افسانہ : 05
"اسٹرگلرس اڈا "
افسانہ نگار : علیم طاہر
بالی ووڈ کی چکاچوند دنیا کا جادو صرف ہندوستان ہی نہیں
بلکہ پوری دنیا کو اپنی جانب راغب کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتا۔
لوگ باگ من ہی من میں حسین خواب سجائے اپنے چھوٹے شہروں گاؤوں قصبوں سے نکل کر عروس البلاد ممبئی شہر کا رخ کرتے ہیں۔اور یہیں سے شروع ہوتا ہے ان کے خوابوں کی منزل پانے کا پیچیدہ سفر۔۔۔
شانتی نگر میں درمیانی طبقے کے لیے ایک کچی پکی ہوٹل ہے جس کا نام ہے " اسٹرگلرس اڈا "۔۔
اس ہوٹل میں چائے ناشتہ ریفریشمنٹ سے لے کر باتھ روم چھوٹا ایڈوٹوریم ،کول پوائنٹ کی سہولت مہیا ہیں۔ گراؤنڈ سائیڈ پانچ ٹیبلیں اور بینچز پر
اسٹرگلرس اپنی اپنی آپسی گفتگو میں محو ہیں۔وہیں کنارے کچن روم کی وسیع باری ہے۔جہاں آلو پراٹھے سے لے کر آملیٹ پاؤ چائے کافی پانی کی ریڈی میڈ بوتلیں وغیرہ سیلف سروس کے ذریعے حاصل کی جا سکتی ہیں ۔
یکے بعد دیگرے اسٹرگلرس ہوٹل کے صدر دروازے سے آ جا رہے ہیں۔
ایک ایک ٹیبل کے ارد گرد چار چار اسٹرگلرس مصروف گفتگو ہے۔
کچن کے قریب والے ٹیبل پر دو لڑکیاں اور دو لڑکے آپسی گفتگو کرتے ہوئے براجمان ہے۔
ایک نہایت فربہ لڑکی وہائٹ ٹی شرٹ اور بلیو جنس میں ملبوس سگریٹ کے گہرے کش لے کر ہواؤں میں دھوؤں کے مرغولیں بنا رہی ہیں۔
جبکہ دوسری نوجوان الڑھ لڑکی بلیک ٹی پینے میں مصروف ہے۔
ایک لڑکا اپنے ماتھے پر گہری شکنیں لیے کھویا کھویا ہے۔
دوسرا نوجوان ہنستا مسکراتا اور دنیا و مافیا سے بیگانہ ہے۔
دوسرے ٹیبل پر انتہائی پستہ قد آرٹسٹ کو دیکھتے ہوۓ ہنستا مسکراتا نوجوان سامنے بیٹھی وہائٹ ٹی شرٹ والی لڑکی سے پوچھتا ہے ،
" یہ وہی آرٹسٹ ہے نا شلپا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جس نے وائرل ویب سیریز " گمنام سوسائٹی" میں مست ایکٹنگ کیا تھا اور وہ کافی وائرل بھی ہوئی تھی۔"
وائٹ ٹی شرٹ والی شلپا سگریٹ کا گہرا کش لے کر دھواں پھونکتے ہوئے جواب دیتی ہے
ہاں ہاں ۔۔۔۔۔۔یہ وہی ہے چرکٹ ماسٹر ہے ۔۔۔
جس کو چائے کی دکان پر ویٹر کا رول دیا گیا تھا۔
اور مشہور اداکاروں نے اسے کافی لارڈ پیار کیا تھا۔
اور آکاش۔۔۔ آپ سوچ رہے ہوں گے اس پستہ قد آرٹسٹ کے آس پاس لمبوترے آرٹسٹ کیوں بیٹھے ہوئے ہیں؟
آکاش ۔۔۔۔۔بالکل میرے دل کا سوال اپ کی زبان پر ا گیا شلپا کیوں؟؟ کیوں؟؟؟
لمبوترے آرٹسٹس یہ امید لگائے ہوئے ہیں کہ کبھی نہ کبھی اس کے ذریعے، ہمیں ۔۔۔کوئی نہ کوئی چانس ضرور ملے گا۔
آکاش شلپا کو دیکھتے ہوئے کہتا ہے
" کیا ہم بھی اس سے بات کر کے نمبر لے سکتے ہیں."
