ٹایٔٹل:
"علیم طاہر کی نظمیں"
(ادب اطفال)
("بطور خاص بچوں کے لئے،
علیم طاہر کی پچیس(25)
نظموں کا دلچسپ مجموعہ")
(حصۂ اول)
________________________________
کتاب کا نام: "علیم طاہر کی نظمیں"
(ادب اطفال)
بطور خاص بچوں کے لئے ،علیم طاہر کی پچیس (٢٥) ، نظموں کا دلچسپ مجموعہ)
________________________________
( ادب اطفال )
فہرست:
01...........حمد
02...........بچہ اور اردو
03۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بارش
04۔۔۔۔۔۔۔۔مثالی مدرس
05۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔گھوڑا اور بکرا
06۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔باپ
07۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ماں
08۔۔۔۔۔۔۔شیر اور خرگوش
09۔۔۔۔۔۔۔۔۔صبح سویرے
10۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جھاڑو والا
11۔۔۔۔۔۔۔۔میرا پیارا پیارا گاؤں
12۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مری اردو زباں
13۔۔۔۔۔۔۔۔ بیٹیاں
14۔۔۔۔۔۔۔۔۔چڑیا اور جگنو
15۔۔۔۔۔۔۔۔۔دھوپ
16۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔طوطا
17۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پیارے گاندھی جی
18.......شیر اور چوہا
19.......تتلی اور بچّہ
20.........پیاسا کوّا
21..... اک بچّے نے چاند سے بولا
22......... ابّا ابّا سنو تو ابّا
23.........چیتا اور گدھا
24...........ایک بیٹی کی پیاری باتیں
25............دو بلیاں
________________________________
:::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::
( ادب اطفال)
نمبر 01:
حمد........................علیم طاہر
قلب میں دھڑکن بن کر اترا نام ترا
سارے ناموں میں ہے پہلا نام ترا
ساگر ساگر بولیں موجیں یا اللہ
ورد کرے ہے دریا دریا نام ترا
رات اور دن پر تیرا نام مسلط ہے
لے کر نکلے سورج چندا نام ترا
صبح ہوئی تو پھول پھول کے چہرے پر
شبنم کے قطروں میں چمکا نام ترا
بادل بادل سرد ہوا کے جھو نکو ں سے
قطرہ قطرہ بول کے برسا نام ترا
اڑتے اڑتے پنجھی ہر دم لیتے ہیں
وادی وادی صحرا صحرا نام ترا
کیڑوں کو دی تو نے غذائیں پتھر میں
پتھر کے اندر بھی گونجا نام ترا
مستانے انداز میں پل پل یاد کرے
شجر شجر کا پتہ پتہ نام ترا
روشن لعل و گوہر تیرے نام سے ہیں
لے کر چمکے پل پل مولا نام ترا
جگنو تتلی بھنو رے تیرا ذکر کرے
ہر گل میں ہیں مہکا مہکا نام ترا
صدف کھلی تو پھیلا نور اندھیرے میں
طاہر نے بھی روشن پایا نام ترا
(C):Aleem Tahir
Adab e Atfaal
Hamd no.01.
Email id: aleemtahir12@gmail.com
Mobile no.9623327923.
.........................................۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
02:( ادب اطفال )
نظم نمبر:02۔۔۔۔۔" بچہ اور اردو "
علیم طاہر
تو چاہت سکھاتی ہے، چاہوں گا اردو
ترے ساتھ رشتہ نبھاؤں گا اردو
دیوانہ ہوں تجھ کو ہی سوچوں گا اردو
لکھوں گا پڑھوں گا میں بولوں گا اردو۔۔۔۔۔
بزرگوں کا ماضی تجھی سے ملے گا
مرا دل ہے غنچہ ،تجھی سے کھلے گا
جو دل زخمی ہو گا تجھی سے سلے گا
چلوں گا ترے ساتھ ٹھہروں گا اردو
لکھوں گا پڑھوں گا میں بولوں گا اردو۔۔۔۔۔
زمانے میں یوں تو کئی ہیں زبانیں
تجھی پر مگر سب لٹاتے ہیں جانیں
سبھی تجھکو بولے سبھی تجھکو مانیں
ترانوں سے تیرے میں بہلوں گا اردو
لکھوں گا پڑھوں گا میں بولوں گا اردو۔۔۔۔۔۔
زباں مادری میری تو ہی زباں ہے
زباں ترے جیسی کوئی بھی کہاں ہے
تو ہی میرا دل ہے تو میرا جہاں ہے
لگا کر گلے تجھ کو چوموں گا اردو
لکھوں گا پڑھوں گا میں بولوں گا اردو۔۔۔۔۔۔۔
علیم طاہر
(C: 02:
Aadab e Atfaal
Nazm no:02
"Bachcha Aur Undu"
Aleem Tahir.
Email id: aleemtahir12@gmail.com
Mobile no.9623327923.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
03: ( ادب اطفال )
نظم ۔۔۔۔۔نمبر 02 " بارش "
علیم طاہر
دھوم مچائے رنگ جمائے
رنگ برنگے گل مہکائے
جنگل جھومے اور مسکائے
پنچھی پنچھی شور مچائے
ہر جانب جل تھل ہو جائے
جب بھی چھم چھم بارش آئے
دریا دریا آئی روانی
ہر ذرے پر چھائی جوانی
یوں ہی دنیا نہیں دیوانی
بارش کی خوش رنگ کہانی
خوشیوں کے سب تحفے لائے
جب بھی چھم چھم بارش آئے
فلک فلک بادل گرجے ہیں
دھنک دھنک جلوے بکھرے ہیں
چھنک چھنک قطرے ٹپکے ہیں
مور تھرکتے پر پھیلائے
جب بھی چھم چھم بارش آئے
امبر پر ہلکی لالی ہے
ہر سو چھائی ہریالی ہے
رنگ برنگی خوشحالی ہے
شاخیں جھومیں ،کوئل گاۓ
جب بھی چھم چھم بارش آئے
(C) : 03
(Aadab e Atfaal)
Nazm no.03
Aleem Tahir.
