Friday, 12 September 2025

مٹی کی پیشانی پر خواب -( باب نمبر 02)

  افسانچہ نمبر: 25

عنوان: ماں

افسانچہ نگار: علیم طاہر


ساری دنیا مجھے سمجھاتی رہی کہ

ماں اب نہیں رہی…

مگر روز صبح جب کمرے میں دھوپ داخل ہوتی،

تو ایک خوشبو سی آتی تھی…

آٹے، تیل، اور آغوش کی۔


کبھی کبھار رات کو نیند سے چونکتا،

تو ایسا لگتا جیسے کسی نے سر سہلایا ہو…

جیسے ماں کہہ رہی ہو:

"چپ ہو جا، میں ہوں نا…"


لوگ کہتے ہیں، ماں مٹی میں دفن ہو گئی،

پر سچ یہ ہے…

وہ مٹی بن کر میرے وجود میں رچ گئی ہے۔


میں زندہ ہوں…

کیونکہ وہ دعا بن کر اب بھی میرے چاروں طرف ہے۔


افسانچہ نمبر: 26

عنوان: باپ

افسانچہ نگار: علیم طاہر


ماں نے ہر درد پر مرہم رکھا…

اور باپ نے ہر درد کو اندر چھپا لیا۔


جب پہلی بار اسکول گیا،

تو ماں آنکھ پونچھتی رہی…

باپ خاموش رہا،

لیکن دروازے پر دیر تک کھڑا رہا۔


جب ناکامی پر رویا،

ماں نے سینے سے لگا لیا…

باپ نے بس اتنا کہا:

"چل دوبارہ کوشش کر… تُو میرا بیٹا ہے!"


آج جب باپ کی قبر پر بیٹھا ہوں،

تو ماں کی کمی آنکھیں نم کرتی ہے،

مگر باپ کی خاموشی…

اندر سے توڑ دیتی ہے۔


کاش کبھی وہ رو لیتے…

تو ہم جان لیتے،

کہ اُن کے درد بھی انسانوں جیسے تھے۔

افسانچہ نمبر: 27

عنوان: سسر

افسانچہ نگار: علیم طاہر


شادی کے بعد جب پہلی بار سسرال آئی،

تو سب کے چہروں پر رنگ تھے،

بس سسر کا چہرہ سپاٹ تھا…

خاموش، گہری آنکھیں… جیسے کچھ کہنے سے ڈرتی ہوں۔


مجھے ہمیشہ لگا وہ مجھے قبول نہیں کر پائے،

وہ کبھی کچھ بولتے بھی نہ تھے۔


پھر ایک دن بخار میں تپتی تھی،

آنکھ کھلی…

تو وہ سرہانے بیٹھے ماتھا ٹٹول رہے تھے۔


بس اتنا کہا:

"بیٹی ہو نہ ہو،

بہو ہو…

تو بھی دل دھڑکتا ہے۔"


آج اُن کی تصویر پر پھول رکھتے ہوئے

یوں لگا جیسے کوئی باپ رخصت ہو گیا ہو

خاموشی سے… ویسے ہی جیسے وہ جیتےتھے۔


 افسانچہ نمبر: 28

عنوان: سالی

افسانچہ نگار: علیم طاہر


جب میں بیاہ کے آیا،

تو سب سے پہلے جس نے آنکھیں دکھائیں،

وہ سالی تھی…

طنز، جملے، چھیڑ چھاڑ— جیسے اُسے میرا آنا قبول نہ ہو۔


بیوی کہتی،

"تمہیں نہیں معلوم، وہ مجھ سے بڑھ کر تم پر نظر رکھتی ہے!"


وقت گزرتا گیا…

گھر میں کئی چہروں کے پردے اُترے،

مگر سالی ہمیشہ وہی رہی—

بے تکلف، دو ٹوک، سچ بولنے والی۔


ایک دن رخصت ہوتے وقت اس نے کہا:

"خیال رکھنا اُس کا…

ورنہ میں تمہاری زندگی سے مزاح بھی چھین لوں گی… اور بہن بھی!"


