کہانی نمبر 21
عنوان: "خوابوں کے پرزے"
(مصنف: علیم طاہر)
زندگی بدل چکی تھی۔ سڑکوں پر کاریں نہیں، ہوائی بائیکس تھیں۔ سمندر کے بیچوں بیچ "ایئر سٹی ممبئی" ایک معلق شہر کی مانند فضا میں تیرتا تھا۔ یہاں زمین پر رہنے والے انسانوں کو "گراؤنڈرز" کہا جاتا تھا، اور "ایئرز" وہ لوگ تھے جو ان جدید شہروں میں بسا کرتے تھے۔
شان ایک گراؤنڈر انجینئر تھا۔ اُس نے خود کو نئی ٹیکنالوجی میں ڈھالا تھا، مگر ابھی تک ایئر سٹی کی منظوری حاصل نہیں کر سکا تھا۔ ایئرز کے قوانین سخت تھے، اور اُن کے مطابق صرف وہی افراد اوپر جا سکتے تھے جو مکمل طور پر مصنوعی ذہانت کی مدد سے اپنی شناخت بہتر بنائیں۔
شان نے برسوں کی محنت سے ایک ایسا خواب ساز آلہ ایجاد کیا تھا جو انسانوں کے خوابوں کو نہ صرف ریکارڈ کر سکتا تھا بلکہ اُن خوابوں سے قابلِ استعمال توانائی بھی نکال سکتا تھا۔ اس کا نام اس نے DreamCore رکھا تھا۔
حکومت نے پہلے تو اسے مذاق سمجھا، لیکن جب شان نے ایک نیند میں سوئے ہوئے مریض سے اتنی توانائی حاصل کی کہ ایک پورا اسپتال 24 گھنٹے روشن رہا، تو ایئر سٹی کی نظروں میں وہ آ گیا۔
اب ایئرز کے ایک نمائندے نے اسے بلاوا دیا۔ مگر شرط یہ تھی: "تمہیں اپنا DreamCore مکمل طور پر ہمارے حوالے کرنا ہوگا۔ اور تمہارے خوابوں پر ہمارا کنٹرول ہوگا۔"
شان نے کئی دن سوچا۔ وہ جانتا تھا کہ اگر وہ یہ ایجاد دے دے گا تو دنیا کا سب سے بڑا ٹیک ادارہ "نیورال گلوب" اسے اپنی جاگیر بنا لے گا۔ لیکن اگر وہ نہ دے، تو وہ ایئر سٹی میں داخل نہیں ہو سکتا۔
بالآخر شان نے ایک خفیہ پروگرام DreamLock بنایا، جو DreamCore کو صرف مخصوص انسانی ذہنوں کے لیے قابلِ استعمال رکھتا۔ اُس نے آلہ دے دیا، مگر کوڈ اپنے دل میں چھپا لیا۔
ایئرز نے شان کو خوش آمدید کہا، مگر وہ نہ جانتے تھے کہ یہ خوابوں کا سودا مہنگا پڑے گا۔ کیونکہ اگلی نسل کے بچے، جو اب صرف نیورل ڈریمز میں جیتے تھے، اُن کی اصل دنیا سے رابطہ ختم ہونے لگا تھا۔ وہ خوابوں کی دنیا میں رہ کر زندگی کے مقصد کو بھول گئے تھے۔
شان اب ایک نیا منصوبہ بنا رہا تھا — خوابوں کی بغاوت۔ جہاں نیند سے جاگنا اصل انقلاب ہو گا۔
جدید ترین کہانی نمبر 22
عنوان: "میموری مارکٹ"
شہر ممبئی کی ایک پوش مگر پُراسرار بستی "نیوکرا فلیٹس" میں ایک ایسی دکان کھلی، جو نہ کھلونوں کی تھی، نہ کپڑوں کی۔ اُس پر بورڈ آویزاں تھا:
"میموری مارکٹ – پرانی یادیں بیچیں، نئی خریدیں!"
