افسانہ نمبر: 19
عنوان: "مہرابِ سناٹا"
(افسانہ نگار: علیم طاہر)
ایک شہر تھا جو صرف سناٹوں سے بسا تھا۔۔
وہاں اذان نہیں ہوتی تھی، گھنٹیاں نہیں بجتی تھیں، اور نہ ہی کسی بچے کے رونے کی آواز سنائی دیتی تھی۔
ہر گھر کے دروازے پر صرف ایک حرف کندہ تھا: "خاموشی"۔
کہا جاتا تھا کہ اس شہر پر ایک نقرئی مہراب سایہ فگن ہے — ایسی مہراب جو ہر بولنے والے کو بےآواز کر دیتی ہے، اور ہر سننے والے کو بہرہ۔
کوئی نہیں جانتا تھا وہ مہراب کب وجود میں آئی، مگر سب جانتے تھے کہ اب اس کے نیچے صرف خاموشی کی حکومت ہے۔
اسی شہر کے ایک مضافاتی حجرے میں ایک بڑھیا رہتی تھی جس کی زبان کٹی ہوئی تھی —
مگر آنکھیں ایسے بولتی تھیں جیسے ہزاروں کتابیں بیک وقت فریاد کر رہی ہوں۔
ایک دن ایک سیاح آیا، جو دنیا کے مہرابوں کو دیکھنے نکلا تھا۔
جب وہ اس شہر میں داخل ہوا، تو اُسے کسی نے کچھ نہ کہا۔
نہ خیرمقدم، نہ روک ٹوک۔
وہ چلا… یہاں تک کہ مہراب کے عین نیچے پہنچ گیا۔
وہ دیکھتا ہے —
مہراب سونے کی نہیں، چاندی کی نہیں، بلکہ ہڈیوں کی بنی ہوئی ہے۔
اور ہر ہڈی پر ایک لفظ کھُدا ہے: "شک"، "خوف"، "منافقت"، "خیانت"، "خاموشی"۔
یہ مہراب ان لوگوں کی باقیات سے بنی ہے جنہوں نے سچ بولنے کی کوشش کی تھی۔
سیاح لرزنے لگا۔
پھر وہ آگے بڑھا اور مہراب کو چھو لیا۔
ایک زلزلہ سا آیا۔
سارا شہر گونج اٹھا۔
دیواریں لرزیں، اور مہراب سے ایک آواز نکلی —
ایسی آواز جو لفظوں سے ماورا تھی، جیسے کوئی صدیوں کی قید سے نکل کر چیخ رہا ہو۔
پھر شہر والوں کے ہونٹ کھلنے لگے۔
کچھ نے رونا شروع کیا، کچھ نے قہقہہ مارا، اور کچھ نے گلا دبا لیا —
کیونکہ وہ سچ بولنے سے پہلے ہی مر چکے تھے۔
سیاح کو ایک روشنی نے ڈھانپ لیا۔
اس کی زبان گنگ ہو گئی،
مگر اُس کی آنکھوں میں ایک چمک باقی تھی —
جیسے وہ اب ساری مہرابوں کے پیچھے چھپے سچ کو جان چکا تھا۔
اسی لمحے بڑھیا، جس کی زبان کٹی ہوئی تھی، آگے بڑھی اور مہراب کو ایک آخری نظر سے دیکھا۔
پھر سرگوشی کی، جو ہوا میں تحلیل ہو گئی:
"ہم نے سچ چھپانے کے لیے مہرابیں بنائیں، اور انہی مہرابوں نے ہمیں بےچہرہ کر دیا۔"
---
اب وہ شہر نہیں رہا۔
صرف ایک کھنڈر باقی ہے،
جس پر کوئی لفظ لکھا ہے —
مگر کوئی اسے پڑھ نہیں سکتا،
کیونکہ وہ لفظ آئینے پر لکھا ہے، اور لوگ اب بھی آئینہ دیکھنے سے ڈرتے ہیں۔
---
No comments:
Post a Comment