Saturday, 27 December 2025

میڈیا، نظریہ اور سماج: مکالمے سے تصادم تک کا خطرناک سفر علیم طاہر______________________________ڈیجیٹل میڈیا کے عروج نے اظہارِ رائے کو بلاشبہ آسان بنایا، مگر اسی کے ساتھ ایک نیا بحران بھی جنم لیا: مکالمے کی جگہ تصادم اور سوال کی جگہ سنسنی۔ آج میڈیا کا ایک بڑا حصہ سماج کو جوڑنے کے بجائے اسے نظریاتی خیموں میں بانٹنے کا کام کر رہا ہے _ مذہب، شناخت اور عقیدے جیسے نازک موضوعات کو اس انداز میں پیش کیا جاتا ہے کہ نتیجہ فہم و تدبر نہیں بلکہ اشتعال اور پولرائزیشن نکلتا ہے۔یہ سوال اب محض یہ نہیں رہا کہ خدا ہے یا نہیں، مذہب جدیدیت سے ہم آہنگ ہے یا نہیں—بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کون، کس نیت سے، کن شرائط پر یہ سوالات اٹھا رہا ہے؟ جب موضوعات کی تشکیل ہی ایجنڈا سیٹنگ کے تحت ہو، تو بحث کا انجام پہلے سے طے شدہ ہوتا ہے۔ ایسے پروگرام بظاہر فلسفیانہ دکھائی دیتے ہیں، مگر درحقیقت وہ سماجی نفسیات میں دراڑیں ڈالنے کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔میڈیا کا بنیادی فریضہ یہ تھا کہ وہ عوامی مفاد کے سوالات—تعلیم، صحت، روزگار، مہنگائی—کو مرکز میں رکھے۔ مگر آج ہم دیکھتے ہیں کہ شناختی سیاست کو مرکزی دھارے میں لا کر اصل مسائل کو پسِ پشت ڈال دیا جاتا ہے۔ یہ حکمتِ عملی وقتی طور پر ریٹنگ اور ویورشپ تو بڑھا دیتی ہے، لیکن طویل مدت میں سماج کو عدمِ اعتماد اور خوف کی طرف دھکیلتی ہے۔ اختلافِ رائے جمہوریت کی روح ہے، مگر اختلاف کو دشمنی میں بدل دینا جمہوری زوال کی علامت ہے۔ایک خطرناک رجحان یہ بھی ہے کہ پینل ڈسکشنز کو اس طرح ڈیزائن کیا جاتا ہے کہ توازن کا گمان پیدا ہو، مگر حقیقت میں ایک فریق کو علامتی نمائندگی دے کر دوسرے کو غالب دکھایا جائے۔ اس سے نہ تو علم میں اضافہ ہوتا ہے اور نہ ہی ناظرین کو سچ تک رسائی ملتی ہے۔ نتیجتاً، عوام کے ذہن میں پیچیدہ سماجی سوالات سادہ، تعصبی بیانیوں میں ڈھل جاتے ہیں۔ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کا ’سافٹ پروپیگنڈا‘ اس پورے منظرنامے میں سب سے زیادہ تشویشناک ہے۔ غیر رسمی زبان، دوستانہ انداز اور ’کول‘ پریزنٹیشن کے پیچھے چھپا ہوا نظریاتی انتخاب زیادہ دیرپا اثر ڈالتا ہے، کیونکہ یہ غیر جانبداری کے لبادے میں پیش کیا جاتا ہے۔ یہاں مسئلہ صرف مواد کا نہیں، مواد کے انتخاب کا ہے—کہ کن سوالات کو بار بار اٹھایا جا رہا ہے اور کنہیں مسلسل نظرانداز کیا جا رہا ہے۔میڈیا کی اس سمت کے پیچھے کارپوریٹ مفادات اور سیاسی قربتوں کا کردار بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ جب میڈیا ادارے چند بڑے کاروباری گروپس کے ہاتھوں میں مرتکز ہو جائیں، تو ادارتی آزادی دباؤ میں آ جاتی ہے۔ سرکاری اشتہارات اور پالیسی مفادات ایک ایسا معاشی شکنجہ بناتے ہیں جس میں صحافت رفتہ رفتہ نگہبان سے تابع دار بن جاتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں صحافی سوال کرنے کے بجائے بیانیہ آگے بڑھانے لگتے ہیں۔اس کا سب سے گہرا اثر نوجوان نسل پر پڑتا ہے۔ جب سنجیدہ مسائل کو سطحی اور اشتعال انگیز مباحث میں بدل دیا جائے، تو تنقیدی سوچ کمزور پڑ جاتی ہے۔ نوجوان دلیل کے بجائے شناخت کے ساتھ کھڑے ہونے لگتے ہیں، اور یہی وہ لمحہ ہے جہاں سماج فکری بانجھ پن کا شکار ہو جاتا ہے۔حل کیا ہے؟حل سنسرشپ نہیں، بلکہ ادارتی ذمہ داری ہے۔ میڈیا کو چاہیے کہ وہ مکالمے کی شرطیں خود طے کرے—برابری، احترام اور علمی دیانت۔ اختلاف کو جگہ دے، مگر نفرت کو نہیں۔ مذہب اور فلسفے جیسے موضوعات پر گفتگو ہو، مگر اس نیت سے کہ فہم بڑھے، نہ کہ خلیج گہری ہو۔ صحافت کا اصل مذہب سچ ہے، اور اس کی عبادت سوال سے ہوتی ہے_ سنسنی سے نہیں۔اگر میڈیا نے اپنے نظریاتی جھکاؤ کو عوامی مفاد پر فوقیت دی، تو یہ بحران صرف خبروں تک محدود نہیں رہے گا؛ یہ سماج کی رگوں میں اتر جائے گا۔ اور پھر تاریخ گواہ ہے کہ ایسے زہر کا تریاق نسلوں میں بھی مشکل سے ملتا ہے۔

Thursday, 27 November 2025

ڈرامہ نمبر 03 ریڈیو ڈراما اسکرپٹ اسٹرگلرس اڈا

 

ڈرامہ نمبر: 03


ریڈیو ڈراما اسکرپٹ


عنوان: اسٹرگلرس اڈا


افسانہ نگار: علیم طاہر


ریڈیو اسکرپٹ رائٹر: علیم طاہر 


---------------


         [اوپننگ میوزک – نرم سا بولی ووڈ طرز کا انسٹرومنٹل، جو خوابوں کے شہر کی جھلک دے]


نیریٹر (آہستہ اور پراثر لہجہ):

ممبئی… ایک ایسا شہر جہاں خواب بُنتے ہیں… اور بکھرتے بھی۔ ہر چہرہ… ایک کہانی، ہر نظر… ایک امید۔

اسی شہر کے دل میں واقع ہے — شانتی نگر کا ایک ہوٹل، جسے سب جانتے ہیں اسٹرگلرس اڈا کے نام سے۔


[پس منظر میں ہوٹل کا ہلکا سا شور، برتنوں کی آوازیں، ہنسی کے قہقہے، ہلکی موسیقی]


نیریٹر:

یہ صرف ایک ہوٹل نہیں… ایک امید کا مرکز ہے۔

جہاں نوجوان فنکار آتے ہیں… اور اپنے خوابوں کو سانس دیتے ہیں۔

یہاں ہر چائے کے کپ کے ساتھ ایک کہانی، ہر سگریٹ کے کش کے ساتھ ایک فسانہ۔


[کمرے کی آواز، کرسی کھسکنے کی ہلکی آواز، گفتگو کی دھیمی گونج]


شلپا (سگریٹ کا کش لیتے ہوئے):

یہ وہی ہے نا؟ جس نے "گمنام سوسائٹی" میں چائے والے کا رول کیا تھا؟


آکاش (ہنستے ہوئے):

ہاں چرکٹ ماسٹر! بڑا مشہور ہوا تھا وہ سین۔


شلپا:

چاہو تو ابھی بلا لیتی ہوں۔


[قدموں کی آواز، چرکٹ ماسٹر کی آمد]


چرکٹ ماسٹر (خوش دلی سے):

نمستے بھائی لوگ!

شلپا جی نے بتایا، آکاش جی آپ فلم بنا رہے ہیں؟


آکاش:

جی، ایک نئی فلم پر کام شروع کرنے والا ہوں۔ رہنمائی کی تلاش میں ہوں۔


چرکٹ ماسٹر:

رہنمائی بھی ملے گی، اور شاید کوئی راستہ بھی نکل آئے۔


[کسی ٹیبل پر ہنسی کی آواز، ویٹر کی آواز میں آرڈر]


ویٹر:

دو پنیر پراٹھے، ایک پانی کی بوتل… اور سگریٹ کا پیکٹ۔


[ہوٹل میں ہلکی موسیقی – جاز طرز کی، خاموشی میں ایک وقفہ]


نیریٹر:

وہیں ایک کونے میں بیٹھے ہیں… وجو بھائی…

اصل نام وجے چوہان…

ایک بزنس مین، جو یہاں آ کر خوابوں کے ساتھ جیتے ہیں۔

سادگی میں چھپی بصیرت… اور آنکھوں میں چمکتی امید۔


آکاش (دھیرے سے):

شلپا، یہ بزرگ کون ہیں؟


شلپا:

بس، یہاں کے سب سے زیادہ پرانے "گاہک"… فلمی نہیں، لیکن دل سے ہم سب کے ساتھ۔


[ایک تھکی ہاری لڑکی کی آواز، پس منظر میں آہستہ ہنسی اور باتیں جاری]


لڑکی:

یہ کاسٹنگ ڈائریکٹرز بس خواب دکھاتے ہیں… موقع کوئی نہیں دیتا۔


توصیف:

ہم بھی یہی سوچتے تھے، پر اب عادت ہو گئی ہے۔


جابر:

ارے، وقت سب کا آتا ہے۔ ہمت نہ ہارو!


[اوور ہیڈ اسپیکر کی آواز: اسٹینڈ اپ کامیڈی شو کا اعلان]


اعلان:

پندرہ منٹ بعد، اوپری منزل پر اسٹینڈ اپ کامیڈی شو — جادھو جی کے ساتھ!

سب کے لیے مفت داخلہ!


[لوگوں کی چہل پہل، قدموں کی آواز، سیڑھیوں کی کھڑکھڑاہٹ]


نیریٹر:

سب اوپر جاتے ہیں…

ہنسی کی کچھ قسطیں، اور مایوسی کے کچھ لمحے، ایک ساتھ بانٹے جاتے ہیں۔


آکانشا (اداسی سے):

لگتا ہے… مرنے کے بعد ہی کچھ ہوگا…


شلپا (پیار سے):

ایسا نہ کہو… وقت سب کا آتا ہے۔


[خاموشی… اور پھر ایک مضبوط، مگر نرم آواز]


وجو بھائی (کھڑے ہو کر):

میں صرف وجو بھائی نہیں…

میں وجے چوہان ہوں — ایک بزنس مین۔

میں نے آپ سب کی آنکھوں میں وہ روشنی دیکھی ہے…

جس سے ایک فلم بن سکتی ہے۔

اور وہ فلم ہم سب مل کر بنائیں گے۔ بغیر باس، صرف شریک۔


[پَر امید موسیقی، جذباتی لمحہ، لوگوں کی سانسیں رکی ہوئی سی]


نیریٹر:

سب حیران…

پھر ماریا آتی ہے… نیلی ساڑھی، لیپ ٹاپ تھامے۔


ماریا:

یہ رہا پروجیکٹ… آپ سب اس کے شریک ہوں گے۔


[موسیقی کی شدت، گوگل سرچ کی ٹِک ٹِک، پھر ایک شور کی سی خوشی]


نیریٹر:

اور لیپ ٹاپ پر ابھرتا ہے وہ جملہ…

جو ان سب کی زندگیوں میں روشنی بن کر اُترتا ہے۔


ماریا (پڑھتی ہے):

"سب سَمے کا کھیل ہے…

سَمے پر یقین رکھو…

سَمے سب کا آتا ہے…"


[میوزک آہستہ ہوتا ہے، نیریٹر کی آخری آواز]


نیریٹر:

یہ تھا… اسٹرگلرس اڈا۔

ایک ایسی جگہ… جہاں امید زندہ ہے…

اور خواب… کبھی نہیں مرتے۔


[اختتامی میوزک – مدھم، خوابناک اور پُر امید دُھن]


________________________________


وائس اوور کاسٹ اور ہدایات


1. نیریٹر (Narrator):

آواز: مرد یا خاتون، نرم، جذباتی، شاعرانہ لہجہ

انداز: اداس، امید بھرا، وقفوں کے ساتھ گفتگو

مثال: نصیر الدین شاہ، یا رتی اگنی ہوتری جیسی آواز


---


2. شلپا (Struggler Actress):