Mob no.9623327923
Email id: aleemtahir12@gmail.com
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نمبر 04:ادب اطفال
نظم نمبر 04:مثالی مدرس
علیم طاہر
خدا کی ہے رحمت مثالی مدرس
ہےدولت ہی دولت مثالی مدرس
منور کرے علم کی روشنی سے
مشرف کرے دل کو ہر اک خوشی سے
کرے ہم میں پیدا جو خود اعتمادی
قدم ہر قدم جس نے ہم کو دعا دی
بحسن عمل جو فرائض نبھائے
ہمیں سچ کی راہوں پہ چلنا سکھائے
جو ماہر ہے تحریر و تقریر میں بھی
جو ظاہر ہے ہستی کی تفسیر میں بھی
رکھے قوت فیصلہ بھی جو محکم
کرے پست ہمت نہ جس کی کوئی غم
جو طلبہ کی فکروں کو پہچانتا ہو
عبادت جو تدریس کو جانتا ہو
بدل دے جو فکروں کو حسب ضرورت
جو ہم کو سکھائے معیاری خطابت
جو واقف ہو رجحان تعلیم سے بھی
رکھے منسلک خود کو تسلیم سے بھی
رہے باخبر سب کی سرگرمیوں سے
مخاطب جو طلبہ سے ہو نرمیوں سے
جو صبر و تحمل کا دامن نہ چھوڑے
کرے جو بھی وعدہ تو وعدہ نہ توڑے
جو ہے باشعور اور وسیع النظر بھی
جو ہے مستند علم کا ہم سفر بھی
جو مرکز ہے علم و عمل کے جہاں کا
اہم ایک کردار ہے داستاں کا
کرے استفادہ جو ہر تجربے سے
بڑھے ہر قدم علم کا حوصلے سے
لچکدار جس کا رویہ ہو سب سے
کرم پائے مخصوص جو اپنے رب سے
سراپا شرافت مثالی مدرس
اے طاہر حقیقت مثالی مدرس
( C )Aleem Tahir.
04:Aadab e Atfaal
Nazm no 04: Misali Mudarris
By Aleem Tahir.
Mobile no.9623327923
Email id.aleemtahir1@gmail.com.
________________________________
نمبر 05(ادب اطفال)
نظم نمبر 05 " گھوڑا اور بکرا "
نظم نگار : علیم طاہر
اک گھوڑا ہٹا کٹا تھا
ساتھ اسکے مالک رہتا تھا
گھوڑا اب بیمار ہوا جو
صحت سے لاچار ہوا جو
مالک نے ڈاکٹر کو بلایا
پھر گھوڑے کا ڈاکٹر آیا
دیکھا , پڑا ہوا ہے گھوڑا
لاغر سا , ادھمرا ہے گھوڑا
ڈاکٹر نے پھر کھولا, جھولا
دوا دیا ، دس دن کی، بولا
دس دن میں ہو ٹھیک تو، بہتر
مار دو ورنہ ، زہر ہی دے کر
ساتھ وہیں ، بکرا بیٹھا تھا
غور سے سب کچھ دیکھ رہا تھا
گھوڑا اٹھ پایا نہ، دوا سے
بولا بکرا کان میں جا کے
بھائی تھوڑی کوشش کر کے
کھڑا ہی ہو جا ،جان کے ڈر سے
مار ہی دیں گے، ورنہ، تجھ کو
فکر لگی ہے تیری مجھ کو
اٹھا نہ گھوڑا ،دس دن بیتے
مالک نکلا ، زہر کو لینے
ایک دفعہ ، پھر بولا بکرا
مرے گا اب تو، کھڑا ہی ہو جا
مار ہی دیں گے , آج تجھے یہ
خبر ہوئی ہے, ابھی مجھے یہ
گھوڑے میں کچھ ہمت آئی
موت کے ڈر سے قوت آئی
دھیرے دھیرے کھڑا ہوا وہ
ذرا چلا ، پھر دوڑ پڑا وہ
مالک زہر جو لے کر آیا
دوڑ رہا ہے گھوڑا دیکھا
جھوم اٹھا, خوشیوں میں آ کر
بولا یاروں سے، چلا کر
اچھی گھوڑے کی صحت ہے!
رات کو بکرے کی دعوت ہے!
اس قصے سے سیکھا ہم نے
عقل کے ذریعے دیکھا ہم نے
خوب کرو اوروں کی پروا
اپنی پرواہ بھول نہ جانا
(C):
(05)Aadab e Atfaal
"Ghoda Aur Bakra "
By Aleem Tahir
Email id:
aleemtahir12@gmail.com
Mobile no.9623327923.
________________________________
ادب اطفال 06:
(باپ).....نظم نمبر 06...علیم طاہر
(ماں کے موضوع پر کافی شاعری اور نثردنیائے ادب میں موجود ہے لیکن باپ کے موضوع پر خال خال ہی مواد ملتا ہے جبکہ کہا گیا ہے کہ ماں کے قدموں کے نیچے جنّت ہے تو باپ جنّت کا دروازہ ـ یہ گیت باپ کے نام ، فخر و انبساط کے ساتھ ـ ( علیم طاہر ).....
