افسانہ : 01
پراسرار ایپ
افسانہ نگار: علیم طاہر
________________________
سن 2050میں آئی فون ففٹی ہاتھ میں لیے ایان اپنے بیڈ پر بیٹھے بیٹھے پلے اسٹور میں مختلف نئے ایپس تلاش کر رہا ہے ۔
اس کی انگلی کے اشارے سے کئی ایپس آگے پیچھے اسکرول ہو رہے ہیں ۔ کسی نئے ایپ کو بے خیالی میں اس کی انگلی نے پریس کر دیا ۔ یکلخت ایپ اوپن ہو کر ایکٹیو ہونے لگا ۔ جس سے یکے بعد دیگرے سرخ اور پیلی روشنیوں کی لکیریں نکل کر ایان کے وجود کا طواف کرنے لگیں ۔پورے وجود کا گھیراؤ کرتے ہوۓ ان گنت روشن لہریں عملِ طواف میں مصروف ہیں ۔ چند لمحوں میں ایان سرخ اور سفید روشنیوں سے مکمل طور سے ڈھک چکا ہے ۔ یکایک روشن لہریں ایان کو لیے موبائل ایپ میں واپسی کر رہی ہیں ۔ ان لہروں میں گڈ مڈ ہو کر ایان ایپ میں غائب ہوجاتا ہے ۔
دوسرے ہی لمحے ایان ایک بوڑھے برگد درخت کے نیچے کھڑا ہے۔ جس کی ملگجی مٹی رنگ جٹائیں ایسے لٹک رہی ہیں جیسے نا معلوم، بےجان مخلوقات مدتوں سے معلق ہیں۔ ایان آگے نظریں دوڑاتا ہے ۔ پاس ہی ایک تالاب ہے جس کے کائی جمے ہوۓ پانی میں کسی قسم کا ارتعاش نہیں ہے ۔
ایان آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہا ہے ۔ کچی بستی سے فضاؤں میں دھواں اوپر کو اٹھ رہا ہے۔ دور کوئی قبیلہ آباد ہے جس میں خشک ادھمری خواتین دھوپ میں اپنے اپنے شیر خوار اور چھوٹے بچوں کے ہمراہ بیٹھی ہوئی ہیں ۔ اُدھر دریا آگے دور تک پھیلا ہوا ہے ۔ کنارے ٹوٹی پھوٹی کمزور کشتیاں اوپن کباڑ خانے کی طرح دکھائی دے رہی ہیں ۔
ایان مزید آگے بڑھ رہا ہے دور ایک کھیت نظر آ رہا ہے ۔
جہاں بیروں کے گھنے پیڑوں پر چند بچے پتھروں کو پھینک کر بیر گرا رہے ہیں ۔ گرتے ہوۓ بیروں پر ایسے جھپٹ رہے ہیں جیسے غریب بھوکے پھینکی ہوئیں روٹیوں کی طرف لپکتے ہیں ۔ ان کی آوازوں کا شور ایان کے کانوں میں صاف سنائی دے رہا ہے ۔ وہ آگے بڑھ رہا ہے ۔ارد گرد کچھ بھینسیں ڈکراتے ہوۓ ،تو کچھ بھینسیں چرتے ہوۓ چل رہی ہیں ۔ گوبر کا بھبھکا ہواؤں میں شامل ہے۔ قریب ہی ایک عورت کچے مکان کے برآمدے میں گوبر لیپ رہی ہے۔ غرض کہ انیس سو پچھتر کی کسمپرسی کا عالم چاروں اطراف پسرا ہوا ہے ۔ ایان کچھ دیر بعد ٹھٹھک کر رہ جاتا ہے کیونکہ وہ جہاں سے چلا تھا واپس وہیں آ چکا تھا، یعنی برگد کے پیڑ اور تالاب کے پاس۔۔۔۔۔
اس کی نگاہیں دور غروب ہوتے ہوئے سورج کی طرف اٹھتی ہیں جو آہستہ آہستہ پہاڑوں کے دامن میں خود کو چھپا لیتا ہے ۔
گہرا اندھیرا اور سائیں سائیں کی آوازیں ماحول میں خوف طاری کر رہی ہیں۔
ایان آگے بڑھتا ہے اس کے قدموں کی چاپ کے ساتھ ہی چھم چھم کی آواز اسے چونکا دیتی ہے، وہ رکتا ہے چھم چھم کی آواز بھی تھم جاتی ہے، وہ پیچھے مڑ کر دیکھتا ہے مگر گھپ اندھیرے کے سوا اسے بھی کچھ نظر نہیں آتا ہے وہ اپنا وہم سمجھ کر آگے قدم بڑھاتا ہے۔
چپڑچپڑ، چپڑچپڑ۔۔۔۔۔۔
چرچر چرچر۔۔۔۔۔ چرچر۔۔۔۔۔ جوتوں کی آوازوں کے ساتھ ہی پیچھے
چھم چھم چھم چھم۔۔۔۔۔۔ ،
چھم چھم چھم چھم چھم۔۔۔۔۔
کی آوازیں اسے رکنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ ۔۔۔۔وہ سوچتا ہے اس وقت آخر یہ میرے پیچھے کون ہوگی؟
وہ پیچھے مڑ کر دیکھتا ہے۔۔۔۔۔
مگر کوئی بھی تو نہیں ہے!!!!!
