایمان مذہب سے نہیں، انسانیت سے جُڑا ہے۔"


پنڈت ہری نارائن بولے، "اگر ہمارا ساتھ ٹوٹا، تو یہ محلہ نہیں، انسانیت بکھر جائے گی۔"


امام بشیر بول اٹھے، "ہم نے مل کر بچوں کی شادیاں کیں، عید، دیوالی، بیساکھی، اور کرسمس منائے... اب یہ دیوار اگر گرتی ہے تو ہم سب نیچے آئیں گے، یا سب مل کر اسے تھامیں گے؟"


پاسٹر میتھیو نے ہاتھ جوڑ کر کہا،

"ہمیں اب روشنی بننا ہوگا، ورنہ اندھیرے جیت جائیں گے۔"


---


منظر چہارم:


          محلے کے باہر ایک مشعل بردار ہجوم آ چکا تھا۔ شور بڑھتا جا رہا تھا۔ مگر اسی وقت اس پرانی چھت کے نیچے سے چاروں بزرگ باہر آئے — ہاتھوں میں مذہبی کتابیں، دل میں محبت۔


انہوں نے ایک ہی جملہ بولا:


"یہ گلی صرف انسانوں کی ہے، نفرت کی نہیں۔ ہم الگ مذہب کے سہی، مگر ایک درد، ایک امید، ایک وطن کے وارث ہیں۔"


ہجوم کا شور کچھ دیر کو رک گیا۔ پھر اچانک کچھ بزرگ، نوجوان، خواتین — سب گھروں سے نکل آئے۔ کسی کے ہاتھ میں گیتا، کسی کے پاس قرآن، کوئی گرنتھ صاحب سنبھالے، تو کوئی بائبل تھامے۔

ایک انسانیت کی قطار بن گئی۔ دیوارِ نفرت اس روشنی سے پگھل گئی۔


--


بارش تھم چکی تھی۔ آنگن میں پانی اب بھی تھا، مگر اب وہ دھوپ کی پہلی کرن سے چمک رہا تھا۔


ایک چھت کے نیچے، چاروں خاندانوں نے ایک نئی تاریخ رقم کی —

جہاں محبت کا مذہب سب سے بڑا تھا، اور دلوں کا خدا سب سے عظیم۔


---


بارش تو تھم گئی تھی، مگر جو نمی در و دیوار میں بس گئی تھی، وہ راتوں تک سسکیوں کی طرح رستی رہی۔ اس روز کے بعد محلے کی فضا اور بھی پرسکون ہو گئی تھی، جیسے انسانیت نے وقت کو روک کر ایک نیا سانس دیا ہو۔ مگر سکون کا ایک عجب پہلو بھی ہوتا ہے— وہ اکثر کسی طوفان کا پیش خیمہ ہوتا ہے۔


صبح کے وقت امام بشیر دروازے پر کھڑے اذان دے رہے تھے، ان کی آواز میں وہی مٹھاس تھی جو کبھی اُن کے مرحوم والد کی آواز میں ہوتی تھی۔ پنڈت ہری نارائن دھیان لگائے بیٹھے تھے، پاسٹر میتھیو اپنی پناہ گاہ میں بچوں کو بائبل کی کہانیاں سناتے ہوئے مسکرا رہے تھے اور سردار بلونت سنگھ سب کے لیے ناشتہ بنا رہے تھے — پراٹھے، ابلے انڈے، اور چائے۔ سب کچھ معمول پر تھا، مگر دلوں میں ایک نئی احتیاط نے جنم لیا تھا۔


اسی دن ایک اجنبی خاندان اس محلے میں کرائے پر آیا۔ میاں بیوی، اور ان کا سات سالہ بیٹا۔ چہرے سے وہ بہت تھکے اور بیزار لگتے تھے۔ ان کے آنے کی خبر سب تک پہنچی، اور سب نے ان کا استقبال کرنے کا فیصلہ کیا۔


پہلی دستک امام بشیر نے دی۔ دروازہ کھلا تو سامنے کمزور سی عورت اور ایک گھبرایا ہوا بچہ کھڑا تھا۔ پیچھے سے مرد بھی آ گیا، جس نے شکریہ کے بجائے محض سر ہلا دیا۔ کچھ ایسا تھا ان کی آنکھوں میں کہ بشیر صاحب نے صرف دعا دی اور پلٹ آئے۔


شام کو سردار بلونت سنگھ چائے کا تھرمس لے کر پہنچے۔ دروازہ کھلا، اور اس بار مرد نے کچھ نرمی سے بات کی۔ "ہم ابھی بس تھوڑا وقت چاہتے ہیں، سب کچھ بھول جانا ہے…" بلونت سنگھ نے تھرمس تھما کر صرف اتنا کہا، "یہ گلی بھولنے کی نہیں، اپنوں کو پانے کی جگہ ہے۔"


کئی دن گزر گئے۔ وہ خاندان زیادہ باہر نہ نکلتا، نہ کسی سے میل جول کرتا۔ پھر ایک دن ان کا بیٹا اچانک محلے کے دوسرے بچوں کے ساتھ کھیلنے لگا۔ اس کا نام روہن تھا، مگر جب اس نے "اللہ حافظ" کہہ کر امام بشیر کے پوتے سے رخصت لی، تو بہت سے دروازوں پر سوالات کھل گئے۔


اگلے دن وہی بچہ پنڈت ہری نارائن کے ساتھ آرتی میں شامل ہو گیا، اور شام کو پاسٹر میتھیو کی دعا میں "آمین" بھی کہی۔ سردار بلونت سنگھ کے ساتھ اس نے گردوارے کی سیوا میں بھی حصہ لیا۔ یہ منظر اس محلے کے لیے نیا نہ تھا، لیکن اس بچے کے والد کے لیے ضرور تھا، جو اکثر اپنی کھڑکی سے اسے یہ سب کرتے دیکھتا اور کچھ دیر بعد چہرہ پھیر لیتا۔


آخر ایک دن، جب پورے محلے نے مل کر یتیم بچوں کے لیے فنڈ اکٹھا کیا، اس اجنبی شخص نے خود آ کر چندہ دیا۔ سب نے خوش دلی سے استقبال کیا، مگر پاسٹر میتھیو نے نرمی سے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا، اور کہا، "محبت کے دروازے بند نہیں ہوتے، بس کبھی کبھی دل دیر سے کھلتے ہیں۔"


وہ شخص پہلی بار کھل کر مسکرایا۔


اس کے بعد وہ محلے کے سبھی تہواروں میں شریک ہونے لگا۔ عید کے دن امام بشیر کے ساتھ شیر خرما کھایا، دیوالی کی شام پنڈت ہری نارائن کے ساتھ چراغاں کیا، بيساکھی پر سردار بلونت سنگھ کے ساتھ بھنگڑا ڈالا، اور کرسمس کی رات پاسٹر میتھیو کے ساتھ گرجا گھر گیا۔


محلے میں ایک نئی کہانی رقم ہو چکی تھی۔

کہیں مذہب کی پہچان تھی، کہیں انسان کی۔

مگر سب کچھ ایک چھت کے نیچے ہو رہا تھا…

جہاں دیواریں صرف اینٹ کی ہوتی تھیں، دل کی نہیں۔


     مذہب الگ ہو سکتے ہیں، انسانیت نہیں۔ اتحاد وہ چراغ ہے، جو ہر اندھیرے میں روشنی کرتا ہے — بس اُسے بجھنے نہ دو۔


_____


                   وقت تھم نہیں جاتا، چاہے دل چاہے یا نہیں۔


سالوں کا سفر پلک جھپکتے بیت گیا۔ محلے کے بچے جوان ہو چکے تھے۔ امام بشیر کا پوتا زید اب ایک مقامی اسپتال میں ڈاکٹر بن چکا تھا، پنڈت ہری نارائن کی پوتی سمیرا ایک اسکول میں تاریخ پڑھاتی تھی، سردار بلونت سنگھ کا پوتا ارجن اب ایک پولیس آفیسر تھا اور پاسٹر میتھیو کا نواسا ڈینیل بیرونِ ملک سے تعلیم مکمل کر کے واپس آ گیا تھا۔ اور وہ بچہ… روہن… جو کبھی خاموش سا آیا تھا، آج شہر کے سب سے کامیاب سوشل میڈیا چینل کا رپورٹر تھا، جو 'امن کی آواز' کے نام سے پہچانا جاتا تھا۔


ان سب کی دوستی وقت کے ہر طوفان سے گزری، مگر بکھری نہیں۔


محلہ بھی بدل گیا تھا۔ اب وہاں رنگین دیواروں والے مکان تھے، لیکن دل اب بھی پرانی چھتوں جیسے تھے — کھلے، وسیع، سب کو سایہ دینے والے۔


ایک دن شہر میں مذہبی فساد کی آگ بھڑکی۔ باہر نفرت کے نعرے تھے، اندر خوف کا بسیرا۔ لیکن محلہ "سرسوتی لین" اب بھی اپنی کہانی کا وہی باب دہرا رہا تھا… محبت کا، میل ملاپ کا، انسانیت کا۔


زید زخمیوں کا علاج کر رہا تھا، سمیرا بچوں کو پناہ دے رہی تھی، ارجن فساد روکنے میں مصروف تھا، ڈینیل امن کی دعائیں بانٹ رہا تھا اور روہن ہر منظر کو کیمرے میں قید کر کے دنیا کو دکھا رہا تھا کہ "یہ ہے ہندوستان، جہاں دل مذہب سے نہیں، محبت سے دھڑکتے ہیں۔"


اس دن ان سب نے مل کر میڈیا پر ایک پیغام دیا:

"ہم ہندو، مسلم، سکھ، عیسائی نہیں… ہم انسان ہیں۔ اور یہ محلہ صرف پتھروں سے نہیں، جذبوں سے بنا ہے۔"


یہ پیغام جنگل کی آگ کی طرح پھیلا۔ پورے شہر میں ان کا محلہ "امن نگر" کے نام سے مشہور ہو گیا۔ وہ علاقہ جسے کبھی فرقہ واریت کے خطرات ڈسنے کو آتے تھے، آج محبت کی مشعل جلانے لگا۔


روہن نے ایک دستاویزی فلم بنائی – "ایک چھت کے نیچے"۔

اس فلم کو ایوارڈز تو ملے ہی، مگر اس سے بڑھ کر…

اس نے بے شمار لوگوں کے دلوں کو بدل دیا۔


کلائمکس میں نہ کوئی المیہ تھا، نہ کوئی قربانی۔

صرف ایک سچ تھا —

“انسانیت جب بولتی ہے، تو مذہب خاموشی سے سر جھکا دیتا ہے۔”


افسانہ ختم نہیں ہوا…

بس ایک چراغ جل گیا…

اور چراغ کہانیاں نہیں لکھتے، وہ راہیں روشن کرتے ہیں۔


افسانہ نگار ✍️: علیم طاہر

_______

(افسانہ پسند آئے تو شیئر کیجئے ۔)


(C):

Afsana 

Ek chat  ke neeche 

By 

Aleem Tahir 

Email id aleemtahir12@gmail.com.

-----

Introduction of Aleem Tahir

 --

🌟 Introducing Aleem Tahir – A Versatile Film, Literary & Artistic Personality 🌟

(Film Writer, Lyricist, Actor, Director, Scriptwriter)


🎬 "Cinema is not merely about lights, cameras, and action. It is a factory of emotions, language, culture, and imagination. And I… am a humble laborer in that creative factory."


My name is Aleem Tahir,

I hail from Malegaon, Maharashtra, and I am a passionate, experienced, and creative film professional who has dedicated over 30 years of my life to the world of literature, theatre, and cinema.


---


🎥 Highlights of My Cinematic Journey:


"Super Boys of Malegaon" – On-screen credit as Dialect Consultant.


Played the iconic Veeru (Dharmendra) in "Malegaon Ke Sholay".


"Malegaon to Dubai" – Producer & Actor.


Acted in various films and short films including:


Aurat (Short Film)


Chhotu Sanjeev


Phakri Family (Negative Lead Comedy Villain)


Chhotu Singham 3 (Lead Character)


Produced multiple films independently.


---


🎼 As a Lyricist:


Wrote six songs for the film "Aaj Ka Lawaris"


Penned the famous song “Deewana Hua Deewana Hua” and also acted in the film “Abhi To Raat Hai”


Spiritual song “To Jo Kare Aaj Wahi Kal Hai Jeevan” sung by Anup Jalota is one of my creations


Albums: “Aayi Aayi Diwali”, “Un Pe Sab Aitbaar Karte Hain”, and “Mausam” (renowned song collections)


---


📚 Literary Contributions: (20+ Published Books)


1. Aurat Kachay Kaan Ki (Novel)


2. Six Novellettes by Aleem Tahir


3. Black Hole (Novel)


4. Dastakon Ka Mausam (50 stories in Dastak Series)


5. Duniya Musafir Raaste (Poems & Ghazals)


6. Sur Sangam Sangeet (300 song collection)


7. Shayari, Music, Melody (300 songs in various forms)


8. Manzar Pas Manzar (Essays)


9. Main Sasta Hoon (Ghazals)


10. Soch Canvas (Ghazals)


11. Ishq Rang Mausam (Haiku & Tercets)


12. Khawabon Ki Gaadi (Children’s Literature)


13. Subah Nikalta Woh Suraj (Children’s Poems)


14. Inshaiyon Ka Zaiqa (Humorous Essays)


Many of my books are also available on Rekhta.org.


---


📖 Books Written About Me:


15. Geeton Ka Shehzada: Aleem Tahir – by Dr. Saifi Sarwanji


16. A New Vision of Aleem Tahir’s Lyrics – by Dr. Manazir Aashiq Harganvi


17. Dastak Pe Dastak (Story Collection)


18. Naye Afsane (A selection of famous contemporary short stories)


19. Naye Afsanche (A collection of modern flash fiction)


20. Khamosh Cheekhein (300 flash fiction stories)


---


🎓 Education:


Triple M.A. – History, Urdu, Education


B.Ed., M.Ed.


Diploma in Journalism


Ph.D. in progress


🗣️ Languages Known:

Urdu, Hindi, English, Marathi, Gujarati, Persian, Arabic


---


📣 Now seeking opportunities in Mumbai Film Industry (Bollywood)

As a Scriptwriter, Lyricist, or Actor, I aim to contribute original, emotionally rich, and thought-provoking content.


If you are looking for authentic scripts, soulful songs, impactful dialogues, or creative direction for your film, album, web series, or drama, feel free to reach out.


📞 Contact: +91 9623327923

📧 Email: aleemtahir12@gmail.com

📍 Location: Malegaon, Maharashtra

🎬 Available for: Films, TV, OTT, Ads, Web Series, Lyrics, Dubbing, Scriptwriting


---


🌟 In my own words:

"I don't just write words—I live them. I don’t merely act—I dive into the soul of each character."


#AleemTahir #BollywoodWriter #SongLyricist #ScreenplayWriter

#UrduPoet #IndianCinema #MalegaonFilms #StoryTeller #LyricistOfIndia

#BollywoodOpportunity #MumbaiFilmIndustry #ScriptWriterIndia

#DirectorActorWriter #HindiCinemaTalent #CreativeArtistIndia

#OriginalScreenplay #OTTWriter #ContentCreatorIndia

#UrduWriterInBollywood #AalimTahirInMumbai #SuperBoysOfMalegaon

#RekhtaAuthor #FilmIndustryTalent #NewBollywoodVoice


🔗

افسانہ نمبر 29 خاموش پتنگ



افسانہ نمبر : 29 _ خاموش پتنگ


افسانہ نگار: علیم طاہر


         


            "پتنگ اگر ہار جائے، تو سمجھ لینا ہوا نہیں، یقین کمزور تھا۔"

یہ جملہ زریاب نے اُس وقت پہلی بار سنا تھا جب وہ صرف سات سال کی تھی، اور اُس کے دادا کی انگلی پکڑ کر چھت پر آسمان کو دیکھا کرتی تھی۔


دادا کی انگلی میں لرزش تھی، مگر ڈور مضبوط تھی۔

وہ بوڑھے ہاتھ ایک کاغذی پتنگ کو یوں تھامے ہوتے جیسے کسی خواب کی لگام ہو۔

دادا کہا کرتے،


 "پتنگ صرف کاغذ نہیں ہوتی... یہ وہ خواب ہے جو ہوا سے لڑنا سیکھتے ہیں۔"


زریاب کو تب یہ صرف ایک کھیل لگتا تھا۔

مگر زندگی، کھیل نہیں نکلی۔


---


          دادا کے انتقال کے بعد، زریاب کی دنیا میں ایک خلا پیدا ہو گیا۔

چھت پر اب صرف خاموشی رہتی — وہی چھت، جہاں ہر اتوار کو رنگ برنگی پتنگیں دادا کے ہاتھوں آسمان چھوتی تھیں۔


ایک دن، دادا کی پرانی صندوقچی کھولتے ہوئے زریاب کو ایک کٹی ہوئی پتنگ ملی۔

پتنگ کا رنگ ماند پڑ چکا تھا، مگر اس پر ایک دھندلا سا جملہ لکھا تھا:


 "ہر پتنگ ایک وارث مانگتی ہے۔"


زریاب چونکی۔

کیا یہ جملہ اُس کے لیے تھا؟


اُس رات اُس نے پہلی بار ڈور کو چھوا۔

زخم لگے، انگلیاں کٹیں، لیکن اُس نے سیکھا —

پتنگ کیسے جیتتی ہے؟

ڈور سے نہیں، دل سے۔


---


            مہینوں کی مشق کے بعد، زریاب نے دادا کی پرانی مانجھی ہوئی ڈور سے ایک نئی پتنگ بنائی —

سفید، مگر اس پر رنگ برنگے خواب۔

پھیکی، مگر اُمید سے بھری۔


چھت پر آج بھی لوگ حیرت سے اسے دیکھتے تھے۔

"یہ وہی لڑکی ہے؟ دادا والی؟"

"کیا یہ اڑا پائے گی؟"


زریاب کی پتنگ اُڑنے لگی — آسمان میں ایک کچی امید کی طرح۔

ہوا مخالف تھی۔

راہمیر کی ٹیم "ہواباز" پوری قوت سے چھتوں پر چھائی ہوئی تھی۔


راہمیر، جو پتنگ بازی کو جنگ سمجھتا تھا، اور زریاب کو ایک مذاق۔


"یہ بچی؟ دادا کی وارث؟ ہاہ!"