شلپا مسکرا کر فورا کہتی ہے
" کیوں نہیں.... دراصل ...میں نے کبھی ایسا نہیں سوچا لیکن آپ سے ابھی ملا دیتی ہوں آپ نئے نئے ہیں اور آپ کے لیے ایسا کرنا۔۔۔۔ مطلب۔۔۔۔ نمبر لینا ٹھیک ہی رہے گا۔
شلپا چرکٹ ماسٹر کو آواز دے کر پاس بلا لیتی ہے۔
اور بینچ پر بٹھاتے ہوئے آکاش سے انٹروڈیوس کرواتی ہے۔
یہ ڈائریکٹر رائٹر آکاش جی ہیں۔
انہوں نے اپنے علاقے میں کافی شارٹ فلمیں ، فلمیں اور گیگز بنائے ہیں۔
یہاں بھی ان کی ایک بڑی فلم ریلیز ہونے والی ہے۔"
چرکٹ ماسٹر مسرت سے مصافحہ کرتا ہے۔
اور کہتا ہے
" ہاں جی میں "چرکٹ ماسٹر" آپ سے مل کر اچھا لگا۔۔۔۔
آکاش______" آپ کا فون نمبر دے دو."
چرکٹ فورا نمبر لکھواتا ہے۔ آس پاس کے لمبوترے اور دیگر آرٹسٹس حسرت بھری نگاہوں سے دیکھتے رہتے ہیں۔
***
سامنے بنیچ پر ایک لمبا شخص جو لمبی داڑھی اور تروتازہ شخصیت کا مالک ہے ۔ تین ادھیڑ عمر عورتوں کے ساتھ گپ شپ میں مشغول ہے ۔
اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے شلپا کہتی ہے
"یہ ایک فلمی کیمرہ مین ہے۔ آجکل شاید ان کے پاس بھی کام نہیں ہے ۔"
آکاش ____ اوہو ۔۔۔۔افسوس۔۔۔۔۔
ادھر ایک ٹیبل پر گہرے رنگ کی کالی ساڑی میں لحیم شحیم خوبصورت عورت اپنے لیپ ٹاپ پر مصروف ہیں۔
اس کے سامنے سبز چائے سے لبریز شفاف شیشے کا کپ رکھا ہوا ہے۔ جسے وقفے وقفے سے وہ اٹھا اٹھا کر پیتی جا رہی ہے۔
اس کی پرکشش شخصیت سے سارے اسٹرگلرس مرعوب ہیں۔
اور وہ سب سے لاپرواہ اپنی دھن میں لیپ ٹاپ میں لگی ہوئی ہے۔
ہلکی ہلکی ہالی ووڈ موسقی چاروں کونوں کے اسپیکروں سے فضاؤں میں لہرا رہی ہیں، جس سے وہاں موجود تمام اشخاص پر پرسکون خمار طاری یے۔
ایک ٹیبل پر ایک خوبصورت ماڈل اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ پراٹھے کھاتے ہوئے تھمس اپ کا مزہ لے رہی ہے۔
دونوں بلا کے خوبصورت اور صحت مند دیدہ زیب ہے۔
اوپر کی طرف زینے چڑھتے ہوئے آرٹسٹ آ، جا رہے ہیں۔
آکاش_____
اوپر کیا ہے؟
شلپا_____
اوپر ،وہاں ایک ایڈوٹوریم ہے۔ آرٹسٹس آۓ دن اپنے فن کا مظاہرہ کرتے ہیں۔
وہاں اسٹیج پر ڈرامے (ون ایکٹ پلے) کیے جاتے ہیں۔ (آرٹسٹس پرفارمنس کے لیے ایک چھوٹا مگر اچھا پلیٹ فارم ہے۔)
جو کبھی ٹکٹوں سے تو کبھی فری آف چارج ہوتے ہیں۔
آکاش اور شلپا دونوں ایک دوسرے کے روبرو ہیں.