آواز: نوجوان لڑکی، خواب دیکھنے والی، تھوڑا تھکی ہوئی مگر مضبوط

انداز: سگریٹ پینے والی، تجربہ کار مگر حساس


---


3. آکاش (نوجوان ہدایتکار):

آواز: نوجوان مرد، امید سے بھرپور، تھوڑا نروس مگر کریٹیو

انداز: درمیانی رفتار، گفتگو میں الجھن اور جستجو


---


4. چرکٹ ماسٹر (چھوٹے موٹے رول والا ایکٹر):

آواز: دلچسپ، نچلی طبقے کی زبان، گرمجوش لہجہ

انداز: ملنسار، فنی، بولی وڈ نقالی کے انداز میں


---


5. ویٹر:

آواز: معمولی اسٹاف، جلد باز، آسانی سے ایڈجسٹ ہو جانے والا

انداز: ہلکا مزاح، ایکسپریس ڈیلیوری


---


6. وجو بھائی (وجے چوہان):

آواز: سنجیدہ بزرگ، گہری، پراثر

انداز: وقار بھرا، سادگی میں گہرائی، آخر میں جذباتی جوش


---


7. آکانشا (مایوس اداکارہ):

آواز: حساس، اداس، نوجوان

انداز: دل شکستہ، شاعرانہ ٹون


---


8. توصیف / جابر (پس منظر کے جدوجہد کرنے والے):

آواز: ممبئی کے لہجے والے نوجوان، تھوڑے طنزیہ، مگر ساتھ دینے والے

انداز: فنی، مزاحیہ، حقیقت پسند


---


9. ماریا (پروجیکٹ مینجر):

آواز: پروفیشنل، پُراعتماد، جذباتی خاتون

انداز: تیز، مستعد، گرمجوش انداز


---


10. اسپیکر وائس / اعلان:

آواز: روبوٹک یا ڈیجیٹل انداز میں مردانہ

انداز: ایونٹ ایناؤنسمنٹ جیسا، جیسے کسی شو یا اسٹینڈ اپ کی اطلاع


---


آڈیو ساؤنڈ ایفیکٹس (SFX) & میوزک گائیڈ


---


ریکارڈنگ کے لیے مشورہ:


ہر کردار اپنی لائن ریکارڈ کرے اور وقفہ (pause) دے تاکہ ایڈیٹر آسانی سے جگہ بدل سکے۔


نیریٹر کی آواز میں "خاموشیاں" اور "جملوں کے بیچ تھوڑی دیر" لازمی رکھیں تاکہ جذبات ابھر سکیں۔


وجو بھائی کے "خطاب والے سین" میں بیک گراؤنڈ میوزک بہت مدھم بجائیں تاکہ آواز غالب رہے۔


اسٹوڈیو میں تین مائک استعمال کریں — ایک نیریٹر کے لیے، ایک مکالماتی کرداروں کے لیے، ایک ساؤنڈ ایفیکٹس کے لیے۔


________________________________


ریڈیو اسکرپٹ: اسٹرگلرس اڈا


مصنف: علیم طاہر

فارمیٹ: وائس ریکارڈنگ / ریڈیو ڈرامہ

دورانیہ: تقریباً 20-25 منٹ


---


[اوپننگ سین]


[SFX: ہلکی ہلکی بولی وڈ طرز کی انسٹرومنٹل میوزک، بیک گراؤنڈ میں ہلکی گفتگو اور چائے کی چسکیاں]


نیریٹر (نرم آواز میں):

یہ ممبئی ہے... خوابوں کی شہزادی... جہاں ہر گلی، ہر دیوار، ہر کھڑکی کسی نہ کسی جدوجوہد کی گواہ ہے۔

یہاں ایک ہوٹل ہے... کچھ پرانے اسٹول، کچھ دھندلے شیشے، اور کچھ تھکے ہوئے خواب...

اس ہوٹل کا نام کوئی نہیں جانتا... مگر ہر اسٹروگلر اسے "اسٹرگلرس اڈا" کہہ کر پکارتا ہے۔


---


[سین 2 – ہوٹل کے اندر]


[SFX: دروازے کی چرچراہٹ، قدموں کی آہٹ، چائے کی پیالی رکھے جانے کی آواز]


ویٹر:

شلپا جی، آپ کا اسپیشل چائے۔ بغیر شکر کے۔


شلپا (سگریٹ کا کش لیتے ہوئے):

تھینک یو راجو… تمھیں بھی یاد ہے میری چائے کی عادت؟


ویٹر (مسکرا کر):

یہاں سب کو یاد ہے… اسٹروگلرز کا ذائقہ چائے سے زیادہ خوابوں میں ہوتا ہے۔


---


[سین 3 – نوجوان ہدایتکار کا داخلہ]


[SFX: تیز قدموں کی آواز، کرسی گھسیٹنے کی آواز]


آکاش:

مجھے ایک نئی لڑکی چاہیے... چہرے پر وہ کرب ہو جو اسکرین سے باہر نکل آئے...


شلپا (سگریٹ کا کش لیتے ہوئے):

کرب صرف چہرے پر نہیں ہوتا... کبھی اندر بھی محسوس کر کے دیکھو...


---


[سین 4 – چرکٹ ماسٹر کا انٹری]


[SFX: ہلکی ہنسی، دروازے کی کھڑکھڑاہٹ]


چرکٹ ماسٹر:

سنو سنو... آج بھی آڈیشن میں "پولس والا" بن کے آیا تھا...

مگر لائن تھی صرف ایک: "چلو تھانے!"


توصیف (ہنستے ہوئے):

بس! اور دیالو ڈیریکٹر نے وہ بھی کاٹ دی ہوگی؟


چرکٹ ماسٹر:

نہیں بھائی... وہ تو بولے "ابھے تو ریئل لگتا ہے، تھانے میں ہی جا!"


---


[سین 5 – آکانشا کا منظر]


[SFX: ہوا کے جھونکے، دروازہ کھلنے کی آواز]


آکانشا (اداسی سے):

مجھے اپنا پتہ نہیں معلوم... میں شاید کسی ریجیکشن کی گلی میں رہتی ہوں...


شلپا (نرمی سے):

یہاں سب کی رہائش عارضی ہے... کوئی خواب میں رہتا ہے، کوئی ڈائلاگ میں...


---


[سین 6 – وجو بھائی کی آمد]


[SFX: اسٹک کی ٹک ٹک، خاموشی کا وقفہ، ہلکی بیک گراؤنڈ میوزک]


نیریٹر:

یہ وجو بھائی ہیں... اصل نام وجے چوہان۔ کبھی سائڈ رول کے بادشاہ تھے۔ اب... اسٹروگلرز کے استاد۔


وجو بھائی:

ہاں بچو... سنیما صرف کیمرے کی آنکھ نہیں دیکھتی...

اسے دل کا ویژن چاہیے... ورنہ ہر اسٹروگل صرف شکست ہے۔


---


[سین 7 – ان سب کی کہی ان کہی آوازیں]


[SFX: سب کردار ہلکے ہلکے بولتے ہیں، جیسے دھیما شور ہو]


شلپا (خود سے):

کیا کبھی کوئی رول... میرے نام کا بھی ہوگا؟


آکاش (نوٹس بک بند کرتے ہوئے):

کہانی میں درد کم ہے… چلو کسی اور اسٹروگلر سے ملتا ہوں۔


آکانشا (آنسو پونچھتے ہوئے):

ریجیکشن اب عادت بن چکی ہے…


---


[کلائمکس – وجو بھائی کا خطاب]


[SFX: خاموشی، میوزک تھوڑا بڑھتا ہے، وجو بھائی کی آواز گونجتی ہے]


وجو بھائی:

بچو... ایک دن، یہی ہوٹل کسی کی بائیوپک کا پہلا سین بنے گا۔

یہ اسٹروگلرس اڈا نہیں... یہ سنیما کا جنم استھان ہے!


---


[اختتامی منظر]


نیریٹر (پُرجوش مگر نرم انداز میں):

تو یاد رکھنا... اگر تم بھی کبھی ممبئی آؤ... اور ایک چائے، ایک خواب، اور ایک ڈائلاگ تمھارے پاس ہو...

تو "اسٹرگلرس اڈا" تمھارا ہے۔


[SFX: دھیرے دھیرے میوزک بلند ہوتا ہے اور fade out]


رابطہ مصنف : - علیم طاہر 

موبائل: 9623327923

________________________________


(C) Ragisterd:

Writer:

Aleem Tahir 

Email id aleemtahir12@gmail.com 

Mobile no. 9623327923.

-----------

Sunday, 9 November 2025

 ___  یوم اردو کے موقع پر

اردو کی بقا، فروغ اور ہماری اجتماعی 

ذمہ داری


مقالہ نگار: علیم طاہر


----

تمہید: 


زبان کسی قوم کی شناخت ہوتی ہے۔ اس سے تہذیب کا شعور، معاشرت کی پہچان، اور فکر کا زاویہ جھلکتا ہے۔ اردو زبان برصغیر کی وہ حسین روایت ہے جس نے مذہب، نسل اور علاقے کے امتیاز سے بلند ہو کر سب کو ایک لڑی میں پرویا۔ آج جب دنیا کی تیز رفتار ترقی کے ساتھ مادری اور قومی زبانیں دباؤ میں آ رہی ہیں، تو یہ سوال شدت سے ابھرتا ہے کہ ہم اردو کے لیے کیا کر رہے ہیں؟


---

اردو کی تاریخی جڑیں اور ارتقائی سفر _


اردو کی ابتدا بارہویں صدی کے آس پاس دہلی اور گنگا–یامنا کے علاقے میں ہوئی۔ مختلف بولیوں جیسے خاری، برج، اور فارسی، عربی و ترکی اثرات کے امتزاج سے ایک نئی زبان نے جنم لیا جسے ابتدا میں ’’ریختہ‘‘ کہا گیا۔

دکن کے شعرا ولیؔ، محمد قلی قطب شاہؔ اور نصرتیؔ نے اسے نیا ذائقہ دیا۔ دہلی میں میرؔ، سوداؔ، غالبؔ، ذوقؔ، مومنؔ نے اسے کلاسیکی بلندی بخشی۔

یوں اردو ایک فوجی، درباری اور عوامی زبان سے ترقی کرتے کرتے ادب، صحافت، فلسفہ، سائنس اور سیاست کی زبان بن گئی۔


---

اردو کا تہذیبی و ادبی کردار


اردو زبان کا سب سے روشن پہلو یہ ہے کہ اس میں روحانی وسعت اور فکری رواداری شامل ہے۔

یہ وہ زبان ہے جس نے میر تقی میرؔ کے غم، غالبؔ کے فلسفے، اقبالؔ کے خواب اور فیضؔ کی انقلابی فکر کو آواز دی۔

اردو نے نہ صرف برصغیر کے مسلمانوں کو بلکہ غیر مسلم شعرا و ادبا کو بھی اپنی آغوش میں جگہ دی — دیال شرماؔ، جگن ناتھ آزادؔ، راجندر سنگھ بیدیؔ، کرشن چندرؔ _ سب نے اردو کو اپنا اظہار بنایا۔


اردو ادب کا دامن نثر، شاعری، ڈراما، تنقید، سفرنامہ اور جدید افسانے تک وسیع ہے۔ یہ زبان آج بھی انسان دوستی، محبت، برداشت اور ہم آہنگی کا پیغام دیتی ہے۔

---

اردو کی موجودہ صورتِ حال


بدقسمتی سے اردو کو وہ ادارہ جاتی توجہ حاصل نہیں جو کسی قومی یا عالمی زبان کو ملنی چاہیے۔


اسکولوں میں اردو ذریعۂ تعلیم کے ادارے کم ہو رہے ہیں۔


انگریزی اور مقامی بولیوں کے دباؤ نے اردو کے فروغ کو محدود کیا ہے۔


نئی نسل میں اردو لکھنے، پڑھنے اور سمجھنے کا رجحان کم ہوتا جا رہا ہے۔


اردو اخبارات و رسائل کی قارئین تعداد گھٹ رہی ہے۔


ڈیجیٹل میڈیا پر اردو رسم الخط کی تکنیکی مشکلات اب بھی موجود ہیں۔


یہ صورتِ حال محبانِ اردو کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔


---

اردو کے فروغ کے امکانات اور مواقع


اس کے باوجود اردو کے امکانات وسیع ہیں۔

دنیا کے درجنوں ممالک میں اردو بولی اور سمجھی جاتی ہے۔

پاکستان میں یہ قومی زبان ہے، بھارت میں کروڑوں لوگ اسے مادری یا ثانوی زبان کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔

عرب دنیا، خلیجی ممالک، برطانیہ، کینیڈا، امریکا اور جاپان تک اردو کی تدریس کے مراکز قائم ہیں۔


