🎬 ناصر شیخ — مالی ووڈ کے منفرد ڈائیریکٹر ، جنہوں نے مالیگاؤں کا نام دنیا کے پردے پر روشن کیا
تحریر: علیم طاہر
> "جہاں ممبئی خوابوں کا شہر ہے، وہیں مالیگاؤں خوابوں کا جنون ہے —
اور اس جنون کا نام ہے ناصر شیخ۔"
---
🌟 ابتداء: پرنس ویڈیو پارلر سے شروع ہوا خواب
مالیگاؤں کی قدوائی روڈ پر ناصر شیخ کا ایک چھوٹا سا تھیٹر تھا — “پرنس ویڈیو پارلر”۔
1993 میں وہ وہاں چارلی چیپلن، بروس لی اور آرٹ فلمیں دکھایا کرتے تھے۔
یہی سے ان کے دل میں فلم سازی کا شوق اور تجسس جاگا۔
رفتہ رفتہ انہوں نے وی سی آر چلانا، فلم ایڈیٹنگ اور کیمرہ آپریٹنگ سیکھ لی۔
مالیگاؤں کے عوام کے لیے یہ ایک نیا اور منفرد تفریحی ذریعہ بن گیا۔
اسی دوران ان کے ذہن میں ایک خیال آیا —
“کیوں نہ مالیگاؤں کی اپنی فلم بنائی جائے؟”
---
🎥 "مالیگاؤں کے شعلے" — پہلا خواب حقیقت بنا
1997 میں ناصر شیخ نے مالیگاؤں کی پہلی مقامی فلم بنائی —
نام تھا “مالیگاؤں کے شعلے”۔
یہ مشہور فلم “شعلے” کا مالیگاؤں ورژن تھی۔
فلم میں مقامی فنکاروں نے کام کیا۔
نہ بڑا بجٹ تھا، نہ بڑے اداکار —
صرف جذبہ، محنت، اور ہنر تھا۔
جب فلم پرنس ویڈیو پارلر میں دکھائی گئی،
تو عوام نے ہاتھوں ہاتھ لے لیا۔
دو مہینے تک فلم ہاؤس فل رہی۔
لوگ بڑے سینما چھوڑ کر چھوٹے پارلر میں یہ فلم دیکھنے آتے۔
یہ ہنسی اور مزاح سے بھرپور فلم لوگوں کے دلوں میں گھر کر گئی۔
---
🎭 فلم کے فنکار
فلم میں
دھرمندر کا کردار علیم طاہر نے ادا کیا،
امیتابھ بچن کا رول شفیق بچن نے،
گبر سنگھ بنے عرفان الیاس،
بسنتی کا کردار ممبئی کی تھیٹر آرٹسٹ آکانشا نے کیا،
اور جگدیپ بنے شفیق پیٹر۔
ڈاکو کا کردار مقیم مینا نگری نے ادا کیا۔
مصنف تھے — اکرم شیخ اور حامد سُہانی۔
یہ فلم ناصر شیخ کی سوچ، ہمت اور محنت کا نتیجہ تھی
جس نے مالیگاؤں میں فلم سازی کی ایک نئی راہ دکھائی۔
---
🌠 "مالیگاؤں کی شان" سے "سپر مین آف مالیگاؤں" تک
پہلی فلم کی کامیابی کے بعد ناصر شیخ نے کئی فلمیں بنائیں —
“مالیگاؤں کی شان”, “مالیگاؤں کا سپر مین” جیسی فلموں میں
انہوں نے مزاح، سماج اور پیغام کو خوبصورتی سے جوڑا۔
“سپر مین آف مالیگاؤں” میں انہوں نے محدود وسائل کے باوجود
سپر مین کو اُڑتے ہوئے دکھایا —
یہ منظر آج بھی ناظرین کے ذہنوں میں تازہ ہے۔
---
🌍 دنیا بھر میں شہرت — "Supermen of Malegaon"
وقت گزرتا گیا۔
ناصر شیخ کی قابلیت نے ممبئی کے مشہور فلمسازوں کو متوجہ کیا۔
پونے فلم فیسٹیول میں زویا اختر نے ان سے ملاقات کی
اور وعدہ کیا کہ ایک دن وہ ان پر فلم بنائیں گی۔
کچھ سال بعد زویا اختر، فرحان اختر، ریتیش سدھوانی اور ریما کاغتی کی پروڈکشن میں
“Superboys of Malegaon” کے نام سے ایک بڑی ڈاکیومینٹری فلم بنی۔
اس کا بجٹ تقریباً 30 کروڑ روپے تھا۔
یہ فلم کینیڈا، لندن اور دیگر بین الاقوامی فلمی میلوں میں دکھائی گئی۔
دنیا بھر کے تھیٹروں میں ریلیز ہوئی اور زبردست کامیاب رہی۔
جاوید اختر کے بقول:
> “پندرہ سالہ فلم انڈسٹری میں ایسی شاندار فلم نہیں دیکھی۔”
یہ مالیگاؤں کے لیے بہت بڑی کامیابی تھی۔
“مالیگاؤں کے شعلے” کے بعد ناصر شیخ کو "کرنال کمپنی" سے
“خانदेश کی بارات، خانदेश کا جَوائی” نامی فلم کی پیشکش ملی
جسے ناصر شیخ نے بہترین انداز میں بنایا،
اور وہ فلم بھی بے حد پسند کی گئی۔
مشہور فلم ساز ڈپٹی بھٹناآگر کی کمپنی کی طرف سے
انہیں سیریل “مالیگاؤں کا چنٹو” کا آفر ملا
جو دنیا کے مختلف ممالک میں فلمایا گیا۔
اس سیریل کی ہدایتکاری ناصر شیخ نے کی —
جو ان کا بڑا کارنامہ مانا جاتا ہے۔
“مالیگاؤں کا چنٹو” میں ناصر شیخ نے خاموش مزاح کے ذریعے
ناظرین کو ہنسا ہنسا کر لوٹ پوٹ کر دیا۔
ان کا ٹیلنٹ پوری دنیا میں گونج اٹھا۔
---
💬 ناصر شیخ کا فلسفہ — ہنسی میں چھپا پیغام
ناصر شیخ کی فلموں میں صرف مزاح نہیں ہوتا،
بلکہ ہر کہانی میں ایک سماجی پیغام چھپا ہوتا ہے۔
وہ ہمیشہ کہتے ہیں —
> “میری کامیابی میری نہیں، مالیگاؤں کے فنکاروں کی کامیابی ہے۔”
---
🌈 اختتامیہ — مالیگاؤں سے دنیا تک کا سفر
ناصر شیخ کی کہانی صرف ایک فلم میکر کی نہیں،
بلکہ ایک خواب اور جدوجہد کی کہانی ہے۔
انہوں نے یہ ثابت کیا کہ
اگر لگن، جنون اور تخیل ہو،
تو مالیگاؤں جیسے چھوٹے شہر کا فنکار بھی
دنیا کے پردے پر اپنی شناخت بنا سکتا ہے۔
---
📍 تحریر: علیم طاہر
(فلم و ادب کے محقق، مالیگاؤں)
No comments:
Post a Comment