زریاب نے بس دادا کی آواز سنی...


 "وقار سے اڑنے والا کبھی گرتا نہیں، زریاب۔"


---


         مقابلے کے دن آسمان رنگوں سے بھر گیا۔

زریاب کی پتنگ مخالف سمتوں سے گھری ہوئی تھی۔


تب اسے احساس ہوا —

ڈور میں چبھن ہے۔

ہاتھ زخمی ہو گئے۔

خون بہہ نکلا۔


کسی نے اُس کی پتنگ کی ڈور میں زہر ملایا تھا...

یہ صرف مقابلہ نہیں تھا، سازش تھی۔


راہمیر چلاّیا:

"یہی ہوتا ہے جب خواب عورتوں کے ہاتھوں میں آ جائیں!"


زریاب کا دل لرزا، مگر اُس کی روح میں دادا کی پکار تھی:


> "زریاب! اگر ہوا دشمن ہو جائے، تو پرواز میں ہچکچاہٹ نہیں، ہنر دکھاؤ!"


---


         زریاب نے دونوں ہاتھوں سے زخمی ڈور تھامی۔

چیخوں کے درمیان، خاموشی کی لکیروں سے گزرتی، اُس نے ایک آخری جھٹکا دیا...


راہمیر کی پتنگ قلابازی کھا کر نیچے گر گئی۔


سناٹا چھا گیا۔


زریاب کی پتنگ... آسمان پر اکیلی رہ گئی۔

خاموش، مگر فتح مند۔


-----


    شام کے وقت، زریاب نے وہی صندوقچی کھولی۔

اب وہ صرف دادا کی یاد نہیں تھی،

بلکہ خود ایک داستان بن چکی تھی۔


پرانی پرچی کے نیچے ایک خفیہ نوٹ تھا، شاید دادا نے کبھی مکمل نہیں کیا تھا:


 "زریاب، اگر یہ پڑھے... تو جان لے کہ ہر پتنگ ہار سکتی ہے، مگر وارث اگر ہار مانے، تو پورا آسمان خالی ہو جاتا ہے۔"


زریاب نے نیچے اپنی تحریر میں لکھا:


"دادا... اب آسمان کبھی خالی نہیں رہے گا۔"


افسانہ نگار :  علیم طاہر 


---

(C):Afsana 

Khamosh patang 

Afsana Nigar:

 Aleem Tahir 

Email id: 

aleemtahir12@gmail.com

______________________

مضمون نمبر 02 ادب ۔۔۔۔

 "ادب تبھی زندہ رہتا ہے جب وہ ضمیر کی آواز، سچ کی گواہی اور سماج کے خلاف ایک خاموش بغاوت بن جائے۔

یہ مضمون صرف پڑھنے کے لیے نہیں — سوچنے اور جاگنے کے لیے ہے!"

✒️ از: علیم طاہر

📖 مکمل مضمون پڑھیں، محسوس کریں اور شیئر کریں… کیونکہ ادب کی خاموشی، سماج کی موت ہے۔ 


#ادب_کا_ضمیر  

#آزادی_اور_ادب  

#قلم_کی_آواز  

#سچ_کا_ادب  

#علیم_طاہر  

#ادبی_سوچ  

#خاموش_بغاوت  

#تخلیقی_تحریک  

#ادب_زندہ_ہے  

#سچ_لکھو  

#اردو_ادب  

#ادبی_مکالمہ  

#ادب_برائے_سماج


مضمون نمبر: 02


عنوان: ادب اور ضمیر کی آواز: قلم کی صداقت کا بحران


مضمون نگار: علیم طاہر


ادب کا بنیادی فریضہ سماج کی نبض پر ہاتھ رکھنا، سچائی کی گواہی دینا اور مظلوم کی صدائے احتجاج کو لفظوں کا قالب دینا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ جب ادیب خود مصلحت کی دبیز چادر اوڑھ لے، جب قلم نفع و نقصان کے ترازو میں تولا جانے لگے، اور جب تحریر "مناسب وقت" کی تاک میں دم سادھے بیٹھ جائے، تب کیا ادب، ادب رہتا ہے یا محض کاغذ پر لکیریں؟


ادب دراصل ضمیر کی وہ آواز ہے جو وقت، اقتدار اور خوف سے ماورا ہو کر گونجتی ہے۔ جس ادب میں ضمیر کی گواہی نہ ہو، وہ کتنا ہی فصیح کیوں نہ ہو، فقط ایک رسمی اظہار ہے، کوئی داخلی تڑپ یا سچائی کا آہنگ نہیں رکھتا۔ آج کا ادیب دو دنیاؤں کے بیچ جھول رہا ہے: ایک طرف آزادیِ اظہار کے عالمی دعوے، دوسری طرف داخلی و خارجی دباؤ۔ ایسے میں سب سے بڑا چیلنج یہی ہے کہ قلم اپنی راہ کیسے چُنے؟


آزادیِ اظہار محض ایک قانونی اصطلاح نہیں، بلکہ یہ ادب کی سانس ہے۔ تخلیق کا دم اسی وقت گھٹتا ہے جب سچ لکھنے والا خود کو تنہا محسوس کرے۔ اور یہ المیہ کم و بیش ہر عہد میں دہرایا جاتا رہا ہے۔ وہ ادیب جو وقت کی سفاکیوں کو لفظوں میں ڈھالنے کی جرأت رکھتا ہے، وہی اصل معنوں میں خالق کہلانے کے لائق ہوتا ہے۔ مگر معاشرے کو ایسے تخلیق کاروں سے ہمیشہ خوف رہا ہے — شاید اس لیے کہ وہ بے نقاب کرتے ہیں، خوشامد نہیں۔


معاشرتی نظام میں ہر وہ آواز جو سوال اٹھاتی ہے، مشکوک قرار دی جاتی ہے۔ ایسے میں ادیب کے لیے سچ لکھنا آسان نہیں رہتا۔ مگر یہی تو اصل تخلیق کی آزمائش ہے۔ یہ آزمائش صرف قلم سے نہیں، ضمیر سے ہوتی ہے۔ جس لمحے ادیب مصلحت کے آگے سر جھکا لے، وہ لمحہ ادب کے جنازے کا پہلا اعلان بن جاتا ہے۔


نئے زمانے کے ادیبوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ اگر ادب ضمیر کی آواز نہیں بنے گا تو وہ فقط بازار کا مضمون ہوگا۔ ہم ادب کو بازار سے نکال کر سچ کی راہوں پر واپس لا سکتے ہیں، مگر اس کے لیے بے خوفی، فکری ایمانداری اور سچائی سے بے پناہ عشق درکار ہے۔ ایسے میں شاید ہمارا ادب وہ آئینہ بن جائے، جس میں صرف چہرے ہی نہیں، کردار بھی دکھائی دیں۔


قلم کبھی بھی غیر جانب دار نہیں ہوتا۔ وہ یا تو سچ کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے یا خاموشی کے جرم میں شریک ہو جاتا ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا ادب آنے والی نسلوں کے ضمیر کو بیدار کرے، تو ہمیں آج ہی اپنے قلم کو ضمیر سے جوڑنا ہوگا، کسی مفاد سے نہیں۔


---


جب قلم سچ لکھنے سے گھبرانے لگے، جب ادیب لفظوں کو کانٹوں کی طرح چنے، اور جب ہر جملہ کاغذ پر اترنے سے پہلے مصلحت کی چھلنی سے گزرے، تب تخلیق کی اصل روح دم توڑنے لگتی ہے۔ ادب کوئی ہنر یا تفریح کا ذریعہ نہیں، یہ روح کی آگہی ہے، وہ آئینہ ہے جو چمکتا تبھی ہے جب سچ کی روشنی اس پر پڑے۔


لیکن آج کے دور میں، سچ کی روشنی ناپید ہوتی جا رہی ہے۔ ہر طرف دھواں ہے — مصلحت کا، مصلحت اندیشی کا، اور چپ رہنے کی تربیت کا۔ ادیب کو سکھایا جا رہا ہے کہ خاموشی بھی ایک فن ہے، مگر کوئی یہ نہیں بتاتا کہ یہ فن اصل میں بزدلی ہے۔ ایک ایسا خول، جو انسان کو اندر سے کھوکھلا کر دیتا ہے۔


ادب اگر صرف "قابلِ اشاعت" ہونے کے اصول پر چلے گا، تو پھر یہ صرف طباعت زدہ صفحے ہوں گے، زندہ الفاظ نہیں۔

ادب اگر کسی ایوارڈ یا داد کے حصول کے لیے لکھا جائے، تو وہ تحریر صرف تقریری خوشامد بنے گی، احتجاجی صدا نہیں۔

ادب اگر حق گوئی سے ہچکچائے، تو وہ صرف دل بہلانے کا سامان رہ جائے گا، ضمیر جگانے کا نہیں۔


ہر وہ ادب جو اپنے عہد کی سچائی سے نظریں چراتا ہے، وہ اپنے وقت کا سب سے بڑا مجرم ہوتا ہے۔ کیونکہ ادب صرف جمالیاتی تجربہ نہیں ہوتا، یہ اخلاقی فریضہ بھی ہے۔ ادب کو اگر آج کے ظلم، استحصال، اور ناانصافی پر خاموشی طاری ہے، تو وہ صرف کمزور نہیں، خائن بھی ہے۔


یاد رکھیے، بڑے ادیب وہی ہوئے جنہوں نے اپنے قلم کو زمانے کے جبر کے سامنے جھکنے نہ دیا۔

منٹو کو "فحش" کہا گیا، مگر وہ "سچ کا سپاہی" تھا۔

فراز کو "باغی" کہا گیا، مگر وہ "محبت کا سچ بولنے والا" تھا۔

فیض کو قید کیا گیا، مگر ان کا شعر قید سے آزاد ہو کر قلوب پر راج کرتا رہا۔


کیا آج کے ادیب کو یہ ورثہ یاد ہے؟ کیا ہم نے قلم کو خوف کی گرفت میں دے دیا ہے؟ کیا ضمیر کی گواہی اب اشاعت سے مشروط ہو گئی ہے؟


یہ وہ سوال ہیں جن پر ہر سنجیدہ ادیب کو خود سے مکالمہ کرنا ہوگا۔

کیونکہ اگر ادب آئینہ ہے، تو ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ کہیں ہم نے اس آئینے پر سہولتوں کا پردہ تو نہیں ڈال دیا؟


---


تحریر محض لفظوں کا کھیل نہیں، یہ ایک روحانی کشمکش ہے — ایک مسلسل بغاوت، ایک ناگزیر جنگ۔ وہ جنگ جو تخلیق کار کا اپنے ضمیر سے ہوتی ہے، زمانے سے نہیں۔


ادب وہی ہوتا ہے جو وقت کے رخ پر سوال کی کھرچ چھوڑ دے، جو اقتدار کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر کہے:

"میں لفظ ہوں، میں سچ ہوں، میں ہوں وہ آگ جس سے تمہارے قلعے خاک ہو سکتے ہیں۔"


ادیب کا اصل امتحان تب شروع ہوتا ہے جب وہ مقبولیت اور صداقت کے بیچ کھڑا ہو — اور وہ راستہ چنے جو کٹھن ہو، مگر سچا ہو۔ آج بھی اگر کوئی تخلیق کار صرف اس لیے لکھ رہا ہے کہ وہ داد پائے، اشاعت ہو، پذیرائی ہو — تو وہ حرفوں کے تاجر ہیں، روح کے خالق نہیں۔


اصل ادب وہ ہوتا ہے جو:


ظلم پر خاموشی کو بے نقاب کرے


محبت کو رسموں سے آزاد کرے


انسان کو انسان سے جوڑنے والا پل بنے


اور سب سے بڑھ کر — انسان کو اس کے آپ سے ملوائے


یاد رکھیے، کوئی بھی معاشرہ اس وقت مرنے لگتا ہے جب اس کے ادیب خاموش ہو جائیں۔ کیونکہ جب حرف چپ ہو، تو سچ دفن ہو جاتا ہے۔

لیکن خوش نصیبی یہ ہے کہ ہر عہد میں کوئی نہ کوئی قلم ایسا ہوتا ہے جو صدیوں کی خاموشی کو توڑتا ہے۔


یہی قلم "ادب" کہلاتا ہے۔


اور ادب کبھی نہیں مرتا۔


ادب صرف کتابوں میں نہیں ہوتا، وہ دلوں میں جاگتا ہے، آنکھوں سے بولتا ہے، ضمیروں کو جھنجھوڑتا ہے، اور وقت کو فتح کرتا ہے۔


ادب وہ آہٹ ہے جو سماج کی کچلی ہوئی روح میں زندگی کی آواز بن کر گونجتی ہے۔

ادب وہ آنسو ہے جو بے حس چہروں پر احساس کی نمی لا دیتا ہے۔

ادب وہ احتجاج ہے جو خامشی سے بلند ہوتا ہے، اور زمانے کی دیواروں پر سوال کی طرح لکھا جاتا ہے۔


اگر آپ کے لفظ کسی کو چونکا نہ سکیں، جگا نہ سکیں، تو پھر وہ صرف روشنائی ہیں — روشنی نہیں۔

ادب وہی ہے جو سوال بن جائے، جو خواب دکھائے، جو زخم گنے نہیں بلکہ مرہم بن جائے۔


---




اے اہلِ قلم!

اگر تمہیں نیند آنے لگے، تو یاد رکھنا، تمہارے لفظوں کو جاگتے رہنا ہوگا۔

اگر تم خاموش ہو جاؤ، تو یاد رکھنا، کسی بے گناہ کی چیخ سنائی دینا بند ہو جائے گی۔

اور اگر تم نے سچ نہ لکھا — تو یاد رکھو، تم نے آنے والی نسلوں کے ضمیر پر جھوٹ کا قرض چڑھا دیا ہے۔


پس، ادب لکھو — مگر وہ جو زندہ ہو۔

جو لہو میں دھڑکے، جو آنکھوں میں چمکے، جو ضمیر کو جگائے۔


اور اگر تم ایسا ادب لکھ سکتے ہو —

تو تم سچے ادیب ہو۔


---

(C):

Mazmoon 

Adab aur Zameer Ki Awaaz 

Qalam ki sadaqat ka bohraan 

Mazmoon:

 Nigar Aleem Tahir 

Email id: aleemtahir12@gmail.com 

_________________________

Friday, 13 June 2025

افسانہ نمبر25 _وقت کی عدالت میں ایک خواب کا مقدمہ

افسانہ نمبر :  22


عنوان: "وقت کی عدالت میں ایک خواب کا مقدمہ"


(افسانہ نگار: علیم طاہر)


دنیا کی سب سے پُرانی عدالت میں ایک خواب کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔


الزام تھا:

"یہ خواب نیند سے باہر نکل آیا تھا!"


وقت، جو اس عدالت کا منصف تھا،

سیاہ لبادہ اوڑھے، کرسی پر نہیں…

بلکہ لمحوں کی کرچیاں بچھا کر بیٹھا تھا۔


خواب کو ہتھکڑی پہنائی گئی تھی —

ایک آنکھ نیلی، ایک آنکھ سیاہ،

جسم شفاف، اور آواز خاموش۔


مدعی ایک فلسفی تھا،

جو سچ کے تعاقب میں پاگل ہو چکا تھا۔


فلسفی نے عدالت میں کہا:


"یہ خواب میرے شعور میں بغاوت برپا کرتا ہے۔

یہ نیند میں آ کر مجھے جاگنے پر مجبور کرتا ہے۔

میں نے جب تاریخ کو دلیل بنایا،

تو اس نے ایک بچے کی ہنسی دکھا دی۔

جب میں نے مذہب کا سہارا لیا،

تو اس نے ایک پرندے کے پروں میں وحی چھپا دی۔

جب میں نے سیاست کے رنگ دکھائے،

تو یہ خواب بےرنگ ہو گیا —

اور کہا، رنگ سب اندھے ہوتے ہیں!"


وقت خاموش رہا۔

عدالت میں موجود لمحے، منٹ اور ساعتیں ایک دوسرے سے سرگوشی کرنے لگیں۔


تب ایک بوڑھی عورت اُٹھی۔

اس نے کہا:


"یہ خواب مجھے میری جوانی میں دکھائی دیا تھا —

جب میں نے محبت کی اور پھر وہ مر گئی۔

لیکن خواب نے کہا:

محبت کبھی نہیں مرتی، وہ صرف لباس بدلتی ہے۔

یہ خواب جھوٹا ہے۔

اسے سزا دو۔"


آخرکار، خواب کو بولنے کی اجازت ملی۔


اس نے کچھ نہ کہا،

صرف زمین پر جھک کر مٹی کو چھوا —

اور مٹی سے ایک تصویر بنائی:

ایک لڑکی، ایک چراغ، اور ایک سُنسان گلی۔


وقت چونکا۔

یہ تصویر اسے جانی پہچانی لگی۔


خواب نے پہلی بار لب کھولے:


"یہ گلی وہ ہے جہاں تم، اے وقت، ایک لمحے کے لیے رُک گئے تھے۔

جہاں تم نے ایک عورت کی آنکھ سے گرنے والے آنسو کو تھام لیا تھا۔

میں وہی لمحہ ہوں،

جسے تم نے ہمیشہ کے لیے بھلا دیا تھا!"