ڈیجیٹل دور نے اردو کے لیے نئے در وا کیے ہیں —

ریختہ، اردو پوائنٹ، بی بی سی اردو، اور جامعۂ ملیہ اسلامیہ جیسے ادارے اردو کو عالمی سطح پر متعارف کروا رہے ہیں۔

---

انفرادی سطح پر ہماری ذمہ داریاں

1. گھر سے آغاز: بچوں سے اردو میں گفتگو کریں، انہیں کہانیاں، نظمیں اور لوک حکایات سنائیں۔


2. مطالعہ کی عادت: اردو کتابیں، افسانے، شاعری اور صحافتی مضامین پڑھیں۔


3. ڈیجیٹل اردو کا فروغ: سوشل میڈیا، بلاگز، ایپس اور ویب سائٹس پر اردو رسم الخط میں مواد لکھیں۔


4. زبان کا وقار: سرکاری و نجی تقریبات میں اردو میں گفتگو کرنے کو باعثِ فخر سمجھیں۔


5. تحقیق و تحریر: نوجوان نسل کو اردو میں مقالہ نگاری، تخلیق اور ترجمہ کی جانب راغب کریں۔

---

ادارہ جاتی سطح پر تجاویز


اردو میڈیم اسکولوں کو جدید سائنسی اور ٹیکنالوجی مضامین سے جوڑا جائے۔


اردو ٹیچرز کی تربیت کے لیے جدید کورسز متعارف ہوں۔


اردو یونیورسٹیوں اور تحقیقی اداروں کو فنڈنگ دی جائے۔


اردو کی عالمی کانفرنسیں اور مشاعرے ہر سطح پر منعقد کیے جائیں۔


اردو کتب کی ڈیجیٹلائزیشن، ای لائبریریز اور آن لائن ڈیٹا بیسز قائم ہوں۔

---

اجتماعی اور قومی سطح پر شعور کی بیداری


ہمیں اردو کے فروغ کو محض ایک ثقافتی مہم نہیں بلکہ قومی فریضہ سمجھنا چاہیے۔

جب قومیں اپنی زبان کو چھوڑ دیتی ہیں تو ان کی تہذیب مٹنے لگتی ہے۔

اردو صرف مذہبی یا سیاسی زبان نہیں — یہ رواداری، محبت، اور شعور کی زبان ہے۔


اردو ہماری اجتماعی شناخت ہے؛ اس کی حفاظت ہماری اخلاقی، تہذیبی اور تاریخی ذمہ داری ہے۔

----

اردو کا مستقبل — امید کی کرن


اردو آج بھی زندہ ہے، اور اس کے چاہنے والے ہر جگہ موجود ہیں۔

آن لائن ذرائع، عالمی مشاعرے، اور نوجوان نسل کی بیداری اردو کے لیے نئی توانائی پیدا کر رہے ہیں۔

اگر ہم نے اردو کو جدید تعلیم، سائنس، ٹیکنالوجی اور میڈیا سے جوڑ لیا، تو اس کی بقا یقینی ہے۔


اردو کی روح آج بھی زندہ ہے _

> “یہ زبان عشق ہے، یہ زبان انسانیت ہے، یہ زبان ہمارا کلچر ہے۔”

--

اردو کے فروغ کے لیے ہمیں حکومت سے زیادہ خود کو بدلنے کی ضرورت ہے۔

زبان محبت سے زندہ رہتی ہے، حکم سے نہیں۔

آیئے اس یومِ اردو کے موقع پر یہ عہد کریں کہ:


 “اردو ہماری زبان ہے، اس کی حفاظت ہمارا ایمان ہے۔”

--- 

                کاپی رائٹ) :  مقالہ نگار )

                      علیم طاہر

____________________________

Wednesday, 22 October 2025

Urdu ki bahar

🌿 उर्दू की बहार या दिखावे की फसल?


लेखक: अलीम ताहिर



---


🎉 उर्दू अकादमी का गोल्डन जुबली उत्सव


महाराष्ट्र स्टेट उर्दू अकादमी ने अपनी गोल्डन जुबली (50 साल पूरे होने) पर

“बहार-ए-उर्दू” के नाम से बहुत बड़ा कार्यक्रम किया।

ऊपर से तो यह उर्दू भाषा के प्रचार का उत्सव लग रहा था,

लेकिन असल में इसने बहुत से सवाल खड़े कर दिए —

ऐसे सवाल जो हमारे समाज, संस्कृति और खुद उर्दू की आत्मा से जुड़े हैं।



---


📜 निमंत्रण पत्र और बैनर — उर्दू कहाँ है?


जब कार्यक्रम का निमंत्रण पत्र लेखकों और शायरों के पास पहुँचा,

तो सबसे पहला सवाल यही उठा —

उर्दू का लिपि (रूप) कहाँ गया?


महाराष्ट्र उर्दू अकादमी के 50 साल पूरे होने वाले इस निमंत्रण पत्र में

90% हिस्सा उर्दू लिपि से खाली था।

ऐसा लगा जैसे उर्दू के अपने घर में ही उर्दू बेगानी हो गई हो।


क्या यह “उर्दू की बहार” है?

या उर्दू की “खबर” पर बहार का पर्दा डाला गया है?



---


🗣️ भाषा की राजनीति और उर्दू की चुप्पी


आज महाराष्ट्र में मराठी समाज अपनी भाषा के लिए बहुत सक्रिय है —

दुकानों, दफ्तरों, स्कूलों और कॉलेजों के नाम मराठी में लिखने की माँग ज़ोरों पर है।

लेकिन दूसरी ओर, उर्दू के सरकारी संस्थान

अपने ही कार्ड और बैनर पर उर्दू छोड़कर मराठी या अंग्रेज़ी में गर्व महसूस करते हैं।


यह विरोधाभास केवल भाषा का नहीं,

बल्कि हमारी संस्कृति के पतन का संकेत है।



---


🎬 साहित्यिक उत्सव या फिल्मी मेला?


कहा गया कि “उर्दू की बहार” का बजट 10 करोड़ रुपये का है।

लेकिन असली फायदा किसे हुआ?


जो लेखक, कवि, और शोधकर्ता

अपनी ज़िंदगी उर्दू के लिए समर्पित कर चुके हैं,

उन्हें मिले 15,000 से 1 लाख रुपये।

और पुराने फिल्मी कलाकारों को 10–30 लाख रुपये और आलीशान सुविधाएँ!


ऐसा लगा जैसे यह “उर्दू का उत्सव” नहीं,

बल्कि फिल्मी चमक का शो बन गया हो।



---


✍️ साहित्यकार कहाँ हैं?


अगर “उर्दू साहित्य अकादमी” का उत्सव

उर्दू के साहित्यकारों के बिना हो —

तो वह उत्सव नहीं, मज़ाक है।


उर्दू का असली ख़ज़ाना उसके लेखक, कवि और आलोचक हैं,

न कि वो लोग जिन्हें उर्दू का उच्चारण भी ठीक से नहीं आता।


अगर किसी फिल्मी चेहरे को “उर्दू की बहार” का प्रतिनिधि बना दिया जाए,

तो यह न सिर्फ भाषा का, बल्कि साहित्य की आत्मा पर हमला है।



---


🍂 बहार-ए-उर्दू या ज़वाल-ए-उर्दू?


यह “बहार” नहीं, बल्कि “ज़वाल” (पतन) की कहानी है।

जब उर्दू को ही उसके मंच, कार्ड और संस्थान से हटा दिया जाए —

तो उर्दू की रक्षा का उत्सव किस मुँह से मनाया जाए?


अगर यह “बहार” है,

तो फिर पतझड़ कैसी होगी?



---


🔦 निष्कर्ष (अंत में)


उर्दू की असली बहार तब आएगी

जब अकादमियाँ शोहरत नहीं, अध्ययन और साहित्य को केंद्र बनाएँ।

जब पुरस्कार पाने की नहीं, विचार और ईमानदारी की भूख हो।

और जब उर्दू के उत्सव से पहले

उर्दू लिपि को सम्मान दिया जाए।


क्योंकि अगर उर्दू अपनी पहचान खो दे —

तो कोई भी फिल्मी चेहरा,

कोई सरकारी कार्यक्रम,

उसे जिंदा नहीं रख सकता।


> तेरी आँखों का जादू बोलता है,

मैं सुनता हूँ — वो उर्दू बोलता है।





---


🌕 “उर्दू का उत्सव या उर्दू की परीक्षा?”


महाराष्ट्र अकादमी, साहित्य और संस्थागत पतन की कहानी

✍️ अलीम ताहिर



---


💭 जब साहित्य का उत्सव सोच से खाली हो जाए...


जब “साहित्य का उत्सव” सोच और भावना से खाली हो जाता है,

तो रोशनी की महफ़िलें भी अंधेरे पैदा करती हैं।

महाराष्ट्र स्टेट उर्दू साहित्य अकादमी के 50 साल पूरे हुए —

यह पल उर्दू के लिए गर्व और खुशी का होना चाहिए था,

लेकिन अफसोस, यह विवाद और दिखावे का रूप बन गया।


10 करोड़ रुपये के भारी बजट के बावजूद

लोगों के चेहरों पर मुस्कान नहीं,

सवाल हैं।


क्या यह “जश्न-ए-उर्दू” है?

या “उर्दू की परीक्षा”?



---


🌟 गोल्डन जुबली — सुनहरा मौका या काला सवाल?


1975 में जब उर्दू अकादमी बनी थी,

तब उसके आस-पास कृष्णचंद्र, इस्मत चुगताई, ख्वाजा अहमद अब्बास, सरदार जाफरी जैसे नाम थे।

वे लोग साहित्य को इंसानियत और सच्चाई का आईना मानते थे।


लेकिन आज, 50 साल बाद,

उसी अकादमी ने अपने पुराने दीपक खुद बुझा दिए।


10 करोड़ का बजट,

जो पूरे राज्य के साहित्यिक केंद्रों तक पहुँचना चाहिए था,

वो मुंबई की चमक-दमक में खो गया।


यह सिर्फ पैसों का नहीं,

विश्वास का बँटवारा भी है।



---


🎭 उर्दू अकादमी या एंटरटेनमेंट कंपनी?


जब साहित्य का उत्सव

मंच, रोशनी, और ग्लैमर का शो बन जाए,

तो समझ लीजिए शब्द मर गए हैं।


अब उर्दू भाषा नहीं, सजावट बन गई है।

लेखक अब सहभागी नहीं, शोपीस बन गए हैं।


जब कवि की जगह “ब्रांड” बोले,

तो अकादमी का असली उद्देश्य खत्म हो जाता है।



---


🏙️ मुंबई का एकाधिकार — बाकी शहरों की उपेक्षा


महाराष्ट्र में नांदेड़, मालेगांव, औरंगाबाद, शोलापुर —

ये सभी उर्दू के ज़िंदा केंद्र हैं।

यहाँ उर्दू बोली, समझी और लिखी जाती है।


फिर भी यह सारे शहर इस जश्न से बाहर क्यों रखे गए?

क्या उर्दू सिर्फ मुंबई की है?


अगर 10 करोड़ का बजट दस शहरों में बाँटा जाता,

तो यह सच में “राज्य स्तरीय” उर्दू उत्सव बनता।

लेकिन अब यह सिर्फ “मुंबई शो” बन गया है।



---


🏆 साहित्यिक पुरस्कार या फिल्मी शो?


जब पुरस्कार देने वाले के हाथ में किताब की जगह कैमरा हो,

और लेखक अपने लेखन की जगह “सेल्फी” में व्यस्त हो —

तो साहित्य की आत्मा खतरे में है।


पुरस्कार साहित्य की गरिमा बढ़ाते हैं,

पर अगर वे “रेड कार्पेट” पर दिए जाएँ,

तो वे सम्मान नहीं, अपमान बन जाते हैं।



---


✒️ उर्दू लिपि की बेदखली — एक खामोश खतरा


अगर सरकारी उर्दू अकादमी के निमंत्रण पत्र से ही

उर्दू लिपि गायब हो जाए,

तो यह गलती नहीं, बल्कि भाषाई निष्कासन (बेदखली) है।


जब कोई भाषा अपने लिपि से वंचित होती है,

तो केवल अक्षर नहीं मरते —

पूरी संस्कृति मर जाती है।



---


❓ अब भी बाकी हैं कुछ सवाल...


10 करोड़ का हिसाब कहाँ गया?


महाराष्ट्र के दूसरे जिलों को क्यों नज़रअंदाज़ किया गया?


अकादमी का साहित्यिक उद्देश्य “फिल्मी इवेंट” में क्यों बदला?


और सबसे बड़ा सवाल — उर्दू लिपि को क्यों हटाया गया?



