Tuesday, 3 June 2025

افسانہ:10_ کبوتر

 افسانہ : 10


"کبوتر"


افسانہ نگار: علیم طاہر


---


           شہر کی چھتوں پر اب کوئی کبوتر نہیں اڑتے...

اور نہ ہی کوئی ہاتھوں میں دانہ لیے "چوگا چوگا" پکارتا ہے۔ بس اونچی عمارتیں ہیں، موبائل کی ٹاورز ہیں، اور بےجان کھڑکیاں۔


لیکن سفیان کی چھت کچھ اور تھی۔


سفیان، ایک خاموش طبع نوجوان، جو ہر شام اپنی چھت پر جا کر ایک پنجرے میں موجود سفید کبوتری کو دانہ ڈالتا، پانی رکھتا، اور پھر دیر تک اسے تکتا رہتا۔ وہ کبوتری جس کا نام اس نے "نور" رکھا تھا۔


نور خاموش، متین، اور عجیب سی پر اسرار نگاہوں والی کبوتری تھی۔

سفیان کو لگتا تھا کہ وہ صرف کبوتر نہیں، کوئی اور ہے… کوئی بہت خاص۔


---


ایک دن...


جب بارش کی بوندیں چھت پر ناچ رہی تھیں، نور نے پہلی بار زور سے پھڑپھڑایا۔

سفیان چونک گیا۔

اس نے دروازہ کھولا تو کبوتری اس کے بازو پر آ بیٹھی۔

سفیان کی آنکھوں میں ایک عجیب سی روشنی بھر گئی۔

"نور… تم کچھ کہنا چاہتی ہو؟"


نور کی آنکھوں میں ایسی چمک تھی جیسے کسی نے برسوں بعد اپنے پیارے کو پہچانا ہو۔

اچانک سفیان کو لگا جیسے وہ ماضی کی کسی کہانی میں چلا گیا ہو۔


---


پانچ سال پہلے…


وہی محلہ، وہی چھت، مگر اس چھت پر ایک اور چہرہ تھا —

نوریہ — ہنستی، چہکتی، سفیان کے ساتھ ہر شام پتنگیں اڑاتی، خواب بُنتی۔


اور پھر…

ایک دن وہ اچانک غائب ہو گئی۔

نہ کوئی پیغام، نہ نشان، بس سناٹا۔


لوگ کہتے تھے وہ اپنے خاندان کے ساتھ شہر چھوڑ گئی۔

مگر سفیان کے دل کو یقین نہیں آتا تھا۔

اسے لگتا تھا نوریہ نے وعدہ کیا تھا:

"میں کبوتر بن جاؤں گی، مگر تجھے چھوڑوں گی نہیں۔"


---


آج…


پانچ سال بعد، جب نور پہلی بار پنجرے سے نکل کر اس کے بازو پر بیٹھی، تو سفیان کو وہ وعدہ یاد آ گیا۔

اس نے آہستہ سے کہا:


"کیا تم… نوریہ ہو؟"


نور نے نرمی سے اپنی چونچ اس کی ہتھیلی پر رکھ دی۔

سفیان کے آنسو بہنے لگے۔

ایسا لگا جیسے برسوں بعد کوئی بچھڑا ہوا خواب پھر لوٹ آیا ہو۔


---


دوسری صبح…


نور کا پنجرہ کھلا تھا، مگر وہ غائب تھی۔

سفیان نے سارا محلہ چھان مارا، لیکن نور کہیں نہ ملی۔


بس ایک پرانا کاغذ چھت پر پڑا تھا، جس پر ایک جملہ لکھا تھا:


"کبھی کبھار محبت کو پنجرے سے آزاد کرنا پڑتا ہے… تاکہ وہ لوٹ کر آئے — مکمل بن کر۔"


---


مہینوں بعد…


ایک دن سفیان کی چھت پر دو کبوتر بیٹھے تھے۔

ایک نور جیسی، اور دوسرا سیاہ چمکیلا۔

سفیان مسکرا دیا۔

شاید نوریہ اب مکمل ہو چکی تھی…

اور اس کی محبت کسی اور جہان میں، آزاد فضاؤں میں، پروان چڑھ چکی تھی۔


---


کہانی ختم نہیں ہوتی۔

کہتے ہیں، جو شخص سچی چاہت سے کبوتر کو آزاد کرے،

محبت کبھی نہ کبھی لوٹ آتی ہے — پرواز کرتی ہوئی۔


*افسانہ نگار:  علیم طاہر* 


---


(C): 

Afsana 

Kabootar 

Writer

Aleem Tahir 

Afsana Nigaar: Aleem Tahir

Mobile: 9623327923

No comments:

Post a Comment