Friday, 12 September 2025

افسانہ:24 اٹلی کا خواب

 افسانہ 24


اٹلی کا خواب


افسانہ نگار: علیم طاہر


                    بارش کی بوندیں دہلی کی کچی سڑکوں پر ٹپک رہی تھیں، اور چالیس سالہ ادویت چوہان کے ذہن میں ایک ہی لفظ گونج رہا تھا: "اٹلی"۔


بینک کی نوکری، 20 سالہ خدمت، لیکن نتیجہ؟

ایک چھوٹا سا دو کمرے کا فلیٹ اور خوابوں کی قبر۔


پھر ایک دن، فیس بک پر ایک ویڈیو سامنے آئی۔

"اٹلی میں بسنے کا سنہری موقع! 3 کروڑ روپے، فوری گھر، اور نوکری!"


ادویت کو لگا جیسے کوئی سوئی ہوئی سانس کو جگا رہا ہو۔

چند ہفتے بعد، تمام پیپر ورک مکمل، اور اس کے قدم روم کے فرش پر۔


---


روم میں اس کا پہلا قدم ایک خستہ حال قصبے میں پڑا جہاں ایک چھوٹا سا گھر واقع تھا — حکومت کی طرف سے عطا کردہ۔

وہ گھر خالی ضرور تھا، مگر اس میں امید کی خوشبو تھی۔

نوکری؟

ایک مقامی کیفے میں "کیشئر" کا کام ملا _ عجیب، مگر باعزت۔


شروع میں زبان اجنبی تھی، لوگ سرد مہر، اور شامیں خاموش۔

مگر پھر "لارا" آئی۔


ایک اطالوی مصورہ، جس کی آنکھوں میں ادویت کو چمکتا ہوا سمندر دکھائی دیتا۔

وہ اردو نہیں جانتی تھی، اور ادویت اطالوی نہیں۔

مگر ان کے درمیان ایک زبان تھی — خاموشی کی۔


---


زندگی سنور رہی تھی، لارا کے ساتھ تصویریں بن رہی تھیں، خواب رنگ پکڑ رہے تھے۔

پھر اچانک، ایک دن لارا غائب ہو گئی۔

فون بند، ای میل خاموش، کیفے کے کونے میں صرف ادویت کی تنہائی رہ گئی۔


ایک سال گزر گیا۔

ادویت نے خود کو مصوری میں مصروف کر لیا۔

لارا کی بنائی تصویروں میں وہ خود کو ڈھونڈتا۔


پھر ایک دن، روم کے ایک گیلری میں ایک پینٹنگ نظر آئی —

عنوان تھا: "Incompleto" (نامکمل)

تصویر میں ایک ہندوستانی مرد اور اطالوی لڑکی کے سائے تھے —

اور تصویر پر دستخط: L.A.


-----


        ادویت نے لارا کو تلاش کرنا شروع کیا۔

ریاستی ریکارڈ، اسپتال، امیگریشن آفس — سب جگہوں پر صرف خاموشی ملی۔


پھر ایک خط موصول ہوا۔

"ادویت، میں تم سے ملی، تمہارے ساتھ رہی، مگر تمہیں مکمل نہیں کر سکتی تھی۔

میری شادی ہو چکی تھی۔

میری بیٹی ہے، اور میں جھوٹ کی زندگی سے خوفزدہ تھی۔

مگر تم نے مجھے جینے کا مفہوم دیا۔

یہ 3 کروڑ روپے، میرے حصے کے خواب کے بدلے قبول کر لو۔

— تمہاری لارا"


-----


        ادویت نے وہ رقم لوٹائی، اور روم کی گلیوں میں اپنے لیے ایک نیا کیفے کھولا:

"Incompleto Café"۔


وہاں ایک میز ہمیشہ خالی رہتی —

اس پر ایک گلاب، ایک اطالوی کافی، اور ایک چھوٹا سا نوٹ ہوتا:

"پیار ہمیشہ مکمل نہیں ہوتا، مگر وہ سچا ضرور ہوتا ہے۔" 


Incompleto Café اب روم کے پرانے علاقے میں ایک نایاب پہچان بن چکا تھا۔

ادویت کی زندگی کافی کے کپ، مصوری، اور تنہائی میں گزر رہی تھی۔


ہر شام ایک گلاب، ایک کپ اطالوی کافی، اور ایک میز…

جس پر بیٹھنے والا کوئی نہ تھا۔


پھر ایک دن، خزاں کی اداس شام میں ایک لڑکی کیفے کے دروازے پر رکی۔


اس کے چہرے پر وہی آنکھیں تھیں…

وہی نرمی، وہی خامشی…

جیسے لارا کی روح کسی نئی شکل میں واپس آئی ہو۔


"Excuse me... Are you Mr. Adwait Chouhan?"

(معاف کیجیے، کیا آپ ادویت چوہان ہیں؟)


ادویت نے نظریں اٹھائیں،

سانس رک گئی۔


"Yes… I am."

"She told me... one day I might need to find you."