(ادب اطفال) نظم۔نمبر 06 ......…... " باپ "
علیم طاہر
رنگ برنگے ہیں کھلونے باپ سے
پیارے سپنے ہیں سلونے باپ سے
باپ سے جواں ہیں سارے حوصلے
باپ سے آسان اپنے راستے
گھر کی جگمگاتی شان باپ ہے
خواب، فخر اور دھیان باپ ہے
باپ ہی ہے دیپ باپ تیل ہے
باپ ہی سے ہنستے گاتے کھیل ہے
آرزؤ ں کا ہے آسمان باپ
ہر گھڑی ہے ہم پہ مہربان باپ
مسکراہٹوں کی جان باپ ہے
گھر کی جگمگاتی شان باپ ہے
خواب،فخر اور دھیان باپ ہے
باپ ہی سے زندگی کے رنگ و روپ
باپ ہی سے چھاؤں بنے ،سخت دھوپ
باپ دکھ کو سہہ کے سکھ عطا کرے
رحمتیں ہوں با پ پر خدا کرے
ماں کے اپنے درمیان باپ ہے
گھر کی جگمگاتی شان باپ ہے
خواب، فخر اور دھیان باپ ہے
Topic (Baap) a geet by Aleem Tahir .
________________________________
(ادب اطفال) نمبر 07
نظم نمبر : 07 (ماں)
علیم طاہر
گھنیرے پیڑ کی ٹھنڈی ہوا سی چھاؤں لاگے ماں
سدا سورج نکلنے سے ہی پہلے گھر میں جاگے ماں
نہیں کھانے کی ضد میں بھاگ پڑتا ہے کبھی بچّہ
نوالہ لے کے اس بچّے کے پیچھے دیکھو بھاگے ماں
سنبھالےرہتی ہےکس طرح نا زک رشتے ناطوں کو
کبھی بھی ٹوٹنے دیتی نہیں یہ کچےّ دھا گے ما ں
بہو بیٹی ہو یا پھر ہو بہن بیو ی ، کوئی رشتہ
قطاروں میں بھی رشتوں کی یہاں ہے سب سے آگے ماں
اے طاہر جو ملا ہم کو ، ملا ما ں کی دعا ؤ ں سے
جو تیری قدر نہ جانے وہ ہے کتنے ا بھاگے ماں
(c)...(maan)...by...AleemTahir.
_______________________________
ادب اطفال نمبر 08 ۔۔
نظم نمبر 08 "شیر اور خرگوش"
علیم طاہر
جنگل کی ویران راہ سے اک خرگوش چلا تھا
شیر ادھر جو آ نکلا تو رک کر بہت ڈرا تھا
شیر نے پھر خرگوش سے پوچھا کہاں چلے خرگوش
تھر تھر تھر تھر کانپ کےچپ تھا اڑے تھے اس کے ہوش
سمجھ گیا تھا خیر نہیں ہے جائے گی اب تو جان
اک ترکیب سمجھ میں آئی کہنے لگی زبان
کنویں کے ایک شیر نے مجھ کو بلوایا ہے آج
کنویں میں رہ کر کرتا ہے وہ جنگل پر راج
شیر دہاڑا، کنویں کا بھی کوئی شیر یہاں ہے ؟
کبھی تو ہم نے نہیں سنا تھا اور دیکھا بھی کہاں ہے؟
تب خرگوش نے بات بنائی! بولا مرے حضور!
وہ کنویں میں رہتا, ورنہ آتا نظر ضرور
اک اک کر کے سب کو بلاتا ،کھاتا ،موج اڑاتا
اب جو یقیں نہ آئے تو خود چل کر میں دکھلاتا
شیر نے پوچھا کیسے آیا وہ کنویں کا شیر
بولا پھر خرگوش ،نہ جانوں، چلیے ہوگی دیر
گرجا! بولا, شیر گرج کر۔ ," مزہ چکھاؤں گا"
جس نے سب کوکھایا اس کو موت دکھاؤں گا
بولا یہ خرگوش ادب سے وہاں چلیں نہ آپ
بہت ہی موٹا تازہ ہے وہ، کیے ہیں اس نے پاپ
کہیں آپ کو وہ کوئی نقصان نہ پہنچا دے
یہی سوچ کر دل میرا اندر اندر کانپے
چلا کر پھر شیر نے بولا ہمیں ڈراتے ہو
چلو بتاؤ کہاں ہے وہ ،کیوں وقت بتاتے ہو
نہیں مانتے آپ تو چلیے، ابھی بتاؤں گا
پاس کنویں کے لےجا کرمیں اسے دکھاؤں گا
ایک کنویں کے پاس رکا، اور بولا پھر خرگوش
اس میں رہتا ہے وہ دیکھو، بھرا ہے اس میں جوش
شیر نے کنویں میں جو جھانکا ،اپنا عکس ہی پایا
وہ سمجھا کوئی دوسرا شیر ہے اس کو غصہ آیا
دیکھ کے اس نے خوب دہاڑا، جیسے ہی وہ ٹھہرا
ویسی ہی آواز آئی تھی کنواں بہت تھا گہرا
یہ سن کر غصے میں آیا اور کودا اندر
احمق شیر تو ڈوب گیا پر سبق دیا مر کر
پیارے بچو! جوش میں اپنا ہوش نہیں کھونا
احمق شیر کی طرح جان سے ہاتھ نہیں دھونا
(C)Nazm:
"Sher Aur khargosh "
By:
Aleem Tahir
Email id: aleemtahir12@gmail.com
________________________________
ادب اطفال نمبر 09.