وقت نے کرسی سے اٹھ کر خواب کے سامنے سر جھکا دیا۔


فیصلہ سنایا گیا:


"یہ خواب مجرم نہیں…

بلکہ گواہ ہے —

ہمارے زوال کا،

اور اس روشنی کا،

جسے ہم نے خود سورج سمجھ کر مار دیا!"


اس دن سے عدالت بند ہے۔

وقت اب صرف تاریخ میں ملتا ہے —

اور خواب؟

وہ اب بھی گھوم رہا ہے،

ہر اُس دل میں جو بند آنکھوں سے دیکھنے کی ہمت رکھتا ہے۔



---


اختتامیہ:


کہتے ہیں،

اگر کسی رات آپ کو ایک گلی، ایک چراغ، اور ایک سُنسان دروازہ نظر آئے —

تو رک جانا،

کیوںکہ وہیں وقت بھی ٹھہرا تھا…

اور خواب تمہیں پہچان لے گا۔


ناولٹ نمبر-02: فلائٹ 242 آخری نشست

  ناولٹ لکھتے وقت میری انگلیاں کانپ رہی تھیں


ناولٹ:--نمبر 01

فلائٹ 242 آخری نشست 

ناول نگار: علیم طاہر

___


 پیش لفظ:


از: علیم طاہر


زندگی کیا ہے؟

ایک پرواز؟

یا ایک ایسی نشست… جس کا نمبر ہمیں معلوم نہیں، لیکن روانگی طے شدہ ہے؟


ناولٹ "فلائٹ 242 — آخری نشست" کا بیج ایک سادہ سی خبر نے بویا:

"ایک طیارہ جو روانہ ہوا… کبھی اپنی منزل پر نہ پہنچا۔"


مگر اس خبر کے سائے میں جو انسانی کہانیاں تھیں — وہ کہانیاں جن میں محبتیں تھیں، دعائیں تھیں، وعدے اور خواب تھے — وہ کبھی سرخیوں کا حصہ نہ بن سکیں۔


یہ ناولٹ صرف ایک ہوائی حادثے کی داستان نہیں،

بلکہ اُن 242 زندگیوں کی خاموش چیخ ہے،

جنھوں نے ایک مسافر طیارے میں بیٹھ کر سوچا نہ تھا

کہ ان کی اگلی منزل "زمین" نہیں… ازل ہے۔


یہ افسانہ انسان اور اس کی روح کے درمیان ایک مکالمہ ہے۔

یہ کہانی ان لوگوں کی ہے جو چلے گئے،

اور ان کی بھی جو بچ گئے… لیکن زندگی سے ہار گئے۔


یہاں آپ کو ہارر بھی ملے گا،

ایسا ہارر جو آپ کی روح کو جھنجھوڑ دے گا —

لیکن چیخوں یا خون میں نہیں،

بلکہ یادوں، پچھتاووں اور ادھورے خوابوں کی خامشی میں۔


یہ کہانی ایک ایسی نشست "13F" کی بھی ہے،

جو نہ صرف ایک مسافر کی، بلکہ ہم سب کی شناخت بن سکتی ہے —

اگر ہم نے وقت سے پہلے زندگی کی سمت نہ بدلی۔


یہ ناولٹ تھرلر ہے، عبرت ہے،

ایک روحانی آئینہ ہے —

جس میں جھانکنے کی ہمت ہر کسی میں نہیں ہوتی۔


اگر آپ نے یہ کہانی دل سے پڑھی…

تو شاید آپ بھی ایک لمحے کو اپنی زندگی کی پرواز کو روک کر

خود سے یہ سوال کریں گے:


> "میں کس طرف جا رہا ہوں؟

اور کیا میری نشست — میری زندگی —

ابھی باقی ہے… یا ختم ہو چکی ہے؟"


علیم طاہر

(ناول نگار)

جون، 2025

-----------


 ناولٹ نمبر:01

عنوان: ’’فلائٹ 242: آخری نشست‘‘

ناول نگار: علیم طاہر

باب نمبر:01


---


           جہاز نے اڑان بھری، سوا تین بجے کی گھڑی نے جیسے آسمان پر بھی سناٹا تان دیا۔ عملے کی ہلکی سی مسکراہٹیں، مسافروں کی دعائیں، اور جہاز کا پر سکون شور—سب کچھ معمول کے مطابق تھا۔


لیکن معمول ہمیشہ دھوکہ ہوتا ہے۔


سیٹ 33B پر بیٹھا حارث علوی اپنی بیٹی نایاب کی تصویر ہاتھ میں لیے مسلسل پڑھ رہا تھا:

"پاپا پلیز جلدی واپس آنا، آپ کے بغیر گھر میں اندھیرا سا لگتا ہے۔"


ایک بوڑھی عورت، جس کی آنکھیں دھندلا چکی تھیں، 33A پر بیٹھی تھیں۔ انھوں نے اچانک کہا:

"بیٹا، تمھیں معلوم ہے، کبھی کبھی زمین تمہیں بلاتی ہے… اور آسمان اجازت دے دیتا ہے۔"


حارث چونکا، لیکن جواب دینے سے پہلے ہی ایک زوردار جھٹکا لگا۔ جہاز ایک لمحے کو ہچکولے کھا کر سنبھلا، پھر اچانک روشنی بجھ گئی۔


چند سیکنڈ۔ بس چند سیکنڈ۔


پھر کچھ بھی باقی نہ رہا۔


---


"ان بیچ لمحوں کی دنیا"


حارث کی آنکھ کھلی۔ نہ جہاز تھا، نہ شور، نہ دھواں، نہ چیخیں۔ بس ایک پراسرار خاموشی۔


وہ ایک سرنگ جیسی راہداری میں کھڑا تھا، جہاں دیواریں شفاف تھیں اور ہر طرف سفید روشنی پھیلی تھی۔


سامنے ایک بورڈ چمک رہا تھا:


> "فلائٹ 242 – ٹرمینل آف بیٹوین"

"زندگی اور موت کے بیچ کا اسٹاپ"


وہاں لوگ تھے—جن کے جسم نہیں، صرف احساسات تھے۔ وہ بولتے نہیں، مگر ان کی سوچیں گونجتی تھیں۔

کوئی رو رہا تھا، کوئی ہنس رہا تھا، اور کوئی خاموشی سے اپنے "گناہوں کی اسکرین" دیکھ رہا تھا۔


حارث نے دیوار پر اپنا چہرہ دیکھا—مگر وہ خود کو پہچان نہ پایا۔

تبھی ایک آواز آئی:

"یہ وہ لمحہ ہے جو زندگی کے بعد نہیں، بلکہ زندگی سے پہلے چھینا جاتا ہے۔"


"یہاں کیا ہو رہا ہے؟" حارث نے چیخ کر پوچھا۔

ایک سایہ نمودار ہوا، جس کا چہرہ نہ تھا، آواز تھی:

"تم سب کو موت نہیں آئی... ابھی نہیں۔ تمھیں واپس جانا ہے، ایک سچائی لے کر…"


---


"کون ہے سچا مسافر؟"


سایہ حارث کو ایک طویل راہداری میں لے گیا جہاں مختلف افراد کھڑے تھے۔

ایک بزنس مین اپنی دولت کے نوٹ گن رہا تھا، لیکن اس کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔

ایک نوجوان لڑکی جس نے خودکشی کی تھی، وہ اس سفر میں شامل ہو چکی تھی تاکہ اپنا "فیصلہ" واپس لے سکے۔

ایک معذور بچہ وہاں کھڑا تھا اور بار بار کہتا:

"مجھے دوبارہ ماں کی گود چاہیے۔"


ہر ایک کے پاس ایک "ٹکٹ" تھا، لیکن واپسی کا نہیں… "معافی" کا۔


---


"تبدیلی کا انتخاب"


سایہ بولا:

"تمھیں ایک موقع دیا جا رہا ہے، واپس جا کر کچھ ایسا کر جاؤ، جو تمھاری موت کے بعد زندہ رہے۔"


"کیا سب کو یہ موقع ملتا ہے؟" حارث نے سوال کیا۔

"نہیں، صرف اسے... جو زندگی میں دوسروں کے لئے جیتا ہے، مرنے کے بعد بھی۔"


اسی لمحے، راہداری لرزنے لگی۔ سب کچھ دھند میں تبدیل ہوا۔


---


"واپسی… مگر کیوں؟"


حارث کی آنکھ اسپتال میں کھلی۔ اس کا جسم جھلسا ہوا تھا۔ وہ فلائٹ کا واحد زندہ بچنے والا تھا۔

پہلا جملہ جو اس نے بولا:

"مجھے اپنی بیٹی کو گلے لگانا ہے… اور اس بوڑھی عورت کو تلاش کرنا ہے جس نے مجھ سے کہا تھا… 'زمین بلاتی ہے'۔"


میڈیا، دنیا، عدالت، کمپنیاں، سب اس سے انٹرویو چاہتے تھے، لیکن وہ خاموش رہا۔


بس ایک دن اس نے ایک چھوٹی سی لائبریری کھولی:

"فلائٹ 242 میموری کلب"

جہاں وہ ان تمام لوگوں کی کہانیاں سناتا، جو زندہ تو نہیں رہے، مگر ان کے سپنے ابھی تک آسمان پر پرواز کر رہے ہیں۔


---

شروعات یا ابتدا:

آج بھی جب شام کو وہ راہداری میں بیٹھتا ہے، کبھی کبھی اسے ایک سایہ نظر آتا ہے…

بغیر چہرے کا، مگر آواز میں سکون:

"تم نے واپسی کا مقصد پورا کیا، اب فلائٹ 243 کے لیے تیار ہو جاؤ…"


---


پیغام:


 زندگی اور موت کے درمیان جو لمحہ ہے، وہی اصل زندگی ہے۔ اسی لمحے میں ہمیں دوسروں کے لیے جینا سیکھنا ہے۔


________


 ناولٹ: ’’فلائٹ 242: آخری نشست‘‘

باب دوم: ’’رازداری کا دروازہ‘‘

ناول نگار: علیم طاہر

باب نمبر: 02


---


"کہانیاں مرنے والوں کی، کبھی ختم نہیں ہوتیں۔"

یہ جملہ اسپتال کی دیوار پر لگا تھا، جہاں حارث کی زندگی کی دوسری قسط شروع ہوئی۔


---


نئی آنکھیں، پرانا خواب


حارث اسپتال سے فارغ ہو چکا تھا۔ جسم کے کئی حصے اب بھی جلنے کی اذیت سے گزر رہے تھے، مگر روح کے زخم کہیں گہرے تھے۔

اس نے لائبریری "میموری کلب" کو باضابطہ آغاز دیا—لیکن مقصد محض کتابیں پڑھنا نہیں تھا… بلکہ ان کہانیوں کو سننا تھا جو مکمل نہ ہو سکیں۔


وہ روز شام کو ایک پرانی کرسی پر بیٹھتا، سامنے رکھا ٹیپ ریکارڈر چلاتا، اور کہتا:

"آج ہم اس کی کہانی سنیں گے… جس نے مرنے سے پہلے خواب دیکھے تھے، مگر جاگنے سے پہلے دنیا چھوڑ دی۔"


---


پہلی دستک


ایک دن، سرد ہوا کے جھونکے کے ساتھ، لائبریری کے دروازے پر ایک نوجوان لڑکی داخل ہوئی۔ لباس خاکی، بال بکھرے، آنکھوں میں گہرا خوف۔

"میں آئشہ خان ہوں… سیٹ 12F کی مسافر…"

حارث چونکا۔

"مگر تم تو۔۔۔"

"ہاں، میں مر چکی ہوں۔ مگر میری ماں ہر رات روتی ہے… اور جب زندہ لوگ رو رہے ہوں، مرنے والوں کو بھی سکون نہیں آتا۔"


آئشہ اب صرف ایک سایہ تھی، مگر اتنی صاف، جیسے روشنی ہو۔

"تمہیں میری کہانی سنانی ہوگی، حارث… تاکہ میری ماں جان سکے، میں کیسے مری… اور کیوں واپس آئی۔"


---


سچ کی قیمت


آئشہ نے بتایا کہ وہ لندن ایک نیا کنسرٹ شروع کرنے جا رہی تھی، مگر اس کے بوائے فرینڈ زیاد نے ٹکٹ کینسل کرنے کو کہا تھا۔

"میں نے ضد کی… زیبا کی طرح نہیں بننا چاہتی تھی، جو ہر بات مان لے۔"

"زیبا کون؟" حارث نے پوچھا۔

آئشہ خاموش ہو گئی۔


اگلی رات، زیبا خود لائبریری میں آ گئی۔

"میں سیٹ 12E پر تھی۔ آئشہ کی دوست۔"

"پھر تم بھی…"

"نہیں۔ مجھے ایرپورٹ پہ چھوڑ دیا گیا تھا۔ ایک جھگڑے کے بعد۔ آئشہ اکیلی گئی… اور مر گئی۔"


زیبا کے ہاتھ میں ایک بوسیدہ ڈائری تھی، جس پر آئشہ کی تحریر تھی:

"زیاد مجھے مارتا ہے، مگر میں دنیا کو نہیں بتاؤں گی۔ کیونکہ محبت کے نام پر میں خود کو دفن کرنا چاہتی ہوں۔"


---


لائبریری میں اندھیرے کی آمد


اب ہر رات کوئی نیا سایہ آتا۔

کوئی گلوکار، کوئی معذور، کوئی قاتل، کوئی مقتول۔

لائبریری اب ایک عام جگہ نہیں رہی تھی، بلکہ رازداری کا دروازہ بن چکی تھی، جہاں زندگی اور موت کی کہانیاں دم سادھ کر بیٹھتی تھیں۔


ایک رات، جب چاند چھپا ہوا تھا، دروازے پر ایک بوڑھا شخص آیا۔

"میں سیٹ 1A پر تھا… لیکن میں مرنا نہیں چاہتا تھا۔"

"کون تھے آپ؟"

"میں کپتان راہی خان… اس فلائٹ کا پائلٹ۔"


---


پائلٹ کا راز


راہی خان کی کہانی نے حارث کو لرزا دیا۔


"وہ حادثہ صرف فطری نہیں تھا… کاک پٹ میں ایک سایہ آ چکا تھا… جیسے اندھیرا ہماری سانسوں میں گھس گیا ہو۔"

"سایہ؟"

"ہاں… وہ سایہ جو موت نہیں، بلکہ وقت کا قیدی ہے۔ جو اِن لمحوں کو چرا لیتا ہے جہاں انسان حقیقت اور خواب کے بیچ ہوتا ہے۔"


"یہ سایہ... اب تمھاری لائبریری میں داخل ہو چکا ہے، حارث۔"


---


لائبریری میں موت کا سایہ


اب لائبریری میں عجیب آوازیں آنے لگیں۔ کتابیں خود سے کھلنے لگیں، اور آئینے میں ایک سیاہ شبیہہ نظر آنے لگی۔

ایک رات، حارث نے دروازہ بند کرنے کی کوشش کی، مگر دروازہ اندر سے کھلا رہا۔

"فلائٹ 243 تیار ہے۔"

ایک کٹی پھٹی آواز ابھری۔


---


انتخاب


پائلٹ نے کہا:

"تمھیں اب دوسرا انتخاب کرنا ہے، حارث۔ یا تو ان سب مسافروں کو کہانیوں میں زندہ رکھو… یا اس دروازے کو ہمیشہ کے لیے بند کر دو اور سایے کو قید کر دو—مگر اس کی قیمت دو گی… اپنی بیٹی کی ہنسی۔"


حارث لرز گیا۔

"کیا بیٹی کی ہنسی بھی قربانی میں جائے گی؟"


"زندگی صرف ایک بار ملتی ہے، لیکن کبھی کبھی… وہ کہانیوں کی شکل میں دوبارہ لوٹ آتی ہے۔ فیصلہ تمھارا ہے۔"


---------


 ناولٹ: "فلائٹ 242: آخری نشست"


باب سوم: "چرن کی گھنٹی اور اذان کی صدا"

ناول نگار: علیم طاہر

باب نمبر: 03


---


کہانی کا آغاز… موت کے بعد


بنارس کی گھاٹوں پر شام کا دیپ جل رہا تھا، لیکن اسی لمحے حارث کی لائبریری میں ایک نئی دستک ہوئی۔

دروازہ کھلتے ہی ایک پگھلتا ہوا دیا اندر داخل ہوا۔ وہ روشنی تھی اور وہی روشنی… ایک سایہ بھی ساتھ لائی تھی۔


"میں پنڈت مہیش نارائن ہوں… سیٹ 9A پر تھا…"

آواز مدھم مگر عمیق تھی۔


---


پنڈت جی کی پکار


"حارث بھائی، جس رات فلائٹ گری، میں ‘کاشی وِشوناتھ’ جا رہا تھا… اپنی بیٹی کی شادی کے لئے آشرواد لینے۔ وہ آخری تلاوت میرے لبوں پر تھی:

‘ॐ नमः शिवाय’

اور پھر… دھماکہ، اندھیرا… خاموشی۔"


حارث چونکا۔

"آپ… یہاں کیسے؟"


"سایہ مجھے یہیں لایا ہے… اس نے کہا تمھاری لائبریری میں میری بیٹی کی روح پھنسی ہوئی ہے۔"


---


روحوں کی قید


اب لائبریری صرف کہانیوں کا نہیں، بلکہ روحوں کا قید خانہ بن چکی تھی۔

ہر سیٹ سے ایک نیا کردار، ایک نیا راز، ایک نئی "ادھوری پکار" سنائی دیتی۔


سیٹ 18C پر ایک چھوٹی بچی، رادھا شریواستو، اسکول یونیفارم میں داخل ہوئی۔

"چاچا… میں لَندن اسکول میں ایوارڈ لینے جا رہی تھی… لیکن اب میری گڑیا گم ہو گئی۔"


وہ ہر روز کتابوں کے بیچ "اپنی گڑیا" ڈھونڈتی تھی۔

اس کی آواز اب بھی گونجتی:

"دِیا، تم کہاں ہو؟"


---


اذان اور گھنٹی کی گونج


ایک رات، جیسے کوئی سنگم ہو گیا۔

اذان کی آواز لائبریری کے ایک کونے سے ابھری، تو دوسرے کونے سے شنکھ کی گونج نے جواب دیا۔

پنڈت مہیش اور امّی فاطمہ بی، دونوں سامنے کھڑے تھے۔


"یہ سایہ اب ہندو یا مسلم میں فرق نہیں کرتا… یہ صرف وہ دکھ کھاتا ہے جو محبت کے بغیر چھوڑ دیے جاتے ہیں۔"


امّی نے قرآن کی آیت پڑھی:

"کل نفس ذائقۃ الموت"

اور پنڈت جی نے شلوک دہرایا:

"यदा यदा हि धर्मस्य…"


اور لائبریری کی چھت پر سنہری روشنی کا دائرہ نمودار ہوا۔


---


زیاد کا دوبارہ آنا


اب سایہ واضح ہو چکا تھا۔ وہ کوئی اور نہیں… زیاد تھا، آئشہ کا پرانا بوائے فرینڈ۔

لیکن وہ خود بھی فلائٹ 242 میں تھا۔

"میں نے آئشہ کو ٹکٹ پر بھیجا، تاکہ وہ ہمیشہ کے لیے دور چلی جائے۔ مگر میں بھی اسی جہاز میں آ گیا۔ قسمت یا سزا؟"


اب وہ سایہ دونوں مذاہب کے درمیان موجود خالی پن کو چراتا تھا…

جو انسانیت کی جگہ لے چکا تھا۔


---


فیصلہ کن لمحہ: فلائٹ 243 کا ٹکٹ


حارث کے ہاتھ میں ایک پرانا ٹکٹ نمودار ہوا۔

اس پر لکھا تھا:


Passenger: Haris Ahmed | Flight 243 | Status: Pending


اب وہ یا تو "روحوں کی رہائی" کا دروازہ کھول سکتا تھا… یا خود اگلی پرواز کا مسافر بن سکتا تھا۔


پنڈت جی نے کہا:

"فلائٹ 242 کے سب مسافر کہانی بن چکے ہیں، مگر فلائٹ 243 حقیقت ہو سکتی ہے—اگر تم نے اپنی جان دے دی۔"


---


تقدس اور قربانی


حارث نے ایک تسبیح، ایک گھنٹی، ایک گڑیا اور ایک پرانا ڈائری پیٹھ پر باندھی…

اور کہا:

"میں فلائٹ 243 کا مسافر بننے کو تیار ہوں… اگر ان تمام بے قصوروں کو شانتی اور مغفرت ملے۔"


اور تب…

لائبریری روشنی سے بھر گئی۔

رادھا کی گڑیا مل گئی۔

پنڈت جی کی بیٹی کی شادی کی گھنٹی بجی۔

اور آئشہ کی ماں کو خواب میں پہلی بار… ہنستی ہوئی بیٹی نظر آئی۔


------------


 ناولٹ: "فلائٹ 242: آخری نشست"


باب چہارم: "فلائٹ 243 کی روانگی"


ناول نگار: علیم طاہر

باب نمبر:04


---


پہلا منظر: روانگی سے پہلے کی رات


تاریخ: 13 جولائی، وقت: 3:13 AM

لائبریری میں بے قراری کی حدیں پھلانگ چکی تھیں۔ حارث کو کئی راتوں سے نیند نہ آئی۔ دیواروں پر لٹکے کیلنڈرز کے صفحے خودبخود پلٹتے، کلاک کی ٹِک ٹِک دماغ کو کھا جاتی۔


اسی لمحے، ٹیبل پر ایک اور بورڈنگ پاس نمودار ہوا:


Flight No: 243

Seat No: 1C

Name: Haris Ahmed

Status: Confirmed


اور ایک پرچی:

"اس بار تم خود پرواز ہو۔"


---


دوسرا منظر: روانگی کا ٹرمنل – جہاں وقت رکتا ہے


یہ ایئرپورٹ نہ دہلی کا تھا، نہ لندن کا…

یہ وقت اور روح کے درمیان معلق ایک "ٹرمنل زیرو" تھا—جہاں نہ انسان بولتے تھے، نہ روحیں چپ رہتی تھیں۔


حارث کو سامنے وہی چہرے دکھائی دیے جو وہ لائبریری میں روز محسوس کرتا تھا:


رادھا، جس نے اب گڑیا کو سینے سے لگا رکھا تھا


پنڈت مہیش، جس کی پیشانی پر چرن لگے ہوئے تھے


فاطمہ بیگم، جو اب ہنستی تھیں اور گنگناتی تھیں


آئشہ, جس نے سفید لباس میں حارث کی طرف ہاتھ بڑھایا…


"تم نے ہمیں سنا… اب تمھاری پرواز ہے…"


---


تیسرا منظر: فلائٹ کے اندر


سیٹ 1C پر بیٹھتے ہی جہاز کے اسپیکر سے آواز آئی:

"مسافروں سے گزارش ہے کہ اپنی روحیں سنبھال کر رکھیں، کیونکہ یہ پرواز زندگی کی سرحد سے پار جا رہی ہے۔"


جہاز میں ہر سیٹ پر ایک "کہانی" بیٹھی تھی:


سیٹ 2D پر ایک عیسائی نرس جس نے حادثے میں 11 بچوں کو بچایا تھا


سیٹ 4B پر ایک جاپانی سیاح جس کا کیمرا آخری تصویر میں آسمان کی چیخ قید کر چکا تھا


سیٹ 6A پر زیاد، مگر اس بار وہ خاموش تھا… جیسے توبہ کر چکا ہو


اور سب کے درمیان…

سیٹ 13F خالی تھی۔


---


چوتھا منظر: جہاز کا اڑنا…


جیسے ہی جہاز نے پرواز لی، نیچے زمین کا رنگ ماند پڑنے لگا۔

روحیں کھڑکیوں سے دیکھتی گئیں کہ کیسے دنیا میں لوگ صرف زندہ جسم کے ساتھ جی رہے ہیں، مگر روحیں خالی ہو چکی ہیں۔


پنڈت مہیش نے کہا:

"ہمیں یہاں سے جانے دیا گیا ہے، کیونکہ ہم اپنی ادھوری پکار مکمل کر چکے۔"


اور جیسے ہی جہاز بادلوں کے پار پہنچا، ایک سفید روشنی پورے کیبن میں پھیل گئی۔


وہ روشنی "یادوں" کی تھی۔


---


پانچواں منظر: دروازہ… جو انتخاب بن گیا


فلائٹ 243 ایک آسمانی جزیرے پر رکی، جہاں دو دروازے تھے:


1. دروازہ نور کا — جہاں روشنی تھی، شانتی تھی، مغفرت تھی


2. دروازہ سایہ کا — جہاں واپسی تھی، درد تھا، اور کہانیاں ابھی باقی تھیں


سب نے دروازۂ نور کا انتخاب کیا…

مگر حارث ٹھہر گیا۔


"اگر سب چلے گئے… تو ان ہزاروں کہانیوں کو کون مکمل کرے گا؟

ان گمنام مسافروں، ان لاوارث خوابوں، ان ادھورے پیغامات کو کون آواز دے گا؟"


آئشہ نے صرف اتنا کہا:

"اگر تم رکے… تم کبھی مکمل نہیں ہو پاؤ گے، حارث۔"


حارث مسکرایا:

"میں مکمل ہونے نہیں، مکمل کرنے آیا ہوں۔"


---


آخری منظر: لائبریری کی واپسی


فلائٹ 243 روانہ ہو گئی…

روشنی میں سب گم ہو گئے…

اور لائبریری میں صرف ایک لیمپ جلتا رہ گیا…

جس کے نیچے اب ایک نیا بورڈنگ پاس رکھا تھا:


Passenger: Reader

Flight No: 244

Status: TBA (To Be Answered)


اور ایک پرچی:


"اگر تم نے کبھی کوئی کہانی ادھوری چھوڑی ہے، تو وہ تمھیں پکارے گی۔ اور اگر تم نے کبھی سچ بولنے سے ڈر محسوس کیا ہے، تو وہ سایہ تمھیں ڈھونڈے گا… کیونکہ ہر مسافر، ایک کہانی ہے… اور ہر کہانی، ایک پرواز۔"


---------


 ناولٹ: "فلائٹ 242: آخری نشست"


باب پنجم: "دنیا میں علامات کا ظہور"


ناول نگار: علیم طاہر

باب نمبر:05


---


منظر اوّل: دیوار پر لکھی تحریر


ممبئی کے باندرہ اسٹیشن کی ایک دیوار پر صبح کے 3:44 پر ایک اجنبی تحریر نمودار ہوئی:


> "FLIGHT 244 IS NOT JUST A NUMBER. IT'S YOUR TURN TO ANSWER."


پولیس نے فوری پینٹ کر کے مٹا دیا۔ مگر کیمرے کے فریم میں تحریر اب بھی نظر آتی ہے۔


اور صرف ایک فقیر نے دھیمی آواز میں کہا:


"پہلا سایہ لوٹ آیا ہے… تم نے اسے روکا نہیں تھا۔ اب وہ خود بلاوے لے کر آیا ہے…"


---


منظر دوم: مرنے والے، جو خواب میں لوٹ آئے


احمدآباد میں ایک نرس ریوا تریویدی نے 14 مریضوں کی جان بچائی تھی، جو فلائٹ 242 کے متاثرین کے رشتہ دار تھے۔


پانچ راتوں سے وہ ایک ہی خواب دیکھ رہی تھی:


 "ایک جلتا ہوا جہاز آسمان سے نہیں، زمین کے اندر سے اُبھرتا ہے۔ ہر مسافر کی آنکھیں جل رہی ہیں، لیکن وہ بولتے ہیں: ‘ہم واپس آئیں گے، اور تمھیں ساتھ لے جائیں گے!’"


ریوا چیخ کر بیدار ہوئی۔ اس کے بیڈ پر خون سے لکھی تحریر:


"13F اب خالی نہیں رہی"


---


منظر سوم: راجستھان کا ریڈیو اسٹیشن


ریڈیو جاکی راگھو چترویدی روز 10 بجے کا شو کرتا تھا۔ اس دن، اس کی آواز سے پہلے یہ پیغام نشر ہوا:


 "یہ براڈکاسٹ اُن کے لیے ہے جو ابھی گئے نہیں… مگر زندہ بھی نہیں رہے۔"


راگھو گھبرا گیا۔ اس کے اسٹوڈیو میں کوئی نہ تھا۔


اور پھر اس کا فون بجا:


Unknown Number:

"تم نے جو آخری گانا بجایا تھا… وہ جہاز کے آخری سیکنڈ میں بج رہا تھا۔ ہم نے سن لیا تھا، راگھو… اب تمھاری باری ہے۔"


---


منظر چہارم: روحوں کی لائبریری میں ہلچل


حارث لائبریری میں بیٹھا تھا جب اچانک تمام کتابیں خود بخود کھلنے لگیں۔

ہوا میں الفاظ معلق ہو گئے:


 "244 مسافر اب خود کہانیاں نہیں، فیصلے ہیں۔"


فرش پر لکیریں ابھر آئیں، جیسے جہاز کے راستے بن رہے ہوں۔ اور سفید پردے کے پیچھے ایک سایہ کھڑا تھا—نہ مرد، نہ عورت…

بس ایک سوال:


"اگر ہر مسافر کو نجات ملی… تو سیٹ 13F کیوں آباد ہوئی؟"


---


منظر پنجم: دہلی کے لودھی قبرستان میں ہارر


رات کے ٹھیک 1:13 پر ایک قبر کھلی۔

اندر کوئی جسم نہ تھا، صرف ایک بورڈنگ پاس:


Name: Ayesha Bano

Flight: 244

Status: Awaiting


قبرستان کا رکھوالا پاگل ہو گیا۔ بس ایک جملہ دہراتا رہا:


"پروازیں ختم نہیں ہوئیں… اترنے والے اب زمین پر نہیں رکتے!"


---


اختتامی منظر: خبریں، جنہیں کوئی نہیں دکھاتا


ایک زیرِ زمین چینل پر ایک "خفیہ رپورٹ" چلی—

"The Dead Are Boarding Again!"


اس میں سی سی ٹی وی فوٹیج دکھائی گئی، جس میں خالی ایئرپورٹ پر سائے خودکار دروازوں سے اندر داخل ہو رہے ہیں۔

خالی سیٹوں پر بیٹھتے، بورڈنگ پاس پڑھتے، اور پھر اچانک غائب ہو جاتے۔


ریپورٹر کا آخری جملہ:


 "اگر آپ کے موبائل پر فلائٹ 244 کا پیغام آئے… تو یاد رکھئے، یہ دعوت ہے۔ رد کیا، تو سایہ خود آ جائے گا…"

___________


 ناولٹ: "فلائٹ 242: آخری نشست"


باب ششم: واپسی والے مسافر کی اصل شناخت


ناول نگار: علیم طاہر

باب نمبر:06


---


منظر اوّل: دہلی، نجم الحسن کا خواب


نجم الحسن، ایک دینی عالم اور روحانی مفکر، پچھلے ایک ہفتے سے سوتے ہی جاگ اٹھتے تھے۔


اس رات ان کے خواب میں ایک سفید وردی میں ملبوس مسافر آیا، جس کے چہرے پر نہ آنکھیں تھیں، نہ ہونٹ، مگر وہ بول رہا تھا:


> "میں عبدالجبار ہوں… سیٹ نمبر 13F… میں واپس آیا ہوں… مگر اب تنہا نہیں…!"


نجم نے پوچھا:

"کیا تم مر چکے تھے؟"


وہ بولا:

"نہیں… مجھے مارا نہیں گیا… مجھے روکا گیا تھا… اور جب کوئی روح روک لی جائے، وہ لوٹتی نہیں… بھٹکتی ہے…"


---


منظر دوم: کولکتہ کا ہندو نوجوان – اشویک نارائن


اشویک، جو پارا سائیکالوجی کے مطالعے میں تھا، روز رات 13:44 پر ایک آواز سنتا:


> "تم نے جب ریل گاڑی میں اس کو دھکا دیا تھا… وہ نہیں گرا… وہ وقت سے گرایا گیا…"


اس کی ڈائری میں عبدالجبار کا ذکر تھا، حالانکہ وہ اس سے کبھی ملا نہیں۔


ایک دن اس نے خواب میں 13F کا دروازہ کھولا… اور سامنے عبدالجبار کھڑا تھا:


"اشویک… تم نے جو کیا تھا، وہ مکافات بن چکا ہے۔ اب تم مسافر نہیں… رہنما بننے والے ہو!"


---


منظر سوم: عبدالجبار کی زندگی کی جھلک


سنہ 2013 – عبدالجبار ایک صحافی تھا، جس نے ایک حساس فائل حاصل کی تھی۔

فائل میں "AIR-MANTRA" نامی ایک تجرباتی منصوبہ کا راز تھا:

جہازوں کو استعمال کرتے ہوئے انسانی شعور کے ساتھ تجربات۔


اسی فائل کی وجہ سے اسے فلائٹ 242 میں بٹھا دیا گیا۔

لیکن… وہ منزل پر کبھی نہ پہنچا۔


اس کے گھر والوں کو اس کی لاش نہ ملی، نہ شناخت۔


اب، 11 سال بعد… وہ “واپس” آیا ہے۔


---


منظر چہارم: سیٹ 13F کی شہادت


سیٹ 13F کے نیچے ایک بلیک باکس چھپا ہوا تھا، جو اصل بلیک باکس نہیں تھا۔

جب فلائٹ 244 کے چیکنگ اسٹاف نے اسے کھولا، تو ایک ہولوگرام چل پڑا:


> "عبدالجبار زندہ ہے… تم سب خواب ہو… اس کی سچائی میں…"


> "جنہوں نے مجھے جلانے کی کوشش کی، وہ خود آگ میں جا رہے ہیں… کیونکہ سچ اب اترنے والا ہے… فلائٹ 244 پر۔"


-----------


منظر پنجم: انسانیت کو پیغام


دنیا بھر کے ہارٹس، ریڈیوز، موبائل اسکرینز، سب پر ایک ہی لائن ظاہر ہونے لگی:


> "عبدالجبار آ چکا ہے… اور ہر شخص جس نے جھوٹ کو زندگی کا لباس پہنایا… اب سچ کا بوجھ اٹھائے گا۔"


---


منظر اختتام: نیا انکشاف


ایک نابینا بچی نے عبدالجبار کی آواز پہچانی۔


"یہ وہی انکل ہیں جو مجھے 2013 میں دہلی میٹرو کے اسٹیشن پر کہانی سناتے تھے… وہ مرے نہیں تھے، بس چھپ گئے تھے، تاکہ کوئی انہیں سن سکے…"

______


 ناولٹ: "فلائٹ 242: آخری نشست"


باب ہفتم: زمین کی طرف


ناول نگار: علیم طاہر

باب نمبر: 07


---


منظر اوّل: بھارتی گاؤں "کالاپتھر"


رات کے تین بجے کا وقت تھا۔

گاؤں کے بزرگ پنڈت رتن لال نے اپنی جھونپڑی کے باہر جلتی ہوئی اگر بتیوں میں ایک سایہ دیکھا۔

وہ سایہ انسانی تھا… مگر اس کا سایہ زمین پر نہیں پڑ رہا تھا۔


وہ بڑبڑایا:

"یہ پاتال کا بھٹکا ہوا ہے… یہ زندہ ہے، مگر مر چکا ہے!"