ये सवाल सिर्फ उर्दू के नहीं,

बल्कि हमारे ज़मीर के सवाल हैं।



---


🌱 उर्दू का असली उत्सव क्या होता?


अगर यह बजट सच में उर्दू पर खर्च होता,

तो क्या-क्या नहीं हो सकता था?


राज्य स्तर पर साहित्यिक सम्मेलन


कॉलेजों में उर्दू के व्याख्यान और काव्य-गोष्ठियाँ


युवाओं के लिए लेखन कार्यशालाएँ


हर जिले में “उर्दू घर” और पुस्तक मेले



यही होता “उर्दू का सच्चा उत्सव” —

जहाँ पुराने दीपक बुझाए नहीं जाते,

बल्कि नए दीपक जलाए जाते हैं।



---


🕊️ अंतिम संदेश


साहित्य की शक्ति केवल शब्दों में नहीं,

बल्कि इरादे और ईमान में है।

अगर अकादमियाँ राजनीति का औज़ार बन जाएँ,

तो उर्दू का भविष्य “कार्यक्रमों” में नहीं,

“विचारों” में ढूँढना होगा।


> “उर्दू का उत्सव, उर्दू की परीक्षा” —

यह सिर्फ एक घटना नहीं, एक आईना है,

जिसमें हमें अपना चेहरा देखना होगा।




> ज़र्फ़ हर बार मरा ज़िद पे अड़ा रहता है,

हक़-ब-जानिब है जो दुनिया से लड़ा रहता है।




– अलीम ताहिर

🌿 Spring of Urdu or a Season of Show?


By Aleem Tahir



---


🎉 The Golden Jubilee of the Urdu Academy


On the occasion of its Golden Jubilee (50 years), the Maharashtra State Urdu Academy organized a grand celebration titled “Bahār-e-Urdu” (The Spring of Urdu).

At first glance, it seemed to be a festival dedicated to the promotion of the Urdu language.

But in reality, it raised many troubling questions —

questions connected not only to our society and culture, but also to the very soul of Urdu.



---


📜 Invitation and Banners — Where is Urdu?


When the invitation for this grand event reached writers and poets,

the first question that arose was —

Where has Urdu disappeared?


In the official invitation of the Urdu Academy’s 50th anniversary,

almost 90% of the text was not in Urdu script.

It seemed as if Urdu itself had become a stranger in its own home.


Is this the “Spring of Urdu”?

Or has a floral curtain been drawn over Urdu’s funeral?



---


🗣️ Language Politics and the Silence of Urdu


In Maharashtra today, the Marathi community is actively demanding

that the names of shops, offices, schools, and colleges be written in Marathi.

But on the other hand, Urdu’s own state institutions

are proudly issuing invitations in Marathi or English,

completely excluding Urdu from their own documents.


This is not just a linguistic contradiction —

it is a symbol of cultural decline.



---


🎬 A Literary Celebration or a Film Fair?


The so-called “Festival of Urdu” had a budget of ten crore rupees.

But the question remains — who actually benefited?


The writers, poets, and scholars who have devoted their lives to Urdu

were given between ₹15,000 and ₹1 lakh,

while fading Bollywood personalities were paid ₹10–30 lakh,

along with luxurious travel and vanity vans.


It appeared that this event was not meant to revive Urdu —

but to showcase glamour under Urdu’s name.

The festival turned from a celebration of thought

into a parade of publicity.



---


✍️ Where Are the Writers?


If the Urdu Sahitya (Literary) Academy organizes a festival

without the presence of Urdu’s own writers and thinkers,

then it is not a festival — it is mockery.


The true wealth of Urdu lies in its authors, poets, and critics,

not in people who can’t even pronounce Urdu properly.


If the faces of film and fashion are made the representatives of “Urdu’s Spring,”

then it is not just language that suffers —

it is literature’s very soul being wounded.



---


🍂 Spring of Urdu or Fall of Urdu?


This was not the “Spring of Urdu,”

but a chronicle of its decline.

When Urdu is erased from the stage, the invitation,

and even from its own Academy —

how can one celebrate the survival of Urdu?


If this is what we call “spring,”

then what would autumn look like?



---


🔦 In Conclusion


The true spring of Urdu will arrive

only when academies focus on research and literature,

not on glitter and showbiz.

When the hunger for ideals replaces the hunger for awards.

And when every Urdu celebration begins

with respect for the Urdu script itself.


Because if Urdu loses its identity —

no film star, no government event,

and no luxury van can bring it back to life.


> “The magic of your eyes speaks,

and the sound I hear — is Urdu itself.”





---


🌕 “Festival of Urdu or Test of Urdu?”


The Story of the Maharashtra Academy, Literature, and Institutional Decay

✍️ By Aleem Tahir



---


💭 When Literature Loses Its Thought...


When a “literary festival” loses its soul,

even a gathering full of light begins to create darkness.

The Maharashtra State Urdu Sahitya Academy completed 50 years —

a moment that should have been filled with pride and honor for Urdu.

Yet sadly, it turned into a spectacle of show and controversy.


Despite a massive ₹10 crore budget,

there was no joy — only questions.


Is this truly a “Festival of Urdu”?

Or is it a test of Urdu’s endurance?



---


🌟 Golden Jubilee — A Golden Moment or a Dark Question?


When the Academy was founded in 1975,

it was surrounded by names like Krishan Chander, Ismat Chughtai,

Khwaja Ahmad Abbas, and Sardar Jafri —

people who viewed literature as a light of truth, humanity, and freedom of thought.


But today, fifty years later,

the same Academy has dimmed those lights itself.


The ₹10 crore budget,

which should have strengthened literary centers across the state,

got lost in Mumbai’s glitter.


This is not just a misallocation of funds —

it is a division of trust.



---


🎭 Urdu Academy or Entertainment Company?


A literary event carries meaning

only when it nurtures thought, dialogue, and reading.

But when such events turn into corporate shows

filled with microphones, lights, and glamour —

then words begin to die.


Urdu is no longer treated as a language, but as a decoration.

The writer is no longer a participant, but a showpiece.

When “brands” start speaking instead of poets —

the Academy has lost its purpose.



---


🏙️ Mumbai’s Monopoly — The Neglect of Other Cities


Cities like Nanded, Malegaon, Aurangabad, and Solapur

are living centers of Urdu in Maharashtra.

Urdu is spoken, taught, and written there passionately.


Then why were these cities excluded from the Golden Jubilee?

Is Urdu now considered the property of Mumbai alone?


If the ₹10 crore budget had been shared across ten cities,

this would have been a true state-level celebration of Urdu.

Instead, it became a Mumbai-centric show,

leaving the rest of the state as silent spectators.



---


🏆 Awards or Glamour Shows?


When those who give awards hold cameras instead of books,

and the recipients prefer selfies with celebrities

over their own literary work —

then literature’s spirit is in danger.


Awards are meant to honor literature,

but when given on the red carpet of showbiz,

they turn into insults.


The dignity of literature lies in its words,

not under the spotlights of the stage.



---


✒️ The Silent Danger — Exile of the Urdu Script


If the official Urdu Academy itself

removes Urdu script from its invitations,

that is not a small oversight —

it is an act of linguistic exile.


When a language loses its script,

not only its letters die —

its entire civilization begins to fade.



---


❓ Unanswered Questions


Where did the ₹10 crore go?


Why were other Urdu-rich districts ignored?


Why was the Academy’s literary purpose turned into a film event?


And why was Urdu script removed from its own invitation?



These are not just questions for Urdu —

they are questions for our collective conscience.



---


🌱 What Would a True Festival of Urdu Look Like?


If that budget had truly served Urdu,

imagine what could have been achieved:


State-level symposia on Urdu fiction, poetry, and criticism


Literary lectures and mushairas in schools and colleges


Writer residencies and youth workshops


“Urdu Houses” and book fairs across districts



That would have been the true celebration of Urdu —

where old lamps are not extinguished,

but new lamps are lit.



---


🕊️ Final Message


The existence of literature lies not just in words,

but in intention, light, and integrity.

If academies serve politics instead of literature,

then Urdu’s future will not be found in ceremonies,

but in conscience and creativity.


> “The Festival of Urdu, The Test of Urdu” —

is not merely an event, but a mirror,

in which we must all see our own reflection.




> “My spirit always stands firm in defiance —

for truth belongs to those who dare to fight the world.”




– Aleem Tahir

Friday, 10 October 2025

ناصر شیخ مالیگاؤں کے منفرد ڈائریکٹر

🎬 ناصر شیخ — مالی ووڈ کے منفرد ڈائیریکٹر ، جنہوں نے مالیگاؤں کا نام دنیا کے پردے پر روشن کیا
تحریر: علیم طاہر

> "جہاں ممبئی خوابوں کا شہر ہے، وہیں مالیگاؤں خوابوں کا جنون ہے —
اور اس جنون کا نام ہے ناصر شیخ۔"




---

🌟 ابتداء: پرنس ویڈیو پارلر سے شروع ہوا خواب

مالیگاؤں کی قدوائی روڈ پر ناصر شیخ کا ایک چھوٹا سا تھیٹر تھا — “پرنس ویڈیو پارلر”۔
1993 میں وہ وہاں چارلی چیپلن، بروس لی اور آرٹ فلمیں دکھایا کرتے تھے۔
یہی سے ان کے دل میں فلم سازی کا شوق اور تجسس جاگا۔

رفتہ رفتہ انہوں نے وی سی آر چلانا، فلم ایڈیٹنگ اور کیمرہ آپریٹنگ سیکھ لی۔
مالیگاؤں کے عوام کے لیے یہ ایک نیا اور منفرد تفریحی ذریعہ بن گیا۔
اسی دوران ان کے ذہن میں ایک خیال آیا —
“کیوں نہ مالیگاؤں کی اپنی فلم بنائی جائے؟”


---

🎥 "مالیگاؤں کے شعلے" — پہلا خواب حقیقت بنا

1997 میں ناصر شیخ نے مالیگاؤں کی پہلی مقامی فلم بنائی —
نام تھا “مالیگاؤں کے شعلے”۔
یہ مشہور فلم “شعلے” کا مالیگاؤں ورژن تھی۔

فلم میں مقامی فنکاروں نے کام کیا۔
نہ بڑا بجٹ تھا، نہ بڑے اداکار —
صرف جذبہ، محنت، اور ہنر تھا۔

جب فلم پرنس ویڈیو پارلر میں دکھائی گئی،
تو عوام نے ہاتھوں ہاتھ لے لیا۔
دو مہینے تک فلم ہاؤس فل رہی۔
لوگ بڑے سینما چھوڑ کر چھوٹے پارلر میں یہ فلم دیکھنے آتے۔
یہ ہنسی اور مزاح سے بھرپور فلم لوگوں کے دلوں میں گھر کر گئی۔


---

🎭 فلم کے فنکار

فلم میں
دھرمندر کا کردار علیم طاہر نے ادا کیا،
امیتابھ بچن کا رول شفیق بچن نے،
گبر سنگھ بنے عرفان الیاس،
بسنتی کا کردار ممبئی کی تھیٹر آرٹسٹ آکانشا نے کیا،
اور جگدیپ بنے شفیق پیٹر۔
ڈاکو کا کردار مقیم مینا نگری نے ادا کیا۔

مصنف تھے — اکرم شیخ اور حامد سُہانی۔
یہ فلم ناصر شیخ کی سوچ، ہمت اور محنت کا نتیجہ تھی
جس نے مالیگاؤں میں فلم سازی کی ایک نئی راہ دکھائی۔


---

🌠 "مالیگاؤں کی شان" سے "سپر مین آف مالیگاؤں" تک

پہلی فلم کی کامیابی کے بعد ناصر شیخ نے کئی فلمیں بنائیں —
“مالیگاؤں کی شان”, “مالیگاؤں کا سپر مین” جیسی فلموں میں
انہوں نے مزاح، سماج اور پیغام کو خوبصورتی سے جوڑا۔

“سپر مین آف مالیگاؤں” میں انہوں نے محدود وسائل کے باوجود
سپر مین کو اُڑتے ہوئے دکھایا —
یہ منظر آج بھی ناظرین کے ذہنوں میں تازہ ہے۔


---

🌍 دنیا بھر میں شہرت — "Supermen of Malegaon"

وقت گزرتا گیا۔
ناصر شیخ کی قابلیت نے ممبئی کے مشہور فلمسازوں کو متوجہ کیا۔
پونے فلم فیسٹیول میں زویا اختر نے ان سے ملاقات کی
اور وعدہ کیا کہ ایک دن وہ ان پر فلم بنائیں گی۔

کچھ سال بعد زویا اختر، فرحان اختر، ریتیش سدھوانی اور ریما کاغتی کی پروڈکشن میں
“Superboys of Malegaon” کے نام سے ایک بڑی ڈاکیومینٹری فلم بنی۔
اس کا بجٹ تقریباً 30 کروڑ روپے تھا۔