نظم نمبر 09۔۔۔صبح سویرے
آنکھیں کھولو، چھوڑو بستر, صبح سویرے
پیارے بچو ، دیکھو باہر , صبح سویرے
بابا امبر، صوفی دھرتی , اڑتے پنچھی
کیا کیا ہے ،نورانی منظر, صبح سویرے
غسل سے فارغ، ہو کر لو ،تھوڑی ورزش
کام یہی ہے ،سب سے بہتر, صبح سویرے
فجر نمازیں ادا کرو ، مسجد میں جا کر
کرو دعائیں ہاتھ اٹھا کر , صبح سویرے
جو مانگو گے ،تمہیں ملے گا،کرو دعائیں
سب کے لئے ہے، اللہ اوپر, صبح سویرے
جلد اٹھے جو، نہیں پڑے بیمار کبھی وہ
ہاتھ پھرے قدرت کا سرپر , صبح سویرے
رات کو جلدی سونا ہو گا ،پیارے بچو !
آنکھ کھلے گی تب ہی جاکر ,صبح سویرے
علیم طاہر
(C)Aleem Tahir
Adab e Atfaalno. 09
Nazm no.09.
"Subh Sawere "
Email id: aleemtahir12@gmail.com
Mobile no:
9623327923.
________________________________
ادب اطفال نمبر:10
: نظم نمبر 10 " جھاڑو والا "
* علیم طاہر
دیکھو جھاڑو والا آیا
اچھی اچھی جھاڑو لایا
لمبی ،چھوٹی،موٹی، پتلی
کتنی جھاڑو ،اچھی، اچھی
گلی گلی آواز لگا کر
پھرتا ہے سائیکل پر آ کر
رک رک کر آگے بڑھ جا ۓ
گردن پر جھاڑو لٹکاۓ
کوئی بلاۓ تو رک جائے
رک کر ہر جھاڑو دکھلاۓ
لمبی، پتلے ریشے والی
یہ ہے فرش پہ دینے والی
آنگن والی موٹی جھاڑو
لے لو اچھی چھوٹی جھاڑو
خوبی جھاڑو کی گنواۓ
دل جیتے اور قیمت پاۓ
علیم طاہر
(C):Adab e Atfaal: no.10
Nazm no.10: "Jhadu wala"
Email id: aleemtahir12@gmail.com
Mobile no.9623327923.
________________________________
ادب اطفال نمبر 11.
نظم نمبر: 11
"میرا پیارا پیارا گاؤں"
* علیم طاہر
میرا پیارا پیارا گاؤں
جنت کا نظارا گاؤں
جب بھی گھر سےنکلوں میں
کیا کیا منظر دیکھوں میں
چاروں جانب ٹیلے ہیں
سب منظر رنگیلے ہیں
صبح نکلتا وہ سورج
کھلا ہوا ہے ہر پنکج
پگڈنڈی ہے کھیتوں میں
سوندھی خوشبورستوں میں
برگد کے نیچے ٹھہرو
پنگھٹ کا منظر دیکھو
فلک فلک اڑتے پنچھی
دھرتی پر باجے بنسی
جھرنوں سے گرتا پانی
ندیا بھی ہے مستانی
جھیل کی اپنی دنیا ہے
منظر منظر سپنا ہے
پیڑوں کے گہرے سائے
گرمی میں ٹھہرے ساۓ
جب چھاۓ کالے بادل
فلک سے برسے ٹھنڈا جل
جب ہو سردی کا موسم
تب ہو خوابیدہ عالم
لہکے ، مہکے ہریالی
مرے گاؤں میں خوشحالی
میرا پیارا پیارا گاؤں
جنت۔ کا نظارا گاؤں
علیم طاہر
(C): Nazm no.11.
Email id:
aleemtahir12@gmail.com.
________________________________
"ادب اطفال نمبر 12"
نظم نمبر 12:میری اردو زباں
علیم طاہر
دنیا کی زبانوں میں دیکھا تجھ جیسی کوئی بھی ملی کہاں ؟
میری پیاری زباں ،میری اردو زباں ،میری پیاری زباں میری اردو زباں
رہتی دنیا تک رہے صدا ایسے ہی ہیں سرتال ترے
حالی ,والی ,اعجاز, داغ, میر و غالب, اقبال, ترے
محفوظ ہیں تجھ میں تاریخیں, خود میں رکھے، صدیوں کے نشاں
میری پیاری زباں, میری اردو زباں, میری پیاری زباں میری اردو زباں
تیرا لہجہ ہے جادو جیسا, گھنگرو تجھ میں خوشبو تجھ میں
گل ،شبنم، تتلی، تجھ میں ہے, چندہ تارے جگنو تجھ میں
محفوظ ہیں تجھ میں تاریخیں، خود میں رکھے، صدیوں کے نشاں
میری پیاری زباں میری اردو زباں میری پیاری زباں میری اردو زباں
علیم طاہر
(C) Abab e Atfaal no.12.
Nazm:"Meri Urdu zubaa "
By Aleem Tahir
Email id: aleemtahir12@gmail.com
9623327923.