اب وہ شادی کے بعد دور چلی گئی ہے،

اور گھر… کچھ سنجیدہ سا ہو گیا ہے۔


شاید سالی صرف رشتہ نہیں ہوتی،

زندگی کا ہنستا ہوا کونا ہوتی ہے۔

 افسانچہ نمبر: 29

عنوان: سالے صاحب

افسانچہ نگار: علیم طاہر


جب میں پہلی بار سسرال آیا،

تو سب سے پہلے جس نے میرا قد ناپا… وہ سالے صاحب تھے!


آنکھوں میں شرارت،

زبان پر طنز،

اور ہر بات میں جیسے میرا "دامادی رتبہ" چیلنج کر رہے ہوں۔


بیوی نے کان میں کہا:

"یہ تمہیں آزما رہے ہیں… دل کے بُرے نہیں!"


وقت گزرتا گیا،

ہر چھٹی پر جب آتا،

تو سالے صاحب کا سوال وہی ہوتا:

"کتنے کما رہے ہو بہنوئی؟ بہن کو خوش رکھا ہے نا؟"


آج جب وہ خود داماد بنے،

تو فون پر ہنس کر بولے:

"اب سمجھ میں آیا…

بہنوئی ہونا آسان نہیں!"


میں مسکرایا…

"اور سالا ہونا… صرف مذاق نہیں، ایک چھپی ہوئی فکر بھی ہے۔"


 افسانچہ نمبر: 30

عنوان: پڑوسی

افسانچہ نگار: علیم طاہر


بچپن میں اماں کہتی تھیں:

"رشتے نصیب سے بنتے ہیں…

اور پڑوسی قسمت سے!"


ہماری دیوار سانجھی تھی،

صحن میں ان کا آم کا پیڑ،

اور ہم اُس کے سائے کے مالک۔


عید ہو یا ماتم،

پہلا سلام اُدھر سے آتا تھا۔


پھر وقت بدل گیا…

اونچی دیواریں اٹھ گئیں،

آوازیں دب گئیں،

اور ایک دن وہ چپ چاپ مکان بیچ کر چلے گئے۔


آج برسوں بعد اُن کا پرانا دروازہ دیکھ کر دل نے کہا:

"پڑوسی بدل گئے…

مگر صحن میں آج بھی کچھ آم گرتے ہیں،

شاید یادیں اپنا پتہ نہیں بدل سکتیں۔"

 افسانچہ نمبر: 31

عنوان: فرما بردار بیٹا

افسانچہ نگار: علیم طاہر


سب اُسے فرما بردار بیٹا کہتے تھے—

ماں کی آنکھ کا تارا،

باپ کے خوابوں کا وارث،

بھائی بہنوں کا سہارا۔


وہ وقت پر اٹھتا، وقت پر لوٹتا،

کبھی اونچا نہ بولا،

کبھی ضد نہ کی…

بس خاموشی سے سب کی امیدیں اٹھاتا رہا۔


شادی بھی بڑوں کی مرضی سے کی،

شوق قربان کیے،

دوستیوں سے کنارہ کیا،

بس “بیٹا” بنا رہا… “اپنا” کبھی نہ ہو سکا۔


آج قبر پر کتبہ لگاتے ہوئے باپ نے کہا:

"ہمیشہ ہماری بات مانی…

کبھی اپنی نہ کی۔"


اور دل نے چپکے سے کہا:

"شاید وہ جیتا ہی کب تھا؟"

افسانچہ نمبر: 32

عنوان: مطلبی بھابھی

افسانچہ نگار: علیم طاہر


بچپن میں جب بھائی کی شادی ہوئی،

تو ہم نے سوچا،

"اب ایک اور ماں آ گئی…

کھیلنے، کھلانے، سنبھالنے والی۔"


شروع میں سب کچھ ویسا ہی تھا،

وہ ہمیں کہانیاں سناتی،

چھوٹے موٹے تحفے دیتی،

امی سے بڑھ کر لاڈ لٹاتی۔


پھر بھائی کی ترقی ہوئی،

اور ہم سمجھ نہ سکے کب اُس کے لہجے میں نرمی کی جگہ نوک آ گئی،

کب اس کے چہرے پر ہنسی کی جگہ حساب بیٹھ گیا۔


امی بیمار ہوئیں تو کہنے لگی:

"اب انہیں کسی نرسنگ ہوم میں رکھو…

یہ سب میں نہیں سنبھال سکتی۔"


بھائی نے خاموشی سے نظریں چرا لیں،

اور ہم جان گئے…

مطلبی بھابھی صرف کردار نہیں،

اک عادت بن جاتی ہے —

جو صرف لینے کا ہنر جانتی ہے،

دینے کا نہیں۔

 افسانچہ نمبر: 33

عنوان: وفادار بھابھی

افسانچہ نگار: علیم طاہر


بھائی چھے سال پہلے ایک حادثے میں دنیا سے چلے گئے،

گھر پر ماتم تھا…

اور بھابھی، سفید کپڑوں میں گم، ایک خاموش چہرہ۔


سب نے کہا:

"اب اس کا کیا ہے؟

عمر پڑی ہے… نئی زندگی شروع کر لے۔"


مگر وہ کہتی:

"میں صرف بیوی نہیں…

اس گھر کی بہو بھی ہوں،

اس نام کی وفا دار بھی…"


ابو بیمار ہوئے تو وہی بھاگ دوڑ میں آگے،

ہم بہن بھائیوں کی شادیوں میں ماں جیسا سایہ،

اور بھائی کی قبر پر ہر جمعہ وہی ہاتھ جوڑ کر بیٹھی نظر آتی۔


ایک دن میں نے ہمت کر کے پوچھا:

"بھابھی! کیا آپ تھکتی نہیں ہو…؟"


وہ ہنس کر بولی:

"محبت تھکاوٹ نہیں دیتی،

اگر سچی ہو تو زندگی بھر کا حوصلہ بن جاتی ہے…"

 افسانچہ نمبر: 34

عنوان: وفادار چھوٹا بھائی

افسانچہ نگار: علیم طاہر


جب ابو کا سایہ اٹھا،

تو سب نے بڑے بھائی کی طرف دیکھا…

اور میں بس ایک کونے میں کھڑا رہا،

چھوٹا ہونے کے احساس میں چھپا چھپا سا۔


بڑے بھائی مصروف ہوتے گئے…

ذمہ داریاں میری جھولی میں گرتی گئیں۔

امی کی دوائیں، بہن کی شادی، بجلی کا بل…

سب کچھ میں نے نبھایا…

خاموشی سے، بغیر فخر کیے۔


کسی نے کہا بھی:

"چھوٹا ہے، کیا سنبھالے گا؟"


امی کی آنکھوں میں آنسو آئے…

پھر بولیں:

"یہ میرا وفادار چھوٹا بیٹا ہے،

یہ نہیں سنبھالے گا، تو کون کرے گا؟"


آج امی کی تصویر کے آگے دیا جلاتے ہوئے

دل نے کہا:

"ماں! آپ نے ٹھیک پہچانا تھا…

چھوٹا ضرور ہوں،

مگر وفا میں سب سے بڑا ہوں!"

افسانچہ نمبر: 35

عنوان: کچن رومانٹک 

افسانچہ نگار: علیم طاہر


گھر میں سب کمروں کو سجا دیا گیا،

لیونگ روم جدید ہو گیا،

بیڈروم میں اے سی لگ گیا…

بس وہی پرانا کچن روم ویسا ہی رہا—

جہاں ماں صبح سے رات تک "پکی ہوئی محبت" بانٹتی تھی۔


چولہے کی آنچ پر صرف سالن نہیں…

خاندان کی زندگی بھی پکتی تھی۔

ہنڈیا میں نمک کم ہوتا،

تو ماں کی ڈانٹ میں بھی مٹھاس ہوتی۔


آج وہ نہیں رہی…

مگر کچن میں اب بھی ہلکی سی خوشبو باقی ہے۔

بیوی جب چپ چاپ کچھ پکا رہی ہوتی ہے،

تو در و دیوار کہہ اٹھتے ہیں:


"ماں کے بعد کچن خاموش تو ہوا…

پر خالی نہیں!"

