Monday, 2 February 2026

جب خواب کیمرہ مانگیں _ مالیگاؤں کے سپر بوائز اور سنیما کی ضد_____تجزیاتی مضمون نگار: علیم طاہر ____سنیما صرف روشنیوں، بڑے سیٹ اور شہرت کا نام نہیں _کبھی کبھی سنیما ایک ضد ہوتی ہے_ایسی ضد جو محدود وسائل، معاشی مجبوریوں اور سماجی بے اعتنائی کے باوجود زندہ رہتی ہے۔Superboys of Malegaon میرے نزدیک ایسی ہی ایک فلم ہے، جو دیکھنے کے بعد ناظر کو محض متاثر نہیں کرتی بلکہ اسے سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ خواب آخر کہاں جنم لیتے ہیں اور کن قیمتوں پر زندہ رکھے جاتے ہیں۔یہ فلم مالیگاؤں جیسے ایک چھوٹے، صنعتی اور محنت کش شہر سے اٹھنے والے اُن لوگوں کی کہانی ہے جنہوں نے بغیر فلمی تعلیم، بغیر سرمائے اور بغیر کسی ادارہ جاتی سہولت کے فلم بنانے کا فیصلہ کیا۔ یہ فیصلہ کسی رومانوی خیال سے زیادہ ایک عملی بغاوت تھا_زندگی کی یکسانیت کے خلاف، اور اس تصور کے خلاف کہ سنیما صرف بڑے شہروں کی میراث ہے۔کہانی جو حقیقت سے نکلتی ہےریما کاگتی کی ہدایت کاری میں بننے والی یہ فلم ناصر شیخ اور اس کے ساتھیوں کی حقیقی زندگی سے متاثر ہے۔نوّے کی دہائی کے اواخر میں شروع ہونے والا یہ سفر ہمیں دکھاتا ہے کہ کس طرح ایک چھوٹا سا ویڈیو پارلر، چند دوست، ایک سائیکل پر رکھا کیمرہ اور بے پناہ جذبہ آہستہ آہستہ ایک شہر کی شناخت بن جاتا ہے۔یہاں فلمیں پیروڈی ضرور ہیں، مگر ان میں طنز کے ساتھ ساتھ محبت بھی ہے۔ شعلے، شان اور سپرمین جیسی کہانیاں صرف ہنسانے کے لیے نہیں بلکہ اپنے گردوپیش کی حقیقتوں کو سمجھنے کے لیے بنائی جاتی ہیں۔ یہ لوگ اپنے شہر سے فرار نہیں چاہتے_ یہ اسے کیمرے کے فریم میں نئی شکل دینا چاہتے ہیں۔دوستی، نقصان اور تخلیقاس فلم کا سب سے مضبوط پہلو اس کی دوستی ہے۔شفیق، علیم ، فروغ اور اکرم جیسے کردار محض کہانی کے مہرے نہیں بلکہ ایک اجتماعی خواب کے نگہبان ہیں۔ بیماری، موت اور ناکامی اس داستان کا حصہ ہیں، مگر کہیں بھی خود ترسی یا شکایت کا شور نہیں۔ یہاں دکھ بھی وقار کے ساتھ جیا جاتا ہے۔فلم بہت واضح طور پر یہ بات کہتی ہے کہ سنیما اکیلے نہیں بنتا۔ایک فلم بنانے کے لیے واقعی ایک گاؤں درکار ہوتا ہے_اور مالیگاؤں اس کا جیتا جاگتا ثبوت ہے۔“علیم” _ یعنی (علیم طاہر) کردار سے آگے ایک شناختاس فلم کا ایک پہلو میرے لیے ذاتی بھی ہے۔پلو سنگھ کے ذریعے ادا کیا گیا “علیم” کا کردار دراصل میری اپنی موجودگی، میری رفاقت اور اس تخلیقی سفر کی علامت ہے جسے میں نے ان لوگوں کے ساتھ جیا۔یہ محض ایک اسکرین کردار نہیں بلکہ اس خواب کا وہ حصہ ہے جو کیمرے کے سامنے کم اور پس منظر میں زیادہ سانس لیتا ہے۔اسی لیے یہ بات محض رسمی نہیں کہ فلم کے اختتام پر ٹائٹل اسکرین پر میرے نام اور تصویر کے ساتھ مجھے اسکرین کریڈٹ دیا گیا۔ یہ اس اجتماعی جدوجہد کا اعتراف ہے جس میں کئی لوگ روشنی سے دور رہ کر بھی سنیما کو ممکن بناتے ہیں۔بڑا بجٹ، مگر چھوٹی روح نہیںیہ بات قابلِ ذکر ہے کہ Superboys of Malegaon کسی معمولی سطح کی فلم نہیں۔یہ فلم تقریباً بیس سے تیس کروڑ روپے کی لاگت سے تیار کی گئی اور اس کے پروڈیوسرز میں رتیش سدھوانی، فرحان اختر اور زویا اختر جیسے نمایاں نام شامل ہیں۔اس کے باوجود، فلم اپنی روح میں کسی بڑے بجٹ کی نمائش نہیں بلکہ چھوٹے لوگوں کی بڑی کہانی بن کر سامنے آتی ہے۔عالمی اسکرین پر مالیگاؤںیہ فلم محض مقامی تجربہ نہیں رہی۔کینیڈا، برطانیہ، سعودی عرب اور دیگر ممالک میں اس کی نمائش اور پذیرائی نے یہ ثابت کر دیا کہ چھوٹے شہروں کی کہانیاں بھی عالمی زبان رکھتی ہیں۔دنیا بھر میں ریلیز ہونے کے بعد، فلم نے مختلف ثقافتوں کے ناظرین کو یہ احساس دلایا کہ خوابوں کی جدوجہد جغرافیہ نہیں دیکھتی۔فن، طبقہ اور سوالSuperboys of Malegaon ایک بنیادی سوال اٹھاتی ہے:فن پر حق کس کا ہے؟کیا وہی کہانیاں معتبر ہیں جو شہری اشرافیہ کے دائرے میں جنم لیں،یا وہ بھی جو پاور لومز کے شور، چھوٹے گھروں اور محدود امکانات میں پیدا ہوں؟یہ فلم کسی کا مذاق نہیں اڑاتی، نہ ہی ترس بیچتی ہے۔یہ صرف اتنا کہتی ہے کہ اگر نیت سچی ہو تو کرنج بھی تخلیقی ہو سکتا ہے۔________میرے نزدیک Superboys of Malegaon صرف فلم بنانے کی کہانی نہیں، بلکہ اس سوال کا جواب ہے کہ لوگ آخر فلمیں کیوں بناتے ہیں۔شہرت کے لیے نہیں،پیسے کے لیے نہیں،بلکہ اس لیے کہ کچھ کہانیاں کہے بغیر رہا نہیں جاتا۔یہ اُن لوگوں کی داستان ہے جو یہ ماننے کے لیے کافی دیوانے تھے کہ وہ اپنی فلم خود بنا سکتے ہیں—جبکہ ان کے پاس نہ وسائل تھے، نہ علم، اور نہ کسی کی اجازت۔اور بعض اوقات،دنیا بدلنے کے لیےاتنی سی دیوانگی ہی کافی ہوتی ہے۔_________باب دوم:--------کیمرہ، شہر اور وہ لوگ جو پس منظر میں رہ جاتے ہیںبابِ اوّل میں جن خوابوں، ضد اور اجتماعی جذبے کا ذکر ہوا، وہ محض نظری تصورات نہیں تھے۔ان خوابوں کی ایک جغرافیہ تھی، ایک سماجی ساخت تھی، اور سب سے بڑھ کر—ایک شہر تھا۔وہ شہر مالیگاؤں تھا۔مالیگاؤں محض ایک لوکیشن نہیں، بلکہ اس فلم کا خاموش کردار ہے۔ پاور لومز کی آواز، تنگ گلیاں، محنت کش چہرے، دن بھر کی تھکن اور رات کی امید—یہ سب کچھ Superboys of Malegaon میں محض پس منظر نہیں بنتا بلکہ بیانیے کا حصہ ہو جاتا ہے۔ یہاں سنیما کسی خوابناک فرار کا راستہ نہیں بلکہ روزمرہ زندگی سے مکالمہ کرتا ہے۔کیمرہ بطور ہتھیارِ اظہاراس فلم میں کیمرہ کسی تکنیکی کمال کی نمائش نہیں کرتا۔یہ اکثر کانپتا ہے، کبھی زاویہ بگڑ جاتا ہے، کبھی روشنی پوری نہیں ملتی—مگر یہی خامیاں اسے سچا بناتی ہیں۔یہ کیمرہ اُن لوگوں کے ہاتھ میں ہے جن کے لیے اظہار ایک عیاشی نہیں بلکہ ضرورت ہے۔یہاں کیمرہ تفریح کا آلہ نہیں، اپنی موجودگی درج کرانے کا ذریعہ ہے۔ایک ایسا ذریعہ جو یہ اعلان کرتا ہے کہہم بھی یہاں ہیں، ہماری بھی کہانی ہے۔پس منظر کے کردار اور اصل کہانیہر فلم میں کچھ لوگ ہوتے ہیں جو پوسٹر پر نہیں ہوتے،جن کے نام تالیاں نہیں سمیٹتے،مگر جن کے بغیر فلم مکمل نہیں ہوتی۔Superboys of Malegaon ان ہی لوگوں کی طرف اشارہ کرتی ہے—وہ دوست جو شوٹنگ کے بعد سیٹ سمیٹتے ہیں،وہ فنکار جو دن میں مزدوری کرتے ہیں اور رات کو اداکار بنتے ہیں،وہ لوگ جو اسکرین پر کم اور حقیقت میں زیادہ موجود ہوتے ہیں۔یہ فلم بڑی دیانت داری سے دکھاتی ہے کہ تخلیق کا سفر ہمیشہ رومانوی نہیں ہوتا۔یہاں اختلاف بھی ہے، انا بھی ہے، مایوسی بھی—مگر ان سب کے بیچ ایک مشترک بات ہے:چھوڑ نہ دینے کی ضد۔فن اور روزگار کے بیچ پھنسی زندگیمالیگاؤں کے سپر بوائز ایک ایسے سماج سے آتے ہیں جہاں فن کو پیشہ ماننے میں ہچکچاہٹ ہے۔یہاں خوابوں کی قیمت اکثر روزگار سے چکانی پڑتی ہے۔اسی لیے فلم میں بار بار یہ کشمکش ابھرتی ہے:کام یا خواب؟ذمہ داری یا جنون؟یہ سوال کسی فلسفیانہ مباحثے کی طرح نہیں آتا بلکہ روزمرہ کی سطح پر سامنے آتا ہے—کرایہ، گھر، بیماری، شادی، موت_سب کچھ تخلیق کے ساتھ ساتھ چلتا رہتا ہے۔وہ “علیم” جو فریم کے کنارے کھڑا ہےاس باب میں ایک بات کا ذکر ضروری ہے جو اکثر نظرانداز ہو جاتی ہے۔فلم میں “علیم” کا کردار محض ایک فرد کی نمائندگی نہیں کرتا بلکہ اُن سب لوگوں کی علامت ہے جو تخلیق کے مرکز میں رہتے ہوئے بھی شہرت کے دائرے سے باہر ہوتے ہیں۔مقیم ارشد ایسے ہی ایک نوجوان اداکار ہیں۔ جو کیریکٹر رول میں پچیس سالوں پہلے بھی شامل تھے انہیں کو آج بھی شامل کیا گیا ہے ۔ یہ مقیم ارشد کے لیے انفرادی شناخت ہے۔یہ وہ لوگ ہیں جو نظریہ سنبھالتے ہیں، بات چیت جوڑتے ہیں، اختلاف کو سلجھاتے ہیں،اور اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ خواب بکھرنے نہ پائیں۔یہ کردار اس بات کی یاد دہانی ہے کہسنیما صرف اسکرین پر نظر آنے والوں کا فن نہیں—یہ ایک اجتماعی عمل ہے جس میں ہر موجودگی معنی رکھتی ہے۔شہر سے عالمی اسکرین تکدلچسپ بات یہ ہے کہ جس شہر کو اکثر حاشیے پر رکھا جاتا ہے،اسی شہر کی کہانی نے عالمی اسکرین پر جگہ بنائی۔کینیڈا، برطانیہ، سعودی عرب اور دیگر ممالک میں اس فلم کی پذیرائی اس بات کا ثبوت ہے کہکہانیاں جب سچائی سے کہی جائیں تو زبان اور سرحد کی محتاج نہیں ہوتیں۔مالیگاؤں کی گلیوں سے نکلنے والی یہ آواز دنیا کو یہ بتانے میں کامیاب رہی کہچھوٹے شہروں کے خواب بھی عالمی معنویت رکھتے ہیں۔باب کا حاصلیہ باب ہمیں یہ سمجھاتا ہے کہSuperboys of Malegaon صرف افراد کی کہانی نہیں،یہ ایک شہر، ایک طبقے اور ایک نظرانداز شدہ تخلیقی قوت کی داستان ہے۔یہ اُن لوگوں کی کہانی ہےجو فریم کے اندر بھی ہیں اور باہر بھی،جو اسکرین پر نظر آتے بھی ہیں اور نہیں بھی،مگر جن کے بغیر کوئی فلم ممکن نہیں۔تجزیاتی مضمون نگار:علیم طاہر__________________(C)Aleem Tahir Email id aleemtahir12@gmail.com ___________________

Monday, 12 January 2026

افسانچہ کیا ہے ____علیم طاہر

علیم طاہر کی نئی کتاب 

*** افسانچہ کیا ہے***

 پڑھیے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
          ***علیم طاہر***
____________________________________________

کتاب: افسانچہ کیا ہے؟

مصنف: علیم طاہر

---

فہرستِ مضامین:

1. پیش لفظ

2. افسانچہ کیا ہے؟ (تعریف و اہمیت)

3. افسانچے کی ابتدا اور تاریخ

4. منٹو سے جدید افسانچے تک

5. افسانچے کی ساخت اور تکنیک

6. پنچ لائن: روحِ افسانچہ

7. اردو کے نمایاں افسانچہ نگار

8. علاقائی زبانوں میں افسانچہ

9. افسانچہ اور ڈیجیٹل میڈیا

10. افسانچے کا مستقبل

11. افسانچے پر تنقیدی آرا

12. نمونۂ افسانچے (منتخب افسانچے از علیم طاہر)

13. اختتامی نوٹ

 باب :01 : افسانچہ کیا ہے؟

از علیم طاہر

ادب کی دنیا میں ہر صنف کا ایک مخصوص رنگ، آہنگ اور دائرہ ہوتا ہے، مگر کچھ اصناف ایسی بھی ہیں جو مختصر ہونے کے باوجود مکمل کہانی کا بوجھ اٹھاتی ہیں۔ افسانچہ بھی ایسی ہی ایک صنفِ ادب ہے۔ یہ محض چند سطور پر مشتمل ہوتا ہے، لیکن ان سطور میں پوری کائنات سمو دی جاتی ہے۔ ایک لمحہ، ایک منظر، ایک احساس، ایک چبھن، جو قاری کو چونکا دیتی ہے، سوچنے پر مجبور کر دیتی ہے، اور کبھی کبھار تو قاری کے اندر کچھ توڑ بھی دیتی ہے۔

افسانچہ، افسانے کا چھوٹا روپ نہیں
یہ غلط فہمی عام ہے کہ افسانچہ دراصل مختصر افسانہ یا مِنی کہانی کا دوسرا نام ہے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ افسانچہ، ایک مکمل اور منفرد صنف ہے۔ افسانچے کی شناخت اس کی پنچ لائن ہے، جو نہ صرف کہانی کو انجام تک پہنچاتی ہے بلکہ قاری کے ذہن میں ایک دیرپا تاثر بھی چھوڑ جاتی ہے۔

مختصر مگر مکمل
افسانچہ اپنی تمام تر مختصری کے باوجود مکمل ہوتا ہے۔ اس میں:

ایک موضوع ہوتا ہے،

ایک کردار یا کیفیت،

ایک واقعہ یا منظر،

اور ایک غیر متوقع انجام جو سادہ جملوں میں ایک گہرا پیغام سمو دیتا ہے۔

یہی وہ خوبی ہے جو افسانچے کو عام نثر سے ممتاز کرتی ہے۔

کیوں ضروری ہو گیا افسانچہ؟
ہم ایک ایسی دنیا میں جی رہے ہیں جہاں رفتار ہی سب کچھ ہے۔ وقت کی قلت، مصروف زندگی، ڈیجیٹل اسکرینوں پر تیزی سے بدلتے مناظر نے قاری کو بھی مختصر اور جاندار تحریروں کی جانب مائل کر دیا ہے۔ ایسے میں افسانچہ نہ صرف ایک ادبی تسکین ہے بلکہ جدید عہد کے قاری کی ضرورت بھی۔