________________________________
ادب اطفال نمبر: 13
نظم نمبر13:
'بیٹیاں '
علیم طاہر
پریاں ہیں پیاری پیاری، پریاں، بیٹیاں
ننھی شاخوں پہ کھلتی، کلیاں، بیٹیاں
ان کے آنے سے آیا, نور , خدا کا
ان کے ہونے سے چمکا, رنگ, وفا کا
ان کے رہنے سے مہکا , باغ, ادا کا
پریاں ہیں پیاری پیاری پریاں، بیٹیاں
ننھی شاخوں پہ کھلتی کلیاں، بیٹیاں
ان کے سبب سب گھر میں اجالے ہیں
ان کے سبب جنت کے حوالے ہیں
ان کے سبب تقدیر میں نوالے ہیں
پریاں ہیں پیاری پیاری پریاں ، بیٹیاں
ننھی شاخوں پہ کھلتی ,کلیاں ،بیٹیاں
ماؤں کے ہونٹوں مسکان ان سے ہے
باپوں کی آن, بان, شان, ان سے ہے
اپنے گھروں کی, پہچان, ان سے ہے
پریاں ہیں پیاری پیاری ، پریاں ،بیٹیاں
ننھی شاخوں پہ کھلتی ،کلیاں، بیٹیاں
(C):Adab e Atfaal no ۔13
Nazm no.13:
By Aleem Tahir
Email id: aleemtahir12@gmail.com.
Mobile no.9623327923.
________________________________
ادب اطفال نمبر: 14
"چڑیا اور جگنو"
علیم طاہر
صبح ہوئی اور گھونسلے سے نکلی چڑیا
اڑتے اڑتے دور جنگل پہنچی چڑیا
کھانے پینے میں گزرا دن سارا اس کا
آ ہی گیا بن کر دشمن اندھیارا اس کا
اس نے سوچا اب میں کیسےگھر جاؤں گی
اندھیارے میں کہاں کہاں پر ٹکراؤ ں گی
جب وہ چڑیا بہت دکھی تھی دیکھااس کو
اک جگنو نے ہمدردی سے پوچھا اس کو
بی چڑیا غمگین ہو اتنی کیوں تم بولو ؟
کیا ہے غم کا راز ذرا یہ مجھ پر کھولو
بولی چڑیا " بھائی کتنا اندھیارا ہے "
"گھر جاؤں گی کیسے اس کا دکھ سارا ہے"
جگنو بولا "بی چڑیا بس بات ہے اتنی"
" میں رستہ دکھلاؤں گا یہ رات ہے جتنی"
جگنو کہہ کر اڑا ہی تھا کہ ہوئی روشنی
پیچھے پیچھے اڑی تھی چڑیا ملی روشنی
آہی گیا پھر اڑتے اڑتے گھر چڑیا کا
ختم ہوا تھا دل میں جو تھا ڈر چڑیا کا
بولی چڑیا ، " جگنو بھائی ! تم اچھے ہو"
نیک بھی ہو ہمدرد بھی ہو اور اک سچے ہو
جو اچھے رہتے ہیں وہ آتے ہیں کام
اچھائی کا رب سے پاتے ہیں انعام
ہنس کر اڑتے اڑتے نکلا آگے جگنو
" ننھا نور فرشتہ " جیسا لاگے جگنو
(C): Adab e Atfaal no.14:
Nazm no:14.
"Chidiya Aur Jugnoo"
Email id: aleemtahir12@gmail.com
Mobile no.9623327923.
________________________________
ادب اطفال نمبر: 15
نظم نمبر: 15
" دھوپ "
علیم طاہر
روز سورج سے ہوتا جنم دھوپ کا
ہے خُدا کے کرم سے کرم دھوپ کا
دھوپ بهی جلتی رہتی ہے غم میں سدا
دُھوپ میں جلتا رہتا ہے غم دُھوپ کا
دھوپ سردی میں ملتی رہے تو مزا
لطف گرمی میں ملتا ہے کم دھوپ کا
بھاگ جائے گی ظلمت بھی تب رات کی
جب بھی بکھرے گا دھرتی پہ دم دھوپ کا
اپنی اسکول پھر جلد کل جائیں گے
صبح دیکھیں گے چہرہ جو ہم دھوپ کا
دھوپ رکھے ہیں سب کا بھرم دوستو
اور رکھا ہے سب نے بھرم دھوپ کا
اس میں ملتا نہیں ہے تعصب کبھی
صرف انسانیت ہے علم دھوپ کا
دل لگی کتنی گہری ہے جگ سے اسے
جیسے طاہر یہ جگ ہے حشم دھوپ کا
(C):Adab e Atfaal no.15.
A Nazm"Dhoop" no.15.
by ALEEM TAHIR
Email id: aleemtahir12@gmail.com
Mobile no.9623327923.
________________________________
ادب اطفال نمبر :16
نظم نمبر: 16۔
"طوطا "
علیم طاہر
مٹھو مٹھو سب کہتے ہیں میں طوطا ہوں
ساتھ مرے، بچے رہتے ہیں میں طوطا ہوں
چونچ لال ہے ,جسم ہرا ہے, پیلے پاؤں
میری آنکھیں, رنگ بدلتی, دھوپ ، چھاؤں
دہراؤں گا , نقل کروں گا, جو بولو گے
پیرو مجھ کو, بہت پسند ہے, لا کر دو گے؟
مجھ کو "پنجرہ گھر"، دے کر تم پال رہے ہو
وقت وقت پر ، کھانا پانی ،ڈال ر ہے ہو
کیا لینا دینا ہے مجھ کو اب جنگل سے
میں توخوش ہوں آیا ہوں پچھلے منگل سے
تم اچھے انسان ہو, میں ہوں, اچھا, پنچھی
دل بہلانے والا , دل کا , بچہ , پنچھی
بولو پیار سے مٹھو مٹھو منہ تو کھول
بولو پیار سے اللہ اللہ اللہ بول
(C) Adab e Atfaal no: 16
Nazm no: 16
"Tota "
By:Aleem Tahir
Email id aleemtahir12@gmail.com
Mobile no.9623327923.
