15:افسانہ
چراغ اور سایہ
افسانہ نگار: علیم طاہر
وہ ایک چراغ تھا۔
اسے جلنا آتا تھا۔
روشن ہونا، روشنی بانٹنا، لفظوں کو جِلا دینا — اسے فن آتا تھا۔
شہر اس سے واقف تھا۔ محفلوں میں نام آتا تو لوگ سر ہلاتے، تعریف کرتے۔ اس کی کتابیں، اس کی فلمیں، اس کے مکالمے، ہر گوشۂ شہر میں گونجتے تھے۔ وہ کہیں دور، کسی اور شہر میں تھا، مگر اس کی روشنی یہاں بھی پہنچتی تھی۔
پھر وہ کچھ دنوں کے لیے شہر آیا۔ چوک پر پرانی دوستیاں زندہ تھیں۔ ہنسی، چائے، کلام، سرگوشیاں۔ ایک رات، حسبِ روایت، سب اکٹھے بیٹھے۔
اُس رات ایک سایہ بھی تھا۔
لمبا، گٹھا ہوا، جس کی اپنی چمک کم تھی، مگر وہ دعویٰ کرتا تھا کہ چراغ کی لو کو جانتا ہے۔
چراغ مسکرا کر بولا، "سہرے کا کلام بھی اب کرائے پر؟"
سایہ چونکا۔ کچھ زیادہ سن لیا تھا۔ یا شاید کچھ زیادہ سمجھ لیا تھا۔
پھر وہ سایہ بڑھا… زبان میں زہر، لفظوں میں نفرت، اور آنکھوں میں بے چینی۔
چراغ نے چپ سادھ لی۔
"معذرت، اگر کچھ غلط کہا ہو۔"
مگر سایہ نہ رکا۔
ماں، بہن، باپ، کلام… سب نشانے پر تھے۔
چراغ پھر بھی جلتا رہا — صبر کی لو میں۔
محفل ختم ہوئی۔ چائے آئی۔
سایہ مغرور مسکراہٹ کے ساتھ بولا، "چائے پی لو، کچھ نہیں ہوا۔"
مگر چراغ کے اندر کی روشنی دھندلا گئی تھی۔
زخم اندر ہی اندر سلگنے لگا تھا۔
دن گزرے۔
چراغ نے روشنی دینا بند نہ کیا۔
کتابیں آتی رہیں، اسکرین پر نام چمکتا رہا۔
لیکن اب ایک نیا صفحہ جُڑ چکا تھا — سایہ سے سامنا۔
کبھی کبھی چراغ خود سے پوچھتا،
"کیا میں کمزور تھا، جو بول نہ سکا؟"
پھر وہی چراغ، خود کو سمجھاتا،
"نہیں، میں وہ تھا جس نے اندھیرے کو برداشت کر لیا، صرف اس لیے کہ روشنی باقی رہے۔"
مگر اب اس نے فیصلہ کر لیا تھا:
اگلی بار اگر سایہ پھر آیا —
تو وہ صرف چراغ نہیں رہے گا،
وہ شعلہ ہوگا۔
---
تاثر:
کامیابی کی روشنی اکثر ان سائے دار دلوں کو بھی روشن کر دیتی ہے، جن میں اندھیرے کا بسیرا ہوتا ہے۔ مگر روشنی کو یہ طے کرنا ہوتا ہے کہ کب برداشت کرنا ہے، اور کب خود کو جلانا ہے تاکہ سچائی کی تپش محسوس کی جا سکے۔
(C):
Afsana
Chiraag Aur Saaya
By
Aleem Tahir
No comments:
Post a Comment