 افسانچہ نمبر: 36

عنوان: بیڈ روم

افسانچہ نگار: علیم طاہر


شادی کے بعد وہ دونوں کا بیڈ روم تھا—

خوابوں سے بھرا ہوا،

دیواروں پر نئی تصویریں،

اور تکیوں میں دبی نئی مسکراہٹیں۔


پھر بچے آئے،

ذمہ داریاں بڑھیں،

بستر پر فاصلوں نے جگہ بنا لی۔


اب وہ ایک ہی کمرے میں سوتے ہیں،

مگر نیندیں الگ ہو چکی ہیں…

اور خواب بھی۔


دیوار پر اب بھی وہی تصویر لگی ہے،

جس میں دونوں مسکرا رہے ہیں—

لیکن سچ یہ ہے،

اب وہ صرف ایک کمرہ ہے…

جس کا دروازہ تو بند ہوتا ہے،

مگر رشتہ کھل چکا ہے۔

افسانچہ نمبر: 37

عنوان: بستر

افسانچہ نگار: علیم طاہر


پہلے پہل وہ بستر نئی زندگی کا آغاز تھا…

چاہت کی گواہی،

راتوں کی سرگوشی،

اور جاگتے خوابوں کا سنگھار۔


پھر وقت گزرا…

وہی بستر بیمار پڑنے لگا—

کبھی نیند نہ آتی،

کبھی تکلیف میں کراہنے کی آوازیں سنائی دیتیں۔


بچے بڑے ہو گئے،

اور اس بستر کے پاس آنا کم کر دیا۔


ایک دن وہ بستر خالی ہو گیا…

اور اگلے دن لوگوں نے اسے لپیٹ کر،

کمرے سے باہر رکھ دیا۔


صرف میں جانتا تھا،

یہ بستر نہیں تھا—

کسی کی پوری زندگی کا گواہ تھا…

جو خاموشی سے سب کچھ سوتے جاگتے سہتا رہا۔

 افسانچہ نمبر: 38

عنوان: تکیہ

افسانچہ نگار: علیم طاہر


دن بھر وہ سب کے سامنے ہنستی،

مسکراتی،

اپنے غموں کو چائے میں گھول کر پی جاتی۔


مگر رات آتی،

دروازے بند ہوتے،

اور بس ایک تکیہ جانتا کہ وہ کتنی بار بھیگی آنکھوں سے کروٹ بدلتی ہے۔


تکیہ جو صرف سَر کا سہارا نہیں…

آنسوؤں کی پناہ بھی ہے۔


اس کی سلوٹوں میں وہ لفظ چھپے تھے

جو زبان کبھی بول نہ سکی۔


اور ایک دن وہ تکیہ،

اس کی غیر موجودگی میں بھی نم تھا…


کیونکہ کچھ دکھ ایسے ہوتے ہیں

جو تکیے کو وراثت میں دے دیے جاتے ہیں۔

افسانچہ نمبر: 39

عنوان: گدڑی

افسانچہ نگار: علیم طاہر


ماں ہمیشہ کہتی تھی:

"یہ گدڑی سنبھال کر رکھنا…

یہ صرف چیتھڑوں کا جوڑ نہیں،

میرے ہاتھوں کی گرمی ہے۔"


بچپن میں اسی میں لپٹ کر سردیوں کی راتیں کاٹی تھیں،

گاؤں کے مٹیالے صحن میں وہی گدڑی

محبت کا بستر لگتی تھی۔


شادی کے بعد سب کچھ نیا ہو گیا—

نیا گھر، نئے بستر، نئے کمبل…

بس وہ پرانی گدڑی ایک کونے میں پڑی رہی۔


ایک رات بخار میں تپ رہا تھا،

سب کچھ بے کار لگا،

تو ماں کی گدڑی نکالی…

اور یوں لگا جیسے ماں نے لپیٹ لیا ہو۔


تب سمجھ آیا…

گدڑی کبھی پرانی نہیں ہوتی،

اگر اُس میں محبت سی لیپی ہو۔

 افسانچہ نمبر: 40

عنوان: جھاڑو

افسانچہ نگار: علیم طاہر


ماں روز صبح سب سے پہلے ہاتھ میں جھاڑو اٹھاتی،

گھر چمک اٹھتا…

ہم سب اپنے کاموں میں لگ جاتے۔


ایک دن چھوٹی بہن نے کہا:

"ماں! آپ کو شرم نہیں آتی،

یہ نوکرانیوں والا کام خود کرتی ہیں؟"


ماں خاموش رہی،

بس ہنسی…

اور جھاڑو چلاتی رہی۔


سالوں بعد جب ماں کی جگہ لینے کی باری میری بیوی کی آئی،

تو پہلی بار میں نے وہ جھاڑو خود اٹھایا۔


فرش پر پڑی گرد کی تہہ میں

ماں کے نقشِ قدم نظر آئے…


تب احساس ہوا:

جھاڑو گندگی صاف کرتی ہے،

اور ماں… زندگی۔

افسانچہ نمبر: 41

عنوان: دالان

افسانچہ نگار: علیم طاہر


دادا ابا کا پسندیدہ گوشہ تھا دالان،

جہاں وہ چارپائی پر بیٹھ کر چائے پیتے،

رادیو سنتے،

اور آنے جانے والوں کو "سلام علیکم" کہتے رہتے۔


امی دالان میں آنگن کا جھاڑو دیتی،

ہم وہیں ہوم ورک کرتے،

ابا اخبار پڑھتے،

اور کبھی نانی آئی ہوتیں تو وہیں بیٹھ کر قصے سناتیں۔


پھر وقت کی آندھی آئی…

سب کچھ بدل گیا۔

دادا چلے گئے،

نانی کو ہم شہروں کے فلیٹس میں لے آئے،

اور دالان…

صرف پرانے مکان کا ایک "بیکار کمرہ" رہ گیا۔


آج جب گاؤں گیا،

تو دالان ویران تھا…

مگر دیواروں پر اب بھی

ہنسی، دعائیں، اور دھیرے سے کہی گئی باتیں لکھی تھیں۔


دالان شاید بس ایک جگہ نہیں ہوتا،

بلکہ ایک عہد کا سایہ ہوتا ہے—

جو اب کم کم دکھائی دیتا ہے۔

 افسانچہ نمبر: 42

عنوان: گاؤں

افسانچہ نگار: علیم طاہر


شہر میں سب کچھ تھا—

بجلی، پانی، رفتار، سہولتیں…

بس وہ نہیں تھا

جو گاؤں میں ہر قدم پر ملتا تھا—

سکون۔


دادا کی چارپائی،

نانی کا دوپٹہ،

کچی مٹی کے صحن میں گیلی دھوپ،

اور کھڑکی کے پار سے آتی کوئل کی آواز۔


جب میں آخری بار گاؤں گیا تھا،

تو سب کچھ ویسا ہی تھا…

سوائے ان لوگوں کے

جن کے بغیر وہ جگہ صرف یاد بن چکی تھی۔


ایک بچہ بھاگتا ہوا آیا اور بولا:

"چاچا، آپ شہر سے آئے ہیں؟

یہاں کوئی نہیں آتا اب…"


میں نے اس کی آنکھوں میں خود کو دیکھا،

اور سوچا:

گاؤں شاید ایک جگہ نہیں ہوتا،

ایک احساس ہوتا ہے…

جو وقت کے ساتھ ہمارے اندر چھپ جاتا ہے۔

افسانچہ نمبر: 43

عنوان: اس 

افسانچہ نگار: علیم طاہر


امی ہمیشہ بس اسٹینڈ تک چھوڑنے آتی تھیں،

چپ چاپ…

میرے بیگ کے وزن سے زیادہ اُن کے دل پر بوجھ ہوتا۔


میں کہتا:

"چھوڑیے ماں، میں چلا جاؤں گا۔"


وہ بس اتنا کہتیں:

"ٹھیک ہے… جلدی فون کر لینا۔"


بس چلتی،

اور وہ کھڑی رہتیں،

جب تک گاڑی نظروں سے غائب نہ ہو جائے۔


سالوں بعد،

امی نہیں رہیں…

آج خود بچوں کو بس میں بٹھا کر لوٹا ہوں۔


دروازے پر آ کر پلٹا،

تو کسی ماں کی خاموش آنکھیں یاد آ گئیں…


بس تو جا چکی تھی،

مگر یادوں کا اسٹینڈ ابھی وہیں تھا۔

---


افسانچہ نمبر: 44

عنوان: بس اسٹینڈ

افسانچہ نگار: علیم طاہر


شہر کے پرانے بس اسٹینڈ پر ہر سو ہلچل تھی—

ٹکٹ کے شور، ہارن کی چیخ، اور سستے چائے کے اسٹال سے اٹھتی اُبال۔


میں ایک کونے میں کھڑا اپنے ہاتھ کی ہتھیلی پر سفر کا ٹکٹ رکھے سوچ رہا تھا:

کس منزل کی گاڑی پکڑوں؟

گھر کی… یا خواب کی؟


اچانک ایک بوڑھا ہاتھ کندھے پر رکھا:

“بیٹا، یہ روٹ کہاں جاتا ہے؟”


میں نے مڑ کر دیکھا—چہرہ اجنبی تھا،

لیکن آنکھوں میں میرے باپ جیسی تھکن…

وہ تھکن جو رزق کمانے کے سالوں میں بس اسٹینڈ پر ہی جم گئی تھی۔


میں نے ٹکٹ اس کے ہاتھ میں تھمایا،

اور اسے بس میں بٹھا کر خود ایک خالی بنچ پر آ بیٹھا۔


بس چلی تو دھوئیں کی لکیر فضا میں اٹھی…

بالکل ویسی ہی،

جیسے بچپن میں باپ کو رخصت کرتے وقت

میری آنکھوں سے اُٹھتے ہوئے آنسو۔


بس دور ہوتی گئی،

اور میں پہلی بار سمجھا—

بس اسٹینڈ صرف سفر کا آغاز نہیں،

کسی کی کہانی کا اختتام اور کسی اور کی امید کا پہلا صفحہ بھی ہوتا ہے۔

 افسانچہ نمبر: 45

عنوان: گاؤں کی ہوٹل

افسانچہ نگار: علیم طاہر


صبح کی پہلی روشنی کے ساتھ ہوٹل کھلتی،

اور چاچا نرائن کی آواز گونجتی:

"اوے! ایک چائے، کم شکر والی!"


چارپائیوں پر بیٹھے کسان، اخبار بغل میں دبائے بزرگ،

اور اسکول جاتے بچے—

سب کی منزل ایک ہی: گاؤں کی ہوٹل۔


چینی کم، باتیں زیادہ،

چائے کی پیالی میں ملک کی سیاست سے لے کر بہو کے نخرے تک سب کچھ گھل جاتا۔


وہیں دیوار پر ایک پرانا کیلنڈر لٹک رہا تھا—

پانچ سال پرانا،

لیکن کسی نے نہیں بدلا،

شاید اس تاریخ میں کوئی یاد اٹکی تھی۔


آج شہر سے لوٹا ہوں،

ہوٹل ویسی ہی ہے…

بس چاچا نرائن اب نظر نہیں آتے۔


چائے کا ذائقہ ویسا ہی ہے،

مگر پیالی تھامتے ہی دل نے کہا:

"یہ ہوٹل نہیں…

وقت کی وہ میز ہے

جس پر ماضی روز گرم گرم پیش ہوتا ہے۔"

افسانچہ نمبر: 46

عنوان: شہر کی ھوٹل 

افسانچہ نگار: علیم طاہر


کانٹے چمچ، مہنگا مینو،

ایئر کنڈیشنڈ ماحول،

اور خوشبو جو بھوک سے زیادہ پیسے کی خوشبو تھی۔


شہر کی ہوٹل میں سب کچھ تھا —

سوائے اس تپتی چائے کے جو گاؤں میں محبت سے ملتی تھی۔


ویٹر مؤدب تھا،

مگر نظر میں سوال نہ تھا۔

کھانے کا ذائقہ درست تھا،

مگر روٹی ماں کے ہاتھوں جیسی نہیں تھی۔


میرے ساتھ والی میز پر دو نوجوان ہنس رہے تھے،

ان کے قہقہے بلند تھے…

مگر آنکھیں موبائل کی اسکرین میں گم تھیں۔


بل آیا…

جیب ہلکی ہوئی،

دل بھی۔


واپسی میں ایک فقیر ہوٹل کے باہر بیٹھا تھا،

میں نے بچی ہوئی روٹی دی،

وہ مسکرایا…

اور کہا:

"صاحب! یہ شہر کی ہوٹل ہے،

یہاں پیٹ بھرتا ہے… دل نہیں!"