اسی وقت، پورے گاؤں میں عجیب آوازیں گونجنے لگیں… پھر ہر دیوار پر خون سے لکھا گیا:


> "زمین پر وہ سب کچھ لوٹ رہا ہے جو چھین لیا گیا تھا!"


---


منظر دوم: دہلی ایئرپورٹ — ٹاور کنٹرول


فلائٹ 244 زمین کی طرف رواں دواں تھی۔

اچانک، ریڈار نے اطلاع دی:


"ہمیں ایک اور جہاز نظر آ رہا ہے، مگر وہ ریجسٹرڈ نہیں ہے… اس کا نمبر… 242 ہے!"


ایئر ٹریفک کنٹرولر سہم گیا:

"لیکن وہ تو 11 سال پہلے تباہ ہو چکا تھا!"


دونوں جہاز زمین کے مدار پر اکٹھے نظر آئے…

اور پھر اچانک غائب ہو گئے۔


---


منظر سوم: زمین پر پہلا اثر


اندور، احمدآباد، پٹنہ، بنگلور، اور چنئی میں اچانک پانچ مسافروں کی لاشیں ملیں۔

سب کے ہاتھوں پر جلنے کے نشان تھے، مگر کوئی آگ نہیں لگی تھی۔


لاشوں کے قریب بس ایک چیز ملی:


13F – RETURNED


ڈاکٹرز نے کہا:

"دل کی دھڑکن چلی گئی تھی، مگر آنکھیں کھلی تھیں… جیسے کسی نے ان سے کچھ ‘دکھا’ دیا ہو۔"


---


منظر چہارم: عبدالجبار کا زمینی قیام


نجم الحسن اور اشویک اب اکٹھے ہو چکے تھے۔

دونوں کو ایک مقام پر بلایا گیا: ناگور کا پرانا قلعہ۔


وہاں عبدالجبار کھڑا تھا، زندہ… لیکن آنکھوں میں انسانوں کی نہیں، صدیوں کی تھکن تھی۔


اس نے کہا:


 "زمین پر لوٹ کر آیا ہوں… مگر وقت کی چھت نیچے گرنے والی ہے۔"


"فلائٹ 242 کے مسافر صرف مرے نہیں… انہیں ‘روک’ دیا گیا۔ اب وہ سب زمین پر واپس آ چکے ہیں… مگر جسموں میں نہیں… حادثات میں، خوابوں میں، روشنیوں میں…"


---


منظر پنجم: خواب، دھماکہ، انکشاف


ایک رات اشویک نے خواب میں دہلی کو جلتے ہوئے دیکھا، نجم نے قرآن کا ورق دیکھا جو ہواؤں میں اُڑ رہا تھا۔


دونوں اٹھے… اور موبائل فون کی اسکرین پر ایک ہی پیغام تھا:


> "13F کا دروازہ کھل چکا ہے… اب ہر زمین پر ‘جو چھپا تھا’، ظاہر ہو گا!"


---


 باب کا اختتام...


زمین صرف مٹی نہیں، وہ سب کچھ سنبھال لیتی ہے جو چھپا دیا گیا ہو —

لیکن کب تک؟

________


 ناولٹ: "فلائٹ 242: آخری نشست"


باب ہشتم: 13F کا راز


ناول نگار: علیم طاہر

باب نمبر:08


---


منظر اوّل: راجستھان کا بنجر ریگستان – رات کا دوسرا پہر


عبدالجبار، نجم اور اشویک… تینوں ایک پرانی، ویران جگہ پہنچتے ہیں۔

جیسے ہی وہ 13 قدم اندر داخل ہوتے ہیں…

زمین ہلتی ہے… فضا میں گونج اٹھتی ہے ایک آواز:


> "تم نے دروازہ کھول دیا ہے… اب جو آ رہا ہے، اسے کوئی نہیں روک سکتا!"


13F محض ایک سیٹ نمبر نہیں تھا…

بلکہ 13 Fate (تقدیر) کا راز تھا —

وہ مسافر جو اس سیٹ پر بیٹھا تھا، نہ مکمل زندہ تھا نہ مکمل مردہ…

بلکہ "منتقل" ہو چکا تھا ایک وقفے میں — جہاں وقت، موت اور زندگی کی حدیں ختم ہو جاتی ہیں۔


---


منظر دوم: سچ کا چہرہ


نجم کی آنکھیں بند ہوتی ہیں… اور وہ دیکھتا ہے:

242 کی پرواز، فضا میں تحلیل ہو رہی ہے،

مگر ہر مسافر ایک "یاد" بن کر اپنوں کے خوابوں میں واپس آ رہا ہے۔


کوئی ماں اپنی بچی کی ہنسی خواب میں سنتی ہے،

کوئی بیوی اپنے شوہر کو آئینے میں دیکھتی ہے،

کوئی باپ سڑک پار کرتے ہوئے بیٹے کی آواز سن لیتا ہے۔


> موت نے جسم چھینے، مگر یادوں نے رشتے واپس کر دیے…


---


منظر سوم: آخری وارننگ


اشویک دیوار پر لکھا دیکھتا ہے:


> "آخری نشست… آخری دروازہ… آخری سانس!"


عبدالجبار کہتا ہے:


> "اب ہمیں واپس جانا ہو گا،

کیونکہ اصل زندگی وہ ہے…

جو موت کے بعد بھی اثر چھوڑ جائے!"


اسی لمحے، وہ سب ایک جھماکے کے ساتھ غائب ہو جاتے۔

___________ 


 باب نہم (آخری): زمین کی خاموش چیخ


ناولٹ: فلائٹ 242 — آخری نشست 

ناول نگار: علیم طاہر

باب نمبر: 09


---


منظر: بھارت کے مختلف گوشے — خوابوں کا جاگنا


پٹنہ میں ایک ماں سوتے ہوئے ہڑبڑا کر اٹھتی ہے،

ممبئی کے ایک یتیم خانے میں چھ بچے ایک ساتھ چیخ اٹھتے ہیں،

چنئی کے ایک لڑکے نے نیند میں اپنی ماں سے کہا:


 "ممی! میں واپس آ گیا… مگر صرف تھوڑی دیر کے لیے!"


دہلی میں ایک لڑکی نے اپنی ڈائری میں تحریر کیا:


 "آج خواب میں وہی سیٹ نمبر تھا… 13F… اور سناٹا… بہت گہرا سناٹا!"


حیدرآباد کے ایک بزرگ پنڈت نے صبح سویرے ایک بیان دیا:


 "رات بھر ایک پنکھا چلتا رہا میرے کمرے میں… لیکن بجلی بند تھی…

یہ کوئی سادہ ہوا نہ تھی، یہ کسی کی روح کی واپسی تھی!"


---


علامتیں بولنے لگیں


بھارت کے مختلف علاقوں میں

مندر، مسجدیں، کلیسا اور گردوارے — سب میں ایک جیسا سکوت طاری ہے۔

بغیر کسی خاص دن کے،

ہر جگہ شمعیں جلائی جا رہی ہیں۔


رشی کیش کے ایک یوگی نے کہا:


 "ہوائی حادثے کے صرف جسمانی اثرات نہیں ہوتے…

کچھ پروازیں وقت سے باہر نکل کر

انسانی ضمیر کے اندر اترا کرتی ہیں!"


---


13F کی حقیقت


اب یہ واضح ہو چکا ہے —

سیٹ 13F کسی خاص شخص کی نہیں تھی،

بلکہ ایک امتحان تھا:


 کون ایمان کے ساتھ گیا؟

کون گناہ کے بوجھ تلے دب گیا؟

اور کس کی یادیں اتنی طاقتور تھیں کہ

موت کے بعد بھی واپس آ گئیں؟


--

آخری جملہ:

اشویک کی یادیں عبدالجبار کو خواب میں مخاطب کرتی ہیں:


 "زندگی کی پرواز میں ہر کوئی مسافر ہے…

مگر کچھ ایسے ہوتے ہیں

جو اپنی سیٹ کے ساتھ افسانہ بن جاتے ہیں!"


---


اختتامی پیغام


فلائٹ 242 ختم ہو گئی،

مگر اس کی بازگشت ہندوستان کی فضا میں

ابھی دیر تک گونجتی رہے گی۔


سیٹ 13F… اب خالی ہے…

مگر تم اگر اپنی زندگی کو بےمعنی گزارو گے

تو تم بھی ایک دن…

اسی سیٹ پر اکیلے بیٹھے

اگلی پرواز کے منتظر ہو گے…

اور شاید یہ پرواز واپسی کی نہ ہو!


---


 ختم شد


) اگر آپ کو یہ ناولٹ پسند تو ضرور شئیر کر دیجیۓ گا)


ناولٹ: فلائٹ 242 — آخری نشست

ناول نگار: علیم طاہر


_________________


(C): Novelet 

"Flight 242_ Aakhiri nashisht "

Novel Nigar:

 Aleem Tahir 

Email id: aleemtahir12@gmail.com 

______________

افسانہ نمبر:23 آخری کتاب کا قاری

 

افسانہ نمبر:  23


عنوان: "آخری کتاب کا قاری"


(افسانہ نگار: علیم طاہر)


اسے صرف "قاری" کہا جاتا تھا۔

نام کوئی نہیں جانتا۔

شہر کے آخری کتب خانے میں،

جہاں وقت سانس لینا بھول چکا تھا،

وہ ہر روز آتا،

ایک ہی کتاب پڑھتا،

جس کے تمام صفحات خالی تھے۔


لوگ ہنستے،

کچھ ڈرتے بھی۔

کیونکہ وہ جب بھی کسی صفحے کو پلٹتا،

فضا بدل جاتی۔

کبھی سناٹا شور میں بدل جاتا،

کبھی ہوا سے زخم رستنے لگتے۔


٭


ایک روز ایک نوجوان لڑکی، عرشہ،

جو خود بھی الفاظ میں پناہ ڈھونڈتی تھی،

اس کتب خانے آئی۔


قاری نے اسے ایک خالی صفحہ دکھایا،

اور کہا:


"پڑھ لو۔"


عرشہ نے ہنستے ہوئے کہا:


"یہ صفحہ تو خالی ہے!"


قاری بولا:


"یہ وہ کتاب ہے جو صرف سچ دیکھنے والے پڑھ سکتے ہیں۔

جن کی آنکھیں صرف منظر نہیں،

اندر کے منظر بھی دیکھتی ہیں۔

یہ ‘کتابِ وقت’ ہے —

اور اس کے سچ کا قاری صرف ایک ہوتا ہے،

پھر وہ یا تو مٹ جاتا ہے…

یا خود افسانہ بن جاتا ہے۔"


٭


عرشہ روز آنے لگی۔

صفحات اب دھندلے لفظوں سے بھرنے لگے تھے —

جیسے کسی بھولی ہوئی تہذیب کی آواز لوٹ رہی ہو۔


ایک دن قاری نے اسے آخری صفحہ دکھایا —

جہاں صرف ایک سطر لکھی تھی:


"جو اسے پڑھے گا، وہ باقی نہ رہے گا۔"


عرشہ نے سطر پڑھ لی۔


قاری مسکرایا…

اور راکھ میں بدل گیا۔


٭


کتب خانہ آج بھی ہے۔

ایک نئی قاری روز وہاں آتی ہے۔

ہر روز وہی کتاب کھولتی ہے۔

تمام صفحات خالی ہیں —

سوائے آخری صفحے کے،

جہاں ایک نئی سطر درج ہے:


"قاری بدلتا ہے… کتاب نہیں!"



---




کہا جاتا ہے،

لفظ وہی سچ ہوتے ہیں

جو بولے نہیں جاتے،

صرف محسوس کیے جاتے ہیں…

خالی صفحوں میں۔


افسانہ نمبر: 22 اندھیرے کی چھت پر روشنی کا خنجر ۔۔

    افسانہ نمبر :22 

: "اندھیرے کی چھت پر روشنی کا خنجر"


(افسانہ نگار: علیم طاہر)


رات کی پیشانی پر ایک سیاہ تل تھا۔

لوگوں نے اسے “تقدیر” کا نشان کہا،

لیکن وہ دراصل ایک پرانی خنجر کا زنگ خوردہ داغ تھا

جو کسی زمانے میں روشنی کے سینے میں گھونپا گیا تھا۔


یہ خنجر اب آسمان کی چھت پر لٹکا تھا۔

جسے ہر وہ انسان دیکھ سکتا تھا

جو اندھیرے سے ڈرتا نہیں تھا۔


٭


زینب ایک نابینا لڑکی تھی

جسے خواب آتے تھے —

ایسے خواب جن میں وہ رنگوں کی خوشبو محسوس کر لیتی،

صوتوں کو چھو لیتی،

اور خامشی کو پڑھ لیتی۔


ایک روز خواب میں وہ سیڑھیاں چڑھتی ہے،

جہاں ایک کالی چھت پر خنجر لٹک رہا ہے۔

خنجر چیخ رہا ہے:


"میں روشنی ہوں!

مجھے ایک زمانے نے اپنی پیٹھ میں چھپایا،

پھر اندھیرے کی پناہ میں مجھے سونت دیا۔

میری چمک سے انہیں وحشت تھی!"


زینب نے پوچھا:

"کیا میں تمہیں چھو سکتی ہوں؟"


خنجر بولا:

"کیا تم سچائی کے لیے اندھیرے میں جلنے کو تیار ہو؟

کیونکہ جو روشنی چھت پر لٹکی ہو،

اسے تھامنے کے لیے نیچے کی زمین کو جلانا پڑتا ہے!"


٭


زینب جاگی۔

آنکھیں اب بھی بند تھیں۔

لیکن دل کی آنکھ میں خنجر کا عکس چھپ گیا۔


اس نے شہر کے ہر اندھیرے کمرے میں چراغ رکھنا شروع کیا —

بغیر آنکھوں کے،

بغیر خوف کے۔


لوگ ہنستے،

کہتے:

"یہ پاگل نابینا لڑکی روشنی ڈھونڈ رہی ہے!"


لیکن ایک دن شہر کی چھت پر لٹکا خنجر خود زمین پر آ گرا —

اور زینب کے قدموں میں آ کر ٹوٹ گیا۔

اس کی نوک سے ایک ننھا سا چراغ بن گیا،

جس نے آسمان تک روشنی کا راستہ بنا دیا۔


٭


کہا جاتا ہے،

اس دن کے بعد اندھیرے نے کبھی زمین کو چھوا نہیں —

کیونکہ زینب کے چراغ کی لو میں

وہ خنجر بھی شامل تھا

جو روشنی کی موت کا گواہ تھا۔



---


اختت


اب بھی اگر کوئی نابینا بچی خواب میں سیڑھیاں چڑھتے دیکھے،

تو جان لو —

کہ خنجر،

روشنی بننے کی نئی کوشش کر رہا ہے۔


ناولٹ نمبر 01: ایک جام کی مسافت

 ناولٹ نمبر 01: ایک جام  کی مسافت


  ناول نگار:  

علیم طاہر 

________________________________


 

پیش لفظ


علیم طاہر


ادب محض الفاظ کی ترتیب نہیں، بلکہ وہ لطیف دھڑکن ہے جو انسان کے باطن سے جنم لیتی ہے۔ کوئی سطر ہو، کوئی مکالمہ، یا محض ایک خاموش منظر—یہ سب وہ پل ہوتے ہیں جہاں قاری اور مصنف کے مابین روحانی رشتہ قائم ہو جاتا ہے۔


"ایک جام کی مسافت" ایسا ہی ایک ناولٹ ہے، جو بظاہر ایک دلچسپ واقعے—اٹلی کے ایک فوارے سے بہنے والی شراب—کے گرد گھومتا ہے، مگر اس کی پرتیں دراصل روح، لمس، عقیدہ، اور محبت کی تلاش میں لپٹی ہوئی ہیں۔ یہ کہانی صرف مارکو اور ایلیا کی نہیں، بلکہ ہر اس فرد کی ہے جو زندگی میں کہیں نہ کہیں ایک ایسی منزل کی تلاش میں بھٹکتا رہا ہے جو لفظوں میں بیان نہیں کی جا سکتی—بس محسوس کی جا سکتی ہے۔


فلسفہ اور عشق جب ایک ساتھ کسی بیانیے میں ضم ہوں تو وہ ایک خاموش انقلاب کو جنم دیتے ہیں۔ یہ ناولٹ اسی انقلاب کی داستان ہے، جہاں ایک "حرام" شے کے وجود سے پیدا ہونے والی کہانی قاری کو کسی "حلال" سچائی کی طرف لے جاتی ہے—جہاں محبت قربانی سے بڑی، ایمان لمس سے لطیف، اور خاموشی مکالمے سے بلند ہو جاتی ہے۔


ہم اس کہانی میں ثقافتی اختلافات، روحانی سوالات اور انسانی کمزوریوں کو ایک نرم انداز میں پیش کرتے ہیں، تاکہ قاری صرف متوجہ نہ ہو بلکہ اپنے اندر جھانکنے پر مجبور ہو جائے۔

یہ فوارہ محض ایک سیاحتی مقام نہیں، بلکہ اس کہانی میں ایک علامت بن کر ابھرتا ہے:


 "کہیں نہ کہیں، ہر مسافر کے لیے ایک قطرہ — محبت، بخشش یا بصیرت کا — ضرور بہہ رہا ہوتا ہے۔"


"ایک جام کی مسافت" دراصل "ایک لمحے" کی تلاش ہے—ایسا لمحہ جو وقت، مذہب، ذات، اور معاشرت سے بلند ہو… اور سیدھا دل کو چھو لے۔


اگر اس کہانی نے آپ کو کچھ دیر کے لیے بھی خاموش کر دیا ہو، تو سمجھ لیجیے، ہمارا پیغام آپ تک پہنچ چکا ہے۔


علیم طاہر

افسانہ نگار

جون، 2025

______________________________


افسانہ نمبر 01

"ایک جام کی مسافت"

افسانہ نگار: علیم طاہر


---


"محبت اور شراب میں ایک عجیب مشابہت ہے— دونوں دھیرے دھیرے دل کو بے خود کرتی ہیں، اور آخرکار سچ کو ننگا کر دیتی ہیں..."