افسانچہ: ادب کی "سوئی"
جیسے ایک سوئی کپڑے کو چیرتی ہے مگر پیوند بھی لگاتی ہے، ویسے ہی افسانچہ انسانی احساسات کو چیر کر دکھاتا ہے، مگر ساتھ ہی کسی بڑی سچائی سے جوڑ بھی دیتا ہے۔ وہ سچائی جو کسی طویل ناول یا افسانے میں بھی شاید نہ آ سکے، افسانچہ دو جملوں میں کہہ دیتا ہے۔

---
باب 02 : افسانچے کی ابتدا اور تاریخ

ادبی اصناف ہمیشہ کسی نہ کسی ضرورت، تجربے یا جمالیاتی شعور کے تحت جنم لیتی ہیں۔ افسانچہ بھی ایک فطری ارتقاء کا نتیجہ ہے، جس کی جڑیں انسانی تاریخ کے ابتدائی بیانیوں میں تلاش کی جا سکتی ہیں۔

قدیم روایات میں افسانچے کی جھلک

کہتے ہیں، جب انسان نے پہلی بار الفاظ کا سہارا لے کر اپنی سوچ کو دوسروں تک پہنچایا، تو سب سے پہلا تجربہ مختصر بیانیے کا ہی تھا۔ اس کی ایک عمدہ مثال قدیم یونان کے غلام ایسوپ کی کہانیاں ہیں، جنہیں "ایسوپ فیبُل" کہا جاتا ہے۔ یہ نہایت مختصر، سبق آموز اور علامتی کہانیاں تھیں جن میں جانوروں، پرندوں یا اشیاء کو کردار بنا کر انسانوں کی فطرت، حرص، حسد، حماقت یا حکمت کو عیاں کیا جاتا تھا۔

اسی طرح قدیم ہندوستان میں جاتک کتھائیں اور پنج تنتر کی حکایات، مختصر مگر اثر انگیز کہانیوں کی عمدہ مثالیں ہیں۔

فارسی ادب میں گلستان و بوستان

1258 میں شیخ سعدی کی شہرۂ آفاق کتاب گلستان منظرِ عام پر آئی۔ اس میں مختصر حکایات، تمثیلی انداز اور زندگی کے گہرے تجربات کا نچوڑ نظر آتا ہے۔ اگرچہ یہ کہانیاں مکمل افسانچے کی تعریف پر پوری نہیں اترتیں، مگر ان میں وہ روح ضرور موجود ہے جو افسانچے کو جنم دینے کا محرک بنی۔

افسانچے کی شناخت اور نام

اردو میں مختصر کہانیوں کو مختلف ناموں سے یاد کیا جاتا رہا، جیسے مِنی کہانی، مختصر افسانہ، چٹکی، چٹکلا، یا تمثیل۔ مگر جس ساخت اور شدت کو آج ہم "افسانچہ" کہتے ہیں، وہ ایک باقاعدہ ادبی شعور کے ساتھ وجود میں آئی۔

برج موہن دتریہ کیفی کا نام تاریخ میں اس لحاظ سے محفوظ ہے کہ انھوں نے "افسانچہ" کے عنوان سے ایک مجموعہ شائع کیا، جس میں مختصر افسانے شامل تھے۔ اگرچہ ان میں ادبی چمک کم تھی، مگر اس کوشش نے افسانچے کو ایک واضح شناخت دی۔

منٹو: افسانچے کے اصل معمار

سنہ 1948 میں سعادت حسن منٹو نے اپنی مختصر تحریروں کا مجموعہ سیاہ حاشیہ کے نام سے لاہور سے شائع کیا۔ یہ افسانچے دراصل تقسیمِ ہند کے پس منظر میں انسانی نفسیات، سفاکی، اور معاشرتی سچائیوں کا نچوڑ تھے۔ منٹو کی ان کہانیوں میں وہ چونکانے والی "پنچ لائن" موجود تھی جو آج افسانچے کا طرۂ امتیاز ہے۔

یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ اردو ادب میں افسانچے نے ایک ادبی صنف کی حیثیت منٹو کے قلم سے ہی پائی۔

افسانچے کا ارتقائی سفر

منٹو کے بعد جن شخصیات نے افسانچے کو جِلا بخشی ان میں خواجہ اعجاز بٹ، ڈی ایچ شاہ، اخلاق گیلانی، سرور غزالی اور ابنِ عاصی کے نام نمایاں ہیں۔ ان تمام ادیبوں نے افسانچے کی مختلف جہات کو دریافت کیا، اور اس صنف کو عوامی سطح پر مقبول بنانے میں کردار ادا کیا۔

پاکستان: افسانچے کا وطن

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ افسانچہ اردو کی واحد صنف ہے جس نے باقاعدہ طور پر پاکستان میں جنم لیا۔ لاہور کو افسانچے کی ابتدائی نرسری کہا جا سکتا ہے جہاں یہ صنف پروان چڑھی، سنورتی گئی، اور آج دنیا بھر کے اردو ادیبوں میں مقبول ہو چکی ہے۔

---
 ---

باب 03 : منٹو سے جدید افسانچے تک

از علیم طاہر

افسانچے کی تاریخ میں اگر سعادت حسن منٹو کو معمارِ اول کہا جائے تو یہ ہرگز مبالغہ نہ ہوگا۔ منٹو نے نہ صرف مختصر بیانیے کی طاقت کو پہچانا بلکہ اسے ایک ایسی ادبی ساخت دی جو آج بھی افسانچے کا بنیادی سانچہ سمجھی جاتی ہے۔

منٹو کی انفرادیت

منٹو کے افسانچے کا انداز سیدھا، بے باک اور چونکا دینے والا تھا۔ سیاہ حاشیہ جیسے مجموعے میں انہوں نے معاشرتی منافقت، فسادات کے المیے، انسانی جبلتوں اور سیاسی دھوکے کو چند جملوں میں بے نقاب کیا۔ ان کا افسانچہ محض مختصر کہانی نہ تھا بلکہ ایک "ادبی تھپڑ" تھا جو قاری کو بیدار کر دیتا۔

ان کے افسانچوں کی خاص بات یہ تھی کہ ہر کہانی اپنے اختتام پر قاری کے ذہن میں سوالات چھوڑتی تھی، یا کسی ایسی سچائی کو عیاں کرتی تھی جسے دیکھنا لوگ پسند نہیں کرتے۔

افسانچے کی نئی سمتیں

منٹو کے بعد افسانچہ خاموشی کی دھند میں گم سا ہو گیا۔ مگر جلد ہی کچھ ادیبوں نے اس چراغ کو دوبارہ روشن کیا۔ خواجہ اعجاز بٹ کا نام یہاں سب سے پہلے آتا ہے، جنہوں نے دو عمدہ مجموعے پیش کیے۔ ان کے بعد ڈی ایچ شاہ، اخلاق گیلانی اور سرور غزالی نے نہ صرف افسانچے کی روایت کو آگے بڑھایا بلکہ اسے عصری تقاضوں سے ہم آہنگ بھی کیا۔

جدید افسانچہ: وسعت اور تجربہ

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ افسانچے نے موضوعات اور اسلوب دونوں میں وسعت اختیار کی۔ اب یہ صرف معاشرتی مسائل یا سیاسی تنقید تک محدود نہ رہا بلکہ نفسیاتی پیچیدگیوں، رشتوں کے الجھاؤ، داخلی احساسات، اور جدید انسان کی تنہائی کو بھی اپنے دائرے میں سمیٹنے لگا۔

جدید افسانچہ نگاروں نے علامت، تجرید اور تجرباتی اسلوب کو بھی شامل کیا۔ زبان میں چستی، تاثر میں گہرائی، اور اختتام میں چونکانے کی روایت قائم رہی مگر اسے نئے فکری زاویے بھی دیے گئے۔

ڈیجیٹل دور اور افسانچہ

سوشل میڈیا اور آن لائن پلیٹ فارمز نے افسانچے کو ایک نئی زندگی بخشی۔ اب اسے صرف کتابوں یا ڈائجسٹوں تک محدود نہیں رکھا گیا بلکہ فیس بک، انسٹاگرام، یوٹیوب اور واٹس ایپ جیسے پلیٹ فارمز پر بھی پیش کیا جانے لگا۔

مبشر زیدی کی "سو لفظی کہانیاں" نے اسے صحافت میں بھی مقبول کر دیا۔ ان کہانیوں نے یہ ثابت کیا کہ مختصر بیانیہ نہ صرف ادب بلکہ ابلاغ کا مؤثر ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔

خواتین اور افسانچہ

خواتین قلمکار بھی اس صنف میں بڑی تعداد میں شامل ہوئیں۔ نشاط یاسمین خان، حنا خراسانی، صدف آصف جیسی خواتین نہ صرف افسانچے لکھ رہی ہیں بلکہ یوٹیوب اور سوشل میڈیا کے ذریعے ان کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔

بین الاقوامی سطح پر افسانچہ

آج افسانچہ صرف پاکستان ہی نہیں، بھارت، بنگلہ دیش اور دنیا کے دیگر ممالک میں بھی اردو ادیبوں کے ہاتھوں مقبول ہو رہا ہے۔ ساتھ ہی، پنجابی، سندھی، ہندکو اور دیگر علاقائی زبانوں میں بھی مختصر کہانیوں کے مجموعے شائع ہو رہے ہیں۔

 باب 04 : افسانچے کی ساخت اور اسلوب

از علیم طاہر

افسانچہ بظاہر مختصر ہوتا ہے مگر اس کی ساخت میں گہرائی اور تہہ داری ہوتی ہے۔ یہ ایک ایسا فن ہے جو کم سے کم الفاظ میں زیادہ سے زیادہ بات کہنے کا مطالبہ کرتا ہے۔ افسانچے کی ساخت، اسلوب اور پنچ لائن ہی وہ عناصر ہیں جو اسے عام تحریر سے ممتاز کرتے ہیں۔

افسانچے کی ساخت

افسانچے کی ساخت عام طور پر تین بنیادی اجزاء پر مشتمل ہوتی ہے:

1. آغاز (ابتدائیہ):
افسانچے کا پہلا جملہ قاری کی توجہ حاصل کرنے کے لیے بہت اہم ہوتا ہے۔ یہ وہ بنیاد ہے جس پر ساری عمارت کھڑی ہوتی ہے۔ یہ ایک سوال، منظر، یا کشش پیدا کرنے والا بیان ہو سکتا ہے۔

2. بدن (وسطی حصہ):
یہ وہ جگہ ہے جہاں کہانی کی تھوڑی سی جھلک، کردار کی کیفیت، یا مسئلے کا عکس ظاہر ہوتا ہے۔ لیکن یہاں بھی تفصیل سے گریز کیا جاتا ہے—اشارہ کافی ہوتا ہے۔

3. اختتام (پنچ لائن):
افسانچے کا سب سے طاقتور حصہ۔ یہ چونکاتا ہے، جھنجھوڑتا ہے، یا مسکراہٹ دے جاتا ہے۔ یہ جملہ ایسا ہونا چاہیے جو قاری کے ذہن میں دیر تک گونجتا رہے۔

اسلوب کی اہمیت

افسانچے میں اسلوب سادہ، چست اور بے لاگ ہوتا ہے۔ الجھے جملے، بھاری الفاظ یا طویل بیانیہ افسانچے کے حسن کو کم کر دیتے ہیں۔ زبان میں سادگی مگر معنی میں گہرائی اس کا اصل حسن ہے۔

اشارتیت:
افسانچے میں براہِ راست کہنے کے بجائے اشاروں، علامتوں اور مختصر منظر نگاری کے ذریعے بات کہی جاتی ہے۔

اجتناب اور حذف:
غیر ضروری جملوں، کرداروں یا مکالموں کو شامل نہیں کیا جاتا۔ افسانچہ نگار کو "کیا نہ کہا جائے؟" کا ہنر آنا چاہیے۔

بیانیہ کا تاثر:
کہانی اگرچہ مختصر ہوتی ہے مگر اس کا تاثر وسیع ہوتا ہے۔ چند الفاظ سے پوری دنیا کا دکھ، محبت، سچ، یا طنز پیش کیا جا سکتا ہے۔

پنچ لائن: افسانچے کی جان

افسانچے کا اختتام ہی وہ مقام ہے جہاں ساری کہانی سمیٹی جاتی ہے۔ یہی جملہ افسانچے کو یا تو کامیاب بناتا ہے یا ناکام۔
مثلاً:

> "اس نے چُھری دھو کر واپس دراز میں رکھ دی۔ رات کو ماں نے پھر خود کو زخمی کر لیا۔"

یہ جملہ نہ صرف چونکاتا ہے بلکہ ایک پوری کہانی کا پس منظر قاری کے ذہن میں کھول دیتا ہے۔

افسانچے کی تکنیکی خوبیاں

وحدتِ تاثر

معنویت

تجریدی جہت

سسپنس

علامت نگاری

تہہ داری

افسانچہ اپنی ساخت میں جتنا مختصر ہے، معنویت میں اتنا ہی وسیع۔ یہ وہ صنف ہے جو سادگی میں گہرائی، کم الفاظ میں پوری زندگی، اور سکوت میں چیخ چھپا سکتی ہے۔

باب 05 : افسانچے کے مشہور نمونے اور تجزیہ

از علیم طاہر

افسانچہ اپنی مختصر ساخت کے باوجود ایک مکمل کہانی کا تاثر دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس باب میں ہم چند مشہور افسانچوں کا مطالعہ کریں گے اور ان کا تجزیہ پیش کریں گے تاکہ افسانچے کے فن کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے۔

---

1. سعادت حسن منٹو کا افسانچہ

عنوان: سچ

> "اس نے کہا، میں مسلمان ہوں۔ دوسرے نے بھی کہا، میں بھی مسلمان ہوں۔
بندوق چلی، ایک مر گیا۔"

تجزیہ:
یہ افسانچہ فرقہ وارانہ منافرت، تشدد اور عدم رواداری پر شدید طنز ہے۔ صرف تین جملوں میں مذہب کے نام پر قتل کی حقیقت عیاں کر دی گئی ہے۔ پنچ لائن قاری کو جھنجھوڑ دیتی ہے۔

---

2. مبشر زیدی کی سو لفظی کہانی

عنوان: ملاقات

> "دس سال بعد اچانک وہ سامنے آ گیا۔ وہی مسکراہٹ، وہی آنکھیں۔
میں تڑپ گئی، وہ خاموش رہا۔
میں آگے بڑھی، اُس نے کہا:
'آپ کون؟'"

تجزیہ:
یادداشت، جذبات اور وقت کے بدلتے رویے کو انتہائی سادگی اور درد مندی سے بیان کیا گیا ہے۔ اختتام میں اچانک جھٹکا، ایک مکمل المیہ بن کر ابھرتا ہے۔

---

3. خواجہ اعجاز بٹ کا افسانچہ

عنوان: آئینہ

> "بچی آئینے کے سامنے کھڑی اپنی ماں کی طرح بال بنا رہی تھی۔
باپ نے چیخ کر کہا:
'کب سمجھو گی کہ وہ اب اس گھر میں نہیں!'"