 افسانچہ نمبر: 47

عنوان: چوپال

افسانچہ نگار: علیم طاہر


گاؤں کی بیری کے نیچے بنی تھی وہ چوپال —

چاروں طرف مٹی کی تھڑیاں،

درمیان میں جلتی لکڑی،

اور اس کے گرد بیٹھے بڑے بوڑھے،

جن کے الفاظ فیصلے بھی ہوتے،

اور قصے بھی۔


شام ہوتے ہی گاؤں کے مرد وہاں آ بیٹھتے،

بچے کھیل ختم کر کے دائرے کے باہر دبک جاتے،

اور ہم سب سنتے رہتے —

کبھی پرانی محبتوں کی باتیں،

کبھی پنچایت کے فیصلے،

اور کبھی صرف خاموش دعائیں۔


وقت بدلا…

نوجوان شہر چلے گئے،

بزرگ مٹی میں سونے لگے،

اور بیری کے نیچے اب صرف سنّاٹا ہوتا ہے۔


آج جب گاؤں گیا،

تو چوپال پر صرف ایک بوسیدہ چارپائی بچی تھی،

اور اُس پر ایک بوڑھا بیٹھا آسمان تَک رہا تھا…


میں قریب جا کر بیٹھا تو اُس نے کہا:

"بیٹا، چوپالیں اب موبائل میں نہیں آتیں…

یہ وہ جگہیں ہیں جہاں لوگ سننے آتے تھے…

بولنے نہیں!"

 افسانچہ نمبر: 48

عنوان: الاؤ

افسانچہ نگار: علیم طاہر


دسمبر کی رات،

دادا جان صحن میں الاؤ جلاتے،

ہم سب اُن کے گرد بیٹھ جاتے۔

چائے کی پیالی،

مونگ پھلی کی آواز،

اور قصوں میں لپٹی ہوئی تاریخ۔


دادا کہتے:

"الاؤ صرف آگ نہیں ہوتا…

یہ روشنی ہے،

جو سرد موسم میں اپنوں کو جوڑ کر رکھتی ہے۔"


سالوں بعد،

دادا بھی نہ رہے،

الاؤ بھی۔


اب ہیٹر ہے،

لیکن نہ دادا کی باتیں،

نہ ہنسی،

نہ وہ مشترکہ خاموشی۔


آج ایک ہوٹل کے کمرے میں بیٹھا،

ہیٹر کے سامنے ہاتھ سینکتا ہوں،

پر دل کہتا ہے:

"گرمی تو ہے…

مگر روشنی کہیں کھو گئی ہے۔"

 افسانچہ نمبر: 49

عنوان: نیم کا درخت

افسانچہ نگار: علیم طاہر


گھر کے صحن میں وہ پرانا نیم کا درخت

دادا کے ہاتھوں سے لگا تھا،

اور ماں کہتی تھیں:

"اس کی چھاؤں میں مت بیٹھنا، ٹھنڈ لگ جائے گی…

مگر اس کے نیچے سچ بولنا لازمی ہے۔"


بچپن اسی درخت کے نیچے کھیلتے،

جھولا جھولتے،

اور گرمیوں میں پتّے توڑ کر ماں کے پاؤں پر رکھتے —

کہ وہ ٹھنڈک پہنچاتے تھے۔


پھر وقت نے پتے جھاڑ دیے،

دادا چلے گئے،

ماں کی باتیں خاموش ہو گئیں،

اور درخت تنہا کھڑا رہا…

بس چپ چاپ۔


سالوں بعد جب واپس لوٹا،

تو صحن میں نیم کا وہی درخت کھڑا تھا،

مگر ٹنڈمنڈ

اور اُس پر ایک کوا بھی نہ بیٹھتا تھا۔


میں اس کے تنے سے لگا،

اور دل نے کہا:

"نیم کڑوا ضرور ہوتا ہے،

پر یادیں اس کی چھاؤں میں ہمیشہ میٹھی لگتی ہیں…"


افسانچہ نگار 

علیم طاہر 

_________________________

No comments:

Post a Comment