شلپا دور سائیڈ میں بیٹھے ہوۓ دبلے پتلے ویٹر کو اشارے سے بلاتی ہے۔ اور کہتی ہے
" دو گرم پنیر پراٹھے لے آؤ۔۔۔
بعد میں گرم چائے۔۔۔
آکاش آپ بھی کچھ لو گے۔۔۔
آکاش______ نہیں مجھے سرد پانی کی بوتل بس۔۔۔
شلپا______ ٹھیک ہے ایک پانی کی بوتل اور ہاں ذرا ٹھنڈی لے آؤ۔۔۔۔۔۔۔۔
ویٹر______ جی میڈم اور کچھ.......
شلپا______ اور ہاں ایک پاکٹ میرا سگریٹ۔۔۔۔ بس ۔۔۔!!...
***
صدر دروازے سے ایک بوڑھا شخص داخل ہوتا ہے۔ جس کے نین نقوش کافی پرکشش ہیں۔
کمر تھوڑی جھکی جھکی، سفید مونچھیں، تجربہ کار آنکھیں، انگلش کلر کا شرٹ، براؤن رنگ کی پینٹ ، میں ملبوس چہرے پر گہری مسکراہٹ، لیے قریب ہی خالی ٹیبل کے پاس بیٹھ جاتا ہے۔
اسے دیکھ کر کئی ایک ہاتھ اس کی طرف استقبالیہ انداز سے اٹھتے ہیں۔
وہ سب کا جواب دیتے ہوئے ویٹر سے انڈا بھرجی کا آرڈر دیتا ہے۔
اس کی آنکھیں باری باری سب سٹرگلرز کا جائزہ لے رہی ہیں۔
آکاش ،شلپا سے اس شخص کے بارے میں دریافت کرتا ہے۔
" کون ہے یہ ....؟
شلپا _______سگریٹ کا کش لیتے ہوئے ، دھواں چھوڑ کر پراٹھے کا ٹکڑا منہ میں ڈالتی ہے اور کہتی ہے۔
" یہ اپنے وجو بھائی ہے نا۔۔۔
کافی وقت سے ادھر آتے جاتے ہیں۔
کہیں جاب کرتے ہیں اپنی فلم انڈسٹری سے نہیں ہے۔
بس ان کو ادھر اچھا لگتا ہے تو آتے جاتے ہیں۔
آکاش _____او ہو اچھا اچھا...... اور وہ ادھر کاؤنٹر پر کون ہے؟
شلپا _____وہ اس ہوٹل کے اونر ہیں وشنو جی۔۔۔۔۔
بڑے اچھے انسان ہیں۔
پنجاب سے تعلق رکھتے ہیں۔
بیچارے کبھی اآئے تھے فلموں میں کام کر نے۔۔۔۔۔۔جب ایک مدت تک بات نہیں بنی تو تھک ہار کو کچھ جگاڑ کیے اور یہ اسٹرگلرس نام سے ہوٹل کھول دی۔۔۔۔
آکاش ______اچھا ہے بھئی ہوٹل تو کافی اچھی چلتی ہے.....
شلپا ______
"نہیں جی بس چل جاتی.... روزی روٹی..... انہیں اسٹرگل کرتے کرتے جن دکھوں کا سامنا کرنا پڑا ۔۔ تو۔۔۔۔ وہ ایک دن رو پڑے تھے۔۔۔۔ وہ بھوک پیاس کے مارے تھے...
تبھی فیصلہ کر لیا تھا کہ میں اچھی ہوٹل کھولوں گا اور جو دکھ مجھے ملا ہے کم از کم دوسرے اسٹرگلرس کو نہیں ہونے دوں گا ۔تب سے یہ ہوٹل سنبھال رہے ہیں۔
آکاش _______بڑیا ہے..... ان کے انسانیت والے اس جذبے کو ہزاروں توپوں کی سلامی....