تجزیہ:
یہ افسانچہ المیے، جدائی اور معصومیت کی عکاسی کرتا ہے۔ بچی کی حرکت ایک مکمل پس منظر ظاہر کر دیتی ہے، اور باپ کا جملہ اس منظر کو خنجری بنا دیتا ہے۔

---

4. نشاط یاسمین خان کا افسانچہ

عنوان: سزا

> "ماں نے بیٹے کی پھانسی کی خبر سنی، چپ چاپ کمرے میں چلی گئی،
اور دیوار سے لگی وہ چھڑی نکالی جس سے بچپن میں مارا کرتی تھی۔
اور خود کو مارنے لگی۔"

تجزیہ:
ماں کی ممتا، پچھتاوا، اور جذباتی کرب کو محض چند جملوں میں شاندار انداز سے بیان کیا گیا ہے۔ اختتام قاری کے دل میں گہرا اثر چھوڑتا ہے۔

---

5. اقبال خورشید کا افسانچہ

عنوان: قید

> "وہ برسوں قید میں رہا۔
جب رہا ہوا تو اخبار میں خبر پڑھی:
'جس جرم میں قید تھا، وہ جرم اب قانونی ہو گیا ہے۔'"

تجزیہ:
یہ افسانچہ قانون، وقت، اور معاشرتی تغیرات پر گہرا طنز ہے۔ قاری کو سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے کہ انصاف کیا ہے اور قانون کس کے لیے ہے۔

---

خلاصہ:

ان افسانچوں میں ہم دیکھتے ہیں کہ:

پنچ لائن کتنا طاقتور ہتھیار ہے۔

چند جملے بھی پورے المیے یا سماجی حقیقت کو بیان کر سکتے ہیں۔

افسانچہ نہ صرف ادب ہے بلکہ ایک گہرا آئینہ ہے جس میں زمانہ، جذبات، نظام اور انسان سب کچھ نظر آتے ہیں۔

---

باب 06 : افسانچہ نگاری کی تکنیک

از علیم طاہر

افسانچہ لکھنا بظاہر آسان معلوم ہوتا ہے، لیکن اس مختصر ترین صنفِ ادب میں وہی لکھاری کامیاب ہوتا ہے جو الفاظ کے چناؤ میں غیر معمولی مہارت رکھتا ہو۔ اس باب میں ہم اُن تکنیکی نکات کا جائزہ لیں گے جو ایک افسانچے کو مؤثر اور یادگار بناتے ہیں۔

---

1. اختصار میں کمال

افسانچہ میں ایک ایک لفظ قیمتی ہوتا ہے۔ بلا ضرورت الفاظ کا استعمال اس کی چمک کو ماند کر دیتا ہے۔ لہٰذا:

غیر ضروری جملوں سے گریز کیا جائے۔

ہر لفظ کہانی میں معنی اور وزن رکھتا ہو۔

مثال:
"وہ آیا، دیکھا، اور لوٹ گیا۔ دل وہیں چھوڑ گیا۔"

---

2. پنچ لائن کی اہمیت

پنچ لائن افسانچے کا دل ہوتی ہے۔ یہ وہ آخری جملہ ہوتا ہے جو قاری کو جھنجھوڑتا، چونکاتا یا مسکرا دیتا ہے۔

یہ چونکانے والی، حیران کن یا کربناک ہو سکتی ہے۔

اس میں "ٹوسٹ" یا "موڑ" لازمی ہونا چاہیے۔

مثال:
"اس نے کہا، مجھے چھوڑ دو، میں مر چکی ہوں۔ میں نے قبر کی مٹی پر پھول رکھ دیے۔"

---

3. تاثر اور موضوع کی تہ داری

افسانچے کا موضوع چاہے جتنا مختصر ہو، اس میں گہرائی ضروری ہے:

ایک واقعے کے پیچھے پوری زندگی کا تاثر ہو۔

علامتی انداز یا تجریدی تکنیک کا سہارا بھی لیا جا سکتا ہے۔

مثال:
"گھڑی چلتی رہی، ماں سوتی رہی، بچہ روتا رہا۔"

---

4. کرداروں کا حد درجہ اختصار

افسانچہ میں مکمل کردار سازی ممکن نہیں ہوتی، اس لیے:

کرداروں کو اشاراتی انداز میں پیش کیا جاتا ہے۔

ان کی شناخت یا حیثیت عمل سے ظاہر کی جاتی ہے۔

مثال:
"سفید کوٹ نے نس چبھو دی۔ ماں کے آنسو تھم گئے۔"

---

5. ماحول کی جھلک

تفصیلی منظر کشی ممکن نہیں، لیکن ایک دو جملوں میں قاری کو ماحول کا تاثر ضرور دیا جا سکتا ہے۔

مثال:
"رات کی بارش میں وہ تنہا بینچ پر بیٹھا تھا، جیب میں طلاق نامہ لیے۔"

---

6. اختتام کے بعد آغاز

اچھا افسانچہ وہ ہوتا ہے جس کے ختم ہوتے ہی قاری کے ذہن میں ایک نئی کہانی جنم لے:

اختتام، آغاز بھی بن جائے۔

سوال چھوڑ جائے یا مکمل خامشی۔

---

7. تجربات اور نیاپن

روایتی موضوعات میں بھی نیا پن پیدا کرنا افسانچے کی روح ہے:

زبان، اسلوب، یا نقطۂ نظر میں جدت لائیں۔

عام بات کو غیر معمولی طریقے سے بیان کریں۔

---

8. زبان کی سادگی

سادہ اور عام فہم زبان افسانچے کی جان ہے:

ثقیل یا مبہم زبان افسانچے کو بوجھل کر دیتی ہے۔

جملے چھوٹے، مگر چبھتے ہوئے ہوں۔

---

نتیجہ

افسانچہ ایک چمکتا ہوا ستارہ ہے جو پل بھر میں قاری کے ذہن میں اتر جاتا ہے۔ اس کے لیے زبان کی مہارت، خیال کی گہرائی، اور اختصار کا شعور ہونا لازمی ہے۔ افسانچہ نگاری محض لکھنا نہیں، ایک فن ہے — کم سے کم میں زیادہ کہنے کا فن۔

---

باب 07 : اردو افسانچے کی موجودہ صورتِ حال

از علیم طاہر

اردو افسانچے کی موجودہ صورتِ حال نہایت حوصلہ افزا اور امید افزا ہے۔ ایک وقت تھا جب افسانچہ ادب کی حدود میں مشکوک سمجھا جاتا تھا، بعض نقاد اسے "ادب کے قابل" ہی نہ سمجھتے تھے، مگر آج یہ اردو ادب کی ایک تسلیم شدہ، مقبول اور موثر صنف بن چکی ہے۔

---

افسانچے کا فروغ

گزشتہ دو دہائیوں میں افسانچے کا غیر معمولی فروغ ہوا ہے۔ پرنٹ میڈیا، سوشل میڈیا، اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز نے اس صنف کو عالمی سطح پر متعارف کرایا ہے۔ افسانچہ نگار اب صرف کتابوں تک محدود نہیں، بلکہ واٹس ایپ، فیس بک، انسٹاگرام، یوٹیوب اور ویب سائٹس کے ذریعے لاکھوں قارئین تک رسائی حاصل کر چکے ہیں۔

پاکستان میں:
پرویز بلگرامی، سرور غزالی، اقبال خورشید، نشاط یاسمین، اور مبشر زیدی جیسے مصنفین نے افسانچے کو مقبول عام بنانے میں مرکزی کردار ادا کیا ہے۔ مبشر زیدی کے سو لفظی افسانچے ’100 لفظوں کی کہانی‘ کے نام سے اخبارات اور سوشل میڈیا پر وائرل ہوئے، جنہوں نے نئے لکھنے والوں کو اس میدان میں قدم رکھنے کا حوصلہ دیا۔

بھارت میں:
ڈاکٹر بلراج منرا، جمیل احمد، اور پرمود کمار جیسے نام افسانچے کے فروغ میں نمایاں ہیں۔ وہاں ادبی رسائل اور ویب جریدے اس صنف کو باقاعدہ جگہ دیتے ہیں۔ ہندوستانی اردو ادب میں افسانچے کو بطور باقاعدہ ادبی صنف تسلیم کیا جا چکا ہے۔

دیگر ممالک میں:
امریکہ، کینیڈا، برطانیہ اور مشرق وسطیٰ میں مقیم اردو مصنفین بھی افسانچہ نگاری میں دلچسپی لے رہے ہیں، خصوصاً اردو بلاگز اور آن لائن ویب میگزینز کے ذریعے افسانچے کا دائرہ وسیع ہو رہا ہے۔

---

ادبی حلقوں میں افسانچے کی حیثیت

ادبی رسائل، تنقیدی جرائد اور یونیورسٹیوں کے اردو شعبہ جات میں افسانچے پر تحقیق ہو رہی ہے۔ کچھ جامعات میں افسانچہ نگاری پر مقالے لکھے جا چکے ہیں۔ تنقیدی حلقے اب اس صنف کو سنجیدگی سے دیکھ رہے ہیں اور اسے ادب کی "عصری ضرورت" تسلیم کرتے ہیں۔

---

افسانچے کی مقبولیت کی وجوہات

1. مصروف زندگی: قاری کے پاس طویل افسانے یا ناول پڑھنے کا وقت نہیں، افسانچہ کم وقت میں اثر ڈال دیتا ہے۔

2. ڈیجیٹل میڈیا: سوشل میڈیا نے مختصر مواد کو اولیت دی، افسانچے اس کا بہترین نمونہ ہیں۔

3. نفسیاتی گہرائی: کم الفاظ میں گہری بات کہنا افسانچے کی قوت ہے، جو قاری کو چونکا دیتی ہے۔

4. آسان ترسیل: افسانچے موبائل میسج، اسٹیٹس یا پوسٹ کی صورت میں فوری شئیر ہو سکتے ہیں۔

---

نئے لکھنے والوں کا رجحان

نئی نسل کے کئی لکھاری افسانچہ نگاری کی طرف مائل ہو چکے ہیں۔ ان کی تحریروں میں زندگی کے مختلف پہلو—جیسے تنہائی، سماجی المیے، رشتوں کی پیچیدگیاں، ذہنی دباؤ، اور طبقاتی تفریق—کو مختصر اور مؤثر انداز میں پیش کیا جا رہا ہے۔ ان نوجوانوں نے ثابت کیا ہے کہ مختصر تحریر میں بھی تخلیقی وفور ممکن ہے۔

---

افسانچے کا مستقبل

افسانچے کا مستقبل روشن ہے۔ ادب کا رخ بدل رہا ہے، مختصر صنفیں مقبول ہو رہی ہیں۔ آج کا قاری مختصر مگر گہرا ادب چاہتا ہے، اور افسانچہ اسی ضرورت کو پورا کرتا ہے۔ آنے والے دنوں میں افسانچہ مزید ترقی کرے گا، اور ممکن ہے کہ اردو ادب کی سب سے مقبول صنف بن جائے۔

 باب 08: افسانچے — ایک نئی جہت

از علیم طاہر

وقت بدلتا ہے تو انسان کے خیالات، طرزِ زندگی، پسند و ناپسند، اور مطالعے کے رجحانات بھی تبدیل ہو جاتے ہیں۔ اسی تبدیلی نے ادب کی دنیا میں بھی نئی جہتیں پیدا کی ہیں۔ جس طرح روایتی افسانہ، ناول اور نظم نے مختلف ادوار میں قارئین کو متاثر کیا، اسی طرح عصرِ حاضر میں "افسانچہ" ایک نئی ادبی جہت بن کر ابھرا ہے—مختصر، جامع، اور چونکا دینے والا۔

---

سو لفظی افسانچہ: کثافت میں لطافت

افسانچے کی اس نئی جہت کو عام طور پر "سو لفظی کہانی" یا "مائیکرو فکشن" کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ وہ صنف ہے جو صرف سو الفاظ (یا اس کے آس پاس) میں ایک مکمل کہانی، ایک مکمل منظر، اور ایک گہرا تاثر چھوڑ جاتی ہے۔

مبشر زیدی کے سو لفظی افسانچے، جنھوں نے روزنامہ "ایکسپریس" میں باقاعدہ جگہ پائی، اس صنف کے مقبول ترین نمونے بن چکے ہیں۔ ان کے بعد کئی لکھاریوں نے اس فارم کو اپنایا اور خوب تجربات کیے۔ سو لفظی کہانی نے نہ صرف قارئین بلکہ ناقدین کو بھی متوجہ کیا۔

---

ڈیجیٹل دور اور افسانچے کی تقویت

افسانچے کی اس نئی جہت کو سب سے زیادہ قوت ڈیجیٹل میڈیا نے بخشی۔ آج کا قاری انسٹاگرام پر تصویری کہانی، واٹس ایپ پر تحریری اسٹیٹس، اور یوٹیوب پر ویژوئل فکشن کی صورت میں افسانچے کو قبول کر رہا ہے۔

یوٹیوب چینلز جیسے حنا خراسانی اور صدف آصف کا "مائیکرو فکشن" پر کام افسانچے کے فروغ کی عمدہ مثال ہے۔ اس طرح افسانچہ صرف پڑھا نہیں جا رہا بلکہ سنا، دیکھا اور محسوس بھی کیا جا رہا ہے۔

---

مائیکرو فکشن اور بین الاقوامی رجحان

دنیا بھر کی زبانوں میں مائیکرو فکشن کو سراہا جا رہا ہے۔ انگریزی میں "ڈرافٹ"، "پوسٹ کارڈ فکشن"، اور "فلیش فکشن" کے نام سے یہ صنف برسوں سے موجود ہے۔ لیکن اردو میں اس نے جو تہہ دار اور جذباتی رنگ اختیار کیا ہے، وہ اسے عالمی ادب میں نمایاں بناتا ہے۔

---

تخلیقی چیلنج

افسانچے کی اس نئی جہت میں لکھاری کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ ہوتا ہے کہ وہ کم سے کم الفاظ میں زیادہ سے زیادہ تاثر کیسے قائم کرے؟
ایک کامیاب سو لفظی افسانچہ نہ صرف قاری کو چونکاتا ہے بلکہ اسے چند لمحے کے لیے سوچنے پر مجبور بھی کرتا ہے۔

---

ادبی افق پر ابھرتے نام

اس وقت اردو ادب میں کئی نوجوان قلمکار ہیں جو افسانچے کی اس نئی صورت پر باقاعدہ کام کر رہے ہیں۔ آن لائن مقابلے، فیس بک گروپس، بلاگز، اور ویب میگزینز پر ان کے افسانچے باقاعدگی سے شائع ہو رہے ہیں۔

مثالیں:

کئی افسانچوں کے مجموعے سامنے آ رہے ہیں۔

ادبی تنظیمیں افسانچہ نویسی پر ورکشاپس اور مقابلے منعقد کر رہی ہیں۔

---

نتیجہ:

افسانچے کی یہ نئی جہت محض ایک تجربہ نہیں بلکہ ایک تسلیم شدہ ادبی ارتقاء ہے۔ جہاں ایک طرف یہ صنف سادگی، اختصار اور گہرائی کا حسین امتزاج پیش کرتی ہے، وہیں یہ عصرِ حاضر کے قاری کی فوری تسکین کی خواہش کو بھی پورا کرتی ہے۔

یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ "افسانچے کا مستقبل اسی سو لفظی کہانی میں پوشیدہ ہے"—جہاں کم لفظوں میں مکمل جہان آباد کیے جا سکتے ہیں۔

---
 باب 09: افسانچے کی تنقیدی جہت

از علیم طاہر

ادب صرف تخلیق کا نام نہیں، بلکہ تنقید اس کی روح ہوتی ہے۔ اگر تخلیق جسم ہے تو تنقید اس کا شعور۔ افسانچہ—جو بظاہر مختصر ترین بیانیہ ہے—جب تنقید کی کسوٹی پر پرکھا جاتا ہے تو اس کی پرتیں کھلتی ہیں، اس کے مفاہیم گہرے ہوتے چلے جاتے ہیں۔ اس باب میں ہم افسانچے کی تنقیدی جہت کو سمجھنے کی کوشش کریں گے۔

---

افسانچہ: صنفی اعتبار سے

تنقیدی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو سب سے پہلا سوال یہی اٹھتا ہے:
"کیا افسانچہ ایک الگ صنفِ ادب ہے؟"

اکثر نقاد اسے مختصر افسانے کی ایک ذیلی قسم قرار دیتے ہیں، لیکن بہت سے ماہرین اسے مکمل الگ صنف مانتے ہیں۔ ان کے نزدیک افسانچہ نہ صرف تکنیکی بنیادوں پر منفرد ہے بلکہ اس کا اسلوب، تاثر، اور مقصد بھی مختلف ہے۔

پرویز بلگرامی کے مطابق:

> "افسانچہ ایک مکمل افسانہ ہوتا ہے، اس میں ابتدا بھی ہوتی ہے، کہانیت بھی، اور اختتام کا تو جواب نہیں۔"

یہی جملہ افسانچے کو ایک باقاعدہ صنف قرار دینے کے لیے کافی ہے۔

---

ساختیاتی تجزیہ

افسانچے کا ڈھانچہ مختصر ہے، لیکن اس کی ساخت پیچیدہ ہو سکتی ہے۔ تنقیدی طور پر افسانچہ تین بنیادی عناصر پر کھڑا ہوتا ہے:

1. پنچ لائن:
یہ افسانچے کا مرکز ہے۔ وہ ایک جملہ جو پورے متن کو ایک دھماکے کی صورت میں ختم کرتا ہے اور قاری کو چونکا دیتا ہے۔

