ALEEM TAHIR
Monday, 2 February 2026
جب خواب کیمرہ مانگیں _ مالیگاؤں کے سپر بوائز اور سنیما کی ضد_____تجزیاتی مضمون نگار: علیم طاہر ____سنیما صرف روشنیوں، بڑے سیٹ اور شہرت کا نام نہیں _کبھی کبھی سنیما ایک ضد ہوتی ہے_ایسی ضد جو محدود وسائل، معاشی مجبوریوں اور سماجی بے اعتنائی کے باوجود زندہ رہتی ہے۔Superboys of Malegaon میرے نزدیک ایسی ہی ایک فلم ہے، جو دیکھنے کے بعد ناظر کو محض متاثر نہیں کرتی بلکہ اسے سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ خواب آخر کہاں جنم لیتے ہیں اور کن قیمتوں پر زندہ رکھے جاتے ہیں۔یہ فلم مالیگاؤں جیسے ایک چھوٹے، صنعتی اور محنت کش شہر سے اٹھنے والے اُن لوگوں کی کہانی ہے جنہوں نے بغیر فلمی تعلیم، بغیر سرمائے اور بغیر کسی ادارہ جاتی سہولت کے فلم بنانے کا فیصلہ کیا۔ یہ فیصلہ کسی رومانوی خیال سے زیادہ ایک عملی بغاوت تھا_زندگی کی یکسانیت کے خلاف، اور اس تصور کے خلاف کہ سنیما صرف بڑے شہروں کی میراث ہے۔کہانی جو حقیقت سے نکلتی ہےریما کاگتی کی ہدایت کاری میں بننے والی یہ فلم ناصر شیخ اور اس کے ساتھیوں کی حقیقی زندگی سے متاثر ہے۔نوّے کی دہائی کے اواخر میں شروع ہونے والا یہ سفر ہمیں دکھاتا ہے کہ کس طرح ایک چھوٹا سا ویڈیو پارلر، چند دوست، ایک سائیکل پر رکھا کیمرہ اور بے پناہ جذبہ آہستہ آہستہ ایک شہر کی شناخت بن جاتا ہے۔یہاں فلمیں پیروڈی ضرور ہیں، مگر ان میں طنز کے ساتھ ساتھ محبت بھی ہے۔ شعلے، شان اور سپرمین جیسی کہانیاں صرف ہنسانے کے لیے نہیں بلکہ اپنے گردوپیش کی حقیقتوں کو سمجھنے کے لیے بنائی جاتی ہیں۔ یہ لوگ اپنے شہر سے فرار نہیں چاہتے_ یہ اسے کیمرے کے فریم میں نئی شکل دینا چاہتے ہیں۔دوستی، نقصان اور تخلیقاس فلم کا سب سے مضبوط پہلو اس کی دوستی ہے۔شفیق، علیم ، فروغ اور اکرم جیسے کردار محض کہانی کے مہرے نہیں بلکہ ایک اجتماعی خواب کے نگہبان ہیں۔ بیماری، موت اور ناکامی اس داستان کا حصہ ہیں، مگر کہیں بھی خود ترسی یا شکایت کا شور نہیں۔ یہاں دکھ بھی وقار کے ساتھ جیا جاتا ہے۔فلم بہت واضح طور پر یہ بات کہتی ہے کہ سنیما اکیلے نہیں بنتا۔ایک فلم بنانے کے لیے واقعی ایک گاؤں درکار ہوتا ہے_اور مالیگاؤں اس کا جیتا جاگتا ثبوت ہے۔“علیم” _ یعنی (علیم طاہر) کردار سے آگے ایک شناختاس فلم کا ایک پہلو میرے لیے ذاتی بھی ہے۔پلو سنگھ کے ذریعے ادا کیا گیا “علیم” کا کردار دراصل میری اپنی موجودگی، میری رفاقت اور اس تخلیقی سفر کی علامت ہے جسے میں نے ان لوگوں کے ساتھ جیا۔یہ محض ایک اسکرین کردار نہیں بلکہ اس خواب کا وہ حصہ ہے جو کیمرے کے سامنے کم اور پس منظر میں زیادہ سانس لیتا ہے۔اسی لیے یہ بات محض رسمی نہیں کہ فلم کے اختتام پر ٹائٹل اسکرین پر میرے نام اور تصویر کے ساتھ مجھے اسکرین کریڈٹ دیا گیا۔ یہ اس اجتماعی جدوجہد کا اعتراف ہے جس میں کئی لوگ روشنی سے دور رہ کر بھی سنیما کو ممکن بناتے ہیں۔بڑا بجٹ، مگر چھوٹی روح نہیںیہ بات قابلِ ذکر ہے کہ Superboys of Malegaon کسی معمولی سطح کی فلم نہیں۔یہ فلم تقریباً بیس سے تیس کروڑ روپے کی لاگت سے تیار کی گئی اور اس کے پروڈیوسرز میں رتیش سدھوانی، فرحان اختر اور زویا اختر جیسے نمایاں نام شامل ہیں۔اس کے باوجود، فلم اپنی روح میں کسی بڑے بجٹ کی نمائش نہیں بلکہ چھوٹے لوگوں کی بڑی کہانی بن کر سامنے آتی ہے۔عالمی اسکرین پر مالیگاؤںیہ فلم محض مقامی تجربہ نہیں رہی۔کینیڈا، برطانیہ، سعودی عرب اور دیگر ممالک میں اس کی نمائش اور پذیرائی نے یہ ثابت کر دیا کہ چھوٹے شہروں کی کہانیاں بھی عالمی زبان رکھتی ہیں۔دنیا بھر میں ریلیز ہونے کے بعد، فلم نے مختلف ثقافتوں کے ناظرین کو یہ احساس دلایا کہ خوابوں کی جدوجہد جغرافیہ نہیں دیکھتی۔فن، طبقہ اور سوالSuperboys of Malegaon ایک بنیادی سوال اٹھاتی ہے:فن پر حق کس کا ہے؟کیا وہی کہانیاں معتبر ہیں جو شہری اشرافیہ کے دائرے میں جنم لیں،یا وہ بھی جو پاور لومز کے شور، چھوٹے گھروں اور محدود امکانات میں پیدا ہوں؟یہ فلم کسی کا مذاق نہیں اڑاتی، نہ ہی ترس بیچتی ہے۔یہ صرف اتنا کہتی ہے کہ اگر نیت سچی ہو تو کرنج بھی تخلیقی ہو سکتا ہے۔________میرے نزدیک Superboys of Malegaon صرف فلم بنانے کی کہانی نہیں، بلکہ اس سوال کا جواب ہے کہ لوگ آخر فلمیں کیوں بناتے ہیں۔شہرت کے لیے نہیں،پیسے کے لیے نہیں،بلکہ اس لیے کہ کچھ کہانیاں کہے بغیر رہا نہیں جاتا۔یہ اُن لوگوں کی داستان ہے جو یہ ماننے کے لیے کافی دیوانے تھے کہ وہ اپنی فلم خود بنا سکتے ہیں—جبکہ ان کے پاس نہ وسائل تھے، نہ علم، اور نہ کسی کی اجازت۔اور بعض اوقات،دنیا بدلنے کے لیےاتنی سی دیوانگی ہی کافی ہوتی ہے۔_________باب دوم:--------کیمرہ، شہر اور وہ لوگ جو پس منظر میں رہ جاتے ہیںبابِ اوّل میں جن خوابوں، ضد اور اجتماعی جذبے کا ذکر ہوا، وہ محض نظری تصورات نہیں تھے۔ان خوابوں کی ایک جغرافیہ تھی، ایک سماجی ساخت تھی، اور سب سے بڑھ کر—ایک شہر تھا۔وہ شہر مالیگاؤں تھا۔مالیگاؤں محض ایک لوکیشن نہیں، بلکہ اس فلم کا خاموش کردار ہے۔ پاور لومز کی آواز، تنگ گلیاں، محنت کش چہرے، دن بھر کی تھکن اور رات کی امید—یہ سب کچھ Superboys of Malegaon میں محض پس منظر نہیں بنتا بلکہ بیانیے کا حصہ ہو جاتا ہے۔ یہاں سنیما کسی خوابناک فرار کا راستہ نہیں بلکہ روزمرہ زندگی سے مکالمہ کرتا ہے۔کیمرہ بطور ہتھیارِ اظہاراس فلم میں کیمرہ کسی تکنیکی کمال کی نمائش نہیں کرتا۔یہ اکثر کانپتا ہے، کبھی زاویہ بگڑ جاتا ہے، کبھی روشنی پوری نہیں ملتی—مگر یہی خامیاں اسے سچا بناتی ہیں۔یہ کیمرہ اُن لوگوں کے ہاتھ میں ہے جن کے لیے اظہار ایک عیاشی نہیں بلکہ ضرورت ہے۔یہاں کیمرہ تفریح کا آلہ نہیں، اپنی موجودگی درج کرانے کا ذریعہ ہے۔ایک ایسا ذریعہ جو یہ اعلان کرتا ہے کہہم بھی یہاں ہیں، ہماری بھی کہانی ہے۔پس منظر کے کردار اور اصل کہانیہر فلم میں کچھ لوگ ہوتے ہیں جو پوسٹر پر نہیں ہوتے،جن کے نام تالیاں نہیں سمیٹتے،مگر جن کے بغیر فلم مکمل نہیں ہوتی۔Superboys of Malegaon ان ہی لوگوں کی طرف اشارہ کرتی ہے—وہ دوست جو شوٹنگ کے بعد سیٹ سمیٹتے ہیں،وہ فنکار جو دن میں مزدوری کرتے ہیں اور رات کو اداکار بنتے ہیں،وہ لوگ جو اسکرین پر کم اور حقیقت میں زیادہ موجود ہوتے ہیں۔یہ فلم بڑی دیانت داری سے دکھاتی ہے کہ تخلیق کا سفر ہمیشہ رومانوی نہیں ہوتا۔یہاں اختلاف بھی ہے، انا بھی ہے، مایوسی بھی—مگر ان سب کے بیچ ایک مشترک بات ہے:چھوڑ نہ دینے کی ضد۔فن اور روزگار کے بیچ پھنسی زندگیمالیگاؤں کے سپر بوائز ایک ایسے سماج سے آتے ہیں جہاں فن کو پیشہ ماننے میں ہچکچاہٹ ہے۔یہاں خوابوں کی قیمت اکثر روزگار سے چکانی پڑتی ہے۔اسی لیے فلم میں بار بار یہ کشمکش ابھرتی ہے:کام یا خواب؟ذمہ داری یا جنون؟یہ سوال کسی فلسفیانہ مباحثے کی طرح نہیں آتا بلکہ روزمرہ کی سطح پر سامنے آتا ہے—کرایہ، گھر، بیماری، شادی، موت_سب کچھ تخلیق کے ساتھ ساتھ چلتا رہتا ہے۔وہ “علیم” جو فریم کے کنارے کھڑا ہےاس باب میں ایک بات کا ذکر ضروری ہے جو اکثر نظرانداز ہو جاتی ہے۔فلم میں “علیم” کا کردار محض ایک فرد کی نمائندگی نہیں کرتا بلکہ اُن سب لوگوں کی علامت ہے جو تخلیق کے مرکز میں رہتے ہوئے بھی شہرت کے دائرے سے باہر ہوتے ہیں۔مقیم ارشد ایسے ہی ایک نوجوان اداکار ہیں۔ جو کیریکٹر رول میں پچیس سالوں پہلے بھی شامل تھے انہیں کو آج بھی شامل کیا گیا ہے ۔ یہ مقیم ارشد کے لیے انفرادی شناخت ہے۔یہ وہ لوگ ہیں جو نظریہ سنبھالتے ہیں، بات چیت جوڑتے ہیں، اختلاف کو سلجھاتے ہیں،اور اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ خواب بکھرنے نہ پائیں۔یہ کردار اس بات کی یاد دہانی ہے کہسنیما صرف اسکرین پر نظر آنے والوں کا فن نہیں—یہ ایک اجتماعی عمل ہے جس میں ہر موجودگی معنی رکھتی ہے۔شہر سے عالمی اسکرین تکدلچسپ بات یہ ہے کہ جس شہر کو اکثر حاشیے پر رکھا جاتا ہے،اسی شہر کی کہانی نے عالمی اسکرین پر جگہ بنائی۔کینیڈا، برطانیہ، سعودی عرب اور دیگر ممالک میں اس فلم کی پذیرائی اس بات کا ثبوت ہے کہکہانیاں جب سچائی سے کہی جائیں تو زبان اور سرحد کی محتاج نہیں ہوتیں۔مالیگاؤں کی گلیوں سے نکلنے والی یہ آواز دنیا کو یہ بتانے میں کامیاب رہی کہچھوٹے شہروں کے خواب بھی عالمی معنویت رکھتے ہیں۔باب کا حاصلیہ باب ہمیں یہ سمجھاتا ہے کہSuperboys of Malegaon صرف افراد کی کہانی نہیں،یہ ایک شہر، ایک طبقے اور ایک نظرانداز شدہ تخلیقی قوت کی داستان ہے۔یہ اُن لوگوں کی کہانی ہےجو فریم کے اندر بھی ہیں اور باہر بھی،جو اسکرین پر نظر آتے بھی ہیں اور نہیں بھی،مگر جن کے بغیر کوئی فلم ممکن نہیں۔تجزیاتی مضمون نگار:علیم طاہر__________________(C)Aleem Tahir Email id aleemtahir12@gmail.com ___________________
Monday, 12 January 2026
افسانچہ کیا ہے ____علیم طاہر
Saturday, 27 December 2025
میڈیا، نظریہ اور سماج: مکالمے سے تصادم تک کا خطرناک سفر علیم طاہر______________________________ڈیجیٹل میڈیا کے عروج نے اظہارِ رائے کو بلاشبہ آسان بنایا، مگر اسی کے ساتھ ایک نیا بحران بھی جنم لیا: مکالمے کی جگہ تصادم اور سوال کی جگہ سنسنی۔ آج میڈیا کا ایک بڑا حصہ سماج کو جوڑنے کے بجائے اسے نظریاتی خیموں میں بانٹنے کا کام کر رہا ہے _ مذہب، شناخت اور عقیدے جیسے نازک موضوعات کو اس انداز میں پیش کیا جاتا ہے کہ نتیجہ فہم و تدبر نہیں بلکہ اشتعال اور پولرائزیشن نکلتا ہے۔یہ سوال اب محض یہ نہیں رہا کہ خدا ہے یا نہیں، مذہب جدیدیت سے ہم آہنگ ہے یا نہیں—بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کون، کس نیت سے، کن شرائط پر یہ سوالات اٹھا رہا ہے؟ جب موضوعات کی تشکیل ہی ایجنڈا سیٹنگ کے تحت ہو، تو بحث کا انجام پہلے سے طے شدہ ہوتا ہے۔ ایسے پروگرام بظاہر فلسفیانہ دکھائی دیتے ہیں، مگر درحقیقت وہ سماجی نفسیات میں دراڑیں ڈالنے کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔میڈیا کا بنیادی فریضہ یہ تھا کہ وہ عوامی مفاد کے سوالات—تعلیم، صحت، روزگار، مہنگائی—کو مرکز میں رکھے۔ مگر آج ہم دیکھتے ہیں کہ شناختی سیاست کو مرکزی دھارے میں لا کر اصل مسائل کو پسِ پشت ڈال دیا جاتا ہے۔ یہ حکمتِ عملی وقتی طور پر ریٹنگ اور ویورشپ تو بڑھا دیتی ہے، لیکن طویل مدت میں سماج کو عدمِ اعتماد اور خوف کی طرف دھکیلتی ہے۔ اختلافِ رائے جمہوریت کی روح ہے، مگر اختلاف کو دشمنی میں بدل دینا جمہوری زوال کی علامت ہے۔ایک خطرناک رجحان یہ بھی ہے کہ پینل ڈسکشنز کو اس طرح ڈیزائن کیا جاتا ہے کہ توازن کا گمان پیدا ہو، مگر حقیقت میں ایک فریق کو علامتی نمائندگی دے کر دوسرے کو غالب دکھایا جائے۔ اس سے نہ تو علم میں اضافہ ہوتا ہے اور نہ ہی ناظرین کو سچ تک رسائی ملتی ہے۔ نتیجتاً، عوام کے ذہن میں پیچیدہ سماجی سوالات سادہ، تعصبی بیانیوں میں ڈھل جاتے ہیں۔ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کا ’سافٹ پروپیگنڈا‘ اس پورے منظرنامے میں سب سے زیادہ تشویشناک ہے۔ غیر رسمی زبان، دوستانہ انداز اور ’کول‘ پریزنٹیشن کے پیچھے چھپا ہوا نظریاتی انتخاب زیادہ دیرپا اثر ڈالتا ہے، کیونکہ یہ غیر جانبداری کے لبادے میں پیش کیا جاتا ہے۔ یہاں مسئلہ صرف مواد کا نہیں، مواد کے انتخاب کا ہے—کہ کن سوالات کو بار بار اٹھایا جا رہا ہے اور کنہیں مسلسل نظرانداز کیا جا رہا ہے۔میڈیا کی اس سمت کے پیچھے کارپوریٹ مفادات اور سیاسی قربتوں کا کردار بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ جب میڈیا ادارے چند بڑے کاروباری گروپس کے ہاتھوں میں مرتکز ہو جائیں، تو ادارتی آزادی دباؤ میں آ جاتی ہے۔ سرکاری اشتہارات اور پالیسی مفادات ایک ایسا معاشی شکنجہ بناتے ہیں جس میں صحافت رفتہ رفتہ نگہبان سے تابع دار بن جاتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں صحافی سوال کرنے کے بجائے بیانیہ آگے بڑھانے لگتے ہیں۔اس کا سب سے گہرا اثر نوجوان نسل پر پڑتا ہے۔ جب سنجیدہ مسائل کو سطحی اور اشتعال انگیز مباحث میں بدل دیا جائے، تو تنقیدی سوچ کمزور پڑ جاتی ہے۔ نوجوان دلیل کے بجائے شناخت کے ساتھ کھڑے ہونے لگتے ہیں، اور یہی وہ لمحہ ہے جہاں سماج فکری بانجھ پن کا شکار ہو جاتا ہے۔حل کیا ہے؟حل سنسرشپ نہیں، بلکہ ادارتی ذمہ داری ہے۔ میڈیا کو چاہیے کہ وہ مکالمے کی شرطیں خود طے کرے—برابری، احترام اور علمی دیانت۔ اختلاف کو جگہ دے، مگر نفرت کو نہیں۔ مذہب اور فلسفے جیسے موضوعات پر گفتگو ہو، مگر اس نیت سے کہ فہم بڑھے، نہ کہ خلیج گہری ہو۔ صحافت کا اصل مذہب سچ ہے، اور اس کی عبادت سوال سے ہوتی ہے_ سنسنی سے نہیں۔اگر میڈیا نے اپنے نظریاتی جھکاؤ کو عوامی مفاد پر فوقیت دی، تو یہ بحران صرف خبروں تک محدود نہیں رہے گا؛ یہ سماج کی رگوں میں اتر جائے گا۔ اور پھر تاریخ گواہ ہے کہ ایسے زہر کا تریاق نسلوں میں بھی مشکل سے ملتا ہے۔
Thursday, 27 November 2025
ڈرامہ نمبر 03 ریڈیو ڈراما اسکرپٹ اسٹرگلرس اڈا
ڈرامہ نمبر: 03
ریڈیو ڈراما اسکرپٹ
عنوان: اسٹرگلرس اڈا
افسانہ نگار: علیم طاہر
ریڈیو اسکرپٹ رائٹر: علیم طاہر
---------------
[اوپننگ میوزک – نرم سا بولی ووڈ طرز کا انسٹرومنٹل، جو خوابوں کے شہر کی جھلک دے]
نیریٹر (آہستہ اور پراثر لہجہ):
ممبئی… ایک ایسا شہر جہاں خواب بُنتے ہیں… اور بکھرتے بھی۔ ہر چہرہ… ایک کہانی، ہر نظر… ایک امید۔
اسی شہر کے دل میں واقع ہے — شانتی نگر کا ایک ہوٹل، جسے سب جانتے ہیں اسٹرگلرس اڈا کے نام سے۔
[پس منظر میں ہوٹل کا ہلکا سا شور، برتنوں کی آوازیں، ہنسی کے قہقہے، ہلکی موسیقی]
نیریٹر:
یہ صرف ایک ہوٹل نہیں… ایک امید کا مرکز ہے۔
جہاں نوجوان فنکار آتے ہیں… اور اپنے خوابوں کو سانس دیتے ہیں۔
یہاں ہر چائے کے کپ کے ساتھ ایک کہانی، ہر سگریٹ کے کش کے ساتھ ایک فسانہ۔
[کمرے کی آواز، کرسی کھسکنے کی ہلکی آواز، گفتگو کی دھیمی گونج]
شلپا (سگریٹ کا کش لیتے ہوئے):
یہ وہی ہے نا؟ جس نے "گمنام سوسائٹی" میں چائے والے کا رول کیا تھا؟
آکاش (ہنستے ہوئے):
ہاں چرکٹ ماسٹر! بڑا مشہور ہوا تھا وہ سین۔
شلپا:
چاہو تو ابھی بلا لیتی ہوں۔
[قدموں کی آواز، چرکٹ ماسٹر کی آمد]
چرکٹ ماسٹر (خوش دلی سے):
نمستے بھائی لوگ!
شلپا جی نے بتایا، آکاش جی آپ فلم بنا رہے ہیں؟
آکاش:
جی، ایک نئی فلم پر کام شروع کرنے والا ہوں۔ رہنمائی کی تلاش میں ہوں۔
چرکٹ ماسٹر:
رہنمائی بھی ملے گی، اور شاید کوئی راستہ بھی نکل آئے۔
[کسی ٹیبل پر ہنسی کی آواز، ویٹر کی آواز میں آرڈر]
ویٹر:
دو پنیر پراٹھے، ایک پانی کی بوتل… اور سگریٹ کا پیکٹ۔
[ہوٹل میں ہلکی موسیقی – جاز طرز کی، خاموشی میں ایک وقفہ]
نیریٹر:
وہیں ایک کونے میں بیٹھے ہیں… وجو بھائی…
اصل نام وجے چوہان…
ایک بزنس مین، جو یہاں آ کر خوابوں کے ساتھ جیتے ہیں۔
سادگی میں چھپی بصیرت… اور آنکھوں میں چمکتی امید۔
آکاش (دھیرے سے):
شلپا، یہ بزرگ کون ہیں؟
شلپا:
بس، یہاں کے سب سے زیادہ پرانے "گاہک"… فلمی نہیں، لیکن دل سے ہم سب کے ساتھ۔
[ایک تھکی ہاری لڑکی کی آواز، پس منظر میں آہستہ ہنسی اور باتیں جاری]
لڑکی:
یہ کاسٹنگ ڈائریکٹرز بس خواب دکھاتے ہیں… موقع کوئی نہیں دیتا۔
توصیف:
ہم بھی یہی سوچتے تھے، پر اب عادت ہو گئی ہے۔
جابر:
ارے، وقت سب کا آتا ہے۔ ہمت نہ ہارو!