خوف، اس کی ریڑھ کی ہڈی میں سرایت کر جاتا ہے۔
وہ تیز قدموں سے چلنے لگتا ہے۔
چپڑ چپڑ چپڑ چپڑ۔۔۔۔۔۔۔۔ جوتوں کی آوازیں اور ساتھ ہی ان آوازوں سے گلے ملتی ہوئیں
چھم چھم چھم چھم۔۔۔۔۔۔۔ گھنگھروں کی صدائیں مزید خوف کی لہروں کو جنم دے رہی ہیں۔
ایان بے تحاشہ دوڑنے لگتا ہے اواز بھی اس کے پیچھے پیچھے دوڑ لگا رہی ہے چپڑ چپڑ چپڑ چپڑ۔۔۔۔ چھم چھم چھم چھم۔۔۔۔ وہ ایک جگہ رک کر اطمینان کی سانس لیتا ہے۔
مگر جب پیچھے مڑ کر دیکھتا ہے۔۔۔
تو سرمئی اور دودھیا آسمان کے نیچے چاند کی ہلکی مدھم چاندنی میں اسے وہی برگد دکھائی دیتا ہے سامنے دیکھتا ہے تو وہی تالاب اور اس کا چمکتا پانی۔۔۔۔۔
ایان اس وقت بجائے گھبرانے کے ۔۔۔۔۔۔۔
سوچنے لگتا ہے۔۔۔۔
" آخر یہ میں کہاں آ پھنسا ہوں ۔اور اب یہاں سے کیسے نجات پاؤں گا ؟؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تب اس کے ذہن میں خیال آتا ہے کہ وہ یہاں آیا کیسے؟
اس کے منہ سے بے ساختہ نکل پڑتا ہے "
"موبائل"۔۔۔۔۔موبائل۔۔۔۔۔۔
موبائل کا خیال آتے ہی اس کا ایک ہاتھ اپنے پتلون کی جیب میں جاتا ہے جہاں سے دوسرے ہی لمحے موبائل برآمد ہوتا ہے، وہ موبائل اسکرین پر دیکھتا ہے، جہاں لکھا ہوتا ہے۔۔۔
اس وقت آپ ماضی میں ہو۔۔۔۔۔۔
واپس حال میں داخل ہونے کے لیے اس بٹن کو پریس کیجئے۔۔۔۔"
خوش ہو کر ایان،
فوراََ بٹن پریس کر دیتا ہے۔
بٹن پریس ہوتے ہی،
ایپ سے سرخ اور پیلی روشنیوں کا اخراج شروع ہو جاتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
جو ایان کو اپنے لپیٹے میں لیتے ہوئے۔۔۔۔۔۔ چند لمحے طواف کرتا ہے اور واپس تیز رفتاری سے حرکت کرتے ہوئے، ایان کو روشنی کی لہروں میں گڈ مڈ کر کے موبائل ایپ میں غرق ہو جاتا ہے۔
دوسرے ہی لمحے ایان اپنے بیڈ پر بیٹھا ہے۔
جہاں ماحول بالکل پہلے جیسا ہی ہے وہ اپنے بیڈ پر بلیو کلر کی بٹن دباتا ہے۔ سامنے دروازے سے خوبصورت لیڈی روبوٹ داخل ہوتی ہے اور کہتی ہے "جی سر.... آپ ریڈی ہیں تو ہیلی کاپٹر بلواؤں....