شروع میں لوگوں نے اُسے کوئی آرٹ انسٹالیشن یا مذاق سمجھا، مگر پھر خبریں پھیلنے لگیں کہ جو اس دکان میں داخل ہوتا ہے، اُس کی یادداشتوں میں کچھ بدل جاتا ہے۔ کچھ بھولنے لگتے ہیں، کچھ نئی یادیں ساتھ لے جاتے ہیں۔
انیس سالہ انایہ، جو ممبئی یونیورسٹی کی فلسفہ کی طالبہ تھی، ایک دن تجسس میں اُس دکان کے اندر چلی گئی۔ دکان اندر سے بےحد کشادہ تھی، جیسے لامحدود راہداریاں ہوں، اور ہر طرف ٹیوبوں میں تیرتی ہوئی تصویری جھلکیاں دکھائی دے رہی تھیں — کسی کی ماں کا لمس، کسی کا پہلا عشق، کسی کی شکست، کسی کی کامیابی۔ ان سب پر قیمتیں درج تھیں۔
ایک مشین کے سامنے ایک بوڑھا شخص بیٹھا تھا۔ اُس نے انایہ کی طرف دیکھا:
"یادیں بیچنا ہے یا خریدنی ہے؟"
انایہ چونکی، "یہ سب کیسے ممکن ہے؟"
"دماغ اب ڈیٹا ہے بیٹی۔ سائنسی ترقی نے جذبات کو فائلز میں بدل دیا ہے۔ اب پرانی یادیں بیچ کر نئی جذبات خریدے جا سکتے ہیں۔"
انایہ کو یاد آیا کہ وہ اپنی ماں کی موت کو کبھی بھلا نہیں سکی تھی۔ درد اُس کی راتوں کا بوجھ تھا۔ اُس نے پوچھا، "اگر میں اپنی ماں کے مرنے کی یاد بیچ دوں، تو کیا درد ختم ہو جائے گا؟"
بوڑھے نے اثبات میں سر ہلایا۔
"ہاں، لیکن بدلے میں تمہیں کوئی نئی یاد خریدنی ہوگی۔ قانون ہے۔ تم خالی ذہن لے کر نہیں جا سکتیں۔"
انایہ نے اپنی سب سے دردناک یاد بیچ دی — ماں کا اسپتال میں ہاتھ چھوڑنا، آنکھوں میں وہ آخری نمی۔ مشین سے یاد نکلی اور شیشے کے ٹیوب میں تیرتی چلی گئی۔ انایہ کی آنکھوں میں سکون سا اتر آیا، جیسے برسوں کا بوجھ اتر گیا ہو۔
"نئی یاد؟" بوڑھے نے پوچھا۔
انایہ نے ایک چھوٹی سی یاد منتخب کی — کسی گمشدہ کتے کی خوشی سے واپسی کی یاد۔ ہلکی، بےفکر، پُرسکون۔
جب وہ باہر نکلی تو اُس کی آنکھیں صاف تھیں، چہرہ پرسکون۔ مگر اُسے معلوم نہیں تھا کہ ایک چھوٹی سی لڑکی، جس کی وہ ماں تھی — ایک فرضی یاد — اُس کے دل میں ابھری تھی۔
دنوں میں وہ بچی اُس کی زندگی کا مرکز بن گئی۔ وہ اُسے اسکول چھوڑنے جانے لگی، اُس کی لوریاں گانے لگی، اُس کے چہرے میں ماں کو ڈھونڈنے لگی — جسے وہ اب پہچانتی نہ تھی۔
میموری مارکٹ کے باہر ایک چھوٹا سا بورڈ لگا تھا:
"یادیں کبھی غائب نہیں ہوتیں، صرف نقل مکانی کرتی ہیں۔"
جدید ترین کہانی – نمبر 24
عنوان: "یادداشت کی قیمت"