[اوور ہیڈ اسپیکر کی آواز: اسٹینڈ اپ کامیڈی شو کا اعلان]
اعلان:
پندرہ منٹ بعد، اوپری منزل پر اسٹینڈ اپ کامیڈی شو — جادھو جی کے ساتھ!
سب کے لیے مفت داخلہ!
[لوگوں کی چہل پہل، قدموں کی آواز، سیڑھیوں کی کھڑکھڑاہٹ]
نیریٹر:
سب اوپر جاتے ہیں…
ہنسی کی کچھ قسطیں، اور مایوسی کے کچھ لمحے، ایک ساتھ بانٹے جاتے ہیں۔
آکانشا (اداسی سے):
لگتا ہے… مرنے کے بعد ہی کچھ ہوگا…
شلپا (پیار سے):
ایسا نہ کہو… وقت سب کا آتا ہے۔
[خاموشی… اور پھر ایک مضبوط، مگر نرم آواز]
وجو بھائی (کھڑے ہو کر):
میں صرف وجو بھائی نہیں…
میں وجے چوہان ہوں — ایک بزنس مین۔
میں نے آپ سب کی آنکھوں میں وہ روشنی دیکھی ہے…
جس سے ایک فلم بن سکتی ہے۔
اور وہ فلم ہم سب مل کر بنائیں گے۔ بغیر باس، صرف شریک۔
[پَر امید موسیقی، جذباتی لمحہ، لوگوں کی سانسیں رکی ہوئی سی]
نیریٹر:
سب حیران…
پھر ماریا آتی ہے… نیلی ساڑھی، لیپ ٹاپ تھامے۔
ماریا:
یہ رہا پروجیکٹ… آپ سب اس کے شریک ہوں گے۔
[موسیقی کی شدت، گوگل سرچ کی ٹِک ٹِک، پھر ایک شور کی سی خوشی]
نیریٹر:
اور لیپ ٹاپ پر ابھرتا ہے وہ جملہ…
جو ان سب کی زندگیوں میں روشنی بن کر اُترتا ہے۔
ماریا (پڑھتی ہے):
"سب سَمے کا کھیل ہے…
سَمے پر یقین رکھو…
سَمے سب کا آتا ہے…"
[میوزک آہستہ ہوتا ہے، نیریٹر کی آخری آواز]
نیریٹر:
یہ تھا… اسٹرگلرس اڈا۔
ایک ایسی جگہ… جہاں امید زندہ ہے…
اور خواب… کبھی نہیں مرتے۔
[اختتامی میوزک – مدھم، خوابناک اور پُر امید دُھن]
________________________________
وائس اوور کاسٹ اور ہدایات
1. نیریٹر (Narrator):
آواز: مرد یا خاتون، نرم، جذباتی، شاعرانہ لہجہ
انداز: اداس، امید بھرا، وقفوں کے ساتھ گفتگو
مثال: نصیر الدین شاہ، یا رتی اگنی ہوتری جیسی آواز
---
2. شلپا (Struggler Actress):
آواز: نوجوان لڑکی، خواب دیکھنے والی، تھوڑا تھکی ہوئی مگر مضبوط
انداز: سگریٹ پینے والی، تجربہ کار مگر حساس
---
3. آکاش (نوجوان ہدایتکار):
آواز: نوجوان مرد، امید سے بھرپور، تھوڑا نروس مگر کریٹیو
انداز: درمیانی رفتار، گفتگو میں الجھن اور جستجو
---
4. چرکٹ ماسٹر (چھوٹے موٹے رول والا ایکٹر):
آواز: دلچسپ، نچلی طبقے کی زبان، گرمجوش لہجہ
انداز: ملنسار، فنی، بولی وڈ نقالی کے انداز میں
---
5. ویٹر:
آواز: معمولی اسٹاف، جلد باز، آسانی سے ایڈجسٹ ہو جانے والا
انداز: ہلکا مزاح، ایکسپریس ڈیلیوری
---
6. وجو بھائی (وجے چوہان):
آواز: سنجیدہ بزرگ، گہری، پراثر
انداز: وقار بھرا، سادگی میں گہرائی، آخر میں جذباتی جوش
---
7. آکانشا (مایوس اداکارہ):
آواز: حساس، اداس، نوجوان
انداز: دل شکستہ، شاعرانہ ٹون
---
8. توصیف / جابر (پس منظر کے جدوجہد کرنے والے):
آواز: ممبئی کے لہجے والے نوجوان، تھوڑے طنزیہ، مگر ساتھ دینے والے
انداز: فنی، مزاحیہ، حقیقت پسند
---
9. ماریا (پروجیکٹ مینجر):
آواز: پروفیشنل، پُراعتماد، جذباتی خاتون
انداز: تیز، مستعد، گرمجوش انداز
---
10. اسپیکر وائس / اعلان:
آواز: روبوٹک یا ڈیجیٹل انداز میں مردانہ
انداز: ایونٹ ایناؤنسمنٹ جیسا، جیسے کسی شو یا اسٹینڈ اپ کی اطلاع
---
آڈیو ساؤنڈ ایفیکٹس (SFX) & میوزک گائیڈ
---
ریکارڈنگ کے لیے مشورہ:
ہر کردار اپنی لائن ریکارڈ کرے اور وقفہ (pause) دے تاکہ ایڈیٹر آسانی سے جگہ بدل سکے۔
نیریٹر کی آواز میں "خاموشیاں" اور "جملوں کے بیچ تھوڑی دیر" لازمی رکھیں تاکہ جذبات ابھر سکیں۔
وجو بھائی کے "خطاب والے سین" میں بیک گراؤنڈ میوزک بہت مدھم بجائیں تاکہ آواز غالب رہے۔
اسٹوڈیو میں تین مائک استعمال کریں — ایک نیریٹر کے لیے، ایک مکالماتی کرداروں کے لیے، ایک ساؤنڈ ایفیکٹس کے لیے۔
________________________________
ریڈیو اسکرپٹ: اسٹرگلرس اڈا
مصنف: علیم طاہر
فارمیٹ: وائس ریکارڈنگ / ریڈیو ڈرامہ
دورانیہ: تقریباً 20-25 منٹ
---
[اوپننگ سین]
[SFX: ہلکی ہلکی بولی وڈ طرز کی انسٹرومنٹل میوزک، بیک گراؤنڈ میں ہلکی گفتگو اور چائے کی چسکیاں]
نیریٹر (نرم آواز میں):
یہ ممبئی ہے... خوابوں کی شہزادی... جہاں ہر گلی، ہر دیوار، ہر کھڑکی کسی نہ کسی جدوجوہد کی گواہ ہے۔
یہاں ایک ہوٹل ہے... کچھ پرانے اسٹول، کچھ دھندلے شیشے، اور کچھ تھکے ہوئے خواب...