اورتونا (Ortona) کا سورج ڈھل رہا تھا۔ انگور کی بیلوں پر سنہری روشنی کا آخری لمس جیسے کسی شاعر کی نظم کا آخری مصرع ہو، جو مکمل ہونے سے پہلے ہی دل میں کچھ ادھورا سا چھوڑ جائے۔ تنگ راستوں سے گزرتے ہوئے ایلیا کے قدم "کامیونو دی سان تومازو" کے پتھریلے راستے پر ڈگمگا رہے تھے، مگر اس کی آنکھوں میں کچھ اور ہی جھلک رہا تھا—ایک سوال، ایک خواب، یا شاید ایک پرانا گناہ۔


وہ روم سے چلی تھی، اس راستے پر جو صدیاں پہلے زائرین طے کرتے تھے۔ اس کے کاندھے پر ایک سادہ سا بیگ تھا، ہاتھ میں ایک پرانی نوٹ بک، اور دل میں ایک خط—جسے وہ کبھی کسی کو بھیج نہ سکی۔


---


"پیار... ایک واہمہ یا ایک واعدہ؟"

یہ سوال اسے ہمیشہ الجھاتا رہا۔


ایلیا ایک فلسفے کی طالبہ تھی، مگر فلسفہ نے اسے کبھی اس درد کا جواب نہ دیا جو لورنزو کے بچھڑنے کے بعد دل میں ٹھہر گیا تھا۔ وہ ایک مصور تھا، جس کی تصویریں لفظوں سے زیادہ بولتی تھیں، اور جس کی خاموشی ایلیا کے لیے سب سے پرسکون شور تھی۔ وہ دونوں فریارا کی ایک یونیورسٹی میں ملے، اور پھر ایک ایسے خواب میں گم ہو گئے جو کبھی مکمل نہ ہو سکا۔


لورنزو ہمیشہ کہا کرتا تھا:

"جب تم تھک جاؤ، تو میرے ساتھ شراب کا ایک جام پی لینا... وہ دل کے سارے سوال بہا لے جائے گا۔"


مگر ایلیا نے کبھی شراب نہیں پی۔ وہ کہتی تھی:

"محبت میرا نشہ ہے، باقی سب کمزوری ہے۔"


---


اس دن وہ خاص تھا۔


جب ایلیا "ڈورا سارکیزے" کے وائن یارڈ کے پاس پہنچی، تو سامنے "Fonte del Vino" کا سرخ فوارہ بہہ رہا تھا۔ مگر وہاں کوئی شور نہیں تھا، بس ایک پرندے کی آواز، ہوا کا ہلکا لمس، اور سرخ شراب کی نرم روانی۔ وہ رک گئی۔


نل کے قریب ایک بینچ پر ایک بوڑھا شخص بیٹھا تھا، جس کی آنکھوں میں صدیوں کی تھکن اور لبوں پر ایک ہلکی سی مسکراہٹ تھی۔


"تھک گئی ہو؟"

اس نے پوچھا، جیسے وہ ایلیا کو برسوں سے جانتا ہو۔


ایلیا خاموش رہی۔


"یہاں کا پانی سرخ ہے، مگر صرف رنگ سے فیصلہ مت کرنا... یہ مہمان نوازی ہے، تجارت نہیں۔"

بوڑھا مسکرایا، اور ایک سادہ سا جام بھر کے ایلیا کی طرف بڑھایا۔


ایلیا نے پہلی بار ایک جام کو ہاتھ میں لیا۔

لورنزو کی وہ بات اس کے ذہن میں گونجی۔

"شراب کے ہر قطرے میں وقت کی خوشبو ہوتی ہے۔"


اس نے لب تر کیے۔


یہ کوئی نشہ نہ تھا۔

یہ ایک تسلیم تھا—یادوں کا، محبت کا، اور سفر کی تھکن کا۔


---


رات کو آسمان پر ستارے بکھرے تھے۔


ایلیا نے نوٹ بک کھولی، اور وہ خط نکالا جو اس نے کبھی لورنزو کو نہیں بھیجا تھا:


 "پیارے لورنزو،

میں نے تمہیں چھوڑا نہیں، میں تمہارے خواب میں رہ گئی تھی۔ میں نے سوچا شاید تم واپس آؤ، مگر وقت کے ساتھ معلوم ہوا کہ تم کبھی رکے ہی نہیں تھے۔ آج میں اس جگہ پر ہوں جہاں لوگ مسافروں کو شراب نہیں، سکون دیتے ہیں۔ اور میں نے جانا کہ محبت بھی ایک فوارہ ہے—جو بہتا رہتا ہے، چاہے پینے والا موجود ہو یا نہیں۔"


ایلیا نے وہ خط "Fonte del Vino" کے قریب ایک چھوٹے درخت کے نیچے دفن کر دیا۔

پھر وہ چلی گئی... اگلی صبح کی مسافت کی طرف۔


---


اُس دن فوارے سے بہنے والی شراب میں کچھ اور تھا۔

کچھ زائرین نے کہا کہ خوشبو کچھ مختلف تھی، جیسے کسی ادھورے وصال کی۔

کچھ نے کہا وہاں ایک مصور کی تصویر رکھی تھی جس نے محبت کو رنگوں سے سجا دیا تھا۔

اور کچھ نے فقط جام بھرا، پی لیا، اور شکر کیا—کسی انجان مسافر کی طرف سے۔


---


فلسفہ کہتا ہے: "محبت ایک سوال ہے، اور ہر سوال کو وقت ہی جواب دیتا ہے۔"

اور شاید وہ جواب، ایک سرخ فوارے کے کنارے... ایک جام میں چھپا ہوتا ہے۔


---


"ایک جام کی مسافت – حصہ دوم: خط کا جواب"

افسانہ نگار: علیم طاہر


---


"کبھی کبھی ہم وہ باتیں سن لیتے ہیں، جو کہی نہیں گئیں... اور وہ خط پڑھ لیتے ہیں، جو کبھی بھیجے ہی نہیں گئے۔"


اورتونا میں خزاں آ چکی تھی۔


انگوروں کی بیلیں سنہری ہو چکی تھیں، اور "ڈورا سارکیزے" کی وائنری میں سیاحوں کی آمد کم ہو گئی تھی۔ فوارہ اب بھی بہتا تھا — مگر اس کی سرخی میں اب کچھ اور تھا... جیسے اس میں یادوں کا رنگ گھل گیا ہو۔


ایک دن، فوارے کے قریب صفائی کرتے ہوئے مارکو — جو وائنری کا مقامی نوجوان خادم تھا — زمین پر ایک نرم، پرانا کاغذ محسوس ہوا۔ درخت کی جڑوں کے پاس کچھ خاک اکھڑی ہوئی تھی۔ اس نے جھک کر دیکھا۔ وہ ایک پرانا، نمی زدہ خط تھا... الفاظ اب بھی زندہ تھے۔


"پیارے لورنزو..."

مارکو نے آہستہ سے پڑھا۔ الفاظ کی سادگی اور دل کی صداقت نے اسے جھنجھوڑ دیا۔ وہ اس خط کو اپنی نانی، سینیورا لوریتا کے پاس لے گیا، جو ایک ریٹائرڈ لائبریرین تھیں اور پرانی تحریروں کی عاشق۔


انہوں نے خط کو غور سے پڑھا، اور چند لمحے خاموش رہیں۔

پھر دھیرے سے کہا:

"یہ ایلیا کا خط ہے... اور لورنزو... شاید میرا ہی بھانجا۔"


---


کہانی اب وہاں سے شروع ہوئی جہاں محبت ہمیشہ رک جاتی ہے: خاموشی میں۔


لورنزو... وہ مصور جو برسوں پہلے شہر چھوڑ کر فلورنس چلا گیا تھا، ایک گم شدہ چہرہ، ایک بھولا ہوا نام۔ سینیورا لوریتا نے اپنے خطوط کی پرانی فائل نکالی۔ ایک پرانا لفافہ تھا، جس پر لکھا تھا:


"ایلیا، فریارا یونیورسٹی، روم"


مگر خط کبھی بھیجا نہ گیا تھا۔


اندر ایک سادہ سی تحریر تھی:


 "ایلیا، میں تمہیں چھوڑ کر نہیں گیا... میں تمہارے انتظار میں ٹھہر گیا۔ میں نے سوچا، شاید تم مجھے بھلا دو، اس لیے میں نے خود کو وقت کے حوالے کر دیا۔ مگر ہر صبح، میں تمہاری آنکھوں کی یاد میں رنگ گھولتا ہوں۔ اور ہر شام، ایک خالی کینوس پر تمہارا چہرہ بناتا ہوں، جو مکمل ہی نہیں ہوتا۔ اگر کبھی تم میرے پاس لوٹو، تو ایک جام ضرور پی لینا... کیونکہ شاید اس میں تمہیں میرا آخری رنگ ملے..."


---


اب دو خطوط تھے... دو روحیں... اور ایک فاصلہ...


مارکو نے فیصلہ کیا کہ ایلیا کو تلاش کرنا ہوگا۔


اس نے سوشل میڈیا، یونیورسٹی ریکارڈز، پرانی دوستوں کی مدد سے آخرکار ایلیا کو تلاش کر لیا۔ وہ اب بولونیا میں ایک چھوٹا سا آرٹ کیفے چلاتی تھی — جہاں دیواروں پر بےنام تصویریں لٹکی تھیں، اور ہر میز پر ایک چھوٹا سا سرخ گلدان رکھا ہوتا تھا۔


مارکو اس کے پاس پہنچا۔

ایلیا نے جب وہ پرانا خط دیکھا، تو وقت جیسے رک گیا۔ اس کی آنکھوں میں وہی سوال جاگا — جو برسوں پہلے لورنزو کے جانے کے بعد آنکھوں میں جم گیا تھا۔


مارکو نے دھیرے سے کہا:

"وہ اب بھی تمہیں یاد کرتا ہے، ایلیا۔"


---


چند ہفتے بعد...


"ڈورا سارکیزے" کے پاس دوبارہ موسم بہار آیا۔

اور ایک دن، فوارے کے سامنے دو لوگ خاموشی سے بیٹھے تھے۔

ایک نے جام بھرا، دوسرے نے آنکھیں بند کیں۔

اور پھر، بغیر کچھ کہے، دونوں نے ایک گھونٹ لیا۔


وہ ایلیا اور لورنزو تھے۔


وقت نے ان کے درمیان جو خالی کینوس چھوڑا تھا، آج وہ شراب کے ایک گھونٹ سے بھر گیا۔


---


"محبت کبھی نہیں مرتی، صرف روپ بدل لیتی ہے۔

کبھی ایک خط بن جاتی ہے، کبھی ایک تصویر، اور کبھی... ایک سرخ فوارہ۔"


---


"کبھی کبھی محبت، وقت کے پیالے میں برسوں خاموش رہتی ہے — پھر ایک دن وہ چھلک جاتی ہے، بغیر کسی آواز کے..."


اورتونا کے فوارے پر شام ڈھل چکی تھی۔


ہوا میں انگور کی ہلکی سی خوشبو تیر رہی تھی، جیسے خزاں کی کوئی بھولی ہوئی سانس کسی پیڑ کی شاخوں سے نکل کر واپس زمین پر آ رہی ہو۔ فوارہ اب بھی ویسا ہی تھا — سرخ، خاموش، مگر اب اس میں ایک اور رنگ گھل چکا تھا: زندگی کا ذائقہ۔


ایلیا اور لورنزو اب دوبارہ ایک ساتھ تھے۔


نہ جوانی کی شدت باقی تھی، نہ جدائی کی چبھن — اب جو باقی تھا وہ تھا سمجھنے کا ہنر۔ وہ خامشی جو صرف پختہ محبت میں نصیب ہوتی ہے... جیسے دو دریا آخرکار ایک سمندر میں مل گئے ہوں، بغیر شور کیے۔


---


"روشنی کی گیلری"


اورتونا کے فوارے سے کچھ قدم دور، ایک چھوٹا سا آرٹ اسٹوڈیو کھلا۔


اس کا نام تھا:

"روشنی کا ذائقہ – Il Sapore della Luce"


یہاں داخل ہوتے ہی ایک ہلکی روشنی آپ کو گلے لگاتی تھی، اور دیواروں پر جو تصویریں تھیں، وہ عام تصاویر نہیں تھیں۔


ہر تصویر کے نیچے ایک جام رکھا گیا تھا — جام میں نہ شراب تھی، نہ پانی، بلکہ ایک رنگ تھا — کوئی نیلا، کوئی زرد، کوئی گلابی۔


زائرین کو دعوت دی جاتی تھی کہ وہ "جام کو آنکھوں سے چکھیں"۔


پہلی تصویر کے نیچے لکھا تھا:


 "یہ وہ لمحہ ہے جب میں نے اسے دوبارہ دیکھا... روشنی جیسے ساکت ہو گئی ہو..."


ایک تصویر میں ایلیا کا چہرہ تھا — مگر آنکھیں بند تھیں۔

دوسری تصویر میں لورنزو تھا — ہاتھ میں کینوس تھامے، مگر خالی۔


اور آخری تصویر — جو صرف ایک سفید کینوس تھا — کے نیچے لکھا تھا:


 "یہ وہ لمحہ ہے جو ابھی آیا نہیں... مگر ہم اسے روز جیتے ہیں۔"


---


فلسفہ، فوارہ، اور فانی وجود


لوگ آنے لگے۔ کچھ اپنی محبت کے ساتھ، کچھ تنہا، کچھ سوالوں کے ساتھ، کچھ زخموں کے ساتھ۔


ہر کوئی یہاں ایک جام چکھتا — اور محسوس کرتا کہ شاید زندگی صرف وہی ہے جو محسوس کی جائے، لفظوں سے ماورا۔


مارکو — جو اس قصے کا خاموش راوی تھا — اب اسٹوڈیو میں گائیڈ بن چکا تھا۔ وہ ہر تصویر کی کہانی نہ سناتا، بس ایک جملہ کہتا:


"یہاں ہر جام میں روشنی چھپی ہے، صرف دیکھنے والے کا دل صاف ہونا چاہیے۔"


---


ختم میں صرف ایک تحفہ ہوتا ہے...


ایک دن ایک لڑکی اسٹوڈیو آئی۔ وہ بولونیا کی تھی، اور ایک شاعرہ تھی۔ اس نے سفید کینوس کے سامنے رُک کر آنکھیں بند کر لیں۔


پھر ایک پرچی نکال کر میز پر رکھ دی:


 "محبت وہ جام ہے جسے وقت کی چھلنی سے چھان کر پینا پڑتا ہے... تب جا کے روشنی کا ذائقہ آتا ہے۔"


اس کے جانے کے بعد، مارکو نے پرچی اٹھائی، مسکرایا، اور ایک نیا کینوس دیوار پر لگایا۔ نیچے وہی پرچی چپکا دی گئی۔


---


آخری منظر:


ایلیا ایک شام، فوارے کے سامنے بیٹھی تھی۔ لورنزو نے ایک چھوٹا سا خاکہ اس کے ہاتھ میں دیا۔ وہ خاموشی سے اسے دیکھتی رہی، پھر بولی:


"کیا یہ میں ہوں؟"

لورنزو مسکرایا:

"نہیں... یہ تمہارا عکس ہے... جو میں نے اپنے اندر سمیٹ رکھا ہے۔"


---


اختتامیہ:


"فوارے سے بہتی شراب، فقط مائع نہیں — وہ ایک دعا ہے، ایک یاد، ایک لمس...

اور شاید ایک دن، جب وقت تھم جائے گا، تو ہم سب کے ہاتھ میں ایک ایسا جام ہوگا... جس میں روشنی کا ذائقہ ہوگا۔"


---


"کچھ کہانیاں اپنے انجام پر ختم نہیں ہوتیں، بلکہ وہاں سے آغاز لیتی ہیں جہاں قاری کو لگے کہ سب ختم ہو چکا ہے..."