ایان بیڈ سے اترتے ہوئے کہتا ہے
" بس مجھے آپ پانچ منٹ دیجیے۔۔۔ میں ریڈی ہو جاؤں گا۔۔۔۔
لیڈی روبوٹ
اوکے پلیز ۔۔۔۔۔۔
کہتے ہوئے واپس چلی جاتی ہے۔
دروازہ بند ہو جاتا ہے۔
ایان باتھ روم میں پہنچتا ہے جہاں خود بخود مصنوعی آلات کے ذریعے غسل سے فارغ ہو کر باہر نکلتا ہے۔
مصنوعی مشینیں اسے سلیقگی سے لباس زیب تن کرواتی ہے۔
وہ بالکل تیار ہو کر بیڈ روم سے باہر آتا ہے ۔
عالی شان ہال میں مختلف روبوٹس اس کا استقبال کرتے ہیں۔ درمیان سے فرش پورے ہال کے دونوں جانب خود بخود ہٹنے لگتا ہے۔ اور اندر کی طرف سے اوپر کی طرف صاف و شفاف شیشے کا ہیلی کاپٹر نمودار ہوتا ہے۔ جس میں پہلے سے ایک پائلٹ اور دوسرا شخص موجود ہوتا ہے۔ جو ایان کا پرتپاک استقبال کرتے ہوئے اندر آنے کی دعوت پیش کرتا ہے۔
ایان اندر بیٹھتے ہوئے اس شخص سے مصافہ کرتا ہے۔
اسی اثناء میں چھت کے درمیان سے بھی دونوں طرف مشینی اسٹائل میں فاصلہ بڑھتے جاتا ہے اوپر آسمان صاف نظر آتا ہے۔ ہیلی کاپٹر اڑتے ہوئے اوپر کی طرف پرواز کرتا ہے۔
وسیع وعریض چھت خود بخود بند ہو کر پہلے جیسی کیفیت اختیار کر لیتی ہے۔
ہیلی کاپٹر میں ایان اپنے ساتھ بیٹھے ہوئے شخص سے سوال کرتا ہے۔
" کیا موبائل ایپ سے ہم ماضی میں داخل ہو سکتے ہیں؟
وہ شخص کہتا ہے
" ہاں سر اسے سرے سے مسترد نہیں کیا جا سکتا. اس پر کام اب بھی جاری ہے."
ایان کہتا ہے
"مجھے یہ بھی بتاؤ کہ جب ماضی میں ہم جا سکتے ہیں تو یقینا مستقبل میں بھی یہ ایپ لے جاتا ہوگا ."
وہ شخص اپنی آنکھوں میں مخصوص چمک کے ساتھ جواب دیتا ہے
" جی ہاں سر ....
اس بات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
ہم امیدیں وابستہ کر سکتے ہیں کہ اس قسم کا کام
زیرِ تجربہ ہے۔ "
ایان مسکراتے ہوئے اس شخص سے مصافہ کرتا ہے.
اور کہتا ہے
" ٹھیک ہے آپ کا بہت شکریہ۔۔۔۔ اب آپ اجازت لے سکتے ہیں۔
تاکہ میں اگلے کام میں مصروف ہو سکوں۔۔۔۔۔۔ ہیلی کاپٹر نامعلوم مقام پر لینڈ کیا جاتا ہے ۔
جہاں سے وہ شخص رخصت ہو جاتا ہے۔ ہیلی کاپٹر دوبارہ پرواز اختیار کر لیتا ہے۔
ایان کہتا ہے
" مسٹر پائلٹ.... مجھے نیلے سمندر کنارے لال گھاٹی کے پاس ساحل پر لینڈ کرواؤ,تاکہ میں کچھ وقت وہاں گزار سکوں."