اس ہوٹل کا نام کوئی نہیں جانتا... مگر ہر اسٹروگلر اسے "اسٹرگلرس اڈا" کہہ کر پکارتا ہے۔
---
[سین 2 – ہوٹل کے اندر]
[SFX: دروازے کی چرچراہٹ، قدموں کی آہٹ، چائے کی پیالی رکھے جانے کی آواز]
ویٹر:
شلپا جی، آپ کا اسپیشل چائے۔ بغیر شکر کے۔
شلپا (سگریٹ کا کش لیتے ہوئے):
تھینک یو راجو… تمھیں بھی یاد ہے میری چائے کی عادت؟
ویٹر (مسکرا کر):
یہاں سب کو یاد ہے… اسٹروگلرز کا ذائقہ چائے سے زیادہ خوابوں میں ہوتا ہے۔
---
[سین 3 – نوجوان ہدایتکار کا داخلہ]
[SFX: تیز قدموں کی آواز، کرسی گھسیٹنے کی آواز]
آکاش:
مجھے ایک نئی لڑکی چاہیے... چہرے پر وہ کرب ہو جو اسکرین سے باہر نکل آئے...
شلپا (سگریٹ کا کش لیتے ہوئے):
کرب صرف چہرے پر نہیں ہوتا... کبھی اندر بھی محسوس کر کے دیکھو...
---
[سین 4 – چرکٹ ماسٹر کا انٹری]
[SFX: ہلکی ہنسی، دروازے کی کھڑکھڑاہٹ]
چرکٹ ماسٹر:
سنو سنو... آج بھی آڈیشن میں "پولس والا" بن کے آیا تھا...
مگر لائن تھی صرف ایک: "چلو تھانے!"
توصیف (ہنستے ہوئے):
بس! اور دیالو ڈیریکٹر نے وہ بھی کاٹ دی ہوگی؟
چرکٹ ماسٹر:
نہیں بھائی... وہ تو بولے "ابھے تو ریئل لگتا ہے، تھانے میں ہی جا!"
---
[سین 5 – آکانشا کا منظر]
[SFX: ہوا کے جھونکے، دروازہ کھلنے کی آواز]
آکانشا (اداسی سے):
مجھے اپنا پتہ نہیں معلوم... میں شاید کسی ریجیکشن کی گلی میں رہتی ہوں...
شلپا (نرمی سے):
یہاں سب کی رہائش عارضی ہے... کوئی خواب میں رہتا ہے، کوئی ڈائلاگ میں...
---
[سین 6 – وجو بھائی کی آمد]
[SFX: اسٹک کی ٹک ٹک، خاموشی کا وقفہ، ہلکی بیک گراؤنڈ میوزک]
نیریٹر:
یہ وجو بھائی ہیں... اصل نام وجے چوہان۔ کبھی سائڈ رول کے بادشاہ تھے۔ اب... اسٹروگلرز کے استاد۔
وجو بھائی:
ہاں بچو... سنیما صرف کیمرے کی آنکھ نہیں دیکھتی...
اسے دل کا ویژن چاہیے... ورنہ ہر اسٹروگل صرف شکست ہے۔
---
[سین 7 – ان سب کی کہی ان کہی آوازیں]
[SFX: سب کردار ہلکے ہلکے بولتے ہیں، جیسے دھیما شور ہو]
شلپا (خود سے):
کیا کبھی کوئی رول... میرے نام کا بھی ہوگا؟
آکاش (نوٹس بک بند کرتے ہوئے):
کہانی میں درد کم ہے… چلو کسی اور اسٹروگلر سے ملتا ہوں۔
آکانشا (آنسو پونچھتے ہوئے):
ریجیکشن اب عادت بن چکی ہے…
---
[کلائمکس – وجو بھائی کا خطاب]
[SFX: خاموشی، میوزک تھوڑا بڑھتا ہے، وجو بھائی کی آواز گونجتی ہے]
وجو بھائی:
بچو... ایک دن، یہی ہوٹل کسی کی بائیوپک کا پہلا سین بنے گا۔
یہ اسٹروگلرس اڈا نہیں... یہ سنیما کا جنم استھان ہے!
---
[اختتامی منظر]
نیریٹر (پُرجوش مگر نرم انداز میں):
تو یاد رکھنا... اگر تم بھی کبھی ممبئی آؤ... اور ایک چائے، ایک خواب، اور ایک ڈائلاگ تمھارے پاس ہو...
تو "اسٹرگلرس اڈا" تمھارا ہے۔
[SFX: دھیرے دھیرے میوزک بلند ہوتا ہے اور fade out]
رابطہ مصنف : - علیم طاہر
موبائل: 9623327923
________________________________
(C) Ragisterd:
Writer:
Aleem Tahir
Email id aleemtahir12@gmail.com
Mobile no. 9623327923.
-----------
Sunday, 9 November 2025
___ یوم اردو کے موقع پر
اردو کی بقا، فروغ اور ہماری اجتماعی
ذمہ داری
مقالہ نگار: علیم طاہر
----
تمہید:
زبان کسی قوم کی شناخت ہوتی ہے۔ اس سے تہذیب کا شعور، معاشرت کی پہچان، اور فکر کا زاویہ جھلکتا ہے۔ اردو زبان برصغیر کی وہ حسین روایت ہے جس نے مذہب، نسل اور علاقے کے امتیاز سے بلند ہو کر سب کو ایک لڑی میں پرویا۔ آج جب دنیا کی تیز رفتار ترقی کے ساتھ مادری اور قومی زبانیں دباؤ میں آ رہی ہیں، تو یہ سوال شدت سے ابھرتا ہے کہ ہم اردو کے لیے کیا کر رہے ہیں؟
---
اردو کی تاریخی جڑیں اور ارتقائی سفر _
اردو کی ابتدا بارہویں صدی کے آس پاس دہلی اور گنگا–یامنا کے علاقے میں ہوئی۔ مختلف بولیوں جیسے خاری، برج، اور فارسی، عربی و ترکی اثرات کے امتزاج سے ایک نئی زبان نے جنم لیا جسے ابتدا میں ’’ریختہ‘‘ کہا گیا۔
دکن کے شعرا ولیؔ، محمد قلی قطب شاہؔ اور نصرتیؔ نے اسے نیا ذائقہ دیا۔ دہلی میں میرؔ، سوداؔ، غالبؔ، ذوقؔ، مومنؔ نے اسے کلاسیکی بلندی بخشی۔
یوں اردو ایک فوجی، درباری اور عوامی زبان سے ترقی کرتے کرتے ادب، صحافت، فلسفہ، سائنس اور سیاست کی زبان بن گئی۔
---
اردو کا تہذیبی و ادبی کردار
اردو زبان کا سب سے روشن پہلو یہ ہے کہ اس میں روحانی وسعت اور فکری رواداری شامل ہے۔
یہ وہ زبان ہے جس نے میر تقی میرؔ کے غم، غالبؔ کے فلسفے، اقبالؔ کے خواب اور فیضؔ کی انقلابی فکر کو آواز دی۔
اردو نے نہ صرف برصغیر کے مسلمانوں کو بلکہ غیر مسلم شعرا و ادبا کو بھی اپنی آغوش میں جگہ دی — دیال شرماؔ، جگن ناتھ آزادؔ، راجندر سنگھ بیدیؔ، کرشن چندرؔ _ سب نے اردو کو اپنا اظہار بنایا۔
اردو ادب کا دامن نثر، شاعری، ڈراما، تنقید، سفرنامہ اور جدید افسانے تک وسیع ہے۔ یہ زبان آج بھی انسان دوستی، محبت، برداشت اور ہم آہنگی کا پیغام دیتی ہے۔
---
اردو کی موجودہ صورتِ حال