2. کہانیت:
افسانچہ چھوٹا ہو سکتا ہے، لیکن اگر اس میں کہانی پن نہ ہو، تو وہ محض خیال بن کر رہ جاتا ہے۔

3. تاثر اور علامت:
ایک کامیاب افسانچہ علامتوں، اشاروں اور تجریدی کیفیت کے ذریعے بہت کچھ کہہ جاتا ہے۔

---

موضوعاتی تنقید

افسانچوں پر کی گئی تنقید کا ایک پہلو موضوعات کی جانچ پر مبنی ہوتا ہے۔
جدید افسانچے:

دہشت گردی

صنفی نابرابری

تنہائی

منافقت

طبقاتی فرق

سماجی تضادات

جیسے موضوعات کو انتہائی چابک دستی سے چند سطروں میں سمیٹ لیتے ہیں۔ اس پر تنقید کرنے والا قاری یا نقاد نہ صرف اس کے پیغام کو دیکھتا ہے بلکہ اس کے اظہار کے طریقے کو بھی پرکھتا ہے۔

---

اسلوبیاتی تنقید

افسانچے کا اسلوب عام طور پر:

براہِ راست

مختصر جملوں پر مشتمل

علامتی یا تجریدی

غیر متوقع انجام پر مبنی ہوتا ہے۔

نقاد اس بات پر بھی نظر رکھتے ہیں کہ افسانچہ قاری کو کس حد تک اپنی گرفت میں لیتا ہے، اور اس میں کتنی "کہنے سے زیادہ دکھانے" کی صلاحیت ہے۔

---

نقادوں کے خیالات

ڈاکٹر گوپی چند نارنگ افسانے اور اس کی دیگر اصناف پر کافی لکھ چکے ہیں، ان کے مطابق:

> "جدیدیت نے ادب کو مختصر اور کثیف بنا دیا ہے، افسانچہ اسی تبدیلی کی ایک نمایاں علامت ہے۔"

اقبال خورشید کے مطابق:

> "افسانچہ ادب کی اہم صنف بن چکی ہے، اس پر تنقید بھی ہونی چاہیے اور اس کا تجزیہ بھی، تاکہ اسے محض لطیفہ یا خیال نہ سمجھا جائے۔"

---

نتیجہ

تنقید کا بنیادی مقصد یہ ہوتا ہے کہ وہ فن پارے کی تہوں کو کھولے، اس کے فنی، موضوعاتی اور اسلوبی پہلوؤں پر روشنی ڈالے۔
افسانچہ تنقید کی دنیا کے لیے ایک نیا اور چیلنجنگ میدان ہے، کیونکہ اس میں مختصر ترین بیانیہ میں سب کچھ سمویا ہوتا ہے۔

ہم کہہ سکتے ہیں کہ:

> "افسانچہ مختصر ہوتا ہے، مگر اس پر تنقید وسیع ہو سکتی ہے۔"

*** باب 10 : افسانچے اور جدید میڈیا

وقت کے ساتھ ساتھ جہاں زندگی کے انداز بدلے، وہیں ادب کے اظہار کے ذرائع بھی تبدیل ہو گئے۔ آج کا زمانہ ڈیجیٹل میڈیا کا ہے—جہاں ہر چیز برق رفتاری سے دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک پہنچتی ہے۔ ایسے میں افسانچہ جیسی مختصر، گہرے اثرات کی حامل صنف کے لیے یہ دور گویا ایک سنہری موقع ہے۔

---

سوشل میڈیا پر افسانچہ

فیس بک، انسٹاگرام، ٹوئٹر (یا اب X)، واٹس ایپ، اور دیگر سوشل پلیٹ فارمز نے افسانچے کو ایک نئی زندگی عطا کی ہے۔ اب ہر مصنف براہِ راست قاری تک پہنچنے کے قابل ہے۔ یہ چند سطریں:

جلدی پڑھی جا سکتی ہیں

تیزی سے شیئر ہوتی ہیں

فوری ردِ عمل حاصل کرتی ہیں

اس تیز رفتار ڈیجیٹل دور میں افسانچہ، قاری کے محدود وقت میں گہرا اثر ڈالنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

---

یوٹیوب اور ویژوئل افسانچہ

ویژوئل میڈیا نے افسانچے کو ایک نیا رنگ دیا ہے۔ اب:

افسانچے کو مختصر ویڈیوز میں پیش کیا جا رہا ہے

ڈرامائی انداز میں اس کی قرأت کی جا رہی ہے

اس کی ادائیگی اور میوزک کے ذریعے اثر کو دوچند کیا جا رہا ہے

صدف آصف اور حنا خراسانی جیسے ادباء نے یوٹیوب پر افسانچے کے ویڈیو فارمیٹ متعارف کروا کر اسے عام قارئین سے ناظرین تک پہنچایا۔

---

ڈیجیٹل رسائل اور بلاگز

بہت سے آن لائن میگزین اور ادبی بلاگز اب افسانچے شائع کر رہے ہیں، جیسے:

ریختہ اردو بلاگ

ادب ڈاٹ پی کے

اردو پوائنٹ

نئے نئے ذاتی بلاگز

یہ ویب سائٹس اور بلاگز نوجوان اور نئے لکھنے والوں کو اپنی تحریریں پیش کرنے کا پلیٹ فارم فراہم کر رہے ہیں۔

---

آڈیوبکس اور پوڈکاسٹس

افسانچوں کی آڈیو شکل میں اشاعت کا رجحان بھی بڑھ رہا ہے۔ کئی لکھاری اور اداکار اپنی آواز میں افسانچے پڑھ کر پوڈکاسٹ چینلز پر اپلوڈ کرتے ہیں۔ یہ رجحان خاص طور پر:

مصروف افراد

سفر کرنے والوں

آنکھوں سے کمزور قارئین

کے لیے بہت موزوں ہے۔

---

ڈیجیٹل کامیابی کی مثالیں

مبشر زیدی کی "سو لفظی کہانیاں" پہلے ایک بڑے روزنامے میں شائع ہوئیں، پھر سوشل میڈیا پر چھا گئیں، اور بعد ازاں کتابی صورت میں بھی شائع ہوئیں۔ ان کا ماڈل یہ ثابت کرتا ہے کہ مختصر ادب کو اگر درست پلیٹ فارم دیا جائے تو وہ عوامی سطح پر بھی مقبول ہو سکتا ہے۔

---

چیلنجز

ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر موجود بے شمار مواد میں معیاری افسانچے کو نمایاں کرنا ایک چیلنج ہے۔ اس کے لیے:

سخت ادارتی نگرانی

ادب فہمی کی تربیت

قارئین میں تنقیدی شعور کی بیداری

ضروری ہے۔

---

نتیجہ

جدید میڈیا نے افسانچے کو نہ صرف نیا قاری دیا ہے بلکہ ایک عالمی پہچان بھی عطا کی ہے۔ اب یہ کمرے کے کونے میں رکھی ایک کتاب کی قید سے نکل کر دنیا بھر میں بہتا ہوا لفظ بن چکا ہے۔

آج ہم کہہ سکتے ہیں کہ:

> "ڈیجیٹل میڈیا افسانچے کا نیا کاغذ ہے، اور اسکرین اس کا روشن حرف!"

 باب 11: افسانچہ نگاری کے اصول و آداب

از علیم طاہر

افسانچہ ایک ایسا نازک، مگر جاندار ادبی فن ہے جو بظاہر مختصر الفاظ پر مشتمل ہوتا ہے مگر معنی کی گہرائی اور شدت میں کسی ناول سے کم نہیں ہوتا۔ افسانچہ نگاری محض چند جملے لکھنے کا عمل نہیں بلکہ ایک مکمل فنی اور فکری تربیت کا تقاضا کرتی ہے۔ آئیے اس فن کے بنیادی اصول و آداب کا جائزہ لیتے ہیں:

---

1. اختصار (Brevity) — کم الفاظ، زیادہ اثر

افسانچہ کا پہلا اصول "کم میں زیادہ کہنا" ہے۔ ایک کامیاب افسانچہ وہی ہوتا ہے جو چند جملوں میں مکمل کہانی، کردار، منظر، اور انجام کو سمیٹ دے۔

> "لفظوں کی کفایت شعاری، معنوں کی فراوانی سے ہو۔"

---

2. پنچ لائن کی اہمیت

ہر افسانچے کا ایک "جھٹکا" ہوتا ہے—ایک چونکا دینے والا اختتام، جسے پنچ لائن کہا جاتا ہے۔ یہ قاری کے ذہن کو جھنجھوڑتا ہے اور مکمل تاثر قائم کرتا ہے۔

> "افسانچہ بغیر پنچ لائن کے، بدن میں روح کے بغیر ہے۔"

---

3. کہانی پن (Story Element)

ایک اچھا افسانچہ صرف جذباتی واردات نہیں ہوتا، بلکہ اس میں کسی واقعے یا صورت حال کا منطقی تسلسل ہوتا ہے—آغاز، ارتقاء، اور انجام۔

---

4. علامت اور تجرید کا استعمال

افسانچے میں علامتی زبان، استعارے، اور تجریدی انداز اکثر زیادہ مؤثر ثابت ہوتے ہیں، کیونکہ محدود الفاظ میں گہرے مفہوم کو سمیٹنے میں یہ بہت مددگار ہوتے ہیں۔

---

5. غیر ضروری تفصیل سے گریز

افسانچہ نگاری میں اضافی توضیحات کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔ ہر لفظ کو اس طرح برتنا ہوتا ہے جیسے زیور میں نگینہ۔

> "افسانچہ وہ غزل ہے جس میں ہر شعر نکتہ ہو۔"

---

6. عنوان کا انتخاب

افسانچے کا عنوان مختصر، بامعنی اور بعض اوقات علامتی ہوتا ہے۔ یہ قاری کی توجہ کھینچنے اور کہانی کا مرکزی نکتہ واضح کرنے میں مددگار ہوتا ہے۔

---

7. اخلاقی پیغام کی باریک رو

اگرچہ افسانچہ کو نصیحتی تحریر نہیں ہونا چاہیے، مگر اس میں اخلاقی یا فکری جھلک لازماً ہو، جو قاری کو سوچنے پر مجبور کر دے۔

---

8. زبان و بیان کی نزاکت

افسانچہ میں سادہ، مگر ادبی زبان استعمال کی جاتی ہے۔ زبان ایسی ہو کہ عام قاری بھی سمجھ سکے اور ادب فہم بھی محظوظ ہو۔

---

9. وقت، مقام اور کردار کی محدودگی

افسانچے میں وقت اور جگہ کی قید مختصر ہوتی ہے اور کردار عموماً ایک یا دو ہوتے ہیں۔ اسی میں اس کا حسن پوشیدہ ہے۔

---

10. قاری کو فعال رکھنا

ایک عمدہ افسانچہ قاری کو سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔ اکثر افسانچے کا اختتام "اوپن" رکھا جاتا ہے تاکہ قاری خود تشریح کرے۔

---

نتیجہ

افسانچہ لکھنا آسان معلوم ہوتا ہے، لیکن درحقیقت یہ ایک باریک فن ہے۔ ہر لفظ، ہر وقفہ، اور ہر خاموشی میں ایک سوچ چھپی ہوتی ہے۔ افسانچہ لکھنے والا دراصل سکوت میں چیخنے کا فن جانتا ہے۔

------

*** باب 12 : اردو افسانچے کے اہم لکھاری

از علیم طاہر

اردو ادب میں افسانچہ ایک نئی مگر تیزی سے مقبول ہوتی صنفِ سخن ہے، اور اس کی ارتقائی راہ میں کئی نامور اور صاحبِ طرز ادیبوں نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس باب میں ہم اُن ادیبوں اور افسانچہ نگاروں کا تذکرہ کریں گے جنہوں نے اس صنف کو اعتبار بخشا اور ادبی افق پر اپنی شناخت قائم کی۔

---

1. سعادت حسن منٹو

اردو افسانچے کا پہلا قابلِ ذکر نام۔ منٹو نے سادہ مگر چونکا دینے والے مختصر افسانوں کے ذریعے اس صنف کو بنیاد فراہم کی۔ اُن کا مجموعہ "سیاہ حاشیے" افسانچوں کی ایک لازوال مثال ہے، جس میں فسادات کی سفاکی کو چند جملوں میں قاری کے ذہن پر نقش کیا گیا۔

---

2. خواجہ اعجاز بٹ

منٹو کے بعد افسانچے کی روایت کو آگے بڑھانے والوں میں خواجہ اعجاز بٹ کا نام نمایاں ہے۔ ان کے افسانچوں میں معاشرتی پہلوؤں کو نیا زاویہ دیا گیا، اور اُنھوں نے اس صنف کو وقار بخشا۔

---

3. ڈی ایچ شاہ

انہوں نے افسانچے کو فنی نکھار دیا۔ ان کی تحریروں میں زبان کی نزاکت، اختصار اور گہرائی کا بہترین امتزاج ملتا ہے۔

---

4. اخلاق گیلانی

افسانچے کی فکری جہتوں کو پھیلانے والے قلمکار۔ ان کے افسانچوں میں فلسفہ، طنز اور معاشرتی حقیقتوں کی عکاسی ملتی ہے۔ انہوں نے افسانچے کو محض واقعہ نہیں بلکہ خیال کی سطح پر بھی بلند کیا۔

---

5. سرور غزالی

نئے دور کے ممتاز افسانچہ نگار جنہوں نے افسانچے کو جدت، علامت اور تخیل کی نئی بلندیوں سے روشناس کرایا۔ اُن کے افسانچوں میں جذبات کی چپ سسکی اور حالات کی خاموش چیخ سنائی دیتی ہے۔

---

6. ابنِ عاصی

ان کے افسانچے مزاح، فکر اور حقیقت کے خوبصورت امتزاج سے بھرپور ہوتے ہیں۔ ان کی تحریروں نے ثابت کیا کہ افسانچہ صرف سنجیدہ نہیں بلکہ دل لبھانے والا بھی ہو سکتا ہے۔

---

7. زیب سندھی، ساجد سومرو، خوشبو بلوچ

علاقائی زبانوں خصوصاً سندھی، پنجابی اور ہندکو میں افسانچے کی مقبولیت کا سہرا ان کے سر ہے۔ انھوں نے مقامی ثقافت، رسم و رواج، اور زبان کی چاشنی کو افسانچے میں منتقل کیا۔

---

8. پرویز بلگرامی

نہ صرف خود افسانچے لکھے بلکہ بہت سے نو آموز لکھاریوں کی رہنمائی کی۔ ان کی ادارت میں افسانچہ ایک باقاعدہ ادبی شناخت حاصل کرنے لگا۔

---

9. نشاط یاسمین خان

نئی نسل کی معروف افسانچہ نگار۔ ان کے افسانچوں میں نرمی، درد، اور عورت کی داخلی دنیا کی عکاسی نہایت خوبصورتی سے ہوتی ہے۔ وہ افسانچے کو بطور "احساس" برتتی ہیں۔

---

10. صدف آصف و حنا خراسانی

انھوں نے افسانچے کو سوشل میڈیا، یوٹیوب اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر فروغ دیا۔ ان کی کوششوں سے افسانچہ نوجوان نسل میں مقبول ہوتا جا رہا ہے۔

---

11. مبشر زیدی

انھوں نے سو لفظوں کی کہانی کو ایک نئے انداز میں متعارف کروایا۔ ان کی تحریریں بامعنی، مختصر اور چونکا دینے والی ہوتی ہیں۔ روزنامہ میں ان کا سلسلہ بے حد مقبول ہوا۔

---

نتیجہ

افسانچے کی یہ مختصر فہرست اس صنف کے تنوع، گہرائی اور اثرپذیری کی غماز ہے۔ ان سب قلمکاروں نے مل کر افسانچے کو نہ صرف زندہ رکھا بلکہ اسے ادب کے افق پر ایک روشن ستارے کی حیثیت دلائی۔
---

باب 13 : افسانچے کا عالمی منظرنامہ

از علیم طاہر

افسانچے کو اگرچہ اردو ادب کی مخصوص صنف کے طور پر پہچانا جاتا ہے، لیکن مختصر کہانی (Short-Short Story یا Flash Fiction) کا تصور دنیا بھر کے ادب میں موجود ہے۔ مختلف زبانوں اور تہذیبوں میں مختصر ترین کہانی لکھنے کا رجحان عرصہ دراز سے موجود رہا ہے، اور آج کے ڈیجیٹل دور میں تو یہ صنف عالمی ادب میں ایک مقبول میڈیم بن چکی ہے۔

---

یونانی اساطیر سے آغاز

افسانچے جیسی مختصر کہانیاں قدیم یونان میں "ایسوپ" کے ذریعے مشہور ہوئیں، جنہوں نے عبرت آموز چھوٹی چھوٹی حکایات پیش کیں۔ یہ کہانیاں جانوروں کی زبان میں اخلاقی سبق دیتی تھیں۔

---

فارسی ادب میں گلستان و بوستان

شیخ سعدی کی گلستان و بوستان میں شامل مختصر حکایات بھی افسانچے کے ابتدائی عالمی سانچوں سے ملتی جلتی ہیں۔ ان کہانیوں میں حکمت، طنز، اور اخلاقی اقدار کی جھلک ملتی ہے۔

---

انگریزی ادب میں فلیش فکشن (Flash Fiction)

فلیش فکشن یا مائیکرو فکشن انگریزی ادب میں بہت مقبول صنف ہے۔ ارنست ہیمنگوے کی 6 الفاظ پر مشتمل کہانی:

> For sale: baby shoes, never worn.