جی سر جو حکم آپ کا" کہتے ہوئے پائلٹ مسکراتا ہے اور کچھ ہی دیر میں لال گھاٹی کے وسیع میدان میں ہیلی کاپٹر لینڈ ہوتا ہے۔
ایان نیچے اترتا ہے تب پائلٹ کہتا ہے
"سر.. آپ آ جائیے۔۔۔۔ میں تب تک بیٹھے بیٹھے خود کو چارج کر لیتا ہوں۔۔۔
ایان مسکراتے ہوئے آگے بڑھ جاتا ہے۔
جہاں دور ساحل پر نیلے سمندر کی دودھیا لہریں آسمان کو چھونے کی ناکام کوشش کر رہی ہیں۔ ایک لہر تو ایسی اچھلی جیسے کوئی بڑا اژدھا اپنے فن پھیلائے شکار کو نگلنے کے لیے لپک رہا ہو ۔
اس لہر کو دیکھ کر ایان بجائے خوفزدہ ہونے کے مستی میں زیر لب مسکراتے ہوئے اپنا موبائل فون نکالتا ہے اور پراسرار ایپ پر کلک کرتا ہے جو حال سے مستقبل کا سفر کروانے کے لیے بالکل تیار ہے۔
ایپ سے سرخ اور پیلی روشنیاں خارج ہونے لگتی ہیں۔۔۔۔
جو ایان کے وجود کے گرد دائرہ نما طواف کرتی جاتی ہیں ۔
آہستہ آہستہ روشنیوں کی بے شمار لکیریں ایان کے ہمراہ یکجا ہو جاتی ہیں۔
اور واپس ایپ میں داخل ہو جاتی ہیں۔
دوسرے ہی لمحے ایان آسمان کی بلندیوں پر اپنے ارد گرد خوبصورت حصار میں مقید پرواز کر رہا ہوتا ہے ۔
وہ دیکھتا ہے اس کے جیسے بے شمار حصاروں میں انسان پرواز کیے جا رہے ہیں مگر سب اپنے اپنے دائرے میں محفوظ ہیں غالباََ یہ فضائی سواریاں ہیں۔
ایان کے دائیں جانب ایک خوبصورت لیڈی گزرتے ہوئے مسکرا کر ایان سے مخاطب ہوتی ہیں۔
"ہائے۔۔۔۔۔۔"
ایان پر مسرت لہجے میں
"ہاۓ...... "
جواباً کہتا ہے ۔اور پوچھتا ہے کہ آپ بتا سکتی ہیں ہم کس صدی میں سفر کر رہے ہیں۔
"یہ سن 2,100 ہے..۔۔۔
او ہو.....
یعنی آپ شاید بذریعہ موبائل ایپ تشریف لائے ہیں۔"
ایان کہتا ہے
" ہاں جی ہاں..... درست اندازہ لگایا آپ نے۔۔ ویسے آپ یہاں کیا کر رہی ہیں۔۔۔۔"
حسین لیڈی نے کہا
" میں ایک پرائیویٹ تحقیقی کمپنی سے ہوں.. اور اہم پروجیکٹ پر کام کر رہی ہوں.....
تقریبا ایک ماہ سے اس کام کے پیچھے پڑی ہوئی ہوں امید ہے کہ جلد ہی پایۂ تکمیل تک رسائی حاصل کر لوں گی۔"
ایان کہتا ہے اوہو اچھا اچھا۔۔۔۔۔ بہت مبارکباد ...اب مجھے جانا ہوگا. پھر ملیں گے... بائے......"
حسین لیڈی
" بائے........"
کہتے ہوئے تیز رفتاری سے آگے بڑھ جاتی ہے۔
ایان سوچتا ہے کہ پائلٹ روبوٹ ویٹ کر رہا ہوگا اب "حال " میں پہنچنا چاہیے اتنا سوچتے ہی موبائل نکال کر اسکرین پر نظریں ڈالتا ہے جہاں
واپس حال میں داخل ہونے کے لیے کلک کیجئے"
لکھا ہوا ہوتا ہے .
وہ بٹن پر پریس کرتا ہے
اور سرخ اور پیلی روشنیاں اپنا کام شروع کر دیتی ہیں ۔
ایان کے ارد گرد روشنیوں کی لکیروں کا گھیراؤ تیز رفتاری کے ساتھ عملِ طواف کے بعد واپس ایپ میں سمٹنے لگتا ہے۔
اور ایک نقطے پر آ کر ختم ہو جاتا ہے۔
دوسرے ہی لمحے ایان نیلے سمندر کنارے کھڑا اس پرجوش دودھیا لہر کو نیچے گرتے ہوئے دیکھ رہا ہوتا ہے جس کا پانی اس کے قدموں میں آکر گدگدی پیدا کرتا ہے۔
ایان اپنی ہنسی پر قابو نہیں رکھ پاتا ہے اور ہنس پڑتا ہے۔
واپس مڑ کر جب وہ ہیلی کاپٹر کے قریب پہنچتا ہے تب پائلٹ مسکراتے ہوئے کہتا ہے
" تشریف لائیے سر ....
ایان ہیلی کاپٹر میں بیٹھتا ہے ۔
وہ پرواز کرنے لگتا ہے۔ نیچے مختلف بلڈنگیں ایسے دکھائی دیتی ہیں جیسے کوئی سہانا خوابیدہ عالم اپنی سحر انگیزی مسلط کیے جا رہا ہو۔
افسانہ نگار : علیم طاہر
(چیرمین انڈین افسانہ ٹرسٹ انٹرنیشنل)
_______________________
(C):---
Email id aleemtahir12@gmail.com
Mobile no.9623327923.
::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::
No comments:
Post a Comment