یہ فلم کینیڈا، لندن اور دیگر بین الاقوامی فلمی میلوں میں دکھائی گئی۔
دنیا بھر کے تھیٹروں میں ریلیز ہوئی اور زبردست کامیاب رہی۔
جاوید اختر کے بقول:

> “پندرہ سالہ فلم انڈسٹری میں ایسی شاندار فلم نہیں دیکھی۔”



یہ مالیگاؤں کے لیے بہت بڑی کامیابی تھی۔

“مالیگاؤں کے شعلے” کے بعد ناصر شیخ کو "کرنال کمپنی" سے
“خانदेश کی بارات، خانदेश کا جَوائی” نامی فلم کی پیشکش ملی
جسے ناصر شیخ نے بہترین انداز میں بنایا،
اور وہ فلم بھی بے حد پسند کی گئی۔

مشہور فلم ساز ڈپٹی بھٹناآگر کی کمپنی کی طرف سے
انہیں سیریل “مالیگاؤں کا چنٹو” کا آفر ملا
جو دنیا کے مختلف ممالک میں فلمایا گیا۔

اس سیریل کی ہدایتکاری ناصر شیخ نے کی —
جو ان کا بڑا کارنامہ مانا جاتا ہے۔
“مالیگاؤں کا چنٹو” میں ناصر شیخ نے خاموش مزاح کے ذریعے
ناظرین کو ہنسا ہنسا کر لوٹ پوٹ کر دیا۔
ان کا ٹیلنٹ پوری دنیا میں گونج اٹھا۔


---

💬 ناصر شیخ کا فلسفہ — ہنسی میں چھپا پیغام

ناصر شیخ کی فلموں میں صرف مزاح نہیں ہوتا،
بلکہ ہر کہانی میں ایک سماجی پیغام چھپا ہوتا ہے۔
وہ ہمیشہ کہتے ہیں —

> “میری کامیابی میری نہیں، مالیگاؤں کے فنکاروں کی کامیابی ہے۔”




---

🌈 اختتامیہ — مالیگاؤں سے دنیا تک کا سفر

ناصر شیخ کی کہانی صرف ایک فلم میکر کی نہیں،
بلکہ ایک خواب اور جدوجہد کی کہانی ہے۔
انہوں نے یہ ثابت کیا کہ
اگر لگن، جنون اور تخیل ہو،
تو مالیگاؤں جیسے چھوٹے شہر کا فنکار بھی
دنیا کے پردے پر اپنی شناخت بنا سکتا ہے۔


---

📍 تحریر: علیم طاہر
(فلم و ادب کے محقق، مالیگاؤں)

Friday, 12 September 2025

Aleem Tahir ki pachchees nazme

ٹایٔٹل:

 "علیم طاہر کی نظمیں" 
       (ادب اطفال)
 
("بطور خاص بچوں کے لئے،
 علیم طاہر کی پچیس(25)
 نظموں کا دلچسپ مجموعہ")
(حصۂ اول) 
________________________________
 
کتاب کا نام:  "علیم طاہر کی نظمیں"
(ادب اطفال)
بطور خاص بچوں کے لئے ،علیم طاہر کی پچیس (٢٥) ، نظموں کا دلچسپ مجموعہ)

________________________________

           ( ادب اطفال )
 
فہرست:

01...........حمد
02...........بچہ اور اردو
03۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بارش
04۔۔۔۔۔۔۔۔مثالی مدرس 
05۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔گھوڑا اور بکرا
06۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔باپ
07۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ماں
08۔۔۔۔۔۔۔‌شیر اور خرگوش
09۔۔۔۔۔۔۔۔۔صبح سویرے
10۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جھاڑو والا
11۔۔۔۔۔۔۔۔میرا پیارا پیارا گاؤں
12۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مری اردو زباں
13۔۔۔۔۔۔۔۔ بیٹیاں
14۔۔۔۔۔۔۔۔۔چڑیا اور جگنو
15۔۔۔۔۔۔۔۔۔دھوپ
16۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔طوطا
17۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پیارے گاندھی جی 
18.......شیر اور چوہا
19.......تتلی اور بچّہ
20.........پیاسا کوّا
21..... اک بچّے نے چاند سے بولا
22......... ابّا ابّا سنو تو ابّا
23.........چیتا اور گدھا
24...........ایک بیٹی کی پیاری باتیں
25............دو بلیاں

________________________________
:::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::

( ادب اطفال)

 نمبر 01:
حمد........................علیم طاہر

قلب میں دھڑکن بن کر اترا نام ترا
سارے ناموں میں ہے پہلا نام ترا

ساگر ساگر بولیں موجیں یا اللہ
ورد کرے ہے دریا دریا نام ترا

رات اور دن پر تیرا نام مسلط ہے
لے کر نکلے سورج چندا نام ترا

صبح ہوئی تو پھول پھول کے چہرے پر
شبنم کے قطروں میں چمکا نام ترا

بادل بادل سرد ہوا کے جھو نکو ں سے
قطرہ قطرہ بول کے برسا نام ترا

اڑتے اڑتے پنجھی ہر دم لیتے ہیں
وادی وادی صحرا صحرا نام ترا

کیڑوں کو دی تو نے غذائیں پتھر میں 
پتھر کے اندر بھی گونجا نام ترا

مستانے انداز میں پل پل یاد کرے
شجر شجر کا پتہ پتہ نام ترا

روشن لعل و گوہر تیرے نام سے ہیں
لے کر چمکے پل پل مولا نام ترا

جگنو تتلی بھنو رے تیرا ذکر کرے
ہر گل میں ہیں مہکا مہکا نام ترا

صدف کھلی تو پھیلا نور اندھیرے میں
طاہر نے بھی روشن پایا نام ترا

(C):Aleem Tahir
Adab e Atfaal
Hamd no.01.
Email id: aleemtahir12@gmail.com
Mobile no.9623327923.

.........................................۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 02:( ادب اطفال )
نظم نمبر:02۔۔۔۔۔" بچہ اور اردو " 
                                       علیم طاہر

تو  چاہت سکھاتی  ہے،  چاہوں گا  اردو
ترے   ساتھ   رشتہ   نبھاؤں   گا   اردو
دیوانہ ہوں تجھ کو ہی سوچوں گا اردو
لکھوں گا پڑھوں گا میں بولوں گا  اردو۔۔۔۔۔

بزرگوں کا ماضی تجھی  سے  ملے  گا
 مرا دل ہے غنچہ ،تجھی سے  کھلے گا
جو دل زخمی ہو گا تجھی سے سلے گا
چلوں گا  ترے  ساتھ  ٹھہروں گا  اردو
لکھوں گا پڑھوں گا میں بولوں گا اردو۔۔۔۔۔

زمانے  میں   یوں  تو کئی  ہیں  زبانیں 
تجھی  پر  مگر سب لٹاتے  ہیں  جانیں
سبھی تجھکو بولے سبھی تجھکو مانیں
ترانوں سے  تیرے  میں بہلوں گا  اردو
لکھوں گا پڑھوں گا میں بولوں گا اردو۔۔۔۔۔۔

زباں  مادری  میری   تو  ہی  زباں  ہے 
زباں ترے جیسی کوئی بھی  کہاں ہے
تو ہی میرا دل ہے  تو میرا  جہاں  ہے
لگا کر گلے تجھ کو  چوموں  گا  اردو
لکھوں گا پڑھوں گا میں بولوں گا اردو۔۔۔۔۔۔۔

                       علیم طاہر 

(C: 02:
Aadab e Atfaal
Nazm no:02
"Bachcha Aur Undu"
Aleem Tahir.
Email id: aleemtahir12@gmail.com
Mobile no.9623327923.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 03:  ( ادب اطفال )
        نظم ۔۔۔۔۔نمبر 02  " بارش  "
                                  علیم طاہر

دھوم مچائے رنگ جمائے 
 رنگ   برنگے  گل  مہکائے
 جنگل جھومے اور مسکائے
 پنچھی پنچھی شور مچائے
 ہر جانب جل  تھل ہو جائے
 جب بھی چھم چھم بارش آئے 

 دریا   دریا  آئی  روانی
 ہر ذرے پر چھائی جوانی
 یوں ہی دنیا نہیں دیوانی
 بارش کی خوش رنگ کہانی
 خوشیوں کے سب تحفے لائے
 جب بھی چھم چھم بارش آئے 

 فلک   فلک    بادل   گرجے   ہیں
 دھنک دھنک جلوے بکھرے ہیں
 چھنک چھنک قطرے ٹپکے ہیں
 مور      تھرکتے   پر     پھیلائے
 جب بھی چھم چھم  بارش آئے

امبر پر ہلکی لالی ہے
ہر سو چھائی ہریالی ہے
 رنگ برنگی خوشحالی ہے
شاخیں جھومیں ،کوئل گاۓ
جب بھی چھم چھم بارش آئے

(C) : 03
(Aadab e Atfaal)
Nazm no.03
Aleem Tahir.
Mob no.9623327923
Email id: aleemtahir12@gmail.com

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 نمبر 04:ادب اطفال
         نظم نمبر 04:مثالی مدرس
                                       علیم طاہر

خدا کی ہے رحمت مثالی مدرس
 ہےدولت ہی دولت مثالی مدرس

 منور کرے علم کی روشنی سے
مشرف کرے دل کو ہر اک خوشی سے

 کرے ہم میں پیدا جو خود اعتمادی 
قدم ہر قدم جس نے  ہم کو  دعا  دی

 بحسن عمل   جو    فرائض   نبھائے
 ہمیں سچ کی راہوں پہ چلنا سکھائے 

جو ماہر ہے تحریر و تقریر میں بھی
 جو ظاہر ہے ہستی کی تفسیر میں بھی

 رکھے قوت فیصلہ بھی جو محکم
 کرے پست ہمت نہ جس کی کوئی غم

 جو طلبہ کی فکروں کو پہچانتا ہو
 عبادت جو تدریس کو جانتا ہو

 بدل دے جو فکروں کو حسب ضرورت
 جو ہم کو سکھائے معیاری خطابت

 جو واقف ہو رجحان تعلیم سے بھی
 رکھے منسلک خود کو تسلیم سے بھی

 رہے  باخبر  سب کی  سرگرمیوں  سے
 مخاطب جو طلبہ سے ہو نرمیوں سے 

جو صبر و تحمل کا دامن نہ چھوڑے
 کرے جو بھی وعدہ تو وعدہ نہ توڑے

 جو ہے باشعور اور وسیع النظر بھی
 جو ہے مستند علم کا ہم سفر بھی

 جو مرکز ہے علم و عمل کے جہاں کا
 اہم ایک کردار ہے داستاں کا

 کرے استفادہ جو ہر تجربے سے
 بڑھے ہر قدم  علم کا حوصلے سے

 لچکدار جس کا رویہ ہو سب سے
 کرم پائے مخصوص جو اپنے رب سے

 سراپا شرافت مثالی مدرس
اے طاہر حقیقت مثالی مدرس

 ( C )Aleem Tahir.
04:Aadab e Atfaal
Nazm no 04: Misali Mudarris
By Aleem Tahir.
Mobile no.9623327923
Email id.aleemtahir1@gmail.com.
________________________________

 نمبر 05(ادب اطفال)

        نظم نمبر 05 " گھوڑا اور بکرا "
                             نظم نگار : علیم طاہر 

اک   گھوڑا    ہٹا   کٹا  تھا
 ساتھ اسکے مالک رہتا تھا
 گھوڑا  اب  بیمار  ہوا  جو 
صحت  سے لاچار  ہوا  جو
 مالک  نے  ڈاکٹر  کو   بلایا
 پھر گھوڑے  کا  ڈاکٹر  آیا 
دیکھا , پڑا   ہوا  ہے  گھوڑا
 لاغر  سا , ادھمرا ہے گھوڑا
 ڈاکٹر نے پھر کھولا, جھولا
 دوا دیا ، دس دن  کی، بولا
 دس دن میں ہو ٹھیک تو، بہتر
 مار دو  ورنہ ، زہر  ہی  دے  کر 
ساتھ   وہیں ،  بکرا    بیٹھا   تھا 
 غور سے سب کچھ دیکھ رہا تھا
 گھوڑا  اٹھ  پایا  نہ، دوا   سے
 بولا  بکرا  کان  میں   جا   کے 
بھائی  تھوڑی  کوشش کر  کے
 کھڑا ہی ہو جا ،جان کے ڈر  سے
 مار ہی دیں گے، ورنہ، تجھ   کو
 فکر   لگی  ہے   تیری  مجھ   کو
 اٹھا نہ گھوڑا ،دس دن  بیتے
 مالک   نکلا  ، زہر    کو   لینے
 ایک  دفعہ ،  پھر   بولا   بکرا 
مرے گا اب تو، کھڑا ہی ہو جا 
مار ہی دیں گے , آج  تجھے  یہ
 خبر ہوئی ہے, ابھی مجھے  یہ
 گھوڑے میں کچھ  ہمت   آئی
 موت  کے  ڈر  سے  قوت   آئی
 دھیرے دھیرے کھڑا ہوا  وہ
 ذرا چلا ،  پھر  دوڑ   پڑا  وہ
 مالک   زہر   جو  لے   کر   آیا 
دوڑ   رہا   ہے   گھوڑا    دیکھا
 جھوم اٹھا, خوشیوں میں آ کر
 بولا    یاروں    سے،   چلا    کر
 اچھی  گھوڑے  کی  صحت  ہے!
 رات کو  بکرے  کی   دعوت  ہے!
 اس  قصے  سے  سیکھا  ہم   نے
 عقل  کے  ذریعے  دیکھا  ہم   نے
 خوب  کرو   اوروں   کی    پروا
 اپنی   پرواہ   بھول   نہ     جانا

                    
(C):
(05)Aadab e Atfaal 
"Ghoda Aur Bakra "
By Aleem Tahir
Email id:
aleemtahir12@gmail.com
Mobile no.9623327923.
________________________________

 ادب اطفال 06:
(باپ).....نظم نمبر 06...علیم طاہر

(ماں کے موضوع پر کافی شاعری اور نثردنیائے ادب میں موجود ہے  لیکن باپ کے موضوع پر خال خال ہی مواد ملتا ہے جبکہ کہا گیا ہے کہ  ماں کے قدموں کے نیچے جنّت ہے تو باپ جنّت کا دروازہ ـ  یہ گیت باپ کے نام ،  فخر و انبساط کے ساتھ ـ ( علیم طاہر ).....