________________________________
ادب اطفال نمبر: 17
نظم نمبر: 17
"پیارےگاندھی جی"
علیم طاہر
آن،بان اور شان تھے پیارے گاندھی جی
بھارت کی پہچان تھے پیارے گاندھی جی
دھوتی، لاٹھی، چشمہ، چپل، تھی پہچان
اک رہبر انسان تھے پیارے گاندھی جی
چپل پہنے میلوں پیدل چلتے تھے
وہ پختہ ارمان تھے پیارے گاندھی جی
ان کا ہر اک کام کرشمہ جیسا تھا
ہم سب پر احسان تھے پیارے گاندھی جی
سارے فرنگی ہار گئے ان کے آگے
دشمن کو نقصان تھے پیارے گاندھی جی
پیار سے ان کو باپو بھی کہتے ہیں سب
نفرت سے انجان تھے پیارے گاندھی جی
وہ چرخے سے سوت کو کاتا کرتے تھے
محنت کی پہچان تھے پیارے گاندھی جی
امن و سکوں کے سچے پکے شیدائی
صبر و عمل کا گیان تھے پیارے گاندھی جی
بھارت کو آزاد کرایا زندہ باد
بھارت کی سنتنان تھے پیارے گاندھی جی
ستہ گرہ ہو، مون برت، یا آندولن
ہمت میں بلوان تھے پیارے گاندھی جی
ہر مذہب سے الفت ان کا شیوہ تھا
انساں کی پہچان تھے، پیارے گاندھی جی
سب کو جہالت سے دلوائی آزادی
علم کی اعلیٰ شان تھے پیارے گاندھی جی
ہندو ، مسلم اتحاد کے حامی تھے
یکجہتی کی جان تھے، پیارے گاندھی جی
علم کے اک ہتھیار سے جیتا جنگوں کو
سمجھو تو آسان تھے، پیارے گاندھی جی
اچھی اسکیموں کے پرچم لہرائے
طاہر عالیشان تھے ، پیارے گاندھی جی
(C): Adab e Atfaal no 17:
Nazm:no:17. "Peyare Gandhi Ji "
By:Aleem Tahir
Email id:
aleemtahir12@gmail.com
Mobile no.9623327923.
________________________________
(بچوں کی نظم) .... ( شیر اور چوہا ) نمبر: 18
سویا تھا جنگل کا راجہ اک برگد کے نیچے
پڑا ہوا تھا ضدّی چوہا یوں ہی اس کے پیچھے
شیر کے تن پر اُچھل اُچھل کر چوہا دوڑ لگا تا
لیکن شیر کے پنجّے میں وہ جلد ہی پکڑا جاتا
شیر نے بولا چھوٹے چوہے تیری اتنی جراءت
نیند سے تُو نے مجھے جگایا ایسی تیری ہمّت
اب میں تجھ کو کھا جاؤں گا کروں گا قصّہ پاک
چوہا بولا مجھ چوہے سے بھوک مٹے گی خاک
آج مجھے جو چھوڑو گے تو کل آؤں گا کام
رحم کرو جنگل کے راجہ اور کرو آرام
چوہے سے یہ سن کر چھوڑا بخش دی اس کی جان
شیر نے اپنی نیند کی چادر دوبارا لی تان
اُس دن ایک شکاری آیا شیر پہ ڈالا جال
شیر جال میں پھنس کر تڑپا برا تھا اس کا حال
گیا شکاری سرکس کی اک لاری کو لانے
تھوڑی دیر ہی گزری ہو گی بس اس کو جانے
اپنی بل سے چوہا نکلا دیکھا یہ منظر
سب چوہوں کو دعوت دی کہ آؤ سارے مل کر
میرا اک احسان چکا دو آج کتر دو جا ل
جس نے میری جاں بخشی تھی برا ہے اس کا حال
سب چوہوں نے جال کو کترا شیر ہوا آزا د
رحم کے بدلے رحم ہی پایا ہوا کہاں بربا د
ایک سبق ملتا ہے اس سے رحم کرو سب پر
رب بھی ہم پر رحم کرے گا یقیں رکھو رب پر
(Bachchon ki nazm)
( sher aurchuhaa)
Nazm no.
no.18....by..Aleem Tahir.
_______________________________
بچّوں کی نظم..
(تتلی اور بچّہ) ..نمبر.....19
تتلی بولی ننّھے راجہ یوں بھاگو نہ پیچھے
گرِ نہ جاؤ دائیں بائیں دیکھو اوپر نیچے
رنگ برنگے باغ میں میر ے پیچھے پڑ گئے کیوں؟
مجھ کو چُھُونے کی خواہش میں ضد پر اڑ گئے کیوں؟
بولا بچّہ پیاری تتلی سنو نا میری بات
میرے دل میں خواہش جا گی تمہیں لگاؤں ہاتھ
رنگ برنگی پیاری پیاری تم وہ رنگیلی ہو
چُھونے کی خواہش جاگی ہے تم وہ چمکیلی ہو
بولی تتلی اچّھے بچّے دیکھو لطف اٹھاؤ
کچّے رنگ ہیں میرے مجھ کو ہاتھ ذرا نہ لگاؤ
چُھونے کی ضِد چھوڑو اور کرو ِمرا دیدا ر
رنگ برنگی دِکھتی ہوں تو دِکھنے دو نا یا ر
بولا بچّہ تتلی رانی سمجھ مجھے آیا
میری نادانی تھی تم کو چُھُو نے کو للچایا
بس تم کو دیکھوں گا ا پنا جی بہلاؤں گا
اب ہر گز کچّے رنگوں کے پاس نہ آؤں گا
اُڑتے اُڑتے ُگل پر بیٹھی تتلی مسکا ئی
اپنے پروں کو پھیلا کر پھر رنگ نئے دکھلائی
تتلی نے پر پھیلائے تو فضا ہوئی متوالی
چمک اٹھیں بچّے کی آنکھیں بجا دیا پھر تالی
(Bachchon ki nazm) " titli aur bachcha"....no.19...by...Aleem Tahir...