بدقسمتی سے اردو کو وہ ادارہ جاتی توجہ حاصل نہیں جو کسی قومی یا عالمی زبان کو ملنی چاہیے۔
اسکولوں میں اردو ذریعۂ تعلیم کے ادارے کم ہو رہے ہیں۔
انگریزی اور مقامی بولیوں کے دباؤ نے اردو کے فروغ کو محدود کیا ہے۔
نئی نسل میں اردو لکھنے، پڑھنے اور سمجھنے کا رجحان کم ہوتا جا رہا ہے۔
اردو اخبارات و رسائل کی قارئین تعداد گھٹ رہی ہے۔
ڈیجیٹل میڈیا پر اردو رسم الخط کی تکنیکی مشکلات اب بھی موجود ہیں۔
یہ صورتِ حال محبانِ اردو کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔
---
اردو کے فروغ کے امکانات اور مواقع
اس کے باوجود اردو کے امکانات وسیع ہیں۔
دنیا کے درجنوں ممالک میں اردو بولی اور سمجھی جاتی ہے۔
پاکستان میں یہ قومی زبان ہے، بھارت میں کروڑوں لوگ اسے مادری یا ثانوی زبان کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔
عرب دنیا، خلیجی ممالک، برطانیہ، کینیڈا، امریکا اور جاپان تک اردو کی تدریس کے مراکز قائم ہیں۔
ڈیجیٹل دور نے اردو کے لیے نئے در وا کیے ہیں —
ریختہ، اردو پوائنٹ، بی بی سی اردو، اور جامعۂ ملیہ اسلامیہ جیسے ادارے اردو کو عالمی سطح پر متعارف کروا رہے ہیں۔
---
انفرادی سطح پر ہماری ذمہ داریاں
1. گھر سے آغاز: بچوں سے اردو میں گفتگو کریں، انہیں کہانیاں، نظمیں اور لوک حکایات سنائیں۔
2. مطالعہ کی عادت: اردو کتابیں، افسانے، شاعری اور صحافتی مضامین پڑھیں۔
3. ڈیجیٹل اردو کا فروغ: سوشل میڈیا، بلاگز، ایپس اور ویب سائٹس پر اردو رسم الخط میں مواد لکھیں۔
4. زبان کا وقار: سرکاری و نجی تقریبات میں اردو میں گفتگو کرنے کو باعثِ فخر سمجھیں۔
5. تحقیق و تحریر: نوجوان نسل کو اردو میں مقالہ نگاری، تخلیق اور ترجمہ کی جانب راغب کریں۔
---
ادارہ جاتی سطح پر تجاویز
اردو میڈیم اسکولوں کو جدید سائنسی اور ٹیکنالوجی مضامین سے جوڑا جائے۔
اردو ٹیچرز کی تربیت کے لیے جدید کورسز متعارف ہوں۔
اردو یونیورسٹیوں اور تحقیقی اداروں کو فنڈنگ دی جائے۔
اردو کی عالمی کانفرنسیں اور مشاعرے ہر سطح پر منعقد کیے جائیں۔
اردو کتب کی ڈیجیٹلائزیشن، ای لائبریریز اور آن لائن ڈیٹا بیسز قائم ہوں۔
---
اجتماعی اور قومی سطح پر شعور کی بیداری
ہمیں اردو کے فروغ کو محض ایک ثقافتی مہم نہیں بلکہ قومی فریضہ سمجھنا چاہیے۔
جب قومیں اپنی زبان کو چھوڑ دیتی ہیں تو ان کی تہذیب مٹنے لگتی ہے۔
اردو صرف مذہبی یا سیاسی زبان نہیں — یہ رواداری، محبت، اور شعور کی زبان ہے۔
اردو ہماری اجتماعی شناخت ہے؛ اس کی حفاظت ہماری اخلاقی، تہذیبی اور تاریخی ذمہ داری ہے۔
----
اردو کا مستقبل — امید کی کرن
اردو آج بھی زندہ ہے، اور اس کے چاہنے والے ہر جگہ موجود ہیں۔
آن لائن ذرائع، عالمی مشاعرے، اور نوجوان نسل کی بیداری اردو کے لیے نئی توانائی پیدا کر رہے ہیں۔
اگر ہم نے اردو کو جدید تعلیم، سائنس، ٹیکنالوجی اور میڈیا سے جوڑ لیا، تو اس کی بقا یقینی ہے۔
اردو کی روح آج بھی زندہ ہے _
> “یہ زبان عشق ہے، یہ زبان انسانیت ہے، یہ زبان ہمارا کلچر ہے۔”
--
اردو کے فروغ کے لیے ہمیں حکومت سے زیادہ خود کو بدلنے کی ضرورت ہے۔
زبان محبت سے زندہ رہتی ہے، حکم سے نہیں۔
آیئے اس یومِ اردو کے موقع پر یہ عہد کریں کہ:
“اردو ہماری زبان ہے، اس کی حفاظت ہمارا ایمان ہے۔”
---
کاپی رائٹ) : مقالہ نگار )
علیم طاہر
Wednesday, 22 October 2025
Urdu ki bahar
🌿 उर्दू की बहार या दिखावे की फसल?
लेखक: अलीम ताहिर
---
🎉 उर्दू अकादमी का गोल्डन जुबली उत्सव
महाराष्ट्र स्टेट उर्दू अकादमी ने अपनी गोल्डन जुबली (50 साल पूरे होने) पर
“बहार-ए-उर्दू” के नाम से बहुत बड़ा कार्यक्रम किया।
ऊपर से तो यह उर्दू भाषा के प्रचार का उत्सव लग रहा था,
लेकिन असल में इसने बहुत से सवाल खड़े कर दिए —
ऐसे सवाल जो हमारे समाज, संस्कृति और खुद उर्दू की आत्मा से जुड़े हैं।
---
📜 निमंत्रण पत्र और बैनर — उर्दू कहाँ है?
जब कार्यक्रम का निमंत्रण पत्र लेखकों और शायरों के पास पहुँचा,
तो सबसे पहला सवाल यही उठा —
उर्दू का लिपि (रूप) कहाँ गया?
महाराष्ट्र उर्दू अकादमी के 50 साल पूरे होने वाले इस निमंत्रण पत्र में
90% हिस्सा उर्दू लिपि से खाली था।
ऐसा लगा जैसे उर्दू के अपने घर में ही उर्दू बेगानी हो गई हो।
क्या यह “उर्दू की बहार” है?
या उर्दू की “खबर” पर बहार का पर्दा डाला गया है?
---
🗣️ भाषा की राजनीति और उर्दू की चुप्पी
आज महाराष्ट्र में मराठी समाज अपनी भाषा के लिए बहुत सक्रिय है —
दुकानों, दफ्तरों, स्कूलों और कॉलेजों के नाम मराठी में लिखने की माँग ज़ोरों पर है।
लेकिन दूसरी ओर, उर्दू के सरकारी संस्थान
अपने ही कार्ड और बैनर पर उर्दू छोड़कर मराठी या अंग्रेज़ी में गर्व महसूस करते हैं।
यह विरोधाभास केवल भाषा का नहीं,
बल्कि हमारी संस्कृति के पतन का संकेत है।
---
🎬 साहित्यिक उत्सव या फिल्मी मेला?
कहा गया कि “उर्दू की बहार” का बजट 10 करोड़ रुपये का है।
लेकिन असली फायदा किसे हुआ?