افسانچے کی عالمی مقبولیت کی بہترین مثال ہے۔ یہ کہانی نہ صرف مختصر ہے بلکہ درد، حیرت اور سوال اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے۔

---

فرانسیسی اور روسی ادب میں مختصر کہانیاں

گی ڈی موپاساں (Guy de Maupassant) اور چیخوف جیسے ادیبوں نے مختصر کہانی کو خوب فروغ دیا۔ اگرچہ ان کی کہانیاں کلاسیکی افسانہ کہلاتی ہیں، لیکن ان میں مختصر بیانیہ اور چونکا دینے والا انجام وہی افسانچہ کی روح رکھتے ہیں۔

---

ہسپانوی ادب اور بورخیس

ارجنٹائن کے مصنف "خورخے لوئیس بورخیس" نے مختصر فکشن کو فلسفے اور خیال کی بلندی پر لے جا کر اسے عالمی ادب میں ایک الگ مقام دیا۔ ان کی مختصر تحریریں محض کہانیاں نہیں بلکہ خیالات کی labyrinth ہوتی ہیں۔

---

جاپانی "ہائیبو" اور چینی "زن کہانیاں"

جاپان اور چین میں مختصر کہانیاں فلسفے، روحانیت اور مراقبے سے جڑی ہوئی ہیں۔ زن کہانیاں (Zen koans) چند جملوں پر مشتمل ہوتی ہیں لیکن ان کا اثر قاری کے دل و دماغ پر دیرپا ہوتا ہے۔

---

عرب دنیا میں حکایات

"الف لیلہ و لیلہ" جیسی داستانیں اگرچہ طویل تھیں، لیکن ان میں چھپی ہوئی مختصر حکایات اور تمثیلیں، افسانچہ کی صورت حال سے مماثلت رکھتی ہیں۔

---

جدید دنیا میں افسانچہ کی ترویج

سوشل میڈیا، ویب سائٹس، موبائل ایپس اور ڈیجیٹل میگزینز کے ذریعے دنیا بھر میں مختصر کہانیوں کا ایک نیا جنون پیدا ہو چکا ہے۔ آج فلیش فکشن مقابلے، ای بکس، اور پبلک ریڈنگز عام ہو چکی ہیں۔

"Twitterature" یعنی ٹویٹر پر 280 حروف میں کہانی لکھنے کا رجحان بھی اس کی جدید شکل ہے۔

---

اردو افسانچہ کا مقام

اردو افسانچہ، اگرچہ علاقائی صنف ہے، مگر اس کی گونج عالمی ادبی میدان میں بھی سنی جا رہی ہے۔ برصغیر کے باہر اردو لکھنے والے ادیب، خصوصاً یورپ، امریکہ، اور مشرق وسطیٰ میں، افسانچے کو اپنا رہے ہیں اور نئی نسل کو اس سے جوڑ رہے ہیں۔

---

نتیجہ

افسانچہ ایک عالمی جذبہ بن چکا ہے۔ زبان، جغرافیہ، یا قومیت کی قید سے آزاد ہو کر یہ صنف انسان کے مشترکہ جذبات، سوالات، اور حیرانیوں کو بیان کر رہی ہے۔ اردو افسانچہ بھی اسی عالمی قافلے کا حصہ ہے، اور مستقبل میں یہ سفر مزید وسعت اختیار کرے گا۔

---
 ---

باب 14: افسانچہ نگاری کے اصول و رموز

از علیم طاہر

افسانچہ لکھنا بظاہر ایک آسان کام محسوس ہوتا ہے، کیونکہ اس میں الفاظ کم استعمال ہوتے ہیں۔ لیکن درحقیقت، افسانچہ نگاری ایک نہایت نازک، محتاط اور فنکارانہ عمل ہے، جس میں کم الفاظ میں زیادہ کہنے کی صلاحیت درکار ہوتی ہے۔ ہر لفظ قیمتی ہوتا ہے اور ہر جملہ اپنے اندر معنی کا جہاں سمیٹے ہوتا ہے۔

آئیے افسانچہ لکھنے کے بنیادی اصولوں اور رموز کا جائزہ لیتے ہیں:

---

1. جامعیت و اختصار

افسانچہ کی سب سے پہلی اور بنیادی شرط اختصار ہے۔ کہانی چند جملوں یا سطور پر مشتمل ہو، لیکن اس میں ایک مکمل احساس، واقعہ یا تصور موجود ہو۔
"کم میں زیادہ کہنا" اس فن کا بنیادی ہنر ہے۔

---

2. پلاٹ کا وجود

اگرچہ افسانچہ مختصر ہوتا ہے، لیکن اس میں ایک واضح پلاٹ (واقعہ یا صورتِ حال) ہونا چاہیے۔
شروع، درمیان اور انجام کی ترتیب اگرچہ محدود ہوتی ہے، لیکن کہانی پن ضرور ہونا چاہیے۔

---

3. پنچ لائن کی طاقت

افسانچہ کی جان اُس کی پنچ لائن ہوتی ہے۔
آخری جملہ چونکا دینے والا، اداس کر دینے والا، یا مسکراہٹ بکھیر دینے والا ہو سکتا ہے —
مگر اسے قاری کے دل میں ٹھہر جانا چاہیے۔

---

4. کردار نگاری (Minimal Characterization)

افسانچہ میں کردار زیادہ نہیں ہوتے، اور جو ہوتے ہیں، اُنہیں چند الفاظ میں متعارف کرایا جاتا ہے۔
ان کی شناخت، رویہ یا مسئلہ، سب کچھ فوری قاری تک پہنچنا چاہیے۔

---

5. مکالمہ یا بیانیہ؟

افسانچہ میں مکالمہ بھی ہو سکتا ہے، اور مکمل بیانیہ بھی۔ بعض اوقات ایک جملہ کا مکالمہ ہی پوری کہانی بیان کر دیتا ہے۔
البتہ ہر لفظ ضروری اور غیر ضروری کی کسوٹی پر پرکھا جانا چاہیے۔

---

6. علامت و استعارہ کا استعمال

افسانچے میں علامتی زبان اکثر زیادہ مؤثر ثابت ہوتی ہے۔
استعارہ، تمثیل، اور اشاریت سے کہانی کا وزن بڑھتا ہے، اور قاری کو سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔

---

7. موضوع کی انفرادیت

موضوع چاہے روزمرہ کا ہو یا غیرمعمولی، اُسے ایک نئے زاویے سے دیکھنا ضروری ہے۔
افسانچہ معمولی بات کو غیر معمولی طریقے سے بیان کرنے کا نام ہے۔

---

8. جذبات کی شدت

چونکہ طوالت کا موقع نہیں، اس لیے جذبات کو چند جملوں میں شدت کے ساتھ ظاہر کرنا لازم ہے۔
قاری کو ایک لمحے میں ہنسا دینا یا رُلا دینا — یہی افسانچہ نگار کا اصل امتحان ہے۔

---

9. مبہم نہیں، موثر ہو

بعض اوقات افسانچے کو اتنا پیچیدہ بنا دیا جاتا ہے کہ قاری سمجھ نہیں پاتا۔
وضاحت اور رمز کے درمیان توازن ضروری ہے تاکہ تاثیر برقرار رہے۔

---

10. اختتام کی چونکاہٹ

اچھا افسانچہ وہ ہے جس کا اختتام قاری کے دل و دماغ کو ہلا دے۔
وہ چونک جائے، رک جائے، پلٹ کر پھر سے کہانی کو پڑھے —
تب ہی افسانچہ کامیاب ہے۔

---

اختتامی کلمات

افسانچہ نگاری فن کا نچوڑ ہے۔ یہ ہر کسی کے بس کی بات نہیں، لیکن سیکھنے، مطالعہ کرنے، اور مشق کرنے سے یہ ہنر سیکھا جا سکتا ہے۔
یہ نہ صرف مختصر لکھنے کا فن ہے بلکہ سوچنے، محسوس کرنے اور بیان کرنے کا نیا زاویہ بھی فراہم کرتا ہے۔

باب 15: جدید افسانچہ نگاری میں رجحانات

از علیم طاہر

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ادب کی تمام اصناف میں ارتقا ہوا ہے۔ افسانچہ نگاری بھی اس ترقیاتی عمل سے گزر رہی ہے اور اس میں نئے رجحانات جنم لے چکے ہیں جو نہ صرف قاری کی نفسیات بلکہ عصرِ حاضر کے فکری و سماجی تقاضوں کی ترجمانی بھی کرتے ہیں۔

آج کے افسانچے ماضی کی نسبت کہیں زیادہ بصری، معنوی اور فکری طور پر گہرے اور متنوع ہو چکے ہیں۔

---

1. ڈیجیٹل عہد کا افسانچہ

سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز نے افسانچے کو ایک نیا آسمان عطا کیا ہے۔
اب افسانچے صرف رسائل یا کتابوں تک محدود نہیں رہے، بلکہ فیس بک، انسٹاگرام، یوٹیوب، اور واٹس ایپ پر بھی ان کی مقبولیت میں اضافہ ہو رہا ہے۔

"ویژوئل افسانچہ" (Visual Microfiction) کی شکل میں مختصر ویڈیوز، آڈیو کلپس اور پوسٹرز میں بھی افسانچے سنائے اور دکھائے جا رہے ہیں۔

---

2. سو لفظی کہانی (100-Word Story)

ایک رجحان جو تیزی سے ابھرا ہے، وہ ہے سو لفظی کہانی۔
مبشر زیدی جیسے قلمکاروں نے اس صنف کو مقبولِ عام بنایا۔
اب اخبارات، ویب سائٹس اور بلاگز میں سو لفظی کہانیوں کو مستقل جگہ دی جا رہی ہے۔

---

3. ہائپر ریئلزم اور روزمرہ کے موضوعات

جدید افسانچے اکثر روزمرہ کے عام سے واقعات، چھوٹے چھوٹے المیوں اور لمحاتی وارداتوں پر مبنی ہوتے ہیں۔
یہی حقیقت پسندی (Hyperrealism) افسانچے کو قارئین کے قریب لاتی ہے۔

---

4. سادہ زبان، گہرا مفہوم

جدید افسانچے میں زبان عام فہم ہوتی جا رہی ہے، مگر اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ مفہوم بھی سطحی ہو۔
سنجیدہ موضوعات کو سادہ زبان میں بیان کرنا ایک چیلنج بھی ہے اور ہنر بھی۔

---

5. غیر روایتی موضوعات

اب افسانچے میں صرف محبت، تنہائی یا فساد کے موضوعات ہی نہیں ہوتے، بلکہ

سائنس فکشن

ماحولیاتی مسائل

عورت کا مقام

ذہنی صحت

شناخت اور جنس
جیسے جدید و نازک موضوعات کو بھی چُھوا جا رہا ہے۔

---

6. تجرباتی انداز

کئی افسانچہ نگار اب ساخت، اسلوب اور بیانیے کے ساتھ تجربات کر رہے ہیں۔
کبھی ایک جملہ ہی پورا افسانچہ بن جاتا ہے،
کبھی ایک منظر یا صرف ایک خاموشی سب کچھ کہہ دیتی ہے۔

---

7. علاقائی اثرات

جدید افسانچے میں علاقائی زبانوں، لہجوں اور ثقافتوں کا رنگ بھی جھلک رہا ہے۔
سندھی، پنجابی، پشتو، اور دیگر زبانوں میں افسانچے لکھے جا رہے ہیں جو علاقائی مسائل اور جمالیات کو اجاگر کرتے ہیں۔

---

8. ویمن رائٹنگ کی نمائندگی

خواتین افسانہ نگار بڑی تعداد میں اس صنف کی طرف راغب ہو رہی ہیں۔
نشاط یاسمین، حنا خراسانی، صدف آصف جیسے نام افسانچہ نگاری میں ایک نئی شناخت لا ?

Saturday, 27 December 2025

میڈیا، نظریہ اور سماج: مکالمے سے تصادم تک کا خطرناک سفر علیم طاہر______________________________ڈیجیٹل میڈیا کے عروج نے اظہارِ رائے کو بلاشبہ آسان بنایا، مگر اسی کے ساتھ ایک نیا بحران بھی جنم لیا: مکالمے کی جگہ تصادم اور سوال کی جگہ سنسنی۔ آج میڈیا کا ایک بڑا حصہ سماج کو جوڑنے کے بجائے اسے نظریاتی خیموں میں بانٹنے کا کام کر رہا ہے _ مذہب، شناخت اور عقیدے جیسے نازک موضوعات کو اس انداز میں پیش کیا جاتا ہے کہ نتیجہ فہم و تدبر نہیں بلکہ اشتعال اور پولرائزیشن نکلتا ہے۔یہ سوال اب محض یہ نہیں رہا کہ خدا ہے یا نہیں، مذہب جدیدیت سے ہم آہنگ ہے یا نہیں—بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کون، کس نیت سے، کن شرائط پر یہ سوالات اٹھا رہا ہے؟ جب موضوعات کی تشکیل ہی ایجنڈا سیٹنگ کے تحت ہو، تو بحث کا انجام پہلے سے طے شدہ ہوتا ہے۔ ایسے پروگرام بظاہر فلسفیانہ دکھائی دیتے ہیں، مگر درحقیقت وہ سماجی نفسیات میں دراڑیں ڈالنے کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔میڈیا کا بنیادی فریضہ یہ تھا کہ وہ عوامی مفاد کے سوالات—تعلیم، صحت، روزگار، مہنگائی—کو مرکز میں رکھے۔ مگر آج ہم دیکھتے ہیں کہ شناختی سیاست کو مرکزی دھارے میں لا کر اصل مسائل کو پسِ پشت ڈال دیا جاتا ہے۔ یہ حکمتِ عملی وقتی طور پر ریٹنگ اور ویورشپ تو بڑھا دیتی ہے، لیکن طویل مدت میں سماج کو عدمِ اعتماد اور خوف کی طرف دھکیلتی ہے۔ اختلافِ رائے جمہوریت کی روح ہے، مگر اختلاف کو دشمنی میں بدل دینا جمہوری زوال کی علامت ہے۔ایک خطرناک رجحان یہ بھی ہے کہ پینل ڈسکشنز کو اس طرح ڈیزائن کیا جاتا ہے کہ توازن کا گمان پیدا ہو، مگر حقیقت میں ایک فریق کو علامتی نمائندگی دے کر دوسرے کو غالب دکھایا جائے۔ اس سے نہ تو علم میں اضافہ ہوتا ہے اور نہ ہی ناظرین کو سچ تک رسائی ملتی ہے۔ نتیجتاً، عوام کے ذہن میں پیچیدہ سماجی سوالات سادہ، تعصبی بیانیوں میں ڈھل جاتے ہیں۔ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کا ’سافٹ پروپیگنڈا‘ اس پورے منظرنامے میں سب سے زیادہ تشویشناک ہے۔ غیر رسمی زبان، دوستانہ انداز اور ’کول‘ پریزنٹیشن کے پیچھے چھپا ہوا نظریاتی انتخاب زیادہ دیرپا اثر ڈالتا ہے، کیونکہ یہ غیر جانبداری کے لبادے میں پیش کیا جاتا ہے۔ یہاں مسئلہ صرف مواد کا نہیں، مواد کے انتخاب کا ہے—کہ کن سوالات کو بار بار اٹھایا جا رہا ہے اور کنہیں مسلسل نظرانداز کیا جا رہا ہے۔میڈیا کی اس سمت کے پیچھے کارپوریٹ مفادات اور سیاسی قربتوں کا کردار بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ جب میڈیا ادارے چند بڑے کاروباری گروپس کے ہاتھوں میں مرتکز ہو جائیں، تو ادارتی آزادی دباؤ میں آ جاتی ہے۔ سرکاری اشتہارات اور پالیسی مفادات ایک ایسا معاشی شکنجہ بناتے ہیں جس میں صحافت رفتہ رفتہ نگہبان سے تابع دار بن جاتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں صحافی سوال کرنے کے بجائے بیانیہ آگے بڑھانے لگتے ہیں۔اس کا سب سے گہرا اثر نوجوان نسل پر پڑتا ہے۔ جب سنجیدہ مسائل کو سطحی اور اشتعال انگیز مباحث میں بدل دیا جائے، تو تنقیدی سوچ کمزور پڑ جاتی ہے۔ نوجوان دلیل کے بجائے شناخت کے ساتھ کھڑے ہونے لگتے ہیں، اور یہی وہ لمحہ ہے جہاں سماج فکری بانجھ پن کا شکار ہو جاتا ہے۔حل کیا ہے؟حل سنسرشپ نہیں، بلکہ ادارتی ذمہ داری ہے۔ میڈیا کو چاہیے کہ وہ مکالمے کی شرطیں خود طے کرے—برابری، احترام اور علمی دیانت۔ اختلاف کو جگہ دے، مگر نفرت کو نہیں۔ مذہب اور فلسفے جیسے موضوعات پر گفتگو ہو، مگر اس نیت سے کہ فہم بڑھے، نہ کہ خلیج گہری ہو۔ صحافت کا اصل مذہب سچ ہے، اور اس کی عبادت سوال سے ہوتی ہے_ سنسنی سے نہیں۔اگر میڈیا نے اپنے نظریاتی جھکاؤ کو عوامی مفاد پر فوقیت دی، تو یہ بحران صرف خبروں تک محدود نہیں رہے گا؛ یہ سماج کی رگوں میں اتر جائے گا۔ اور پھر تاریخ گواہ ہے کہ ایسے زہر کا تریاق نسلوں میں بھی مشکل سے ملتا ہے۔