________________________________
نمبر :20.............
پیاسا کّوا.......علیم طاہر
اڑتے اڑتے جنگل سے اک کوّا آیا
پانی پینے کی خواہش وہ ساتھ ہی لایا
کچّے گھر کے باہر تھا اک مٹکا خالی
لیکن اس کے اندر دیکھا تھوڑا پانی
مٹکے میں جب چونچ کو ڈالا چونچ نہ پہنچی
لگی ہوئی تھی زور کی اس کو پیاس بھی ایسی
اس نے سوچا چونچ میں پانی کیسے آئے
پیاس کی شدّت دیکھو کیسے عقل جگائے
ڈال رہا تھا مٹکے میں وہ اک اک کنکر
اِس تدبیر سے تھوڑا پانی آیا اوپر
جی بھر کے کوّے نے اپنی پیاس بجھائی
کیسے سوچ سمجھ کے من کی منزل پائی
پیارے بچّو سوچ سمجھ کر کام کرو سب
تدبیروں سے ہو جاتا ہے چاہے جو رب
(Bachon ki nazm) payasa kawwa...no.20
by...Aleem Tahir....
________________________________
نمبر :21 :
"اک بچّے نے چاند سے بولا"
.................علیم طاہر
اک بچّے نے چاند سے بولا چندا ماما سُن
جب آتی ہے رات اندھیری سب گائیں ترے گُن
بدلی میں تُو چھپ جائے تو ناچ دکھائے تارے
جگمگ جگمگ جگمگ جگمگ چاندنی جیسے سارے
تُو بدلی سے جب نکلے تو تارے منہ لٹکائے
تیرے اجیاروں کے آگے شرما کے چھپ جائے
دل تاروں کا تُو نے دُ کھایا کر لے یہ احساس
مانا تاروں سے بھی زیادہ نور ہے تیرے پاس
اپنا سمجھے جو اوروں کو وہی بڑا ہے چاند
تاک رہا ہے سُن کے ابھی تک اور کھڑا ہے چاند
جا جا کر تاروں کو منا لے تیرے اپنے ہیں
ان بیچاروں کے دل میں بھی پیارے سپنے ہیں
تُو نے میرا کہنا مانا جاتا ہے ما ما
میر ا دل بھی اب تیرے گن گاتا ہے ما ما
(bachchon ki nazm)
Nazm no.no.21.....by...Aleem Tahir
______________________________
(بچّوں کی نظم)..
" ابّاابّا سنو توابّا "..نمبر..22
.علیم طاہر.
ابّا ابّا سُنو تو ابّا !
گاؤں میں اک میلا آیا
میں نے سُنا ہے اس میلے نے
دنیا بھر کی خوشیاں لایا
چھُک چھُک کرتی ریل وہاں ہے
بندوقوں کا کھیل وہاں ہے
جھولے بجلی سے چلتے ہیں
بچّے رسّی پہ چلتے ہیں
اچھل کود کو سُرکنڈی ہے
نئے کھلونوں کی منڈی ہے
ایک کنواں ہے موت کا گہرا
چاروں جانب اس کے پہرا
اس میں موٹر سائیکل والا
نیچے سے اوپر کو آتا
اوپر سے نیچے کو جاتا
ہاتھ چھوڑ کے خوب چلاتا
اک بچّوں کی دنیا بھی ہے
رستہ بھول بھلیّا بھی ہے
اک آئینہ خانہ بھی ہے
بس ہنستے ہی جانا بھی ہے
میری دلچسپی کا سبب ہے
بولو آپ کو چھٹّی کب ہے؟؟؟
ابّا ابّا سنو تو ابّا!
گاؤں میں اک میلا آیا
میں نے سنا ہے اس میلے نے
دنیا بھر کی خوشیاں لایا
سنڈے کو پکّا جی ابّا
وعدہ ہے وعدہ جی ابّا
(Bachchon ki nazm)
A Nazm no: 22..................... by Aleem Tahir.....
________________________________
(بچّوں کی نظم)
( چیتا اور گدھا )...نمبر:23..
علیم طاہر
گدھے سے بولا اک چیتا بیٹھ جا میرے سنگ
اور بتا دے کیسا ہے آسمان کا رنگ
میرا یہی سوال ہے دے دے سہی جواب
اپنی عقل کا پا لے تُو مجھ سے بڑا خطاب
گدھے نے بولا کالا ہے آسمان کا رنگ
چیتا بولا نیلا ہے عقل ہوئی تری بھنگ
بحث بڑھی جب دونوں کی پھر یہ طئے پایا
دھیان شیر سے ملنے کا چیتا کو آیا
جنگل کا ہے راجہ شیر چیتا بولا چل
وہی نکالے گا اپنی اس اُلجھن کا حل
شیر نے دیکھا دونوں کو بولا کیا ہے بات؟
تم دونوں ملنے مجھ سے کیوں آئے ہو ساتھ؟
چیتے نے فریاد کی مائی باپ سرکار
آسمان ہے نیلا پر گدھا کرے انکا ر
گدھے سے میں نے پوچھا تھا فلک کا کیسا رنگ
بول رہا ہے کالا ہے بحث کرے مرے سنگ
دودھ کا کر دو دودھ تم پانی کا پانی
پھر جنگل میں کوئی بھی کرے نہ من ما نی
سُن کر چیتے کی باتیں ، غصّے میں آیا
حکم دیا اور چیتے کو ، جیل میں ڈلو ا یا
گدھے سے بولا شیر نے جاؤ تم آزاد
یہی مرا انصاف ہے رکّھو مجھ کو یا د
چیتا بولا شیر سے دل کو کیا سمجھا ؤ ں؟
سچ بھی میں ہی بولوں اور جیل بھی میں ہی جاؤں!