जो लेखक, कवि, और शोधकर्ता
अपनी ज़िंदगी उर्दू के लिए समर्पित कर चुके हैं,
उन्हें मिले 15,000 से 1 लाख रुपये।
और पुराने फिल्मी कलाकारों को 10–30 लाख रुपये और आलीशान सुविधाएँ!
ऐसा लगा जैसे यह “उर्दू का उत्सव” नहीं,
बल्कि फिल्मी चमक का शो बन गया हो।
---
✍️ साहित्यकार कहाँ हैं?
अगर “उर्दू साहित्य अकादमी” का उत्सव
उर्दू के साहित्यकारों के बिना हो —
तो वह उत्सव नहीं, मज़ाक है।
उर्दू का असली ख़ज़ाना उसके लेखक, कवि और आलोचक हैं,
न कि वो लोग जिन्हें उर्दू का उच्चारण भी ठीक से नहीं आता।
अगर किसी फिल्मी चेहरे को “उर्दू की बहार” का प्रतिनिधि बना दिया जाए,
तो यह न सिर्फ भाषा का, बल्कि साहित्य की आत्मा पर हमला है।
---
🍂 बहार-ए-उर्दू या ज़वाल-ए-उर्दू?
यह “बहार” नहीं, बल्कि “ज़वाल” (पतन) की कहानी है।
जब उर्दू को ही उसके मंच, कार्ड और संस्थान से हटा दिया जाए —
तो उर्दू की रक्षा का उत्सव किस मुँह से मनाया जाए?
अगर यह “बहार” है,
तो फिर पतझड़ कैसी होगी?
---
🔦 निष्कर्ष (अंत में)
उर्दू की असली बहार तब आएगी
जब अकादमियाँ शोहरत नहीं, अध्ययन और साहित्य को केंद्र बनाएँ।
जब पुरस्कार पाने की नहीं, विचार और ईमानदारी की भूख हो।
और जब उर्दू के उत्सव से पहले
उर्दू लिपि को सम्मान दिया जाए।
क्योंकि अगर उर्दू अपनी पहचान खो दे —
तो कोई भी फिल्मी चेहरा,
कोई सरकारी कार्यक्रम,
उसे जिंदा नहीं रख सकता।
> तेरी आँखों का जादू बोलता है,
मैं सुनता हूँ — वो उर्दू बोलता है।
---
🌕 “उर्दू का उत्सव या उर्दू की परीक्षा?”
महाराष्ट्र अकादमी, साहित्य और संस्थागत पतन की कहानी
✍️ अलीम ताहिर
---
💭 जब साहित्य का उत्सव सोच से खाली हो जाए...
जब “साहित्य का उत्सव” सोच और भावना से खाली हो जाता है,
तो रोशनी की महफ़िलें भी अंधेरे पैदा करती हैं।
महाराष्ट्र स्टेट उर्दू साहित्य अकादमी के 50 साल पूरे हुए —
यह पल उर्दू के लिए गर्व और खुशी का होना चाहिए था,
लेकिन अफसोस, यह विवाद और दिखावे का रूप बन गया।
10 करोड़ रुपये के भारी बजट के बावजूद
लोगों के चेहरों पर मुस्कान नहीं,
सवाल हैं।
क्या यह “जश्न-ए-उर्दू” है?
या “उर्दू की परीक्षा”?
---
🌟 गोल्डन जुबली — सुनहरा मौका या काला सवाल?
1975 में जब उर्दू अकादमी बनी थी,
तब उसके आस-पास कृष्णचंद्र, इस्मत चुगताई, ख्वाजा अहमद अब्बास, सरदार जाफरी जैसे नाम थे।
वे लोग साहित्य को इंसानियत और सच्चाई का आईना मानते थे।
लेकिन आज, 50 साल बाद,
उसी अकादमी ने अपने पुराने दीपक खुद बुझा दिए।
10 करोड़ का बजट,
जो पूरे राज्य के साहित्यिक केंद्रों तक पहुँचना चाहिए था,
वो मुंबई की चमक-दमक में खो गया।
यह सिर्फ पैसों का नहीं,
विश्वास का बँटवारा भी है।
---
🎭 उर्दू अकादमी या एंटरटेनमेंट कंपनी?
जब साहित्य का उत्सव
मंच, रोशनी, और ग्लैमर का शो बन जाए,
तो समझ लीजिए शब्द मर गए हैं।
अब उर्दू भाषा नहीं, सजावट बन गई है।
लेखक अब सहभागी नहीं, शोपीस बन गए हैं।
जब कवि की जगह “ब्रांड” बोले,
तो अकादमी का असली उद्देश्य खत्म हो जाता है।
---
🏙️ मुंबई का एकाधिकार — बाकी शहरों की उपेक्षा
महाराष्ट्र में नांदेड़, मालेगांव, औरंगाबाद, शोलापुर —
ये सभी उर्दू के ज़िंदा केंद्र हैं।
यहाँ उर्दू बोली, समझी और लिखी जाती है।
फिर भी यह सारे शहर इस जश्न से बाहर क्यों रखे गए?
क्या उर्दू सिर्फ मुंबई की है?
अगर 10 करोड़ का बजट दस शहरों में बाँटा जाता,
तो यह सच में “राज्य स्तरीय” उर्दू उत्सव बनता।
लेकिन अब यह सिर्फ “मुंबई शो” बन गया है।
---
🏆 साहित्यिक पुरस्कार या फिल्मी शो?
जब पुरस्कार देने वाले के हाथ में किताब की जगह कैमरा हो,
और लेखक अपने लेखन की जगह “सेल्फी” में व्यस्त हो —
तो साहित्य की आत्मा खतरे में है।
पुरस्कार साहित्य की गरिमा बढ़ाते हैं,
पर अगर वे “रेड कार्पेट” पर दिए जाएँ,
तो वे सम्मान नहीं, अपमान बन जाते हैं।
---
✒️ उर्दू लिपि की बेदखली — एक खामोश खतरा
अगर सरकारी उर्दू अकादमी के निमंत्रण पत्र से ही
उर्दू लिपि गायब हो जाए,
तो यह गलती नहीं, बल्कि भाषाई निष्कासन (बेदखली) है।
जब कोई भाषा अपने लिपि से वंचित होती है,
तो केवल अक्षर नहीं मरते —
पूरी संस्कृति मर जाती है।
---
❓ अब भी बाकी हैं कुछ सवाल...
10 करोड़ का हिसाब कहाँ गया?
महाराष्ट्र के दूसरे जिलों को क्यों नज़रअंदाज़ किया गया?
अकादमी का साहित्यिक उद्देश्य “फिल्मी इवेंट” में क्यों बदला?
और सबसे बड़ा सवाल — उर्दू लिपि को क्यों हटाया गया?
ये सवाल सिर्फ उर्दू के नहीं,
बल्कि हमारे ज़मीर के सवाल हैं।
---
🌱 उर्दू का असली उत्सव क्या होता?
अगर यह बजट सच में उर्दू पर खर्च होता,
तो क्या-क्या नहीं हो सकता था?