Thursday, 27 November 2025

ڈرامہ نمبر 03 ریڈیو ڈراما اسکرپٹ اسٹرگلرس اڈا

 

ڈرامہ نمبر: 03


ریڈیو ڈراما اسکرپٹ


عنوان: اسٹرگلرس اڈا


افسانہ نگار: علیم طاہر


ریڈیو اسکرپٹ رائٹر: علیم طاہر 


---------------


         [اوپننگ میوزک – نرم سا بولی ووڈ طرز کا انسٹرومنٹل، جو خوابوں کے شہر کی جھلک دے]


نیریٹر (آہستہ اور پراثر لہجہ):

ممبئی… ایک ایسا شہر جہاں خواب بُنتے ہیں… اور بکھرتے بھی۔ ہر چہرہ… ایک کہانی، ہر نظر… ایک امید۔

اسی شہر کے دل میں واقع ہے — شانتی نگر کا ایک ہوٹل، جسے سب جانتے ہیں اسٹرگلرس اڈا کے نام سے۔


[پس منظر میں ہوٹل کا ہلکا سا شور، برتنوں کی آوازیں، ہنسی کے قہقہے، ہلکی موسیقی]


نیریٹر:

یہ صرف ایک ہوٹل نہیں… ایک امید کا مرکز ہے۔

جہاں نوجوان فنکار آتے ہیں… اور اپنے خوابوں کو سانس دیتے ہیں۔

یہاں ہر چائے کے کپ کے ساتھ ایک کہانی، ہر سگریٹ کے کش کے ساتھ ایک فسانہ۔


[کمرے کی آواز، کرسی کھسکنے کی ہلکی آواز، گفتگو کی دھیمی گونج]


شلپا (سگریٹ کا کش لیتے ہوئے):

یہ وہی ہے نا؟ جس نے "گمنام سوسائٹی" میں چائے والے کا رول کیا تھا؟


آکاش (ہنستے ہوئے):

ہاں چرکٹ ماسٹر! بڑا مشہور ہوا تھا وہ سین۔


شلپا:

چاہو تو ابھی بلا لیتی ہوں۔


[قدموں کی آواز، چرکٹ ماسٹر کی آمد]


چرکٹ ماسٹر (خوش دلی سے):

نمستے بھائی لوگ!

شلپا جی نے بتایا، آکاش جی آپ فلم بنا رہے ہیں؟


آکاش:

جی، ایک نئی فلم پر کام شروع کرنے والا ہوں۔ رہنمائی کی تلاش میں ہوں۔


چرکٹ ماسٹر:

رہنمائی بھی ملے گی، اور شاید کوئی راستہ بھی نکل آئے۔


[کسی ٹیبل پر ہنسی کی آواز، ویٹر کی آواز میں آرڈر]


ویٹر:

دو پنیر پراٹھے، ایک پانی کی بوتل… اور سگریٹ کا پیکٹ۔


[ہوٹل میں ہلکی موسیقی – جاز طرز کی، خاموشی میں ایک وقفہ]


نیریٹر:

وہیں ایک کونے میں بیٹھے ہیں… وجو بھائی…

اصل نام وجے چوہان…

ایک بزنس مین، جو یہاں آ کر خوابوں کے ساتھ جیتے ہیں۔

سادگی میں چھپی بصیرت… اور آنکھوں میں چمکتی امید۔


آکاش (دھیرے سے):

شلپا، یہ بزرگ کون ہیں؟


شلپا:

بس، یہاں کے سب سے زیادہ پرانے "گاہک"… فلمی نہیں، لیکن دل سے ہم سب کے ساتھ۔


[ایک تھکی ہاری لڑکی کی آواز، پس منظر میں آہستہ ہنسی اور باتیں جاری]


لڑکی:

یہ کاسٹنگ ڈائریکٹرز بس خواب دکھاتے ہیں… موقع کوئی نہیں دیتا۔


توصیف:

ہم بھی یہی سوچتے تھے، پر اب عادت ہو گئی ہے۔


جابر:

ارے، وقت سب کا آتا ہے۔ ہمت نہ ہارو!


[اوور ہیڈ اسپیکر کی آواز: اسٹینڈ اپ کامیڈی شو کا اعلان]


اعلان:

پندرہ منٹ بعد، اوپری منزل پر اسٹینڈ اپ کامیڈی شو — جادھو جی کے ساتھ!

سب کے لیے مفت داخلہ!


[لوگوں کی چہل پہل، قدموں کی آواز، سیڑھیوں کی کھڑکھڑاہٹ]


نیریٹر:

سب اوپر جاتے ہیں…

ہنسی کی کچھ قسطیں، اور مایوسی کے کچھ لمحے، ایک ساتھ بانٹے جاتے ہیں۔


آکانشا (اداسی سے):

لگتا ہے… مرنے کے بعد ہی کچھ ہوگا…


شلپا (پیار سے):

ایسا نہ کہو… وقت سب کا آتا ہے۔


[خاموشی… اور پھر ایک مضبوط، مگر نرم آواز]


وجو بھائی (کھڑے ہو کر):

میں صرف وجو بھائی نہیں…

میں وجے چوہان ہوں — ایک بزنس مین۔

میں نے آپ سب کی آنکھوں میں وہ روشنی دیکھی ہے…

جس سے ایک فلم بن سکتی ہے۔

اور وہ فلم ہم سب مل کر بنائیں گے۔ بغیر باس، صرف شریک۔


[پَر امید موسیقی، جذباتی لمحہ، لوگوں کی سانسیں رکی ہوئی سی]


نیریٹر:

سب حیران…

پھر ماریا آتی ہے… نیلی ساڑھی، لیپ ٹاپ تھامے۔


ماریا:

یہ رہا پروجیکٹ… آپ سب اس کے شریک ہوں گے۔


[موسیقی کی شدت، گوگل سرچ کی ٹِک ٹِک، پھر ایک شور کی سی خوشی]


نیریٹر:

اور لیپ ٹاپ پر ابھرتا ہے وہ جملہ…

جو ان سب کی زندگیوں میں روشنی بن کر اُترتا ہے۔


ماریا (پڑھتی ہے):

"سب سَمے کا کھیل ہے…

سَمے پر یقین رکھو…

سَمے سب کا آتا ہے…"


[میوزک آہستہ ہوتا ہے، نیریٹر کی آخری آواز]


نیریٹر:

یہ تھا… اسٹرگلرس اڈا۔

ایک ایسی جگہ… جہاں امید زندہ ہے…

اور خواب… کبھی نہیں مرتے۔


[اختتامی میوزک – مدھم، خوابناک اور پُر امید دُھن]


________________________________


وائس اوور کاسٹ اور ہدایات


1. نیریٹر (Narrator):

آواز: مرد یا خاتون، نرم، جذباتی، شاعرانہ لہجہ

انداز: اداس، امید بھرا، وقفوں کے ساتھ گفتگو

مثال: نصیر الدین شاہ، یا رتی اگنی ہوتری جیسی آواز


---


2. شلپا (Struggler Actress):

آواز: نوجوان لڑکی، خواب دیکھنے والی، تھوڑا تھکی ہوئی مگر مضبوط

انداز: سگریٹ پینے والی، تجربہ کار مگر حساس


---


3. آکاش (نوجوان ہدایتکار):

آواز: نوجوان مرد، امید سے بھرپور، تھوڑا نروس مگر کریٹیو

انداز: درمیانی رفتار، گفتگو میں الجھن اور جستجو


---


4. چرکٹ ماسٹر (چھوٹے موٹے رول والا ایکٹر):

آواز: دلچسپ، نچلی طبقے کی زبان، گرمجوش لہجہ

انداز: ملنسار، فنی، بولی وڈ نقالی کے انداز میں


---


5. ویٹر:

آواز: معمولی اسٹاف، جلد باز، آسانی سے ایڈجسٹ ہو جانے والا

انداز: ہلکا مزاح، ایکسپریس ڈیلیوری


---


6. وجو بھائی (وجے چوہان):

آواز: سنجیدہ بزرگ، گہری، پراثر

انداز: وقار بھرا، سادگی میں گہرائی، آخر میں جذباتی جوش


---


7. آکانشا (مایوس اداکارہ):

آواز: حساس، اداس، نوجوان

انداز: دل شکستہ، شاعرانہ ٹون


---


8. توصیف / جابر (پس منظر کے جدوجہد کرنے والے):

آواز: ممبئی کے لہجے والے نوجوان، تھوڑے طنزیہ، مگر ساتھ دینے والے

انداز: فنی، مزاحیہ، حقیقت پسند


---


9. ماریا (پروجیکٹ مینجر):

آواز: پروفیشنل، پُراعتماد، جذباتی خاتون

انداز: تیز، مستعد، گرمجوش انداز


---


10. اسپیکر وائس / اعلان:

آواز: روبوٹک یا ڈیجیٹل انداز میں مردانہ

انداز: ایونٹ ایناؤنسمنٹ جیسا، جیسے کسی شو یا اسٹینڈ اپ کی اطلاع


---


آڈیو ساؤنڈ ایفیکٹس (SFX) & میوزک گائیڈ


---


ریکارڈنگ کے لیے مشورہ:


ہر کردار اپنی لائن ریکارڈ کرے اور وقفہ (pause) دے تاکہ ایڈیٹر آسانی سے جگہ بدل سکے۔


نیریٹر کی آواز میں "خاموشیاں" اور "جملوں کے بیچ تھوڑی دیر" لازمی رکھیں تاکہ جذبات ابھر سکیں۔


وجو بھائی کے "خطاب والے سین" میں بیک گراؤنڈ میوزک بہت مدھم بجائیں تاکہ آواز غالب رہے۔


اسٹوڈیو میں تین مائک استعمال کریں — ایک نیریٹر کے لیے، ایک مکالماتی کرداروں کے لیے، ایک ساؤنڈ ایفیکٹس کے لیے۔


________________________________


ریڈیو اسکرپٹ: اسٹرگلرس اڈا


مصنف: علیم طاہر

فارمیٹ: وائس ریکارڈنگ / ریڈیو ڈرامہ

دورانیہ: تقریباً 20-25 منٹ


---


[اوپننگ سین]


[SFX: ہلکی ہلکی بولی وڈ طرز کی انسٹرومنٹل میوزک، بیک گراؤنڈ میں ہلکی گفتگو اور چائے کی چسکیاں]


نیریٹر (نرم آواز میں):

یہ ممبئی ہے... خوابوں کی شہزادی... جہاں ہر گلی، ہر دیوار، ہر کھڑکی کسی نہ کسی جدوجوہد کی گواہ ہے۔

یہاں ایک ہوٹل ہے... کچھ پرانے اسٹول، کچھ دھندلے شیشے، اور کچھ تھکے ہوئے خواب...

اس ہوٹل کا نام کوئی نہیں جانتا... مگر ہر اسٹروگلر اسے "اسٹرگلرس اڈا" کہہ کر پکارتا ہے۔


---


[سین 2 – ہوٹل کے اندر]


[SFX: دروازے کی چرچراہٹ، قدموں کی آہٹ، چائے کی پیالی رکھے جانے کی آواز]


ویٹر:

شلپا جی، آپ کا اسپیشل چائے۔ بغیر شکر کے۔


شلپا (سگریٹ کا کش لیتے ہوئے):

تھینک یو راجو… تمھیں بھی یاد ہے میری چائے کی عادت؟


ویٹر (مسکرا کر):

یہاں سب کو یاد ہے… اسٹروگلرز کا ذائقہ چائے سے زیادہ خوابوں میں ہوتا ہے۔


---


[سین 3 – نوجوان ہدایتکار کا داخلہ]


[SFX: تیز قدموں کی آواز، کرسی گھسیٹنے کی آواز]


آکاش:

مجھے ایک نئی لڑکی چاہیے... چہرے پر وہ کرب ہو جو اسکرین سے باہر نکل آئے...


شلپا (سگریٹ کا کش لیتے ہوئے):

کرب صرف چہرے پر نہیں ہوتا... کبھی اندر بھی محسوس کر کے دیکھو...


---


[سین 4 – چرکٹ ماسٹر کا انٹری]


[SFX: ہلکی ہنسی، دروازے کی کھڑکھڑاہٹ]


چرکٹ ماسٹر:

سنو سنو... آج بھی آڈیشن میں "پولس والا" بن کے آیا تھا...

مگر لائن تھی صرف ایک: "چلو تھانے!"


توصیف (ہنستے ہوئے):

بس! اور دیالو ڈیریکٹر نے وہ بھی کاٹ دی ہوگی؟


چرکٹ ماسٹر:

نہیں بھائی... وہ تو بولے "ابھے تو ریئل لگتا ہے، تھانے میں ہی جا!"


---


[سین 5 – آکانشا کا منظر]


[SFX: ہوا کے جھونکے، دروازہ کھلنے کی آواز]


آکانشا (اداسی سے):

مجھے اپنا پتہ نہیں معلوم... میں شاید کسی ریجیکشن کی گلی میں رہتی ہوں...


شلپا (نرمی سے):

یہاں سب کی رہائش عارضی ہے... کوئی خواب میں رہتا ہے، کوئی ڈائلاگ میں...


---


[سین 6 – وجو بھائی کی آمد]


[SFX: اسٹک کی ٹک ٹک، خاموشی کا وقفہ، ہلکی بیک گراؤنڈ میوزک]


نیریٹر:

یہ وجو بھائی ہیں... اصل نام وجے چوہان۔ کبھی سائڈ رول کے بادشاہ تھے۔ اب... اسٹروگلرز کے استاد۔


وجو بھائی:

ہاں بچو... سنیما صرف کیمرے کی آنکھ نہیں دیکھتی...

اسے دل کا ویژن چاہیے... ورنہ ہر اسٹروگل صرف شکست ہے۔


---


[سین 7 – ان سب کی کہی ان کہی آوازیں]


[SFX: سب کردار ہلکے ہلکے بولتے ہیں، جیسے دھیما شور ہو]


شلپا (خود سے):

کیا کبھی کوئی رول... میرے نام کا بھی ہوگا؟


آکاش (نوٹس بک بند کرتے ہوئے):

کہانی میں درد کم ہے… چلو کسی اور اسٹروگلر سے ملتا ہوں۔


آکانشا (آنسو پونچھتے ہوئے):

ریجیکشن اب عادت بن چکی ہے…


---


[کلائمکس – وجو بھائی کا خطاب]


[SFX: خاموشی، میوزک تھوڑا بڑھتا ہے، وجو بھائی کی آواز گونجتی ہے]


وجو بھائی:

بچو... ایک دن، یہی ہوٹل کسی کی بائیوپک کا پہلا سین بنے گا۔

یہ اسٹروگلرس اڈا نہیں... یہ سنیما کا جنم استھان ہے!