آج کل کون کسی کے لیے اتنا سوچتا ہے۔۔۔۔۔
جس کو دیکھو وہ بس اپنا سوچتا ہے۔۔۔۔۔۔
باقی بھاڑ میں جائے دنیا ونیا۔۔۔۔۔۔
ویسے تمہاری فلم کب ریلیز ہوگی ؟
آکاش ____ابھی تاریخ ڈکلیئر نہیں ہوئی ہے.
بتائیں گے وہ۔۔۔
دیکھتے ہیں۔۔۔۔
شلپا_____ اس میں آپ کی کیا بھومیکا ہے؟
آکاش _____میں نے پردے کے پیچھے رہ کر بہت کچھ کیا ہوں۔ ۔۔۔۔۔
شلپا____ مطلب؟
آکاش _____مطلب ڈکشن کوچ اور ڈائلیکٹ کنسلٹنٹ ۔۔۔۔
اور میری اپنی زندگی سے جڑی ہوئی اسٹوری ہے۔۔۔۔ میرا ایک کردار بھی ہے اس میں۔۔۔
مگر وہ میں نے نہیں کیا ہے (ہنستے ہوئے)بلکہ میرا ڈپلیکیٹ ہے۔ ۔۔۔۔۔۔
ڈپلیکیٹ کو کیوں دیا رول آپ نے کرنا تھا ناں۔۔۔۔۔
آکاش _____ارے بھئ میرے پچیس سالوں پہلے کی عمر کا رول تو ڈپلیکیٹ ہی کرے گا ناں۔۔۔
اس لیے ۔۔۔۔۔۔۔
نہیں تو میرے کو چانس مل جاتا ۔۔۔۔۔
خیر آگے کی فلموں میں رول پکا ہے میرا۔۔۔۔۔
شلپا_____ ایڈوانس میں کانگریچولیشن ڈیئر.......
آکاش _____
تھینک یو ویری مچ۔۔۔۔۔
***
صدر دروازے سے دو نوجوان اور ایک لڑکی داخل ہوتے ہیں نوجوان خالی ہاتھ ہیں مگر لڑکی کندھے پر پرس لٹکائے ہوئے۔۔۔۔۔
شلپا تینوں کو پاس ہی بیٹھنے کا اشارہ دیتے ہوئے ہاتھ ملاتی ہے۔
تینوں کے چہرے الگ الگ تاثرات پیش کر رہے ہیں۔
ایک لڑکا بہت ہی تھکا ہوا۔
دوسرا خوش و خرم،
اور لڑکی نہایت تھکی ہاری سی محسوس ہو رہی ہے۔
شلپا نے باری باری سب سے متعارف کرواتے ہوئے آکاش کا تعارف بھی پیش کر دیا۔
اور لڑکی سے کہا
آج کا کیسا دن رہا؟
لڑکی (تھکے ہارے لہجے میں بولی)
" مت پوچھ !