---


اورتونا کے اس پُراسرار فوارے پر اب خزاں اتر چکی تھی۔


درختوں کے پتے سُنہری ہو چلے تھے، ہوا میں نمی کی مہک اور سرخ انگوروں کی آخری سانس شامل تھی۔ لیکن ان دنوں کچھ اور بھی تھا... ایک انجان چہرہ، جو بار بار نظر آ رہا تھا، خاموشی سے، بنا کچھ مانگے۔


ایک دن، فوارے کے قریب، ایک بوڑھا درویش بیٹھا ملا — خرقہ پہنے، سادہ، مگر اس کی آنکھوں میں صدیوں کی پیاس تھی۔


نام کسی کو معلوم نہ تھا، مگر بچے اسے "Il Pellegrino Ombra" (سایہ زائر) کہنے لگے۔


---


پہلا سسپینس — اس کا جام خالی تھا!


اس نے ایک جام تھاما، فوارے کے نیچے رکھا — لیکن حیرت کی بات یہ تھی کہ ہر کسی کے جام میں مونٹی پلچیانو کی شراب ٹپکتی تھی، سوائے اس کے۔


نہ شراب، نہ رنگ، نہ خوشبو... جام بالکل خالی تھا۔


لوگوں نے اسے ایک کھیل سمجھا، کچھ نے جادو، کچھ نے تکنیکی خرابی — مگر جب تین دن تک فوارہ صرف اسی کے لیے خاموش رہا، تو ایلیا چونک گئی۔


---


دوسرا سسپینس — وہ خاموشی سے سب کی تصویریں بناتا رہا...


اس "سایہ زائر" نے نہ سوال کیا، نہ شکایت۔

وہ صرف اسٹوڈیو میں آ کر، سفید کینوس پر کسی کو دیکھے بغیر تصویریں بنانے لگ گیا۔ عجیب بات یہ تھی کہ وہ جو تصویریں بناتا، وہ ان لوگوں کے چہرے تھے جو ابھی وہاں نہیں آئے تھے۔


ایک دن مارکو نے پوچھ ہی لیا:

"یہ تمہیں کیسے معلوم کہ کون آئے گا؟"

بوڑھا مسکرایا:

"میں ان کی تشنگی دیکھتا ہوں، اور تصویر بن جاتی ہے۔"


---


تیسرا سسپینس — آخری کینوس پر صرف ایک حرف تھا: "ھُو"


اس نے ایک دن کینوس پر کچھ بھی نہیں بنایا — صرف ایک حرف:

"ھُو"


ایلیا نے حیرت سے پوچھا:

"یہ کیا ہے؟"

وہ بولا:

"یہ وہ نام ہے جو ہر زبان کے جام میں ترجمہ ہو جاتا ہے، مگر حقیقت کبھی نہیں بنتا۔"


---


کلیمکس: جب فوارہ ایک آخری بار بہا...


اک روز وہ درویش اچانک غائب ہو گیا۔


فوارہ، جو کئی دنوں سے بند تھا، اچانک زوردار شور سے بہنے لگا — لیکن اس بار سرخ شراب نہیں، نہ پانی، بلکہ شفاف روشنی کا سیال اس سے نکل رہا تھا۔ لوگ حیرت سے دیکھتے رہے، کوئی پینے کی ہمت نہ کر سکا۔


مارکو نے جھک کر ایک جام بھرا، آنکھوں سے لگا کر کہا:


"یہ تو خالص روشنی ہے، ذائقہ وہی ہے جو خواب میں آتا ہے..."


اس لمحے فوارے کے پتھر پر ایک تحریر ابھر آئی، جو پہلے کبھی نہ تھی:


> "جو جام خالی رہ جائے، وہی اصل میں مکمل ہوتا ہے۔"


---


ایلیا نے آخری تصویر مکمل کی۔


اس نے بوڑھے درویش کے کینوس پر، اس کا چہرہ نہیں بنایا — بلکہ اس کے ہاتھ کا خاکہ بنایا، جو ایک خالی جام تھامے ہوئے تھا۔ نیچے ایک سطر لکھی:


 "محبت، وہ پیاس ہے جو کبھی بجھتی نہیں — کیونکہ وہ پیاس ہی اصل روشنی ہے۔"


---


اختتامیہ:


کہا جاتا ہے، اس دن کے بعد "Fonte del Vino" کا فوارہ ہر اُس شخص کے لیے بہتا ہے جو دل سے پیاسا ہو، نہ کہ صرف جام کا طلبگار۔


اور وہ "سایہ زائر"؟

کچھ کہتے ہیں وہ ایک صوفی تھا۔

کچھ کہتے ہیں وہ "محبت" کا مجسم عکس تھا۔

اور کچھ… اب بھی اس کی تصویر اسٹوڈیو میں دیکھ کر خالی جام تھام لیتے ہیں۔


کیونکہ کبھی کبھی...

"خالی جام ہی مکمل جام ہوتا ہے..."


---


باب پنجم: ایلیا کی آنکھیں


افسانہ نگار: علیم طاہر


اورتونا کی پتھریلی گلیوں میں دن کا رنگ دھندلا ہوتا جا رہا تھا۔ آسمان پر شام کی سیاہی سورج کے آخری ذرے کو آہستہ آہستہ نگل رہی تھی۔ مارکو نے ایلیا کے اسٹوڈیو کی طرف قدم بڑھائے۔ وہ فوارے پر جو ملاقات ہوئی تھی، اس کے بعد ایلیا اس کے دل کے دریچوں میں عجیب سی تھرتھراہٹ چھوڑ گئی تھی — جیسے کسی نے سالوں سے بند ایک خانہ کھول دیا ہو، جس میں خوشبو اور زخم دونوں قید ہوں۔


ایلیا کا اسٹوڈیو ایک چھوٹے سے گرجا گھر کی پرانی عمارت میں تھا۔ پتھروں کی دیواریں، لوہے کی کمانوں جیسے دروازے، اور روشندان سے آتی نارنجی روشنی۔ دروازہ کھلا تھا، لیکن اندر داخل ہوتے ہی خاموشی نے مارکو کا استقبال کیا — اور پھر ایک عجیب سی سرگوشی نے۔


"تم آ گئے؟"

یہ ایلیا کی آواز تھی، جو کینوس پر جھکی ہوئی ایک سائے کی مانند سنائی دی۔


مارکو چند قدم آگے بڑھا۔ "تمہیں کیسے پتا چلا کہ میں آؤں گا؟"


ایلیا نے سر اٹھایا۔ اس کی آنکھوں میں وہی گہرا سکوت تھا — جیسے وہ وقت کے بہاؤ سے آزاد ہو۔

"کیونکہ کچھ جام وقت سے نہیں، پیاس سے بھرے جاتے ہیں۔"


مارکو نے مسکرا کر ارد گرد دیکھا۔ کینوس پر رنگوں کا ہجوم تھا — پر کوئی چہرہ مکمل نہ تھا۔ آنکھیں تھیں، ہونٹ، ہاتھ... مگر کوئی پورا انسان نہیں۔

"یہ سب کون ہیں؟"


"زائرین۔ جو فوارے سے گزرے، جو ایک گھونٹ لینے آئے اور خود کو پیچھے چھوڑ گئے۔ میں ان کا عکس محفوظ کرتی ہوں، مگر وہ خود کبھی مکمل نہیں ہوتے۔"


مارکو نے ایک کینوس کے پاس رک کر پوچھا، "اور یہ آنکھیں؟"

"یہ میری ہیں..." ایلیا نے سر جھکا لیا۔

"...میں برسوں سے اپنی آنکھوں میں وہ لمحہ تلاش کر رہی ہوں جب میں نے پہلی بار فوارے کا ذائقہ محسوس کیا۔"


"تو تم نے بھی..."

"ہاں۔ مگر میں نے پی نہ تھی، صرف ہاتھ بھگوئے تھے۔ میں چاہتی تھی کہ جام کے بغیر بھی پیاس مٹ جائے۔ مگر پھر احساس ہوا — بعض پیاسیں مقدر نہیں ہوتیں بجھنے کے لیے، بس رہنے کے لیے ہوتی ہیں۔"


مارکو خاموش ہو گیا۔ ایلیا کے لفظوں میں وہی گہری تھکن تھی جو مسافروں کی آنکھوں میں ہوتی ہے۔

پھر یکایک ایلیا نے ایک چھوٹا کینوس مارکو کے ہاتھ میں تھما دیا۔

"یہ تم ہو۔"

مارکو نے چونک کر تصویر کو دیکھا۔ یہ ایک آنکھ تھی — گہری، پر سکون، اور اس میں فوارے کی ہلکی روشنی جھلک رہی تھی۔


"مگر... تم نے مجھے تو کبھی اس زاویے سے دیکھا بھی نہیں۔"

"پینٹر آنکھوں سے نہیں، دھڑکنوں سے دیکھتے ہیں۔"


دونوں کے بیچ خاموشی کا ایک جام رکھا تھا۔

ایلیا نے آہستہ سے پوچھا، "کیا تم نے کبھی چاہا ہے کہ تمہاری پیاس کوئی اور سمجھ لے؟"


مارکو نے آہستہ سے سر ہلایا۔

"چاہا نہیں... شاید اسی خواہش سے بھاگتا رہا ہوں۔"


ایلیا کی آنکھوں میں ایک نمی سی تیر گئی — وہ نمی جو آنکھ سے نہ بہے تو رنگ بن جاتی ہے، اور اگر بہہ جائے تو دعا۔

"پھر بھی تم آئے ہو۔ شاید ہم دونوں کی پیاس ایک ہی فوارے سے جڑی ہو۔"


دروازے کے باہر ہوا میں مونٹی پلچیانو کی مہک تیر رہی تھی۔

اور اندر، دو پیاسی روحیں رنگوں اور خاموشیوں کے درمیان ایک دوسرے کو پڑھنے کی کوشش کر رہی تھیں۔


---


وہ رات، جب ایلیا نے مارکو کو اس کی اپنی آنکھوں میں دکھایا، مارکو کو خواب کی مانند محسوس ہوئی — مگر خواب بھی کبھی کبھی اتنے حقیقی ہوتے ہیں کہ جاگنے پر انسان کو خود سے شرمندگی محسوس ہوتی ہے۔


مارکو فوارے کے قریب ایک پتھریلی بینچ پر بیٹھا تھا۔ ہوا میں مونٹی پلچیانو کی ہلکی مہک تھی، اور دور سے کسی خانقاہ کے گھنٹے کی مدہم آواز آ رہی تھی۔ وقت جیسے ٹھہر سا گیا ہو — نہ مکمل رات، نہ مکمل دن — بس ایک ایسی گھڑی جب سوال اٹھتے ہیں اور جواب خاموشی میں چھپ جاتے ہیں۔


مارکو کی نگاہ ایک بار پھر "Fonte del Vino" کے فوارے پر جا ٹھہری۔

شراب وہاں بہہ رہی تھی، جیسے وقت، جیسے وعدے، جیسے وہ خط جو کبھی بھیجنے کے لیے لکھے ہی نہیں گئے۔


"میں یہاں کیوں ہوں؟"

اس نے خود سے سوال کیا۔


کیا یہ پیاس محبت کی ہے؟

یا صرف اس جذبے کی جو کسی کو چھو لینے سے پہلے، انسان کو اندر سے ڈرا دیتا ہے؟


"مجھے یقین تھا تم یہاں ہو گے۔"


ایلیا کی آواز اُس لمحے میں شامل ہو گئی — جیسے کسی اندرونی مکالمے کا جواب۔


مارکو نے پلٹ کر دیکھا۔ ایلیا سر پر ہلکی چادر لیے، ننگے پاؤں پتھروں پر چلتی ہوئی آ رہی تھی۔

"تم رات کے اس پہر یہاں کیا کر رہی ہو؟"


"یہاں آنے والے مسافروں کی نیند ہلکی ہوتی ہے۔"

وہ ہنس دی، مگر اس کی آنکھوں میں سنجیدگی تھی۔


"میں سوچ رہا تھا..." مارکو رکا،

"کیا محبت اور ایمان ایک ساتھ رہ سکتے ہیں؟"


ایلیا کچھ دیر خاموش رہی۔ پھر فوارے کے قریب جا کر ہاتھوں میں بہتی شراب کو تھامنے کی کوشش کی۔

"یہ بہتا پانی دیکھو، مارکو... اگر تم اسے مٹھی میں قید کرو گے، تو نکل جائے گا۔ مگر اگر تم بس اسے محسوس کرو، اس کی خنکی کو، اس کی روانی کو — تو شاید یہ تمہیں بدل دے۔"


"تم کہنا چاہتی ہو کہ محبت کو قید نہیں کرنا چاہیے؟"


"نہیں۔ میں کہنا چاہتی ہوں کہ بعض جذبے — محبت ہو، ایمان ہو — ان کا مقام مٹھی نہیں، دل ہوتا ہے۔ دل میں وسعت ہوتی ہے۔ دل میں دونوں رہ سکتے ہیں۔"


مارکو کچھ کہنے ہی والا تھا کہ اچانک ایک اندھیرے میں لپٹا وجود، فوارے کے سائے سے نکل آیا۔

وہ ایک بوڑھا زائر تھا، جس کی آنکھوں میں ہزار میل کی تھکن، اور چہرے پر ایک انجانی مسکراہٹ تھی۔


"کیا میں بھی یہاں بیٹھ سکتا ہوں؟"

اس نے مارکو سے پوچھا۔


مارکو نے سر ہلایا۔ وہ شخص خاموشی سے بیٹھ گیا، پھر آہستہ سے بولا:

"یہ فوارہ صرف شراب نہیں بہاتا، بیٹے۔ یہ مسافت بہاتا ہے۔ ہر گھونٹ میں کسی کی دعا، کسی کی محرومی، کسی کی یاد ہوتی ہے۔ اور کبھی کبھار... وہ سب جمع ہو کر کسی ایک شخص کے دل میں اتر جاتے ہیں۔"


مارکو چونک گیا۔

"آپ کون ہیں؟"


بوڑھا مسافر مسکرایا۔

"بس ایک مسافر۔ جیسے تم۔ اور جیسے وہ..."

اس نے ایلیا کی طرف اشارہ کیا،

"...جو برسوں سے اپنی یاد کے جام میں کسی لمحے کو قید کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔"


ایلیا نے نظریں چرا لیں۔


"لیکن تم، مارکو... تمہاری آنکھوں میں وہ لمحہ اتر چکا ہے۔ اب فیصلہ تمہیں کرنا ہے — اسے پینا ہے یا چھوڑ دینا ہے۔"


مارکو کو ایسا لگا جیسے ہوا رک گئی ہو۔

بوڑھا مسافر اٹھا، فوارے سے ایک قطرہ اپنی انگلی پر لیا، اور چپ چاپ اندھیرے میں گم ہو گیا۔


مارکو نے ایلیا کی طرف دیکھا۔

"اگر میں تمہیں تھام لوں تو کیا میں خود کو کھو دوں گا؟"


ایلیا نے آہستہ سے کہا:

"نہیں مارکو، تم خود کو پاؤ گے۔ بس شرط یہ ہے — تم مجھے پینے کی چیز نہ سمجھو، بلکہ محسوس کرنے کا لمحہ جانو۔"


رات نے اپنا پردہ تان لیا تھا۔


اور ان دونوں کے بیچ ایک جام رکھا تھا — جس میں نہ شراب تھی، نہ پانی...

