Friday, 13 June 2025

افسانہ:21_ خودکشی کرنے والے آئینے

 

 افسانہ: 21


عنوان: "خودکشی کرنے والے آئینے"


(افسانہ نگار: علیم طاہر)


یہ ایک ایسا شہر تھا جہاں ہر شخص کے کمرے میں ایک آئینہ ضرور تھا —

مگر یہ آئینے کسی اور دنیا سے لائے گئے تھے۔


کہا جاتا تھا کہ یہ آئینے صرف چہروں کو نہیں دکھاتے تھے،

بلکہ وہ کچھ اور بھی دکھاتے تھے —

جو انسان خود دیکھنے سے کتراتا تھا۔


شہر کا قانون تھا کہ ہر فرد دن میں کم از کم تین بار آئینہ دیکھے۔

یہ ایک عبادت بن چکی تھی۔

مگر کوئی نہیں جانتا تھا،

یہ آئینے دھیرے دھیرے مر رہے ہیں۔


پہلا آئینہ ٹوٹا تو کسی نے توجہ نہیں دی —

سوچا، اتفاق ہوگا۔


پھر دوسرا آئینہ… پھر تیسرا… پھر سینکڑوں…

اور پھر ایک دن تمام آئینے اک ساتھ چٹخنے لگے۔


لوگوں نے شور مچایا، حکومت نے تحقیقاتی کمیٹی بنائی،

نفسیات دان آئے، ماہرینِ مابعدالطبیعات نے لیکچر دیے،

لیکن آئینے بدستور خود کو توڑتے رہے۔


آخر کار، ایک شخص سامنے آیا —

وہ جو برسوں سے خاموش تھا،

اور شہر کے سب سے پرانے آئینے کا مالک تھا۔


اس نے کہا:


"یہ آئینے خودکشی کر رہے ہیں۔ وہ تھک گئے ہیں جھوٹے چہرے دکھاتے دکھاتے۔"


لوگ ہنس پڑے۔


لیکن اگلے دن، جب اُس مردِ خاموش کا آئینہ بھی چٹخا،

تو آئینے کے پیچھے ایک تحریر نکل آئی:


"ہم تمہاری اصل نہیں دکھا سکتے، کیونکہ تم خود اپنی اصل کھو چکے ہو۔"


اس دن سے شہر میں آئینہ رکھنا جرم بن گیا۔


لوگ دیواروں پر اپنی تصویریں بنانے لگے۔

کچھ نے پانی میں اپنا عکس ڈھونڈنا شروع کیا۔

کچھ نے آنکھیں بند کر کے اپنی شکل تصور میں بنائی۔

مگر کوئی اپنی اصل کو نہ پا سکا۔


کچھ برسوں بعد،

ایک بچہ پیدا ہوا جس کی آنکھیں شفاف تھیں —

اتنی شفاف کہ وہ جب کسی کو دیکھتا،

تو اُس شخص کو اپنا باطن دکھائی دینے لگتا۔


لوگ ڈرنے لگے۔

بچہ مجرم قرار پایا۔


عدالت نے فیصلہ سنایا:


"ہم نے آئینے توڑ دیے تھے تاکہ امن رہے۔

اب اگر ایک انسان خود آئینہ بن جائے،

تو اسے بھی توڑنا لازم ہے!"


بچہ مسکرایا۔

اور کہا:


"شاید میں آخری آئینہ ہوں —

لیکن تم سب پہلی دراڑ ہو،

جس سے روشنی گزر سکتی تھی… مگر تم نے دیوار چُن لی!"



---




اس شہر کے عجائب خانے میں آج بھی ایک شیشہ رکھا ہے —

نہ مکمل صاف، نہ مکمل دھندلا۔

جو اسے دیکھتا ہے،

اسے ایک سوال سنائی دیتا ہے:


"کیا تم آئینہ ہو یا عکس…؟"


No comments:

Post a Comment