یہ کاسٹنگ ڈائریکٹرز بھی ناں۔۔۔
بہت استحصال کرتے ہیں۔۔۔۔
سپنے پہ سپنے ۔۔۔۔۔ کوئی ڈھنگ کا بڑا رول نہیں ملتا ۔۔۔۔۔
لے دے کے بس جونیئر آرٹسٹ، جونیئر آرٹسٹ ۔۔۔۔۔
پانچ سات سو روپے میں بارہ گھنٹے۔۔۔۔۔۔۔ شریر کی واٹ لگ جاتی۔۔۔۔۔۔
دیکھ لاش بن کر آئی ہوں
آج بھی۔۔۔۔۔
دوسرا تھکا ہوا نوجوان ______
میں توصیف خان۔۔۔۔۔ میرا بھی وہی حال ہے یار و۔۔۔۔۔۔
کانپور سے ہوں۔۔۔۔۔۔
میں جب سے آیا ہوں گھر سے۔۔۔ کوئی بڑا رول نہیں ملا۔۔۔۔۔
اب تو اسٹوری بھی لکھنے کا سوچا اور گانے بھی۔۔۔۔۔
مگر۔۔۔۔ سوچنا الگ ہے۔۔۔۔ لکھنا تو بالکل الگ۔۔۔۔۔
خوش و خرم نوجوان______
میں جابر شیخ۔۔۔۔۔ میں تو خوش ہوں بھائی۔۔۔۔۔
گھر سے خرچے منگا لیتا۔۔۔۔۔۔ اسٹرگل کے نام پر۔۔۔۔۔۔
گھر کا اکلوتا ہوں۔۔۔۔۔
ممی پاپا ٹنن سے موبائل میں پیسے ڈال دیتے۔۔۔۔۔ کام چلتا رہتا۔۔۔۔۔
امید ہے۔۔۔۔ آج نہیں کل۔۔۔۔۔
کوئی تو کام ملے گا۔۔۔۔۔
شلپا______ ہاں وہ تو ہے....
ہمت نہیں ہارنے کا ۔۔۔۔
ہمت ہارے مطلب، گئے۔۔۔۔۔
آکاش ____کہاں گئے؟!
شلپا_____(ہنستے ہوئے) ارے اپنے گھر .......
ان سے لگ کر اولڈ مین پانی پیتے ہوئے سب کی باتوں کو بغور سن رہا ہے۔۔
پھر تشویش ناک چہرے سے مسکراتے ہوئے اندر کی سمت جا رہا ہے۔۔ جدھر باتھ روم ہے۔۔۔۔۔
زینے سے تین لوگ اتر کر نیچے آ رہے ہیں۔۔۔
آتے ہی ان میں سے ایک شخص اعلان کرتا ہے۔۔۔۔
بھائیو دوستو!!!
ابھی پندرہ منٹ بعد اوپر آڈیٹوریم میں آپ سب کو دعوت دی جاتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فری آف چارج۔۔۔۔۔۔۔
ایک اسٹینڈ اپ کامیڈین جادھو جی۔۔۔۔۔
اپنے با کمال فن کا مظاہرہ کریں گے۔۔۔۔۔
آپ سب پہنچنے کی کوشش کیجیے پلیز۔۔۔۔۔۔
شلپا اور اکاش اٹھ کر اوپر کی سمت جاتے ہیں۔۔۔۔
ایڈوٹوریم کے اندر داخل ہوتے ہیں۔۔۔۔۔
جہاں سرخ دیواریں خوبصورت لائٹ افیکٹس سے مزین ایک اسٹیج اور آرام دہ کرسیاں موجود ہیں۔۔۔
پروگرام شروع ہوتا ہے۔۔۔
جابر شیخ اور توصیف خان بھی آجاتے ہیں۔
اسٹینڈ اپ کامیڈین جادھو جی، موٹے بھدے جسم کے مالک ہیں۔
موٹے چشمے میں ان کی بڑی بڑی آنکھیں، لڈو جیسے گال اور چوڑی پیشانی، سے ایک الگ ہی تجربہ کاری کا تاثر ابھر رہا ہے۔۔۔۔۔
وہ چڈھن میاں کی اسٹوری شروع کرتے ہیں۔۔۔
جو پونے گھنٹے تک ختم ہونے کا نام نہیں لیتی ہے۔۔۔
توصیف خان جابر شیخ بور ہو کر چلے جاتے ہیں۔۔۔
کرسیوں پر چند افراد جن میں مرد خواتین دونوں موجود ہیں۔۔۔
لطف اندوز ہو رہے ہیں گھنٹہ بھر بعد۔۔۔۔
آخر میں چڈھن میاں کی اسٹوری کا اختتام ہوتا ہے۔
اور تالیاں گونجتی ہیں۔۔۔۔۔
آکاش اٹھ کر تعریف کرتے ہوئے مبارکباد پیش کرتا ہے۔۔۔
ایک شخص مائک لا کر دے دیتا ہے۔۔۔۔۔
آکاش ______دوستو!!!