(ادب اطفال) نظم۔نمبر 06 ......…...  " باپ " 
                                علیم طاہر 

    رنگ برنگے ہیں کھلونے باپ سے
    پیارے سپنے ہیں سلونے باپ سے 
    باپ سے جواں ہیں سارے حوصلے
    باپ  سے  آسان   اپنے    راستے
      گھر کی  جگمگاتی  شان  باپ ہے 
   خواب، فخر اور دھیان باپ  ہے

  باپ ہی ہے  دیپ باپ تیل ہے
  باپ ہی سے ہنستے گاتے کھیل  ہے
  آرزؤ ں   کا   ہے   آسمان   باپ
  ہر گھڑی  ہے  ہم پہ مہربان  باپ 
       مسکراہٹوں کی جان  باپ ہے  
     گھر کی  جگمگاتی شان باپ ہے 
      خواب،فخر اور دھیان باپ ہے

  باپ ہی سے زندگی کے رنگ و روپ
  باپ ہی سے چھاؤں بنے ،سخت دھوپ
  باپ  دکھ  کو سہہ  کے سکھ عطا کرے
  رحمتیں  ہوں  با پ    پر   خدا  کرے
    ماں  کے  اپنے  درمیان  باپ   ہے 
     گھر کی جگمگاتی شان  باپ  ہے
     خواب، فخر اور دھیان باپ ہے

Topic (Baap)  a geet by Aleem Tahir .

________________________________

 (ادب اطفال) نمبر 07

        نظم نمبر  : 07    (ماں)
                                     علیم طاہر

گھنیرے پیڑ کی ٹھنڈی ہوا سی چھاؤں لاگے ماں
سدا سورج نکلنے سے ہی پہلے گھر میں جاگے ماں

 نہیں کھانے کی ضد میں بھاگ پڑتا ہے کبھی بچّہ 
نوالہ لے کے اس بچّے کے پیچھے دیکھو بھاگے ماں

سنبھالےرہتی ہےکس طرح نا زک رشتے ناطوں کو
کبھی بھی ٹوٹنے  دیتی نہیں  یہ کچےّ  دھا گے  ما ں

بہو  بیٹی  ہو  یا   پھر  ہو  بہن   بیو ی  ،  کوئی  رشتہ
 قطاروں میں بھی  رشتوں کی یہاں ہے سب سے آگے ماں

اے  طاہر  جو  ملا  ہم  کو ، ملا  ما ں  کی  دعا ؤ ں  سے
 جو  تیری  قدر  نہ  جانے  وہ  ہے  کتنے   ا بھاگے  ماں 

(c)...(maan)...by...AleemTahir.
_______________________________

 ادب اطفال نمبر 08 ۔۔
   نظم نمبر 08 "شیر اور خرگوش"
                                 علیم طاہر

جنگل کی ویران راہ سے اک خرگوش چلا تھا
 شیر ادھر جو آ نکلا تو رک کر بہت ڈرا تھا 

شیر نے پھر خرگوش سے پوچھا کہاں چلے خرگوش 
تھر تھر تھر تھر کانپ کےچپ تھا اڑے تھے اس کے ہوش

 سمجھ گیا تھا خیر نہیں ہے جائے گی اب تو جان
 اک ترکیب سمجھ میں آئی کہنے لگی زبان

 کنویں کے ایک شیر نے مجھ کو بلوایا ہے آج 
کنویں میں رہ کر کرتا ہے وہ جنگل پر راج

 شیر دہاڑا، کنویں کا بھی کوئی شیر یہاں ہے ؟
کبھی تو ہم نے نہیں سنا تھا اور دیکھا بھی کہاں ہے؟

 تب خرگوش نے بات بنائی! بولا  مرے حضور! 
وہ کنویں میں رہتا, ورنہ آتا نظر ضرور

 اک اک کر کے سب کو بلاتا ،کھاتا ،موج اڑاتا
 اب جو یقیں نہ آئے تو خود چل کر میں دکھلاتا

 شیر نے پوچھا کیسے آیا وہ کنویں کا شیر
 بولا پھر خرگوش ،نہ جانوں، چلیے ہوگی دیر

 گرجا! بولا, شیر گرج کر۔ ," مزہ چکھاؤں گا"
 جس نے سب کوکھایا اس کو موت دکھاؤں گا

 بولا یہ خرگوش ادب سے وہاں چلیں نہ آپ 
بہت ہی موٹا تازہ ہے وہ، کیے ہیں اس نے پاپ

 کہیں آپ کو وہ کوئی نقصان نہ پہنچا دے
 یہی  سوچ  کر  دل  میرا  اندر  اندر  کانپے 

چلا کر پھر  شیر نے  بولا  ہمیں  ڈراتے  ہو
 چلو بتاؤ کہاں ہے وہ ،کیوں وقت بتاتے ہو

 نہیں مانتے آپ تو  چلیے،  ابھی بتاؤں گا
 پاس کنویں کے لےجا کرمیں اسے دکھاؤں گا

 ایک کنویں کے پاس رکا، اور بولا پھر خرگوش
 اس میں رہتا ہے وہ دیکھو، بھرا ہے اس میں جوش

 شیر نے کنویں میں جو جھانکا ،اپنا عکس ہی پایا 
وہ سمجھا کوئی دوسرا  شیر  ہے اس کو غصہ آیا 

دیکھ کے اس نے خوب دہاڑا، جیسے ہی وہ ٹھہرا 
ویسی ہی آواز  آئی تھی کنواں بہت تھا گہرا 

 یہ سن کر غصے میں آیا  اور   کودا   اندر
 احمق شیر تو  ڈوب گیا پر سبق دیا مر کر 

پیارے بچو! جوش میں اپنا ہوش نہیں کھونا 
احمق شیر کی طرح جان سے ہاتھ نہیں دھونا 

(C)Nazm:
"Sher Aur khargosh "
By:
Aleem Tahir
Email id: aleemtahir12@gmail.com
________________________________

 ادب اطفال نمبر 09.

  نظم نمبر 09۔۔۔صبح سویرے

آنکھیں کھولو، چھوڑو بستر, صبح سویرے
پیارے  بچو  ،  دیکھو  باہر , صبح  سویرے

بابا امبر، صوفی دھرتی ,  اڑتے  پنچھی
 کیا کیا ہے ،نورانی منظر,  صبح سویرے

غسل سے فارغ، ہو کر لو ،تھوڑی ورزش
کام یہی ہے ،سب سے بہتر, صبح سویرے

فجر نمازیں ادا کرو ، مسجد میں جا کر
کرو دعائیں ہاتھ اٹھا کر , صبح سویرے

جو مانگو گے ،تمہیں ملے گا،کرو دعائیں 
سب کے لئے ہے،  اللہ اوپر,  صبح سویرے 

جلد اٹھے جو، نہیں پڑے بیمار  کبھی  وہ
 ہاتھ پھرے قدرت کا سرپر , صبح سویرے

رات کو  جلدی   سونا ہو گا  ،پیارے بچو !
آنکھ کھلے گی تب ہی جاکر ,صبح سویرے
                   
                                          علیم طاہر 

(C)Aleem Tahir 
Adab e Atfaalno. 09
Nazm no.09.
"Subh Sawere "
Email id: aleemtahir12@gmail.com
Mobile no:
9623327923.
________________________________

 ادب اطفال نمبر:10
: نظم نمبر  10 " جھاڑو والا "

                       * علیم طاہر

دیکھو  جھاڑو  والا   آیا 
اچھی اچھی جھاڑو لایا 

لمبی ،چھوٹی،موٹی،  پتلی
کتنی جھاڑو ،اچھی، اچھی

گلی گلی   آواز      لگا   کر
 پھرتا ہے سائیکل پر آ   کر

رک رک کر آگے بڑھ جا ۓ
گردن  پر  جھاڑو   لٹکاۓ 

کوئی  بلاۓ  تو   رک  جائے 
رک کر ہر  جھاڑو  دکھلاۓ

لمبی،  پتلے  ریشے  والی
یہ ہے فرش پہ دینے والی

آنگن    والی  موٹی  جھاڑو 
لے لو اچھی چھوٹی جھاڑو

خوبی  جھاڑو  کی  گنواۓ
دل جیتے  اور  قیمت  پاۓ

                             علیم طاہر

(C):Adab e Atfaal: no.10
Nazm no.10:  "Jhadu wala"
Email id: aleemtahir12@gmail.com
Mobile no.9623327923.
________________________________

 ادب اطفال نمبر 11.
نظم نمبر: 11
"میرا پیارا پیارا گاؤں"

                          *  علیم طاہر

میرا   پیارا   پیارا   گاؤں
 جنت   کا   نظارا   گاؤں

جب بھی گھر سےنکلوں میں
 کیا کیا منظر  دیکھوں  میں

چاروں جانب ٹیلے ہیں
 سب منظر رنگیلے ہیں

صبح نکلتا وہ سورج
 کھلا ہوا ہے ہر پنکج
 
 پگڈنڈی   ہے   کھیتوں  میں
سوندھی خوشبورستوں میں

برگد  کے  نیچے    ٹھہرو 
پنگھٹ   کا منظر  دیکھو
 
فلک فلک اڑتے پنچھی
 دھرتی پر باجے بنسی

جھرنوں سے گرتا پانی
ندیا بھی  ہے  مستانی

جھیل کی اپنی دنیا ہے
منظر  منظر  سپنا   ہے

 پیڑوں کے گہرے سائے 
گرمی میں ٹھہرے ساۓ

جب  چھاۓ   کالے  بادل
فلک سے برسے ٹھنڈا جل

جب ہو سردی کا موسم
تب   ہو  خوابیدہ  عالم

لہکے  ،    مہکے     ہریالی
مرے گاؤں میں خوشحالی

میرا  پیارا   پیارا    گاؤں
جنت۔  کا   نظارا    گاؤں

                     علیم طاہر

(C): Nazm no.11.
Email id:
aleemtahir12@gmail.com.