---


[اختتامی منظر]


نیریٹر (پُرجوش مگر نرم انداز میں):

تو یاد رکھنا... اگر تم بھی کبھی ممبئی آؤ... اور ایک چائے، ایک خواب، اور ایک ڈائلاگ تمھارے پاس ہو...

تو "اسٹرگلرس اڈا" تمھارا ہے۔


[SFX: دھیرے دھیرے میوزک بلند ہوتا ہے اور fade out]


رابطہ مصنف : - علیم طاہر 

موبائل: 9623327923

________________________________


(C) Ragisterd:

Writer:

Aleem Tahir 

Email id aleemtahir12@gmail.com 

Mobile no. 9623327923.

-----------

Sunday, 9 November 2025

 ___  یوم اردو کے موقع پر

اردو کی بقا، فروغ اور ہماری اجتماعی 

ذمہ داری


مقالہ نگار: علیم طاہر


----

تمہید: 


زبان کسی قوم کی شناخت ہوتی ہے۔ اس سے تہذیب کا شعور، معاشرت کی پہچان، اور فکر کا زاویہ جھلکتا ہے۔ اردو زبان برصغیر کی وہ حسین روایت ہے جس نے مذہب، نسل اور علاقے کے امتیاز سے بلند ہو کر سب کو ایک لڑی میں پرویا۔ آج جب دنیا کی تیز رفتار ترقی کے ساتھ مادری اور قومی زبانیں دباؤ میں آ رہی ہیں، تو یہ سوال شدت سے ابھرتا ہے کہ ہم اردو کے لیے کیا کر رہے ہیں؟


---

اردو کی تاریخی جڑیں اور ارتقائی سفر _


اردو کی ابتدا بارہویں صدی کے آس پاس دہلی اور گنگا–یامنا کے علاقے میں ہوئی۔ مختلف بولیوں جیسے خاری، برج، اور فارسی، عربی و ترکی اثرات کے امتزاج سے ایک نئی زبان نے جنم لیا جسے ابتدا میں ’’ریختہ‘‘ کہا گیا۔

دکن کے شعرا ولیؔ، محمد قلی قطب شاہؔ اور نصرتیؔ نے اسے نیا ذائقہ دیا۔ دہلی میں میرؔ، سوداؔ، غالبؔ، ذوقؔ، مومنؔ نے اسے کلاسیکی بلندی بخشی۔

یوں اردو ایک فوجی، درباری اور عوامی زبان سے ترقی کرتے کرتے ادب، صحافت، فلسفہ، سائنس اور سیاست کی زبان بن گئی۔


---

اردو کا تہذیبی و ادبی کردار


اردو زبان کا سب سے روشن پہلو یہ ہے کہ اس میں روحانی وسعت اور فکری رواداری شامل ہے۔

یہ وہ زبان ہے جس نے میر تقی میرؔ کے غم، غالبؔ کے فلسفے، اقبالؔ کے خواب اور فیضؔ کی انقلابی فکر کو آواز دی۔

اردو نے نہ صرف برصغیر کے مسلمانوں کو بلکہ غیر مسلم شعرا و ادبا کو بھی اپنی آغوش میں جگہ دی — دیال شرماؔ، جگن ناتھ آزادؔ، راجندر سنگھ بیدیؔ، کرشن چندرؔ _ سب نے اردو کو اپنا اظہار بنایا۔


اردو ادب کا دامن نثر، شاعری، ڈراما، تنقید، سفرنامہ اور جدید افسانے تک وسیع ہے۔ یہ زبان آج بھی انسان دوستی، محبت، برداشت اور ہم آہنگی کا پیغام دیتی ہے۔

---

اردو کی موجودہ صورتِ حال


بدقسمتی سے اردو کو وہ ادارہ جاتی توجہ حاصل نہیں جو کسی قومی یا عالمی زبان کو ملنی چاہیے۔


اسکولوں میں اردو ذریعۂ تعلیم کے ادارے کم ہو رہے ہیں۔


انگریزی اور مقامی بولیوں کے دباؤ نے اردو کے فروغ کو محدود کیا ہے۔


نئی نسل میں اردو لکھنے، پڑھنے اور سمجھنے کا رجحان کم ہوتا جا رہا ہے۔


اردو اخبارات و رسائل کی قارئین تعداد گھٹ رہی ہے۔


ڈیجیٹل میڈیا پر اردو رسم الخط کی تکنیکی مشکلات اب بھی موجود ہیں۔


یہ صورتِ حال محبانِ اردو کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔


---

اردو کے فروغ کے امکانات اور مواقع


اس کے باوجود اردو کے امکانات وسیع ہیں۔

دنیا کے درجنوں ممالک میں اردو بولی اور سمجھی جاتی ہے۔

پاکستان میں یہ قومی زبان ہے، بھارت میں کروڑوں لوگ اسے مادری یا ثانوی زبان کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔

عرب دنیا، خلیجی ممالک، برطانیہ، کینیڈا، امریکا اور جاپان تک اردو کی تدریس کے مراکز قائم ہیں۔


ڈیجیٹل دور نے اردو کے لیے نئے در وا کیے ہیں —

ریختہ، اردو پوائنٹ، بی بی سی اردو، اور جامعۂ ملیہ اسلامیہ جیسے ادارے اردو کو عالمی سطح پر متعارف کروا رہے ہیں۔

---

انفرادی سطح پر ہماری ذمہ داریاں

1. گھر سے آغاز: بچوں سے اردو میں گفتگو کریں، انہیں کہانیاں، نظمیں اور لوک حکایات سنائیں۔


2. مطالعہ کی عادت: اردو کتابیں، افسانے، شاعری اور صحافتی مضامین پڑھیں۔


3. ڈیجیٹل اردو کا فروغ: سوشل میڈیا، بلاگز، ایپس اور ویب سائٹس پر اردو رسم الخط میں مواد لکھیں۔


4. زبان کا وقار: سرکاری و نجی تقریبات میں اردو میں گفتگو کرنے کو باعثِ فخر سمجھیں۔


5. تحقیق و تحریر: نوجوان نسل کو اردو میں مقالہ نگاری، تخلیق اور ترجمہ کی جانب راغب کریں۔

---

ادارہ جاتی سطح پر تجاویز


اردو میڈیم اسکولوں کو جدید سائنسی اور ٹیکنالوجی مضامین سے جوڑا جائے۔


اردو ٹیچرز کی تربیت کے لیے جدید کورسز متعارف ہوں۔


اردو یونیورسٹیوں اور تحقیقی اداروں کو فنڈنگ دی جائے۔


اردو کی عالمی کانفرنسیں اور مشاعرے ہر سطح پر منعقد کیے جائیں۔


اردو کتب کی ڈیجیٹلائزیشن، ای لائبریریز اور آن لائن ڈیٹا بیسز قائم ہوں۔

---

اجتماعی اور قومی سطح پر شعور کی بیداری


ہمیں اردو کے فروغ کو محض ایک ثقافتی مہم نہیں بلکہ قومی فریضہ سمجھنا چاہیے۔

جب قومیں اپنی زبان کو چھوڑ دیتی ہیں تو ان کی تہذیب مٹنے لگتی ہے۔

اردو صرف مذہبی یا سیاسی زبان نہیں — یہ رواداری، محبت، اور شعور کی زبان ہے۔


اردو ہماری اجتماعی شناخت ہے؛ اس کی حفاظت ہماری اخلاقی، تہذیبی اور تاریخی ذمہ داری ہے۔

----

اردو کا مستقبل — امید کی کرن


اردو آج بھی زندہ ہے، اور اس کے چاہنے والے ہر جگہ موجود ہیں۔

آن لائن ذرائع، عالمی مشاعرے، اور نوجوان نسل کی بیداری اردو کے لیے نئی توانائی پیدا کر رہے ہیں۔

اگر ہم نے اردو کو جدید تعلیم، سائنس، ٹیکنالوجی اور میڈیا سے جوڑ لیا، تو اس کی بقا یقینی ہے۔


اردو کی روح آج بھی زندہ ہے _

> “یہ زبان عشق ہے، یہ زبان انسانیت ہے، یہ زبان ہمارا کلچر ہے۔”

--

اردو کے فروغ کے لیے ہمیں حکومت سے زیادہ خود کو بدلنے کی ضرورت ہے۔

زبان محبت سے زندہ رہتی ہے، حکم سے نہیں۔

آیئے اس یومِ اردو کے موقع پر یہ عہد کریں کہ:


 “اردو ہماری زبان ہے، اس کی حفاظت ہمارا ایمان ہے۔”

--- 

                کاپی رائٹ) :  مقالہ نگار )

                      علیم طاہر

____________________________

Wednesday, 22 October 2025

Urdu ki bahar

🌿 उर्दू की बहार या दिखावे की फसल?


लेखक: अलीम ताहिर



---


🎉 उर्दू अकादमी का गोल्डन जुबली उत्सव


महाराष्ट्र स्टेट उर्दू अकादमी ने अपनी गोल्डन जुबली (50 साल पूरे होने) पर

“बहार-ए-उर्दू” के नाम से बहुत बड़ा कार्यक्रम किया।

ऊपर से तो यह उर्दू भाषा के प्रचार का उत्सव लग रहा था,

लेकिन असल में इसने बहुत से सवाल खड़े कर दिए —

ऐसे सवाल जो हमारे समाज, संस्कृति और खुद उर्दू की आत्मा से जुड़े हैं।



---


📜 निमंत्रण पत्र और बैनर — उर्दू कहाँ है?


जब कार्यक्रम का निमंत्रण पत्र लेखकों और शायरों के पास पहुँचा,

तो सबसे पहला सवाल यही उठा —

उर्दू का लिपि (रूप) कहाँ गया?


महाराष्ट्र उर्दू अकादमी के 50 साल पूरे होने वाले इस निमंत्रण पत्र में

90% हिस्सा उर्दू लिपि से खाली था।

ऐसा लगा जैसे उर्दू के अपने घर में ही उर्दू बेगानी हो गई हो।


क्या यह “उर्दू की बहार” है?

या उर्दू की “खबर” पर बहार का पर्दा डाला गया है?



---


🗣️ भाषा की राजनीति और उर्दू की चुप्पी


आज महाराष्ट्र में मराठी समाज अपनी भाषा के लिए बहुत सक्रिय है —

दुकानों, दफ्तरों, स्कूलों और कॉलेजों के नाम मराठी में लिखने की माँग ज़ोरों पर है।

लेकिन दूसरी ओर, उर्दू के सरकारी संस्थान

अपने ही कार्ड और बैनर पर उर्दू छोड़कर मराठी या अंग्रेज़ी में गर्व महसूस करते हैं।


यह विरोधाभास केवल भाषा का नहीं,

बल्कि हमारी संस्कृति के पतन का संकेत है।



---


🎬 साहित्यिक उत्सव या फिल्मी मेला?


कहा गया कि “उर्दू की बहार” का बजट 10 करोड़ रुपये का है।

लेकिन असली फायदा किसे हुआ?


जो लेखक, कवि, और शोधकर्ता

अपनी ज़िंदगी उर्दू के लिए समर्पित कर चुके हैं,

उन्हें मिले 15,000 से 1 लाख रुपये।

और पुराने फिल्मी कलाकारों को 10–30 लाख रुपये और आलीशान सुविधाएँ!


ऐसा लगा जैसे यह “उर्दू का उत्सव” नहीं,

बल्कि फिल्मी चमक का शो बन गया हो।



---


✍️ साहित्यकार कहाँ हैं?


अगर “उर्दू साहित्य अकादमी” का उत्सव

उर्दू के साहित्यकारों के बिना हो —

तो वह उत्सव नहीं, मज़ाक है।


उर्दू का असली ख़ज़ाना उसके लेखक, कवि और आलोचक हैं,

न कि वो लोग जिन्हें उर्दू का उच्चारण भी ठीक से नहीं आता।


अगर किसी फिल्मी चेहरे को “उर्दू की बहार” का प्रतिनिधि बना दिया जाए,

तो यह न सिर्फ भाषा का, बल्कि साहित्य की आत्मा पर हमला है।



---


🍂 बहार-ए-उर्दू या ज़वाल-ए-उर्दू?


यह “बहार” नहीं, बल्कि “ज़वाल” (पतन) की कहानी है।

जब उर्दू को ही उसके मंच, कार्ड और संस्थान से हटा दिया जाए —

तो उर्दू की रक्षा का उत्सव किस मुँह से मनाया जाए?


अगर यह “बहार” है,

तो फिर पतझड़ कैसी होगी?



---


🔦 निष्कर्ष (अंत में)


उर्दू की असली बहार तब आएगी

जब अकादमियाँ शोहरत नहीं, अध्ययन और साहित्य को केंद्र बनाएँ।

जब पुरस्कार पाने की नहीं, विचार और ईमानदारी की भूख हो।

और जब उर्दू के उत्सव से पहले

उर्दू लिपि को सम्मान दिया जाए।


क्योंकि अगर उर्दू अपनी पहचान खो दे —

तो कोई भी फिल्मी चेहरा,

कोई सरकारी कार्यक्रम,

उसे जिंदा नहीं रख सकता।


> तेरी आँखों का जादू बोलता है,

मैं सुनता हूँ — वो उर्दू बोलता है।





---


🌕 “उर्दू का उत्सव या उर्दू की परीक्षा?”


महाराष्ट्र अकादमी, साहित्य और संस्थागत पतन की कहानी

✍️ अलीम ताहिर



---


💭 जब साहित्य का उत्सव सोच से खाली हो जाए...


जब “साहित्य का उत्सव” सोच और भावना से खाली हो जाता है,

तो रोशनी की महफ़िलें भी अंधेरे पैदा करती हैं।

महाराष्ट्र स्टेट उर्दू साहित्य अकादमी के 50 साल पूरे हुए —

यह पल उर्दू के लिए गर्व और खुशी का होना चाहिए था,

लेकिन अफसोस, यह विवाद और दिखावे का रूप बन गया।


10 करोड़ रुपये के भारी बजट के बावजूद

लोगों के चेहरों पर मुस्कान नहीं,

सवाल हैं।


क्या यह “जश्न-ए-उर्दू” है?

या “उर्दू की परीक्षा”?



---


🌟 गोल्डन जुबली — सुनहरा मौका या काला सवाल?


1975 में जब उर्दू अकादमी बनी थी,

तब उसके आस-पास कृष्णचंद्र, इस्मत चुगताई, ख्वाजा अहमद अब्बास, सरदार जाफरी जैसे नाम थे।

वे लोग साहित्य को इंसानियत और सच्चाई का आईना मानते थे।


लेकिन आज, 50 साल बाद,

उसी अकादमी ने अपने पुराने दीपक खुद बुझा दिए।


10 करोड़ का बजट,

जो पूरे राज्य के साहित्यिक केंद्रों तक पहुँचना चाहिए था,

वो मुंबई की चमक-दमक में खो गया।


यह सिर्फ पैसों का नहीं,

विश्वास का बँटवारा भी है।



---


🎭 उर्दू अकादमी या एंटरटेनमेंट कंपनी?


जब साहित्य का उत्सव

मंच, रोशनी, और ग्लैमर का शो बन जाए,

तो समझ लीजिए शब्द मर गए हैं।


अब उर्दू भाषा नहीं, सजावट बन गई है।

लेखक अब सहभागी नहीं, शोपीस बन गए हैं।


जब कवि की जगह “ब्रांड” बोले,

तो अकादमी का असली उद्देश्य खत्म हो जाता है।



---


🏙️ मुंबई का एकाधिकार — बाकी शहरों की उपेक्षा


महाराष्ट्र में नांदेड़, मालेगांव, औरंगाबाद, शोलापुर —

ये सभी उर्दू के ज़िंदा केंद्र हैं।

यहाँ उर्दू बोली, समझी और लिखी जाती है।


फिर भी यह सारे शहर इस जश्न से बाहर क्यों रखे गए?

क्या उर्दू सिर्फ मुंबई की है?


अगर 10 करोड़ का बजट दस शहरों में बाँटा जाता,

तो यह सच में “राज्य स्तरीय” उर्दू उत्सव बनता।

लेकिन अब यह सिर्फ “मुंबई शो” बन गया है।



---


🏆 साहित्यिक पुरस्कार या फिल्मी शो?