چڈھن میاں کی کی اسٹوری پر تو ایک فلم بننی چاہیے اس پر بھی غور کیا جائے ایسا میں محسوس کر رہا ہوں۔"
اتنا سنتے ہی دوبارہ تالیوں کو شور بلند ہوا.....
پروگرام برخواست ہو گیا ۔
***
صدر دروازے سے دو لڑکیاں داخل ہوئیں سامنے آکاش اور شلپا بیٹھے ہیں۔۔۔۔
شلپا نے دونوں کو ہائے کرتے ہوئے پاس بلا لیا ۔________
"کیسی ہو لینا...... اور تم......
اکانشا ۔۔۔۔۔۔۔
دو چار دنوں سے نظر نہیں آئیں۔۔۔۔۔
لینا نے خوشی خوشی کہا
"بس اچھے ہیں ....اور کیا کہہ سکتے ....پوزیٹیو بولنا سوچنا ہی۔۔۔۔ میرا نیچر ہے۔۔۔
آکانشا ______ میرا بھی ہے......
بٹ کب تک جھوٹ بولنا ہے....... میں تو پریشان ہوں ۔۔۔۔۔گھر پر ماں باپ کھیتی باڑی کرتے ہیں۔۔۔۔۔ اور میں اپنے پاپا کے سپنوں کو لے کر آئی ہوں۔۔۔۔ جسے شاہکار کرنا ہے۔۔۔۔۔۔
مگر یہ انڈسٹری پتہ نہیں کب راس آئے گی مجھے۔۔۔۔۔۔
شلپا_______ آئے گی۔۔۔۔۔ ضرور آئے گی
اآکانشا__________کیا آئے گی؟ اب تک تو نہیں آئی؟
لینا________
ارے اچھا سوچ۔۔۔۔۔۔ اچھا بول۔۔۔۔۔۔۔۔
ٹھیک ہو جائے گا سب۔۔۔۔
زیادہ دیر رہتی نہیں پریشانی۔۔۔۔۔۔
وقت کا پہیہ گھومتا رہتا ہے۔۔۔۔۔
سمجھی ناں۔۔۔۔۔
خیر۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور سنا۔۔۔۔۔ شلپا ۔۔۔۔۔
تیرا ڈیزائن کا ورک کیسے چل رہا ہے۔۔۔۔
شلپا ______(سگریٹ کا کش لیتے ہوئے)
اپنا تو سدا کا سدا بہار موسم ہے۔۔۔۔
آکاش مسکراتے ہوئے _______میں آکاش...... اچھا لگا آپ لوگوں سے مل کے۔۔۔۔۔۔
اپ کی پوزیٹیوٹی اچھی لگی۔۔۔۔۔۔
میں بھی ایسا ہی ہوں۔۔۔۔
اچھی سوچ رکھتا ہوں۔۔۔۔
کیا کرنے کا۔۔۔۔۔
مرنے سے پہلے پہلے کچھ اچھا ہو جائے ۔۔۔۔۔۔
آکانشا _______
مجھے تو لگتا میں مر جاؤں گی ناں تب شاید اچھا ہو جائے گا۔۔۔۔۔۔
ایک ساتھ کئی آوازیں _____
ارے۔۔ ارے۔۔۔۔ ایسا کاہے کو بولتی ہے۔۔۔۔۔۔
شلپا_____
مت بول ایسا۔۔۔۔۔
ان کے دوسرے بینچ پر اولڈ مین سب کی باتیں سن رہا ہے۔۔۔۔۔۔ تشویش ناک انداز سے اٹھ کر صدر دروازے سے باہر جا رہا ہے۔۔۔
اسی وقت دروازے سے ایک آرٹسٹ اندر داخل ہو رہا ہے۔۔۔۔
شلپا ،اسے ہائے کرتی ہے
سارے اس کی آمد سے خوش ہو کر ہاتھ اٹھا اٹھا کر استقبال کرتے ہیں۔۔۔۔۔
شلپا کے قریب آکر وہ بیٹھنے لگتا ہے۔۔۔۔
" اور دوستو!.....