بلکہ پیاس کا عکس۔

محبت کا لمس۔

اور ایمان کا سکوت۔


---


مارکو واپس روم کی جانب روانہ ہو چکا تھا — مگر راستے کے سنگریزے، ایلیا کی آنکھیں، اور فوارے کی شراب… سب کچھ اس کے دل کی ہتھیلی پر نقش ہو چکا تھا۔


وہ جسمانی طور پر سفر کر رہا تھا، لیکن ذہنی طور پر ایک بند دائرے میں چکر کاٹ رہا تھا —

ایک ایسا دائرہ، جس کے مرکز میں ایک عورت کھڑی تھی، جس نے اسے خود سے ملایا تھا۔


روم کی گلیاں ویسی ہی تھیں، پر اب مارکو بدل گیا تھا۔

اس کے لفظ کم ہو چکے تھے، دعائیں زیادہ۔

وہ گرجا گھر میں جاتا، دیر تک خاموش بیٹھتا، اور ہر بار ایک ہی جملہ کہتا:

"خدا، اگر یہ جذبہ بھی تو نے ہی دیا ہے، تو مجھے اس کا مقصد سمجھا دے۔"


---


ایلیا اورتونا میں ٹھہری رہی۔

فوارہ بہتا رہا — زائر آتے گئے، جاتے گئے۔

لیکن فوارے کا پانی… نہیں، وہ شراب… اُس دن کے بعد کچھ اور بن گئی تھی۔


اب ہر بوند ایلیا کو مارکو کی آنکھوں کی نمی جیسی لگتی تھی —

ایسی نمی جو اندر سے آئی ہو، اور انسان کو باہر سے بھی بدل دے۔


ایلیا نے طے کر لیا تھا کہ اگر مارکو واپس نہ آیا، تو وہ خود اس کے شہر چلی جائے گی۔


"محبت کی معراج وصال نہیں، انتظار ہے۔ اور کبھی کبھی… انتظار خود وصال سے بڑھ کر عبادت بن جاتا ہے۔"


---


مارکو نے خود کو چرچ میں قید کر لیا تھا۔


ایک دن، ایک پادری نے اس سے پوچھا،

"کیا تم توبہ کے متلاشی ہو یا محبت کے؟"


مارکو نے جواب دیا،

"میں دونوں کو ایک سمجھ بیٹھا ہوں۔ لیکن شاید… میں دونوں کو الگ الگ سمجھنا چاہتا ہوں۔"


پادری مسکرایا۔

"پھر تمہیں کسی دن وہ روشنی ملے گی… جو تمہیں سچائی کے لیے اندھا کر دے گی۔ اور اندھوں کے دل زیادہ دیکھتے ہیں۔"


---


چند دن بعد، مارکو نے ایلیا کو خط لکھا۔

لیکن اسے پوسٹ نہ کر سکا۔


اسے لگا، اگر وہ لفظوں میں اپنی محبت قید کرے گا، تو شاید وہ جذبہ مٹھی میں آ کر پانی کی طرح نکل جائے گا۔


لیکن ایک صبح… ایک عجیب سا خواب دیکھ کر وہ چونک کر جاگا۔


خواب میں وہ اور ایلیا، فوارے کے قریب تھے — لیکن فوارے سے اب نہ شراب نکل رہی تھی، نہ پانی… بلکہ روشنائی۔


ایلیا اس روشنائی کو ایک سفید کاغذ پر انڈیل رہی تھی…

اور لکھتی جا رہی تھی:


"محبت ایک دعا ہے، اگر سچی ہو — تو خود بخود عرش تک پہنچ جاتی ہے۔"


مارکو نے اسی لمحے فیصلہ کیا۔


وہ واپس اورتونا جائے گا…

نہ اپنی نیت صاف کرنے،

نہ اپنی محبت جتانے…

بلکہ صرف اعتراف کرنے —

کہ وہ کسی لمحے کی جستجو میں تھا، جو ایک عورت کی آنکھوں میں قید تھا۔


---


مارکو نے جب فوارے کے پاس قدم رکھا، ایلیا پہلے ہی وہاں کھڑی تھی —

نہ حیرت، نہ خوشی… بس ایک خاموش قبولیت، جیسے دل کی آواز وقت سے پہلے سن لی گئی ہو۔


"میں آیا ہوں…"

مارکو کی آواز رکی ہوئی تھی،

"نہ معافی مانگنے، نہ وضاحت دینے… بلکہ صرف یہ کہنے، کہ وہ لمحہ… جو تمہارے ساتھ بیتا، وہی میری عبادت بن گیا ہے۔"


ایلیا نے فوارے سے ایک جام بھر کر مارکو کو دیا۔

"یہ لے لو… یہ شراب نہیں، ہمارا لمس ہے۔ اسے پی لو… اگر تم اب بھی اس لمس کو پانا چاہتے ہو۔"


مارکو نے وہ جام لبوں سے لگایا…

اور پینے سے پہلے، آہستہ سے کہا:


"میں تمہیں محسوس کرنا چاہتا ہوں… قید نہیں۔"


---


اسی لمحے فوارے کے پیچھے کی دیوار پر سورج کی پہلی کرن پڑی —

اور اس روشنی میں دونوں کے سائے ایک دوسرے میں گھل گئے۔


یہ لمحہ تھا… وصال کا،

یہ لمحہ تھا… عبادت کا،

اور یہ لمحہ تھا… اعتراف کا آفتاب۔


---


صبح کی سرد روشنی میں فوارے کے آس پاس خاموشی کا راج تھا۔ پرندے اڑ تو رہے تھے مگر آوازیں جیسے کسی اور ہی دنیا میں رہ گئی ہوں۔ ایلیا اور مارکو ایک دوسرے کے قریب کھڑے تھے، لیکن ان کے بیچ کئی خاموش لمحے حائل تھے—جو کبھی شک تھے، کبھی سوال، اور اب محض لمس۔


"ایلیا… تم جانتی ہو؟"

مارکو کی آواز میں رُک رُک کر بہتا یقین تھا،

"میں نے زندگی میں پہلی بار کسی جذبے کو اتنا سچا محسوس کیا ہے کہ وہ خدا کی موجودگی جیسا لگا…"


ایلیا نے آنکھیں بند کیں، جیسے کسی راز کو جذب کر رہی ہو۔


"محبت اور خدا، دونوں کو صرف دل سے پایا جا سکتا ہے، مارکو۔ اور جب دونوں ایک لمحے میں سمٹ آئیں… تو وہ لمحہ لافانی ہو جاتا ہے۔"


وہ لمحہ تھا—جب فوارے سے ایک نرم دھار بہی… نہ شراب، نہ پانی… بلکہ ایسی شفاف روشنی، جو صرف محسوس کی جا سکتی تھی۔


مارکو نے ایلیا کا ہاتھ تھاما۔

نہ کوئی عہد، نہ وعدہ۔

بس ایک "ہاں" — جو لفظوں سے بلند ہوتی ہے۔


---


"کبھی کبھی انسان سفر پر نکلتا ہے کہ کسی منزل تک پہنچے… لیکن اصل میں وہ کسی لمحے کی تلاش میں ہوتا ہے — ایک ایسا لمحہ جو اس کی روح کو چھو لے، بغیر کسی شرط، بغیر کسی خوف، بغیر کسی نام کے۔"


ایلیا نے اپنے پیروں کے نیچے کی مٹی کو چھوا،

"یہیں کہیں میرے خواب دفن تھے۔ تم نے انہیں جگا دیا… پر وہ اب تمہارے نہیں، میرے خدا کے پاس ہیں۔"


مارکو مسکرایا۔

"تو کیا ہم دونوں جدا ہو رہے ہیں؟"


ایلیا کی مسکراہٹ میں اداسی نہیں، تکمیل تھی۔

"محبت کبھی جدا نہیں ہوتی مارکو… صرف اپنی صورت بدلتی ہے۔"


---


اگلے دن مارکو واپس روم چلا گیا۔

نہ کوئی چیخ، نہ کوئی اختتام —

محض ایک لمس، جو وقت سے ماورا تھا۔


ایلیا فوارے کے قریب بیٹھی، ایک نیا جام بھرتی ہے…

اور ہر زائر کو پیش کرتے ہوئے کہتی ہے:


"یہ صرف شراب نہیں…

یہ ایک لمس ہے،

ایک دعا ہے،

ایک یاد ہے…

جو کبھی کسی نے صرف ایک نگاہ میں مجھے دے دی تھی… اور میں آج تک اس لمس کی مسافت طے کر رہی ہوں۔"


_________


(C): Novelet

Ek jaam ki Musaafat

Aleem Tahir 

Email id aleemtahir12@gmail.com 

_______

افسانہ:21_ خودکشی کرنے والے آئینے

 

 افسانہ: 21


عنوان: "خودکشی کرنے والے آئینے"


(افسانہ نگار: علیم طاہر)


یہ ایک ایسا شہر تھا جہاں ہر شخص کے کمرے میں ایک آئینہ ضرور تھا —

مگر یہ آئینے کسی اور دنیا سے لائے گئے تھے۔


کہا جاتا تھا کہ یہ آئینے صرف چہروں کو نہیں دکھاتے تھے،

بلکہ وہ کچھ اور بھی دکھاتے تھے —

جو انسان خود دیکھنے سے کتراتا تھا۔


شہر کا قانون تھا کہ ہر فرد دن میں کم از کم تین بار آئینہ دیکھے۔

یہ ایک عبادت بن چکی تھی۔

مگر کوئی نہیں جانتا تھا،

یہ آئینے دھیرے دھیرے مر رہے ہیں۔


پہلا آئینہ ٹوٹا تو کسی نے توجہ نہیں دی —

سوچا، اتفاق ہوگا۔


پھر دوسرا آئینہ… پھر تیسرا… پھر سینکڑوں…

اور پھر ایک دن تمام آئینے اک ساتھ چٹخنے لگے۔


لوگوں نے شور مچایا، حکومت نے تحقیقاتی کمیٹی بنائی،

نفسیات دان آئے، ماہرینِ مابعدالطبیعات نے لیکچر دیے،

لیکن آئینے بدستور خود کو توڑتے رہے۔


آخر کار، ایک شخص سامنے آیا —

وہ جو برسوں سے خاموش تھا،

اور شہر کے سب سے پرانے آئینے کا مالک تھا۔


اس نے کہا:


"یہ آئینے خودکشی کر رہے ہیں۔ وہ تھک گئے ہیں جھوٹے چہرے دکھاتے دکھاتے۔"


لوگ ہنس پڑے۔


لیکن اگلے دن، جب اُس مردِ خاموش کا آئینہ بھی چٹخا،

تو آئینے کے پیچھے ایک تحریر نکل آئی:


"ہم تمہاری اصل نہیں دکھا سکتے، کیونکہ تم خود اپنی اصل کھو چکے ہو۔"


اس دن سے شہر میں آئینہ رکھنا جرم بن گیا۔


لوگ دیواروں پر اپنی تصویریں بنانے لگے۔

کچھ نے پانی میں اپنا عکس ڈھونڈنا شروع کیا۔

کچھ نے آنکھیں بند کر کے اپنی شکل تصور میں بنائی۔

مگر کوئی اپنی اصل کو نہ پا سکا۔


کچھ برسوں بعد،

ایک بچہ پیدا ہوا جس کی آنکھیں شفاف تھیں —

اتنی شفاف کہ وہ جب کسی کو دیکھتا،

تو اُس شخص کو اپنا باطن دکھائی دینے لگتا۔


لوگ ڈرنے لگے۔

بچہ مجرم قرار پایا۔


عدالت نے فیصلہ سنایا:


"ہم نے آئینے توڑ دیے تھے تاکہ امن رہے۔

اب اگر ایک انسان خود آئینہ بن جائے،

تو اسے بھی توڑنا لازم ہے!"


بچہ مسکرایا۔

اور کہا:


"شاید میں آخری آئینہ ہوں —

لیکن تم سب پہلی دراڑ ہو،

جس سے روشنی گزر سکتی تھی… مگر تم نے دیوار چُن لی!"



---




اس شہر کے عجائب خانے میں آج بھی ایک شیشہ رکھا ہے —

نہ مکمل صاف، نہ مکمل دھندلا۔

جو اسے دیکھتا ہے،

اسے ایک سوال سنائی دیتا ہے:


"کیا تم آئینہ ہو یا عکس…؟"


Friday, 6 June 2025

افسانہ _19 _ مہراب سناٹا

 افسانہ نمبر: 19


عنوان: "مہرابِ سناٹا"


(افسانہ نگار: علیم طاہر)


ایک شہر تھا جو صرف سناٹوں سے بسا تھا۔۔    

وہاں اذان نہیں ہوتی تھی، گھنٹیاں نہیں بجتی تھیں، اور نہ ہی کسی بچے کے رونے کی آواز سنائی دیتی تھی۔

ہر گھر کے دروازے پر صرف ایک حرف کندہ تھا: "خاموشی"۔


کہا جاتا تھا کہ اس شہر پر ایک نقرئی مہراب سایہ فگن ہے — ایسی مہراب جو ہر بولنے والے کو بےآواز کر دیتی ہے، اور ہر سننے والے کو بہرہ۔

کوئی نہیں جانتا تھا وہ مہراب کب وجود میں آئی، مگر سب جانتے تھے کہ اب اس کے نیچے صرف خاموشی کی حکومت ہے۔


اسی شہر کے ایک مضافاتی حجرے میں ایک بڑھیا رہتی تھی جس کی زبان کٹی ہوئی تھی —

مگر آنکھیں ایسے بولتی تھیں جیسے ہزاروں کتابیں بیک وقت فریاد کر رہی ہوں۔


ایک دن ایک سیاح آیا، جو دنیا کے مہرابوں کو دیکھنے نکلا تھا۔

جب وہ اس شہر میں داخل ہوا، تو اُسے کسی نے کچھ نہ کہا۔

نہ خیرمقدم، نہ روک ٹوک۔

وہ چلا… یہاں تک کہ مہراب کے عین نیچے پہنچ گیا۔


وہ دیکھتا ہے —

مہراب سونے کی نہیں، چاندی کی نہیں، بلکہ ہڈیوں کی بنی ہوئی ہے۔

اور ہر ہڈی پر ایک لفظ کھُدا ہے: "شک"، "خوف"، "منافقت"، "خیانت"، "خاموشی"۔

یہ مہراب ان لوگوں کی باقیات سے بنی ہے جنہوں نے سچ بولنے کی کوشش کی تھی۔


سیاح لرزنے لگا۔

پھر وہ آگے بڑھا اور مہراب کو چھو لیا۔


ایک زلزلہ سا آیا۔

سارا شہر گونج اٹھا۔

دیواریں لرزیں، اور مہراب سے ایک آواز نکلی —

ایسی آواز جو لفظوں سے ماورا تھی، جیسے کوئی صدیوں کی قید سے نکل کر چیخ رہا ہو۔


پھر شہر والوں کے ہونٹ کھلنے لگے۔

کچھ نے رونا شروع کیا، کچھ نے قہقہہ مارا، اور کچھ نے گلا دبا لیا —

کیونکہ وہ سچ بولنے سے پہلے ہی مر چکے تھے۔


سیاح کو ایک روشنی نے ڈھانپ لیا۔

اس کی زبان گنگ ہو گئی،

مگر اُس کی آنکھوں میں ایک چمک باقی تھی —

جیسے وہ اب ساری مہرابوں کے پیچھے چھپے سچ کو جان چکا تھا۔


اسی لمحے بڑھیا، جس کی زبان کٹی ہوئی تھی، آگے بڑھی اور مہراب کو ایک آخری نظر سے دیکھا۔

پھر سرگوشی کی، جو ہوا میں تحلیل ہو گئی:


"ہم نے سچ چھپانے کے لیے مہرابیں بنائیں، اور انہی مہرابوں نے ہمیں بےچہرہ کر دیا۔"



---




اب وہ شہر نہیں رہا۔

صرف ایک کھنڈر باقی ہے،

جس پر کوئی لفظ لکھا ہے —

مگر کوئی اسے پڑھ نہیں سکتا،

کیونکہ وہ لفظ آئینے پر لکھا ہے، اور لوگ اب بھی آئینہ دیکھنے سے ڈرتے ہیں۔



---

افسانہ 20۔ سایہ جو چپ رہتا

 آفسانہ نمبر:  20


عنوان: "سایہ جو چپ رہتا ہے"


(افسانہ نگار: علیم طاہر)


کہا جاتا ہے…

ہر انسان کے ساتھ ایک سایہ پیدا ہوتا ہے،

لیکن شہرِ "سناخت" میں لوگوں کے سائے چپ تھے، اور خود لوگ مسلسل بولتے رہتے تھے۔

اتنا بولتے کہ لفظ کم پڑ جاتے اور چیخیں جملوں کا نعم البدل بن جاتیں۔


وہ شہر لفظوں کی بارش میں جلتا تھا،

جہاں دعائیں صرف نعرے تھیں، اور سچ صرف "ذاتی خیال"۔


ایک روز ایک لڑکا پیدا ہوا جس کا سایہ بولتا تھا —

مگر خود لڑکا گونگا تھا۔


جب وہ چلتا، اس کا سایہ آگے چلتا۔

جب وہ بیٹھتا، سایہ کھڑا رہتا۔

اور جب وہ سوتا، سایہ جاگتا رہتا، اور سرگوشی میں کہانیاں سناتا —

ایسی کہانیاں جو کسی کتاب میں نہیں ملتیں، اور جنہیں سننا گناہ تصور کیا جاتا ہے۔


شہر والوں کو یہ سایہ پسند نہ آیا۔


ایک عالمِ دین نے فتویٰ جاری کیا:

"یہ سایہ شرک ہے۔ سایہ صرف تابع ہونا چاہیے، ترجمان نہیں!"


ایک فلسفی نے تنبیہ کی:

"یہ سایہ ما بعد الطبیعاتی انحراف ہے — اس کی بولی وقت کو بگاڑ دے گی!"


اور ایک وزیر نے قانون بنایا:

"سایہ جو بولے، وہ بغاوت کے زمرے میں آئے گا!"


اب اس لڑکے کو شہر بدر کیا گیا۔

لیکن جیسے ہی وہ شہر سے نکلا، اس کا سایہ اس کے وجود سے الگ ہو گیا —

اور آسمان پر ابھرتے ہوئے ایک سیاہ پرندے میں بدل گیا۔


پرندہ اونچا اڑا۔

اور بولنے لگا۔

اس کی آواز کسی صحیفے کی طرح سنائی دی:


"یہ لوگ سائے سے ڈرتے ہیں کیونکہ وہ خود سایہ بن چکے ہیں…!"


شہرِ سناخت کے لوگ آسمان کی طرف دیکھ کر چیخنے لگے،

لیکن ان کی چیخیں اب آواز سے خالی تھیں —

کیونکہ پہلی بار وہ خود بے سائے ہو چکے تھے۔


انہیں سمجھ نہیں آیا کہ اصل سزا کیا تھی —

سایہ کا بولنا،

یا ان کا خود سایہ بن جانا…؟



---




آج بھی جب رات گہری ہو جاتی ہے،

اور لوگ اپنے آپ سے سچ بولنے کی کوشش کرتے ہیں،

تو انہیں لگتا ہے کوئی سایہ ان کے کان میں کہتا ہے:


"تم وہ ہو جو سچ سے پہلے خاموش ہو جاتے ہو، اور جھوٹ کے بعد بولنا سیکھتے ہو۔"



---