राज्य स्तर पर साहित्यिक सम्मेलन
कॉलेजों में उर्दू के व्याख्यान और काव्य-गोष्ठियाँ
युवाओं के लिए लेखन कार्यशालाएँ
हर जिले में “उर्दू घर” और पुस्तक मेले
यही होता “उर्दू का सच्चा उत्सव” —
जहाँ पुराने दीपक बुझाए नहीं जाते,
बल्कि नए दीपक जलाए जाते हैं।
---
🕊️ अंतिम संदेश
साहित्य की शक्ति केवल शब्दों में नहीं,
बल्कि इरादे और ईमान में है।
अगर अकादमियाँ राजनीति का औज़ार बन जाएँ,
तो उर्दू का भविष्य “कार्यक्रमों” में नहीं,
“विचारों” में ढूँढना होगा।
> “उर्दू का उत्सव, उर्दू की परीक्षा” —
यह सिर्फ एक घटना नहीं, एक आईना है,
जिसमें हमें अपना चेहरा देखना होगा।
> ज़र्फ़ हर बार मरा ज़िद पे अड़ा रहता है,
हक़-ब-जानिब है जो दुनिया से लड़ा रहता है।
– अलीम ताहिर
🌿 Spring of Urdu or a Season of Show?
By Aleem Tahir
---
🎉 The Golden Jubilee of the Urdu Academy
On the occasion of its Golden Jubilee (50 years), the Maharashtra State Urdu Academy organized a grand celebration titled “Bahār-e-Urdu” (The Spring of Urdu).
At first glance, it seemed to be a festival dedicated to the promotion of the Urdu language.
But in reality, it raised many troubling questions —
questions connected not only to our society and culture, but also to the very soul of Urdu.
---
📜 Invitation and Banners — Where is Urdu?
When the invitation for this grand event reached writers and poets,
the first question that arose was —
Where has Urdu disappeared?
In the official invitation of the Urdu Academy’s 50th anniversary,
almost 90% of the text was not in Urdu script.
It seemed as if Urdu itself had become a stranger in its own home.
Is this the “Spring of Urdu”?
Or has a floral curtain been drawn over Urdu’s funeral?
---
🗣️ Language Politics and the Silence of Urdu
In Maharashtra today, the Marathi community is actively demanding
that the names of shops, offices, schools, and colleges be written in Marathi.
But on the other hand, Urdu’s own state institutions
are proudly issuing invitations in Marathi or English,
completely excluding Urdu from their own documents.
This is not just a linguistic contradiction —
it is a symbol of cultural decline.
---
🎬 A Literary Celebration or a Film Fair?
The so-called “Festival of Urdu” had a budget of ten crore rupees.
But the question remains — who actually benefited?
The writers, poets, and scholars who have devoted their lives to Urdu
were given between ₹15,000 and ₹1 lakh,
while fading Bollywood personalities were paid ₹10–30 lakh,
along with luxurious travel and vanity vans.
It appeared that this event was not meant to revive Urdu —
but to showcase glamour under Urdu’s name.
The festival turned from a celebration of thought
into a parade of publicity.
---
✍️ Where Are the Writers?
If the Urdu Sahitya (Literary) Academy organizes a festival
without the presence of Urdu’s own writers and thinkers,
then it is not a festival — it is mockery.
The true wealth of Urdu lies in its authors, poets, and critics,
not in people who can’t even pronounce Urdu properly.
If the faces of film and fashion are made the representatives of “Urdu’s Spring,”
then it is not just language that suffers —
it is literature’s very soul being wounded.
---
🍂 Spring of Urdu or Fall of Urdu?
This was not the “Spring of Urdu,”
but a chronicle of its decline.
When Urdu is erased from the stage, the invitation,
and even from its own Academy —
how can one celebrate the survival of Urdu?
If this is what we call “spring,”
then what would autumn look like?
---
🔦 In Conclusion
The true spring of Urdu will arrive
only when academies focus on research and literature,
not on glitter and showbiz.
When the hunger for ideals replaces the hunger for awards.
And when every Urdu celebration begins
with respect for the Urdu script itself.
Because if Urdu loses its identity —
no film star, no government event,
and no luxury van can bring it back to life.
> “The magic of your eyes speaks,
and the sound I hear — is Urdu itself.”
---
🌕 “Festival of Urdu or Test of Urdu?”
The Story of the Maharashtra Academy, Literature, and Institutional Decay
✍️ By Aleem Tahir
---
💭 When Literature Loses Its Thought...
When a “literary festival” loses its soul,
even a gathering full of light begins to create darkness.
The Maharashtra State Urdu Sahitya Academy completed 50 years —
a moment that should have been filled with pride and honor for Urdu.
Yet sadly, it turned into a spectacle of show and controversy.
Despite a massive ₹10 crore budget,
there was no joy — only questions.
Is this truly a “Festival of Urdu”?
Or is it a test of Urdu’s endurance?
---
🌟 Golden Jubilee — A Golden Moment or a Dark Question?
When the Academy was founded in 1975,
it was surrounded by names like Krishan Chander, Ismat Chughtai,
Khwaja Ahmad Abbas, and Sardar Jafri —
people who viewed literature as a light of truth, humanity, and freedom of thought.
But today, fifty years later,
the same Academy has dimmed those lights itself.
The ₹10 crore budget,
which should have strengthened literary centers across the state,
got lost in Mumbai’s glitter.
This is not just a misallocation of funds —
it is a division of trust.
---
🎭 Urdu Academy or Entertainment Company?
A literary event carries meaning
only when it nurtures thought, dialogue, and reading.
But when such events turn into corporate shows
filled with microphones, lights, and glamour —
then words begin to die.
Urdu is no longer treated as a language, but as a decoration.
The writer is no longer a participant, but a showpiece.
When “brands” start speaking instead of poets —
the Academy has lost its purpose.
---
🏙️ Mumbai’s Monopoly — The Neglect of Other Cities
Cities like Nanded, Malegaon, Aurangabad, and Solapur
are living centers of Urdu in Maharashtra.
Urdu is spoken, taught, and written there passionately.
Then why were these cities excluded from the Golden Jubilee?
Is Urdu now considered the property of Mumbai alone?
If the ₹10 crore budget had been shared across ten cities,
this would have been a true state-level celebration of Urdu.
Instead, it became a Mumbai-centric show,
leaving the rest of the state as silent spectators.
---
🏆 Awards or Glamour Shows?
When those who give awards hold cameras instead of books,
and the recipients prefer selfies with celebrities
over their own literary work —
then literature’s spirit is in danger.
Awards are meant to honor literature,
but when given on the red carpet of showbiz,
they turn into insults.
The dignity of literature lies in its words,
not under the spotlights of the stage.
---
✒️ The Silent Danger — Exile of the Urdu Script
If the official Urdu Academy itself
removes Urdu script from its invitations,
that is not a small oversight —
it is an act of linguistic exile.
When a language loses its script,
not only its letters die —
its entire civilization begins to fade.
---
❓ Unanswered Questions
Where did the ₹10 crore go?
Why were other Urdu-rich districts ignored?
Why was the Academy’s literary purpose turned into a film event?
And why was Urdu script removed from its own invitation?
These are not just questions for Urdu —
they are questions for our collective conscience.
---
🌱 What Would a True Festival of Urdu Look Like?
If that budget had truly served Urdu,
imagine what could have been achieved:
State-level symposia on Urdu fiction, poetry, and criticism
Literary lectures and mushairas in schools and colleges
Writer residencies and youth workshops
“Urdu Houses” and book fairs across districts
That would have been the true celebration of Urdu —
where old lamps are not extinguished,
but new lamps are lit.
---
🕊️ Final Message
The existence of literature lies not just in words,
but in intention, light, and integrity.
If academies serve politics instead of literature,
then Urdu’s future will not be found in ceremonies,
but in conscience and creativity.
> “The Festival of Urdu, The Test of Urdu” —
is not merely an event, but a mirror,
in which we must all see our own reflection.
> “My spirit always stands firm in defiance —
for truth belongs to those who dare to fight the world.”
– Aleem Tahir