کیسے ہیں آپ سب ۔۔۔۔۔
شلپا______
اچھے ہیں وشال جی آپ بتائیے آپ کا کام کیسا چل رہا ہے؟
وشال _______
کام وام تو ٹھیک ٹھاک چل رہا بس جیون میں دور تک پھیلی ہوئی ویرانی اور بے چینی نہیں جاتی۔۔۔۔۔
شلپا_______ کیسی بے چینی؟
ادھر اولڈ مین بھی واپس آکر قریب کے بینچ پر بیٹھ جاتا ہے اور اپنے موبائل میں مگن ہو جاتا ہے۔۔۔۔۔
وشال______
ماں کو کینسر ہو گیا!.....
لکھنو میں ہے۔۔۔۔
ڈاکٹر نے نو گارنٹی دے دی۔۔۔۔۔۔۔
شلپا ______او .... نو.....!!!
آکاش کو دیکھتے ہوئے وشال آگے ہاتھ بڑھاتا ہے
" میں وشال... کامیڈین..... اور آپ ۔۔۔۔۔؟؟؟
آکاش ہاتھ ملاتے ہوئے میں۔۔۔۔ آکاش ۔۔۔۔۔رائٹر ڈائریکٹر۔۔۔۔
آکاش______
ماں کے بارے میں جان کر دکھ ہوا۔۔۔۔۔۔
وشال______
اب ہمارے ہاتھ میں کچھ نہیں ہوتا ہے۔۔۔۔۔( رونے لگتا ہے)
کاش!!..... کام وام اچھا چلنے لگے۔۔۔۔۔ تو بال، بچے، بیوی، اچھے سے پال پوس سکیں گے۔۔۔۔۔
اور خود کا بھی خیال رکھ سکیں گے۔۔۔۔
پیسہ آنا چاہیے۔۔۔۔۔
اچھے رول ملنے چاہیے۔۔۔۔۔
سالا ادھر تو اچھی اسٹوری نہیں۔۔۔۔۔۔
سارے بالی ووڈ رائٹرز قلاش مائنڈ ہو گئے شاید ۔۔۔۔۔
اسی لیے تو ساؤتھ والوں کی اسٹوری پر بالی ووڈ فلمیں بن رہی ہیں۔۔۔۔۔
اور ادھر کی پکچر۔۔۔۔ بلاک بسٹر ہو رہی۔۔۔۔
پشپا۔۔۔۔۔۔
دھماکے کی گونج ابھی تک کم نہیں ہوئی۔۔۔۔
آکاش ______
بالکل بھائی چالیس پچاس کروڑ کی فلمیں تھیٹر پر پانی نہیں مانگتی۔۔۔۔۔
ارے اپنی لاگت نہیں نکال پاتی۔۔۔۔
کیوں؟
اسٹوری نہیں اچھی ۔۔۔۔۔
صحیح آرٹسٹ کو غلط رول۔۔۔۔
یا پھر اور بھی بہت ساری مسٹیکس ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شلپا _____
اب تو تھیٹرز میں ایک دم باپ پکچر مانگتا باپ۔۔۔۔۔
نہیں تو وہی او ٹی ٹی۔۔۔۔۔
ویب سیریز ۔۔۔۔۔
سب کے ہاتھ میں ہزاروں دنیا ہے موبائل میں۔۔۔۔۔
اب وہی پکچر چلے گی جو دل کو چھوئے گی۔۔۔۔
نہیں تو بھول جاؤ۔۔۔۔
تھیٹرز فیوچر ڈارک۔۔۔۔۔۔۔
اگلے بینچ پر بیٹھا اولڈ مین بول پڑتا ہے
" میں کچھ بولوں....
( کھڑا ہوکر)
دوستو !......