जब पुरस्कार देने वाले के हाथ में किताब की जगह कैमरा हो,

और लेखक अपने लेखन की जगह “सेल्फी” में व्यस्त हो —

तो साहित्य की आत्मा खतरे में है।


पुरस्कार साहित्य की गरिमा बढ़ाते हैं,

पर अगर वे “रेड कार्पेट” पर दिए जाएँ,

तो वे सम्मान नहीं, अपमान बन जाते हैं।



---


✒️ उर्दू लिपि की बेदखली — एक खामोश खतरा


अगर सरकारी उर्दू अकादमी के निमंत्रण पत्र से ही

उर्दू लिपि गायब हो जाए,

तो यह गलती नहीं, बल्कि भाषाई निष्कासन (बेदखली) है।


जब कोई भाषा अपने लिपि से वंचित होती है,

तो केवल अक्षर नहीं मरते —

पूरी संस्कृति मर जाती है।



---


❓ अब भी बाकी हैं कुछ सवाल...


10 करोड़ का हिसाब कहाँ गया?


महाराष्ट्र के दूसरे जिलों को क्यों नज़रअंदाज़ किया गया?


अकादमी का साहित्यिक उद्देश्य “फिल्मी इवेंट” में क्यों बदला?


और सबसे बड़ा सवाल — उर्दू लिपि को क्यों हटाया गया?



ये सवाल सिर्फ उर्दू के नहीं,

बल्कि हमारे ज़मीर के सवाल हैं।



---


🌱 उर्दू का असली उत्सव क्या होता?


अगर यह बजट सच में उर्दू पर खर्च होता,

तो क्या-क्या नहीं हो सकता था?


राज्य स्तर पर साहित्यिक सम्मेलन


कॉलेजों में उर्दू के व्याख्यान और काव्य-गोष्ठियाँ


युवाओं के लिए लेखन कार्यशालाएँ


हर जिले में “उर्दू घर” और पुस्तक मेले



यही होता “उर्दू का सच्चा उत्सव” —

जहाँ पुराने दीपक बुझाए नहीं जाते,

बल्कि नए दीपक जलाए जाते हैं।



---


🕊️ अंतिम संदेश


साहित्य की शक्ति केवल शब्दों में नहीं,

बल्कि इरादे और ईमान में है।

अगर अकादमियाँ राजनीति का औज़ार बन जाएँ,

तो उर्दू का भविष्य “कार्यक्रमों” में नहीं,

“विचारों” में ढूँढना होगा।


> “उर्दू का उत्सव, उर्दू की परीक्षा” —

यह सिर्फ एक घटना नहीं, एक आईना है,

जिसमें हमें अपना चेहरा देखना होगा।




> ज़र्फ़ हर बार मरा ज़िद पे अड़ा रहता है,

हक़-ब-जानिब है जो दुनिया से लड़ा रहता है।




– अलीम ताहिर

🌿 Spring of Urdu or a Season of Show?


By Aleem Tahir



---


🎉 The Golden Jubilee of the Urdu Academy


On the occasion of its Golden Jubilee (50 years), the Maharashtra State Urdu Academy organized a grand celebration titled “Bahār-e-Urdu” (The Spring of Urdu).

At first glance, it seemed to be a festival dedicated to the promotion of the Urdu language.

But in reality, it raised many troubling questions —

questions connected not only to our society and culture, but also to the very soul of Urdu.



---


📜 Invitation and Banners — Where is Urdu?


When the invitation for this grand event reached writers and poets,

the first question that arose was —

Where has Urdu disappeared?


In the official invitation of the Urdu Academy’s 50th anniversary,

almost 90% of the text was not in Urdu script.

It seemed as if Urdu itself had become a stranger in its own home.


Is this the “Spring of Urdu”?

Or has a floral curtain been drawn over Urdu’s funeral?



---


🗣️ Language Politics and the Silence of Urdu


In Maharashtra today, the Marathi community is actively demanding

that the names of shops, offices, schools, and colleges be written in Marathi.

But on the other hand, Urdu’s own state institutions

are proudly issuing invitations in Marathi or English,

completely excluding Urdu from their own documents.


This is not just a linguistic contradiction —

it is a symbol of cultural decline.



---


🎬 A Literary Celebration or a Film Fair?


The so-called “Festival of Urdu” had a budget of ten crore rupees.

But the question remains — who actually benefited?


The writers, poets, and scholars who have devoted their lives to Urdu

were given between ₹15,000 and ₹1 lakh,

while fading Bollywood personalities were paid ₹10–30 lakh,

along with luxurious travel and vanity vans.


It appeared that this event was not meant to revive Urdu —

but to showcase glamour under Urdu’s name.

The festival turned from a celebration of thought

into a parade of publicity.



---


✍️ Where Are the Writers?


If the Urdu Sahitya (Literary) Academy organizes a festival

without the presence of Urdu’s own writers and thinkers,

then it is not a festival — it is mockery.


The true wealth of Urdu lies in its authors, poets, and critics,

not in people who can’t even pronounce Urdu properly.


If the faces of film and fashion are made the representatives of “Urdu’s Spring,”

then it is not just language that suffers —

it is literature’s very soul being wounded.



---


🍂 Spring of Urdu or Fall of Urdu?


This was not the “Spring of Urdu,”

but a chronicle of its decline.

When Urdu is erased from the stage, the invitation,

and even from its own Academy —

how can one celebrate the survival of Urdu?


If this is what we call “spring,”

then what would autumn look like?



---


🔦 In Conclusion


The true spring of Urdu will arrive

only when academies focus on research and literature,

not on glitter and showbiz.

When the hunger for ideals replaces the hunger for awards.

And when every Urdu celebration begins

with respect for the Urdu script itself.


Because if Urdu loses its identity —

no film star, no government event,

and no luxury van can bring it back to life.


> “The magic of your eyes speaks,

and the sound I hear — is Urdu itself.”





---


🌕 “Festival of Urdu or Test of Urdu?”


The Story of the Maharashtra Academy, Literature, and Institutional Decay

✍️ By Aleem Tahir



---


💭 When Literature Loses Its Thought...


When a “literary festival” loses its soul,

even a gathering full of light begins to create darkness.

The Maharashtra State Urdu Sahitya Academy completed 50 years —

a moment that should have been filled with pride and honor for Urdu.

Yet sadly, it turned into a spectacle of show and controversy.


Despite a massive ₹10 crore budget,

there was no joy — only questions.


Is this truly a “Festival of Urdu”?

Or is it a test of Urdu’s endurance?



---


🌟 Golden Jubilee — A Golden Moment or a Dark Question?


When the Academy was founded in 1975,

it was surrounded by names like Krishan Chander, Ismat Chughtai,

Khwaja Ahmad Abbas, and Sardar Jafri —

people who viewed literature as a light of truth, humanity, and freedom of thought.


But today, fifty years later,

the same Academy has dimmed those lights itself.


The ₹10 crore budget,

which should have strengthened literary centers across the state,

got lost in Mumbai’s glitter.


This is not just a misallocation of funds —

it is a division of trust.



---


🎭 Urdu Academy or Entertainment Company?


A literary event carries meaning

only when it nurtures thought, dialogue, and reading.

But when such events turn into corporate shows

filled with microphones, lights, and glamour —

then words begin to die.


Urdu is no longer treated as a language, but as a decoration.

The writer is no longer a participant, but a showpiece.

When “brands” start speaking instead of poets —

the Academy has lost its purpose.



---


🏙️ Mumbai’s Monopoly — The Neglect of Other Cities


Cities like Nanded, Malegaon, Aurangabad, and Solapur

are living centers of Urdu in Maharashtra.

Urdu is spoken, taught, and written there passionately.


Then why were these cities excluded from the Golden Jubilee?

Is Urdu now considered the property of Mumbai alone?


If the ₹10 crore budget had been shared across ten cities,

this would have been a true state-level celebration of Urdu.

Instead, it became a Mumbai-centric show,

leaving the rest of the state as silent spectators.



---


🏆 Awards or Glamour Shows?


When those who give awards hold cameras instead of books,

and the recipients prefer selfies with celebrities

over their own literary work —

then literature’s spirit is in danger.


Awards are meant to honor literature,

but when given on the red carpet of showbiz,

they turn into insults.


The dignity of literature lies in its words,

not under the spotlights of the stage.



---


✒️ The Silent Danger — Exile of the Urdu Script


If the official Urdu Academy itself

removes Urdu script from its invitations,

that is not a small oversight —

it is an act of linguistic exile.


When a language loses its script,

not only its letters die —

its entire civilization begins to fade.



---


❓ Unanswered Questions


Where did the ₹10 crore go?


Why were other Urdu-rich districts ignored?


Why was the Academy’s literary purpose turned into a film event?


And why was Urdu script removed from its own invitation?



These are not just questions for Urdu —

they are questions for our collective conscience.



---


🌱 What Would a True Festival of Urdu Look Like?


If that budget had truly served Urdu,

imagine what could have been achieved:


State-level symposia on Urdu fiction, poetry, and criticism


Literary lectures and mushairas in schools and colleges


Writer residencies and youth workshops


“Urdu Houses” and book fairs across districts



That would have been the true celebration of Urdu —

where old lamps are not extinguished,

but new lamps are lit.



---


🕊️ Final Message


The existence of literature lies not just in words,

but in intention, light, and integrity.

If academies serve politics instead of literature,

then Urdu’s future will not be found in ceremonies,

but in conscience and creativity.


> “The Festival of Urdu, The Test of Urdu” —

is not merely an event, but a mirror,

in which we must all see our own reflection.




> “My spirit always stands firm in defiance —

for truth belongs to those who dare to fight the world.”




– Aleem Tahir

Friday, 10 October 2025

ناصر شیخ مالیگاؤں کے منفرد ڈائریکٹر

🎬 ناصر شیخ — مالی ووڈ کے منفرد ڈائیریکٹر ، جنہوں نے مالیگاؤں کا نام دنیا کے پردے پر روشن کیا
تحریر: علیم طاہر

> "جہاں ممبئی خوابوں کا شہر ہے، وہیں مالیگاؤں خوابوں کا جنون ہے —
اور اس جنون کا نام ہے ناصر شیخ۔"




---

🌟 ابتداء: پرنس ویڈیو پارلر سے شروع ہوا خواب

مالیگاؤں کی قدوائی روڈ پر ناصر شیخ کا ایک چھوٹا سا تھیٹر تھا — “پرنس ویڈیو پارلر”۔
1993 میں وہ وہاں چارلی چیپلن، بروس لی اور آرٹ فلمیں دکھایا کرتے تھے۔
یہی سے ان کے دل میں فلم سازی کا شوق اور تجسس جاگا۔

رفتہ رفتہ انہوں نے وی سی آر چلانا، فلم ایڈیٹنگ اور کیمرہ آپریٹنگ سیکھ لی۔
مالیگاؤں کے عوام کے لیے یہ ایک نیا اور منفرد تفریحی ذریعہ بن گیا۔
اسی دوران ان کے ذہن میں ایک خیال آیا —
“کیوں نہ مالیگاؤں کی اپنی فلم بنائی جائے؟”


---

🎥 "مالیگاؤں کے شعلے" — پہلا خواب حقیقت بنا

1997 میں ناصر شیخ نے مالیگاؤں کی پہلی مقامی فلم بنائی —
نام تھا “مالیگاؤں کے شعلے”۔
یہ مشہور فلم “شعلے” کا مالیگاؤں ورژن تھی۔

فلم میں مقامی فنکاروں نے کام کیا۔
نہ بڑا بجٹ تھا، نہ بڑے اداکار —
صرف جذبہ، محنت، اور ہنر تھا۔

جب فلم پرنس ویڈیو پارلر میں دکھائی گئی،
تو عوام نے ہاتھوں ہاتھ لے لیا۔
دو مہینے تک فلم ہاؤس فل رہی۔
لوگ بڑے سینما چھوڑ کر چھوٹے پارلر میں یہ فلم دیکھنے آتے۔
یہ ہنسی اور مزاح سے بھرپور فلم لوگوں کے دلوں میں گھر کر گئی۔


---

🎭 فلم کے فنکار

فلم میں
دھرمندر کا کردار علیم طاہر نے ادا کیا،
امیتابھ بچن کا رول شفیق بچن نے،
گبر سنگھ بنے عرفان الیاس،
بسنتی کا کردار ممبئی کی تھیٹر آرٹسٹ آکانشا نے کیا،
اور جگدیپ بنے شفیق پیٹر۔
ڈاکو کا کردار مقیم مینا نگری نے ادا کیا۔

مصنف تھے — اکرم شیخ اور حامد سُہانی۔
یہ فلم ناصر شیخ کی سوچ، ہمت اور محنت کا نتیجہ تھی
جس نے مالیگاؤں میں فلم سازی کی ایک نئی راہ دکھائی۔


---

🌠 "مالیگاؤں کی شان" سے "سپر مین آف مالیگاؤں" تک

پہلی فلم کی کامیابی کے بعد ناصر شیخ نے کئی فلمیں بنائیں —
“مالیگاؤں کی شان”, “مالیگاؤں کا سپر مین” جیسی فلموں میں
انہوں نے مزاح، سماج اور پیغام کو خوبصورتی سے جوڑا۔

“سپر مین آف مالیگاؤں” میں انہوں نے محدود وسائل کے باوجود
سپر مین کو اُڑتے ہوئے دکھایا —
یہ منظر آج بھی ناظرین کے ذہنوں میں تازہ ہے۔


---

🌍 دنیا بھر میں شہرت — "Supermen of Malegaon"

وقت گزرتا گیا۔
ناصر شیخ کی قابلیت نے ممبئی کے مشہور فلمسازوں کو متوجہ کیا۔
پونے فلم فیسٹیول میں زویا اختر نے ان سے ملاقات کی
اور وعدہ کیا کہ ایک دن وہ ان پر فلم بنائیں گی۔

کچھ سال بعد زویا اختر، فرحان اختر، ریتیش سدھوانی اور ریما کاغتی کی پروڈکشن میں
“Superboys of Malegaon” کے نام سے ایک بڑی ڈاکیومینٹری فلم بنی۔
اس کا بجٹ تقریباً 30 کروڑ روپے تھا۔

یہ فلم کینیڈا، لندن اور دیگر بین الاقوامی فلمی میلوں میں دکھائی گئی۔
دنیا بھر کے تھیٹروں میں ریلیز ہوئی اور زبردست کامیاب رہی۔
جاوید اختر کے بقول:

> “پندرہ سالہ فلم انڈسٹری میں ایسی شاندار فلم نہیں دیکھی۔”



یہ مالیگاؤں کے لیے بہت بڑی کامیابی تھی۔

“مالیگاؤں کے شعلے” کے بعد ناصر شیخ کو "کرنال کمپنی" سے
“خانदेश کی بارات، خانदेश کا جَوائی” نامی فلم کی پیشکش ملی
جسے ناصر شیخ نے بہترین انداز میں بنایا،
اور وہ فلم بھی بے حد پسند کی گئی۔

مشہور فلم ساز ڈپٹی بھٹناآگر کی کمپنی کی طرف سے
انہیں سیریل “مالیگاؤں کا چنٹو” کا آفر ملا
جو دنیا کے مختلف ممالک میں فلمایا گیا۔

اس سیریل کی ہدایتکاری ناصر شیخ نے کی —
جو ان کا بڑا کارنامہ مانا جاتا ہے۔
“مالیگاؤں کا چنٹو” میں ناصر شیخ نے خاموش مزاح کے ذریعے
ناظرین کو ہنسا ہنسا کر لوٹ پوٹ کر دیا۔
ان کا ٹیلنٹ پوری دنیا میں گونج اٹھا۔


---

💬 ناصر شیخ کا فلسفہ — ہنسی میں چھپا پیغام

ناصر شیخ کی فلموں میں صرف مزاح نہیں ہوتا،
بلکہ ہر کہانی میں ایک سماجی پیغام چھپا ہوتا ہے۔
وہ ہمیشہ کہتے ہیں —

> “میری کامیابی میری نہیں، مالیگاؤں کے فنکاروں کی کامیابی ہے۔”




---

🌈 اختتامیہ — مالیگاؤں سے دنیا تک کا سفر

ناصر شیخ کی کہانی صرف ایک فلم میکر کی نہیں،
بلکہ ایک خواب اور جدوجہد کی کہانی ہے۔
انہوں نے یہ ثابت کیا کہ
اگر لگن، جنون اور تخیل ہو،
تو مالیگاؤں جیسے چھوٹے شہر کا فنکار بھی
دنیا کے پردے پر اپنی شناخت بنا سکتا ہے۔


---

📍 تحریر: علیم طاہر
(فلم و ادب کے محقق، مالیگاؤں)