(اس نے کہا تھا… شاید ایک دن مجھے آپ کو تلاش کرنا پڑے۔)


---


        بیٹی، خواب، اور کاغذ کا پرانا لفافہ


لڑکی کا نام "الیسیا" تھا، عمر تقریباً 18 سال۔

وہ لارا کی بیٹی تھی۔


اس کے ہاتھ میں ایک زرد لفافہ تھا۔

"میری ماں نے آپ کے لیے چھوڑا تھا — آخری تحفہ۔"


ادویت نے لفافہ کھولا،

اندر ایک خاکہ تھا —

دو ہاتھ، جو ایک دوسرے کو تھامنے ہی والے تھے… مگر فاصلہ باقی تھا۔


نیچے لکھا تھا:

"Incompleto — مگر ابدی"

(نامکمل، مگر دائمی)


---


              الیسیا نے کیفے میں نوکری کی پیشکش خود کی۔

وہ مصوری سیکھنا چاہتی تھی — اپنی ماں کی طرح۔


ادویت نے انکار نہ کیا۔


اب ہر شام وہ میز خالی نہیں رہتی تھی —

وہاں دو کپ کافی ہوتے، ایک گلاب کی جگہ اب برش اور کینوس ہوتا۔


لوگ پوچھتے:

"یہ لڑکی کون ہے؟"

ادویت صرف مسکرا کر کہتا:

"ایک مکمل داستان کی نامکمل یادگار۔"


روم کی خزاں اب سردیوں کی آغوش میں داخل ہو رہی تھی۔

"Incompleto Café" 

کی کھڑکیوں پر اوس کی ہلکی تہہ جمی رہتی۔

ادویت اب کم بولتا، زیادہ سنتا تھا۔

اور الیسیا… وہ جیسے اپنی ماں کا خواب جی رہی تھی۔


ایک شام، جب اندھیرے نے روم کو گلے لگایا اور سڑکیں نخلستان کی طرح سنّاٹی میں بدل گئیں،

الیسیا نے ادویت کو ایک اور لفافہ دیا۔


"یہ بھی ماما نے چھوڑا تھا۔ مجھے کہا گیا تھا، تب دینا جب تم سمجھنے لگو کہ محبت وقت سے بالاتر ہوتی ہے۔"


ادویت نے لرزتے ہاتھوں سے لفافہ کھولا۔

اس میں صرف دو چیزیں تھیں:


1. ایک پرانی تصویر – وہ اور لارا، وینس کی گلیوں میں، ہاتھوں میں ہاتھ، خوشی سے بے خبر۔


2. ایک ڈی این اے رپورٹ۔


---


          ڈی این اے رپورٹ دیکھ کر ادویت کی آنکھیں چھلک پڑیں۔

رپورٹ میں لکھا تھا:


 "Subject A: Adwait Chouhan

Subject B: Alicia Romano

Result: 99.9% match – Biological Father Confirmed."


ادویت ساکت رہ گیا۔


"مگر لارا نے کبھی مجھے نہیں بتایا…"

آواز جیسے گلے میں اٹک گئی۔


الیسیا بولی:

"کیونکہ وہ آپ سے بدلہ نہیں لینا چاہتی تھی…

وہ چاہتی تھی کہ جب میں آپ تک پہنچوں، تو صرف محبت باقی ہو — شک نہیں۔"


-----


       اب Incompleto Café کی وہ خالی میز…

پہلی بار مکمل تھی۔


ادویت کے سامنے اس کی بیٹی بیٹھی تھی،

اس کی آنکھوں میں لارا کی آنکھیں تھیں،

اور اس کے لہجے میں محبت کی وہ خاموشی جو لفظوں سے ماورا تھی۔


ادویت نے نرمی سے پوچھا:

"تم اب کیا چاہتی ہو؟"


الیسیا نے مسکرا کر کہا:

"میں چاہتی ہوں کہ آپ دوبارہ مصوری شروع کریں — اس بار میرے لیے۔

اور میں چاہتی ہوں… کہ آپ مجھے پاپا کہنے دیں۔"


ادویت کی آنکھوں سے برسوں کی تنہائی نمکین دھار بن کر بہنے لگی۔

اس نے بیٹی کا ہاتھ تھاما۔

ہاتھ جو اب تھاما گیا تھا، وہ فاصلہ جو لارا کے خاکے میں تھا، مٹ چکا تھا۔


---


        روم کی سڑکوں پر پہلی برفباری ہو رہی تھی۔

"Incompleto Café"


 کے باہر ایک نیا بورڈ لگا


 "Completato — Because some stories deserve a second life."

(مکمل — کیونکہ کچھ کہانیاں دوسری زندگی کی مستحق ہوتی ہیں)


ادویت اور الیسیا، ایک مکمل تصویر بن چکے تھے۔

اور اس خالی میز پر، اب ہر روز ایک گلاب رکھا جاتا —

لیکن وہ گلاب خالی محبت کے لیے نہیں،

بلکہ یادگار کے لیے تھا۔


لارا کے لیے۔


---


(C):-

Afsana 

Itli ka khwab 

Afsana Nigar: 

Aleem Tahir 

Email id:- aleemtahir12@gmail.com 


_______________

No comments:

Post a Comment