آپ سب کو میری طرف سے کچھ اہم بات کرنی ہے۔۔۔۔
آکاش _____
کیوں نہیں وجو بھائی۔۔۔۔۔۔
اولڈ مین_____ (چیختے ہوئے) وجو بھائی نہیں..... میں وجے چوہان ایک بزنس مین ہوں۔۔۔۔ میں نے آپ سے اب تک یہ جھوٹ بولا۔۔۔۔۔۔۔۔
کہ میں۔۔۔۔۔
ایک جاب کرنے والا وجو بھائی ہوں۔۔۔۔۔
دراصل میں اپنی زندگی سے تنگ آگیا تھا۔۔۔۔
سب لوگ حیرت سے اس کی طرف دیکھتے ہیں۔۔۔۔
اونر بھی قریب آ کر بیٹھ جاتا ہے۔۔۔
( اولڈ مین اپنی بات جاری رکھتے ہوئے)
میں نے سوچا تھا۔۔۔۔
دنیا میں میں ہی بہت پریشان ہوں۔۔۔۔
مگر نہیں۔۔۔۔
بالکل نہیں۔۔۔
یہاں اتے جاتے میں نے محسوس کیا۔۔۔۔
کہ مجھ سے بھی کہیں زیادہ غمگین اور پریشان ہے دنیا۔۔۔۔۔
تو میں نے یہ فیصلہ کیا کہ۔۔۔۔۔ میں۔۔۔۔
ایک بڑی۔۔۔۔
فلم بناؤں گا۔۔۔
شلپا _____
فلم؟؟؟
آکاش _____
لیکن اسٹوری؟؟؟
اولڈ مین_____
ہاں شلپا فلم۔۔۔۔۔۔
آکاش اسٹوری تیار ہے۔۔۔۔۔۔
گانے آپ لکھو گے۔۔۔۔۔۔
آؤ ماریا ۔۔۔۔۔اور ادھر آ کر کھڑے رہو۔۔۔۔
یہ ہے میری رائٹر میری اسسٹنٹ۔۔۔۔
ماریا۔۔۔۔۔
ادھر گہرے نیلے رنگ کی ساڑی میں ملبوس آ کر اولڈ مین کے پاس کھڑی ہو جاتی ہے۔۔۔۔۔۔ ہاتھ میں لیپ ٹاپ ہے۔۔۔۔۔
اولڈ مین_____
اب آپ سب کو اس فلم میں کام ملے گا۔۔۔۔۔۔
وشال________ اور پیسہ؟؟؟
اولڈ مین_________ پیسہ؟.....
پیسہ نہیں۔۔۔۔
پارٹنرشپ ڈائریکٹ۔۔۔۔۔
فلموں پر پیسہ میں لگاؤں گا۔۔۔۔
آپ سب اس فلم کے حصے دار ہوں گے۔۔۔۔
یعنی پروڈیوسرز ۔۔۔۔
سب کو برابر حصہ ملے گا۔۔۔۔
بونڈ پیپر پر سب کا ایگریمنٹ بنایا جائے گا۔۔۔
آکاش____
لیکن آپ اتنے بڑے بزنس مین ہیں۔۔۔۔
یہ ہم کیسے مان لیں؟؟
اولڈ مین ____
اپنے اپنے موبائل پر سارے مجھے سرچ کر لو۔۔۔۔۔
سب موبائل پر سرچ کرتے ہیں اور حیرت و تعجب کے سمندر میں غرقاب ہو جاتے ہیں۔۔۔۔۔۔
خوشی کے آنسو وہاں موجود ہر آنکھ میں جھلملانے لگتے ہیں۔ ماریا کے لیپ ٹاپ پر لاسٹ ٹائیٹل چلتا ہے ۔۔۔۔
"سب سمۓ کا کھیل ہے۔
سمۓ پر وشواس رکھو ۔
سمۓ سب کا آتا ہے ۔ "
افسانہ نگار: علیم طاہر
__________________________________________
(C):
Registered
Afsana
Strugglers Adda
By
Aleem Tahir
Email id aleemtahir12@gmail.com
___________________________________________
No comments:
Post a Comment