دنیا 2089 کی دہلیز پر تھی۔ ممبئی کے وسط میں واقع "نیورونک انسٹیٹیوٹ" دنیا کا وہ پہلا ادارہ تھا جہاں انسان اپنی یادداشت خرید و فروخت کر سکتا تھا۔ یہاں ماضی کی تلخ یادیں، تکلیف دہ حادثات، یا محبت کے وہ لمحے جو دل چیرتے تھے، ڈیلیٹ کیے جا سکتے تھے – اور چاہو تو دوسروں کی یادیں بھی خریدی جا سکتی تھیں۔
ڈاکٹر شانتا راۓ، اس ادارے کی چیف نیوروسائنٹسٹ تھیں۔ اس نے اپنی یادداشت سے اپنی بیٹی کی موت کا لمحہ نکال دیا تھا، مگر دل میں ایک خلا ہمیشہ رہا۔ شانتا جانتی تھی کہ یادیں ختم ہو سکتی ہیں، مگر جذبات کی راکھ ہمیشہ باقی رہتی ہے۔
ایک دن ایک نوجوان، ارجن، انسٹیٹیوٹ آیا۔ وہ ایک ایسی یاد خریدنا چاہتا تھا جو اس کی کبھی تھی ہی نہیں – "ماں کے ساتھ بچپن کا ایک پرسکون لمحہ"۔ اس کی ماں نے اسے پیدائش کے فوراً بعد چھوڑ دیا تھا، اور وہ ساری زندگی یتیم خانے میں پلا تھا۔ اب وہ چاہتا تھا کہ ایک جھوٹی سہی، مگر حقیقی سی لگنے والی یاد اس کے دل میں بس جائے۔
ڈاکٹر شانتا نے پہلے تو انکار کیا۔ "ہم جھوٹ نہیں بیچتے، صرف وہ یادیں جو سچ میں کسی نے جھیلی ہوں۔"
ارجن نے التجا کی، "اگر کوئی ماں اپنے بچے کے ساتھ وقت گزارنے کی یاد بیچنا چاہے، تو کیا وہ ممکن ہے؟"
چند دن بعد، ایک بوڑھی عورت، شوبھا دیوی، انسٹیٹیوٹ آئی۔ اس نے بتایا کہ اس کا بیٹا بچپن میں کھو گیا تھا، اور اب وہ چاہتی ہے کہ وہ ماں بننے کے لمحے کسی کو دے دے، تاکہ وہ کسی کے دل میں زندہ رہے۔
ارجن اور شوبھا دیوی کو ایک کمرے میں بٹھایا گیا۔ نیورونک کنیکٹرز ان کے سروں پر رکھے گئے۔ منتقلی کا عمل شروع ہوا۔
یاد کا وہ لمحہ—ایک سرد صبح، ایک بچے کو آغوش میں لینے، اس کے ماتھے کو چومنے، اور lullaby گنگنانے کا لمحہ—ارجن کے ذہن میں اترا تو وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔ اس کا ذہن جانتا تھا کہ یہ جعلی ہے، مگر دل اسے سچ ماننے پر مجبور تھا۔
شوبھا دیوی نے کمرے سے نکلتے وقت کہا، "اب میں جانتی ہوں کہ میرا بچہ کسی نہ کسی شکل میں خوش ہے۔"
ڈاکٹر شانتا ایک کونے میں خاموش کھڑی یہ منظر دیکھتی رہی۔ اس نے دل میں سوچا، "یادیں اگر سچائی نہ بھی ہوں، اگر وہ دل کو سکون دیں، تو شاید ان کی اپنی ایک قیمت ہے۔"
نیورونک انسٹیٹیوٹ کے در و دیوار پر لکھا گیا ایک نیا جملہ اب سب کو نظر آتا تھا:
"یادیں صرف وقت نہیں ہوتیں، وہ امید کا دوسرا نام بھی ہوتی ہیں۔"
کہانی نمبر 23
عنوان: "غائب ہوتا شہر"
مصنف: علیم طاہر
سال 2081۔ ممبئی کی فضا میں عجیب سی ہلکی۔ نیلی روشنی تیر رہی تھی۔ لوگ پہلے تو سمجھے یہ کوئی قدرتی مظہر ہے، لیکن پھر شہر کے مختلف علاقے اچانک ہوا میں تحلیل ہونے لگے۔ عمارتیں، سڑکیں، اور یہاں تک کہ لوگ بھی — لمحوں میں غائب۔
سرکاری اعلان ہوا:
> "یہ ایک نامعلوم اسپیس-ٹائم بگ ہے، جو شہر کے کچھ حصوں کو 'غیر موجودگی' میں بھیج رہا ہے۔"
ڈاکٹر ارجن مہتا، جو "ٹائم جیوگرافی" کے ماہر تھے، نے فوراً تحقیق شروع کی۔ اس نے ایک ایسا ڈرون بنایا جو غائب ہوتے علاقے کے اندر جا کر براہِ راست ریکارڈنگ کر سکتا تھا۔
پہلا ٹیسٹ ممبئی کے بندرگاہ والے حصے میں ہوا۔ ڈرون جیسے ہی نیلی روشنی میں داخل ہوا، ویڈیو فیڈ پر ایک چونکا دینے والا منظر نظر آیا:
ممبئی کا وہی علاقہ — مگر سنہ 1865 میں۔ لوگ پرانے کپڑوں میں، گھوڑا گاڑیاں چل رہی تھیں، اور سمندر پر لکڑی کے جہاز لنگر ڈالے ہوئے تھے۔
ڈاکٹر ارجن نے سمجھا کہ یہ کوئی ٹائم رِفٹ ہے۔ مگر اصل سوال تھا — یہ کب بند ہوگا؟ اور کیا جو لوگ غائب ہو چکے ہیں، وہ واپس آئیں گے؟
٭٭٭
ایک رات، ارجن خود اس روشنی کے قریب گیا۔ جیسے ہی وہ اندر داخل ہوا، اس نے دیکھا کہ یہ صرف ماضی کا دروازہ نہیں، بلکہ ایک انتخاب کا مقام ہے۔ یہاں سے وہ چاہے تو ماضی میں رہ سکتا تھا، چاہے تو مستقبل کی جھلک دیکھ سکتا تھا۔
مستقبل کی جھلک میں ممبئی ایک خاموش، خالی شہر تھا۔ نہ انسان، نہ مشینیں — بس اینٹوں کے ڈھیر اور سمندر کی شوریدہ لہریں۔
ارشاد ہوا:
> "یہ وقت تم سے پوچھ رہا ہے — تم کس دور کو بچاؤ گے؟"
ارجن کے پاس صرف ایک لمحہ تھا۔ اگر وہ ماضی کو چنتا تو موجودہ ممبئی مٹ جاتا، اگر مستقبل کو چنتا تو ماضی ہمیشہ کے لیے کھو جاتا۔
٭٭٭
اس نے فیصلہ کیا — حال کو بچانے کا۔ جیسے ہی اس نے موجودہ لمحہ چُنا، نیلی روشنی غائب ہو گئی، اور شہر واپس اپنی جگہ آ گیا۔ مگر ایک فرق تھا — وہ سب لوگ جو غائب ہوئے تھے، اب اپنی آنکھوں میں صدیوں کی کہانیاں لیے لوٹ آئے تھے۔
کچھ نے کہا کہ انہوں نے اپنی پرانی زندگی دیکھی، کچھ نے آنے والا انجام۔ لیکن سب جانتے تھے — ممبئی اب وہی شہر نہیں رہا۔ یہ وقت کا ایک راز اپنے اندر لیے چل رہا تھا۔
No comments:
Post a Comment