________________________________

 "ادب اطفال نمبر 12"

      نظم نمبر 12:میری اردو زباں
                               علیم طاہر 

 دنیا کی زبانوں میں دیکھا تجھ جیسی کوئی بھی ملی کہاں ؟
میری پیاری زباں ،میری اردو زباں ،میری پیاری زباں میری اردو زباں

 
 رہتی دنیا تک رہے صدا ایسے ہی ہیں سرتال ترے
 حالی ,والی ,اعجاز, داغ, میر و غالب, اقبال, ترے 
محفوظ ہیں تجھ میں تاریخیں, خود میں رکھے، صدیوں کے نشاں
 میری پیاری زباں, میری اردو زباں, میری پیاری زباں میری اردو زباں

 

 تیرا لہجہ ہے جادو جیسا, گھنگرو تجھ میں خوشبو تجھ میں
 گل ،شبنم، تتلی، تجھ میں ہے, چندہ تارے جگنو تجھ میں
 محفوظ ہیں تجھ میں تاریخیں، خود میں رکھے، صدیوں کے نشاں 
میری پیاری زباں میری اردو زباں میری پیاری زباں میری اردو زباں

                              علیم طاہر 

(C) Abab e Atfaal no.12.
Nazm:"Meri Urdu zubaa "
By Aleem Tahir
Email id: aleemtahir12@gmail.com
9623327923.
________________________________

 ادب اطفال نمبر: 13
نظم نمبر13:
              'بیٹیاں '
                    علیم طاہر 

پریاں  ہیں پیاری پیاری، پریاں،  بیٹیاں
 ننھی شاخوں پہ کھلتی، کلیاں، بیٹیاں

 ان کے  آنے  سے  آیا,  نور , خدا  کا
 ان کے ہونے سے چمکا, رنگ, وفا کا
 ان کے رہنے سے مہکا , باغ,  ادا  کا 
پریاں ہیں پیاری پیاری پریاں، بیٹیاں
 ننھی شاخوں پہ کھلتی کلیاں، بیٹیاں

 ان کے سبب سب گھر میں اجالے ہیں
 ان  کے  سبب  جنت  کے  حوالے  ہیں
 ان  کے  سبب  تقدیر  میں  نوالے  ہیں
 پریاں ہیں پیاری پیاری پریاں ، بیٹیاں
 ننھی شاخوں پہ کھلتی ,کلیاں ،بیٹیاں

 ماؤں کے ہونٹوں  مسکان ان سے ہے
 باپوں کی آن, بان, شان, ان سے ہے
 اپنے گھروں کی, پہچان, ان سے ہے
 پریاں ہیں پیاری پیاری ، پریاں ،بیٹیاں
 ننھی شاخوں پہ کھلتی ،کلیاں، بیٹیاں

(C):Adab e Atfaal no ۔13
Nazm no.13:
By Aleem Tahir
Email id: aleemtahir12@gmail.com.
Mobile no.9623327923.
________________________________

 ادب اطفال نمبر: 14
                   "چڑیا اور جگنو"
                      علیم طاہر

 صبح ہوئی اور گھونسلے سے نکلی چڑیا
 اڑتے  اڑتے   دور   جنگل   پہنچی   چڑیا

 کھانے پینے میں گزرا دن سارا  اس  کا 
آ ہی گیا بن کر دشمن  اندھیارا  اس  کا

 اس نے سوچا اب میں کیسےگھر جاؤں گی
 اندھیارے  میں کہاں کہاں پر  ٹکراؤ ں  گی

 جب وہ چڑیا بہت دکھی تھی دیکھااس کو
 اک جگنو نے   ہمدردی سے  پوچھا  اس کو

 بی چڑیا غمگین ہو اتنی کیوں تم بولو ؟
کیا ہے غم کا راز ذرا یہ  مجھ پر کھولو

 بولی  چڑیا "  بھائی  کتنا    اندھیارا   ہے "
"گھر جاؤں گی کیسے اس کا دکھ سارا ہے"

 جگنو بولا  "بی  چڑیا بس  بات ہے  اتنی"
" میں رستہ دکھلاؤں گا یہ رات ہے جتنی"

 جگنو کہہ کر اڑا ہی  تھا کہ  ہوئی  روشنی
 پیچھے پیچھے اڑی تھی چڑیا ملی روشنی

 آہی گیا  پھر  اڑتے  اڑتے  گھر  چڑیا  کا 
ختم ہوا تھا دل میں جو تھا ڈر چڑیا کا 

بولی چڑیا ، " جگنو بھائی  !   تم اچھے  ہو"
 نیک بھی ہو ہمدرد بھی ہو اور اک سچے ہو

 جو اچھے رہتے ہیں وہ آتے ہیں کام
 اچھائی کا رب سے پاتے  ہیں  انعام

 ہنس  کر  اڑتے   اڑتے  نکلا   آگے  جگنو
" ننھا نور فرشتہ "   جیسا   لاگے  جگنو

(C): Adab e Atfaal no.14:
Nazm no:14. 
"Chidiya Aur Jugnoo"
Email id: aleemtahir12@gmail.com
Mobile no.9623327923.
________________________________

 ادب اطفال نمبر: 15
       نظم نمبر: 15
                  " دھوپ " 
                           علیم طاہر

روز سورج سے ہوتا جنم دھوپ کا
ہے خُدا کے کرم سے کرم دھوپ کا

دھوپ بهی جلتی رہتی ہے غم میں سدا
دُھوپ میں جلتا رہتا ہے غم دُھوپ کا 

دھوپ سردی میں ملتی رہے تو مزا
لطف گرمی میں ملتا ہے کم دھوپ کا

بھاگ جائے گی ظلمت بھی تب رات کی
جب بھی بکھرے گا دھرتی پہ دم دھوپ کا

اپنی  اسکول   پھر  جلد  کل  جائیں گے
صبح دیکھیں گے چہرہ جو ہم دھوپ کا

دھوپ رکھے ہیں سب کا بھرم دوستو
اور رکھا ہے سب نے بھرم دھوپ کا

اس میں ملتا نہیں ہے تعصب کبھی
صرف انسانیت ہے  علم  دھوپ  کا

دل لگی کتنی گہری ہے جگ سے  اسے
جیسے طاہر یہ جگ ہے  حشم دھوپ کا

(C):Adab e Atfaal no.15.
A Nazm"Dhoop" no.15.
 by ALEEM TAHIR
Email id: aleemtahir12@gmail.com
Mobile no.9623327923.
________________________________

 ادب اطفال نمبر :16
نظم نمبر: 16۔

          "طوطا "

                      علیم طاہر

مٹھو مٹھو سب کہتے ہیں میں طوطا  ہوں
 ساتھ مرے، بچے رہتے ہیں میں طوطا  ہوں

 چونچ  لال  ہے  ,جسم ہرا  ہے,  پیلے   پاؤں
 میری آنکھیں, رنگ بدلتی, دھوپ ، چھاؤں

 دہراؤں گا , نقل کروں  گا,  جو    بولو  گے
 پیرو مجھ کو, بہت پسند ہے, لا کر دو گے؟

 مجھ کو "پنجرہ گھر"، دے کر تم پال رہے ہو
  وقت  وقت  پر  ، کھانا  پانی ،ڈال  ر ہے ہو

 کیا لینا  دینا  ہے  مجھ  کو  اب  جنگل  سے
 میں توخوش ہوں آیا ہوں پچھلے منگل سے
 
تم اچھے انسان ہو, میں ہوں, اچھا, پنچھی
 دل  بہلانے   والا ,  دل  کا  ,  بچہ ,  پنچھی

 بولو پیار سے مٹھو مٹھو  منہ تو کھول
 بولو    پیار   سے    اللہ   اللہ  اللہ    بول

(C) Adab e Atfaal no: 16
Nazm no: 16
"Tota "
By:Aleem Tahir
Email id aleemtahir12@gmail.com
Mobile no.9623327923.
________________________________

 ادب اطفال نمبر: 17

نظم نمبر: 17

            "پیارےگاندھی جی"
                                          علیم طاہر

آن،بان اور شان  تھے  پیارے  گاندھی  جی
 بھارت کی پہچان تھے پیارے گاندھی جی

 دھوتی، لاٹھی، چشمہ، چپل، تھی پہچان
 اک رہبر انسان تھے  پیارے  گاندھی  جی

 چپل  پہنے   میلوں   پیدل   چلتے  تھے
 وہ پختہ ارمان تھے پیارے گاندھی جی 

ان   کا   ہر  اک   کام   کرشمہ   جیسا   تھا 
ہم سب پر احسان تھے پیارے گاندھی جی

 سارے   فرنگی  ہار   گئے   ان   کے   آگے 
دشمن کو نقصان تھے پیارے گاندھی جی

 پیار سے ان کو باپو بھی کہتے ہیں سب
 نفرت سے انجان تھے پیارے گاندھی جی

 وہ  چرخے  سے  سوت  کو  کاتا  کرتے  تھے
 محنت کی پہچان تھے پیارے گاندھی جی

 امن  و  سکوں  کے   سچے   پکے   شیدائی 
صبر و عمل کا گیان تھے پیارے گاندھی جی 

بھارت      کو     آزاد      کرایا       زندہ  باد
 بھارت کی سنتنان تھے پیارے گاندھی جی

 ستہ گرہ ہو،    مون برت،    یا     آندولن
 ہمت میں بلوان تھے پیارے گاندھی جی

 ہر   مذہب  سے   الفت  ان  کا   شیوہ  تھا
 انساں کی پہچان تھے، پیارے گاندھی جی

 سب  کو    جہالت     سے   دلوائی    آزادی
 علم کی اعلیٰ شان تھے پیارے گاندھی جی

 ہندو ، مسلم      اتحاد    کے  حامی    تھے
 یکجہتی کی جان تھے، پیارے گاندھی جی

 علم کے  اک ہتھیار  سے  جیتا  جنگوں کو
 سمجھو تو آسان تھے، پیارے گاندھی جی

 اچھی   اسکیموں   کے    پرچم    لہرائے
 طاہر  عالیشان تھے ، پیارے گاندھی  جی

(C): Adab e Atfaal no 17:
Nazm:no:17. "Peyare Gandhi Ji "
By:Aleem Tahir
Email id:
 aleemtahir12@gmail.com
Mobile no.9623327923.
________________________________
  
 

 (بچوں کی نظم) ....  ( شیر اور چوہا ) نمبر: 18

سویا   تھا   جنگل   کا   راجہ   اک  برگد   کے   نیچے
پڑا   ہوا   تھا  ضدّی   چوہا   یوں   ہی اس کے  پیچھے

شیر کے تن  پر  اُچھل  اُچھل  کر   چوہا   دوڑ   لگا تا
لیکن   شیر   کے   پنجّے   میں  وہ  جلد  ہی  پکڑا جاتا

شیر  نے  بولا  چھوٹے  چوہے  تیری  اتنی    جراءت
نیند  سے  تُو  نے   مجھے  جگایا   ایسی    تیری    ہمّت

اب میں  تجھ  کو  کھا  جاؤں  گا  کروں  گا قصّہ پاک
چوہا  بولا مجھ  چوہے  سے  بھوک   مٹے   گی   خاک

آج  مجھے  جو  چھوڑو   گے  تو  کل   آؤں  گا   کام
رحم   کرو   جنگل    کے    راجہ  اور    کرو   آرام

چوہے سے یہ سن کر چھوڑا بخش  دی اس  کی  جان
شیر  نے  اپنی  نیند  کی   چادر   دوبارا    لی    تان

اُس   دن   ایک   شکاری   آیا   شیر  پہ  ڈالا  جال
شیر  جال  میں پھنس کر  تڑپا  برا  تھا اس  کا  حال

گیا   شکاری   سرکس  کی   اک   لاری   کو   لانے
تھوڑی   دیر  ہی گزری  ہو گی  بس  اس  کو جانے

اپنی    بل   سے    چوہا    نکلا    دیکھا    یہ    منظر
سب چوہوں کو  دعوت  دی  کہ  آؤ  سارے  مل کر

میرا  اک  احسان   چکا    دو   آج    کتر   دو   جا ل
جس  نے  میری  جاں بخشی تھی برا ہے  اس کا  حال

سب  چوہوں   نے  جال  کو  کترا   شیر   ہوا   آزا د
رحم کے  بدلے  رحم  ہی    پایا   ہوا    کہاں    بربا د

ایک سبق  ملتا  ہے  اس   سے    رحم  کرو    سب   پر
رب  بھی  ہم  پر  رحم   کرے  گا یقیں  رکھو  رب  پر

 (Bachchon ki nazm)

( sher aurchuhaa)
Nazm no.
no.18....by..Aleem Tahir.