بولا شیر نہیں ہے یہ سچ اور جھوٹ کی بات!
بحث گدھے سے کی تم نے گدھے کی کیا اوقات؟
بحث گدھے سے نہ کرتے نہ پاتے تم جیل
سزا جیل میں کا ٹو اب ختم ہوا یہ کھیل
اس قصّے سے بچّو تم ایک سبق لینا
جس کی جتنی عزّت ہو اُتنی ہی دینا
(Bachchon ki nazm) (cheeta aur gadha)
Nazm no:
23...by.....AleemTahir
_______________________________
(بچّوں کی نظم )"
اک بیٹی کی پیاری باتیں"
نمبر .. 24 علیم طاہر
ابّا ابّا آج ہے سنڈ ے
پورے کرنے ہوں گے وعدے
صبح سے میں تیاّر ہوئی ہوں
دیکھو میں کیسی لگتی ہوں
امّی چائے بنا رہی ہے
پاؤ پہ مسکا لگا رہی ہے
آنکھیں کھولو اٹھو نا جلدی
سرکس میں ہو جائے گی گردی
سنا ہے سرکس بہت بڑی ہے
تمبو گاڑے دور کھڑی ہے
کیا کیا سرکس میں جلوے ہیں
چلیے ناں جلدی چلتے ہیں
سنا ہے رہتے ہیں مل جل کے
جنگل کے خوںخوار درندے
بھا لو بندر چیتے بھی ہیں
کار میں کھاتے پیتے بھی ہیں
شیر ڈرائیور بن جاتا ہے
ساتھ ہی بندر تن جاتا ہے
اک رسّی پر چلتی لڑکی
دیکھیں کیسے سنھبلتی لڑکی
الگ الگ بجلی کے جھولیں
یوں لگتا ہے فلک کو چھو لیں
بچوّں کا کشمیری گھر ہے
اندر برف کا ہر منظر ہے
سنا ہے موت کا ایک کنواں ہے
جس میں ہمّت والا جواں ہے
وہ کنواں کی دیواروں پر
بائیک سے کاٹے ہے چکّر
خدا کرے وہ رہے سلامت
وہ کتنی رکھتا ہے ہمّت
خوب دکانیں لگی ہوئیں ہیں
رنگ برنگی سجی ہوئیں ہیں
موسیقی کا رقص وہاں ہے
جوکر جیسا شخص وہاں ہے
گرتا اور سنبھلتا ہے وہ
پھُدک پھُد ک کر چلتا ہے وہ
امّی بھی تیّار ہوئی ہے
آپ کی ٹائی خوب لگی ہے
یاد کرو کیا کچھ بھولے ہیں
میں نے سینڈل پہن لئے ہیں
چلو لگا دو تالا باہر
نظر رکھیں گی خالہ باہر
ابّا ابّا آج ہے سنڈ ے
پورے کرنے ہوں گے وعدے ....
Bachchon ki Nazm...
No.24...
by..Aleem Tahir.
Email id:
aleemtahir12@gmail.com
________________________________
بچّوں کی نظم..نمبر :25
دو بلیاّں....علیم طاہر.....
رات کو اک گھر کی کھڑکی سے کودی بلّی
اس کے پیچھے دھم سے آئی دوجی بلّی
چپکے چپکے کچن کے اندر دونوں پہنچیں
ان دونوں نے گیہوں کی اک روٹی پائیں
روٹی لے کر پیڑ کے نیچے دونوں بیٹھیں
یہ میری روٹی ہے مل کر دونوں بولیں
پہلی بلّی بولی اس کو میں کھاؤں گی
دوجی بولی دے دے ورنہ لڑ جاؤں گی
دیکھ رہا تھا پیڑ پہ بیٹھا بھورا بندر
بولا میں انصاف کروں گا نیچے آکر
ایک ترازو لے کر آیا بندر نیچے
اک اک پلڑے میں رکھّے دو ٹکڑے کر کے
جو پلڑا جھکتا تھا اس کا ٹکڑا توڑے
توڑ کے ٹکڑا بندر اپنے منہ میں ڈالے
دھیرے دھیرے پوری روٹی کھائی اس نے
اپنی عقل سے اپنی بھوک مٹائی اس نے
منہ تکتے رہ گئیں دونوں بھورے بندر کا
جھانک رہا تھا آنکھ سے ان کے غم اندر کا
بچّو آپس میں لڑنے سے ہوتا ہے نقصان
مل جل کر رہنے سے ہوتا جینا بھی آسان
(C):Bachchon ki nazm ..do billiyaan .
Nazm no.....25..by...Aleem Tahir.
Abba abba aaj hai sunday......sheri majmuaa....
Adab e atfaal
by
Aleem Tahir.
________________________________
Kitaab ka Naam:
" Aleem Tahir ki Nazmen "
(Adab e Atfaal)
( Khas Bachchon ke liye, Pachchhees Nazmon ki Dilchasp kitaab)
________________________________
(Bachchon ke)
Shayer o Adeeb:
Aleem Tahir.
No comments:
Post a Comment