_______________________________

 بچّوں کی نظم..
(تتلی اور بچّہ) ..نمبر.....19

تتلی    بولی    ننّھے    راجہ یوں   بھاگو    نہ    پیچھے
گرِ   نہ   جاؤ    دائیں    بائیں    دیکھو    اوپر   نیچے

رنگ برنگے  باغ  میں میر ے پیچھے  پڑ گئے   کیوں؟
مجھ کو چُھُونے  کی  خواہش میں ضد پر  اڑ گئے کیوں؟

بولا    بچّہ    پیاری   تتلی   سنو     نا    میری   بات
میرے دل میں  خواہش جا گی   تمہیں   لگاؤں    ہاتھ

رنگ  برنگی    پیاری    پیاری   تم   وہ    رنگیلی    ہو
چُھونے  کی  خواہش  جاگی   ہے  تم   وہ    چمکیلی    ہو

بولی    تتلی     اچّھے    بچّے      دیکھو     لطف     اٹھاؤ
کچّے  رنگ ہیں  میرے  مجھ  کو  ہاتھ    ذرا    نہ   لگاؤ

چُھونے   کی   ضِد  چھوڑو    اور   کرو     ِمرا    دیدا ر 
رنگ  برنگی   دِکھتی  ہوں   تو    دِکھنے     دو    نا   یا ر

بولا     بچّہ      تتلی       رانی      سمجھ     مجھے      آیا  
میری    نادانی    تھی   تم    کو   چُھُو نے     کو      للچایا

بس   تم  کو   دیکھوں    گا     ا پنا   جی      بہلاؤں     گا   
اب  ہر گز   کچّے    رنگوں  کے   پاس    نہ     آؤں    گا 

اُڑتے     اُڑتے      ُگل     پر     بیٹھی      تتلی   مسکا   ئی 
اپنے   پروں   کو    پھیلا  کر  پھر   رنگ     نئے     دکھلائی

تتلی     نے    پر     پھیلائے     تو    فضا     ہوئی    متوالی
چمک   اٹھیں  بچّے   کی   آنکھیں   بجا     دیا     پھر      تالی

(Bachchon ki nazm) " titli aur bachcha"....no.19...by...Aleem Tahir...
________________________________

    نمبر :20.............
   پیاسا کّوا.......علیم طاہر

اڑتے اڑتے جنگل سے اک کوّا آیا
پانی پینے کی خواہش وہ ساتھ ہی لایا

کچّے گھر کے باہر تھا اک مٹکا خالی
لیکن اس کے اندر دیکھا تھوڑا پانی

مٹکے میں جب چونچ کو ڈالا چونچ نہ پہنچی
لگی ہوئی تھی زور کی اس کو پیاس بھی ایسی

اس نے سوچا چونچ میں پانی کیسے آئے
پیاس کی شدّت دیکھو کیسے عقل جگائے

ڈال رہا تھا مٹکے میں وہ اک اک کنکر
اِس تدبیر سے تھوڑا پانی آیا اوپر

جی بھر کے کوّے نے اپنی پیاس بجھائی
کیسے سوچ سمجھ کے من کی منزل پائی

پیارے بچّو سوچ سمجھ کر کام کرو سب
تدبیروں سے ہو جاتا ہے چاہے جو رب

(Bachon ki nazm) payasa kawwa...no.20
by...Aleem Tahir....
________________________________

  نمبر :21 :
 "اک بچّے نے چاند سے بولا"
.................علیم طاہر

اک    بچّے  نے   چاند  سے    بولا   چندا  ماما  سُن 
جب  آتی ہے رات   اندھیری   سب   گائیں ترے گُن 
بدلی   میں  تُو چھپ  جائے  تو  ناچ  دکھائے تارے
جگمگ جگمگ جگمگ جگمگ چاندنی جیسے سارے
تُو بدلی  سے جب   نکلے تو    تارے    منہ    لٹکائے
تیرے   اجیاروں   کے   آگے   شرما   کے چھپ جائے
دل   تاروں  کا   تُو  نے   دُ کھایا   کر لے  یہ احساس
مانا   تاروں   سے   بھی   زیادہ  نور  ہے تیرے پاس

اپنا   سمجھے جو  اوروں  کو   وہی  بڑا   ہے   چاند
تاک رہا ہے سُن  کے ابھی  تک   اور   کھڑا   ہے   چاند
جا   جا   کر   تاروں   کو   منا لے   تیرے   اپنے   ہیں
ان  بیچاروں  کے  دل  میں  بھی  پیارے  سپنے  ہیں

تُو     نے    میرا     کہنا      مانا    جاتا    ہے    ما ما 
میر ا    دل    بھی اب   تیرے گن    گاتا    ہے  ما ما

 (bachchon ki nazm)
Nazm no.no.21.....by...Aleem Tahir
______________________________

(بچّوں کی نظم)..

" ابّاابّا سنو  توابّا "..نمبر..22
.علیم طاہر.

ابّا   ابّا   سُنو   تو   ابّا ! 
  گاؤں   میں   اک   میلا   آیا
میں نے سُنا ہے اس میلے نے 
دنیا بھر کی خوشیاں لایا

چھُک چھُک کرتی ریل وہاں ہے
بندوقوں کا کھیل وہاں ہے

جھولے بجلی سے چلتے ہیں
بچّے رسّی پہ چلتے ہیں

اچھل کود کو سُرکنڈی ہے
نئے کھلونوں کی منڈی ہے

ایک کنواں ہے موت کا گہرا
چاروں جانب اس کے پہرا

اس میں موٹر سائیکل والا 
نیچے سے اوپر کو آتا

اوپر سے نیچے کو جاتا 
ہاتھ چھوڑ کے  خوب  چلاتا

اک بچّوں کی دنیا بھی ہے
رستہ بھول بھلیّا بھی ہے

اک آئینہ خانہ بھی ہے
بس ہنستے ہی جانا بھی ہے

میری  دلچسپی کا  سبب ہے
بولو آپ کو چھٹّی کب ہے؟؟؟

ابّا ابّا  سنو  تو ابّا! 
گاؤں میں اک میلا آیا
میں نے سنا ہے اس میلے نے
دنیا بھر کی خوشیاں لایا

سنڈے  کو پکّا جی ابّا 
وعدہ ہے وعدہ جی ابّا

 (Bachchon ki nazm)
A Nazm no: 22.....................     by Aleem Tahir.....
________________________________

 (بچّوں کی نظم) 
( چیتا اور گدھا )...نمبر:23..
علیم طاہر

گدھے سے بولا اک چیتا بیٹھ جا میرے سنگ
اور   بتا  دے  کیسا   ہے  آسمان  کا  رنگ 

میرا یہی سوال ہے دے دے سہی جواب
 اپنی عقل کا پا لے تُو مجھ سے بڑا خطاب

گدھے  نے  بولا  کالا ہے آسمان  کا  رنگ
چیتا  بولا  نیلا  ہے عقل  ہوئی  تری  بھنگ

بحث بڑھی جب دونوں کی پھر یہ طئے پایا
دھیان   شیر  سے  ملنے   کا   چیتا  کو آیا

جنگل  کا  ہے  راجہ  شیر  چیتا  بولا  چل
وہی نکالے  گا  اپنی  اس  اُلجھن  کا  حل

شیر نے  دیکھا دونوں کو بولا  کیا ہے  بات؟
تم دونوں ملنے  مجھ سے کیوں آئے ہو ساتھ؟

چیتے   نے    فریاد   کی   مائی  باپ   سرکار
آسمان  ہے   نیلا   پر  گدھا  کرے    انکا ر

گدھے سے میں نے پوچھا  تھا فلک کا کیسا  رنگ
بول  رہا  ہے   کالا ہے  بحث کرے مرے سنگ

دودھ  کا    کر دو   دودھ  تم    پانی    کا   پانی
پھر جنگل میں  کوئی  بھی  کرے  نہ من    ما نی

سُن  کر    چیتے    کی  باتیں ،   غصّے    میں    آیا  
حکم   دیا  اور   چیتے  کو ،   جیل    میں    ڈلو ا یا

گدھے   سے  بولا  شیر  نے    جاؤ     تم    آزاد
یہی  مرا   انصاف   ہے   رکّھو    مجھ    کو   یا د

 چیتا  بولا   شیر   سے    دل    کو  کیا  سمجھا ؤ ں؟
سچ  بھی میں ہی  بولوں اور جیل بھی میں ہی جاؤں!

بولا  شیر  نہیں  ہے  یہ  سچ  اور  جھوٹ  کی بات!
بحث گدھے سے  کی تم  نے گدھے کی  کیا اوقات؟

بحث  گدھے  سے  نہ  کرتے  نہ  پاتے  تم  جیل
سزا  جیل  میں    کا ٹو   اب  ختم  ہوا  یہ  کھیل

اس    قصّے   سے    بچّو   تم   ایک   سبق   لینا
جس  کی  جتنی   عزّت   ہو    اُتنی    ہی    دینا

(Bachchon ki nazm) (cheeta aur gadha)
Nazm no:
23...by.....AleemTahir
_______________________________

 (بچّوں کی نظم )"
 اک بیٹی کی پیاری باتیں" 
نمبر .. 24                         علیم طاہر

ابّا   ابّا   آج   ہے   سنڈ  ے
پورے کرنے ہوں گے وعدے

صبح سے میں تیاّر ہوئی ہوں
دیکھو میں کیسی لگتی ہوں

امّی چائے  بنا رہی  ہے  
پاؤ پہ  مسکا  لگا  رہی ہے

آنکھیں کھولو اٹھو نا جلدی
سرکس میں ہو جائے گی گردی

سنا ہے سرکس بہت بڑی ہے
تمبو  گاڑے  دور کھڑی  ہے

 کیا کیا سرکس میں جلوے ہیں
چلیے ناں جلدی چلتے ہیں

سنا ہے  رہتے ہیں مل جل کے
جنگل کے خوںخوار درندے

بھا لو  بندر چیتے بھی ہیں
کار میں کھاتے پیتے بھی ہیں

شیر ڈرائیور بن جاتا  ہے 
ساتھ ہی بندر تن جاتا  ہے

اک   رسّی   پر   چلتی   لڑکی
دیکھیں کیسے سنھبلتی لڑکی

الگ الگ بجلی کے جھولیں
یوں لگتا ہے فلک کو چھو لیں

بچوّں کا کشمیری  گھر ہے
اندر برف کا ہر منظر ہے

سنا ہے موت کا ایک کنواں ہے
جس میں ہمّت والا جواں ہے

وہ کنواں کی دیواروں پر 
بائیک سے کاٹے ہے چکّر

خدا کرے وہ رہے سلامت 
وہ کتنی رکھتا  ہے ہمّت

خوب دکانیں لگی ہوئیں ہیں
رنگ برنگی سجی ہوئیں ہیں

موسیقی کا رقص وہاں  ہے
جوکر جیسا شخص وہاں ہے

گرتا    اور  سنبھلتا   ہے   وہ
 پھُدک پھُد ک کر چلتا ہے وہ

امّی   بھی  تیّار  ہوئی  ہے
آپ کی ٹائی خوب لگی ہے

یاد کرو کیا کچھ بھولے ہیں
میں نے سینڈل پہن لئے ہیں 

چلو   لگا   دو   تالا    باہر
نظر  رکھیں  گی  خالہ باہر

ابّا    ابّا       آج   ہے   سنڈ ے
پورے  کرنے  ہوں  گے  وعدے ....

Bachchon ki Nazm...
No.24...
by..Aleem Tahir.
Email id:
 aleemtahir12@gmail.com
________________________________

بچّوں کی نظم..نمبر :25
دو بلیاّں....علیم طاہر.....

رات کو اک گھر کی کھڑکی سے کودی بلّی
اس کے پیچھے دھم سے آئی دوجی بلّی

چپکے چپکے کچن کے اندر دونوں پہنچیں
ان  دونوں نے گیہوں کی اک روٹی پائیں

روٹی لے کر پیڑ کے نیچے دونوں بیٹھیں
یہ میری روٹی ہے مل کر دونوں بولیں

پہلی بلّی بولی اس کو میں کھاؤں گی
دوجی بولی دے دے ورنہ لڑ جاؤں گی

دیکھ رہا تھا پیڑ پہ بیٹھا بھورا بندر
بولا میں انصاف کروں گا نیچے آکر

ایک ترازو لے کر آیا بندر نیچے
اک اک پلڑے میں رکھّے دو ٹکڑے کر کے

جو پلڑا جھکتا تھا اس کا ٹکڑا توڑے
توڑ کے ٹکڑا بندر اپنے منہ میں ڈالے

دھیرے دھیرے پوری روٹی کھائی اس نے
اپنی عقل سے اپنی بھوک مٹائی اس نے

منہ تکتے رہ گئیں دونوں بھورے  بندر کا
جھانک رہا تھا آنکھ سے ان کے غم اندر کا

بچّو آپس میں لڑنے سے ہوتا ہے نقصان
مل جل کر رہنے سے ہوتا جینا بھی آسان
 

(C):Bachchon ki nazm ..do billiyaan .
Nazm no.....25..by...Aleem Tahir.

Abba abba aaj hai sunday......sheri majmuaa....
Adab e atfaal
by
Aleem Tahir.
________________________________

Kitaab ka Naam:
" Aleem Tahir ki Nazmen "
(Adab e Atfaal)

(  Khas Bachchon ke liye, Pachchhees Nazmon ki Dilchasp kitaab)

________________________________

(Bachchon ke)
Shayer o Adeeb:
Aleem Tahir.

علیم طاہر کے مشہور پسندیدہ ایک سو پچاس اشعار ۔۔علیم طاہر ۔۔قسط نمبر 01 ۔۔

 


علیم طاہر کے  مشہور پسندیدہ ایک سو پچاس اشعار ۔۔۔۔۔علیم طاہر ۔ 

              قسط نمبر:01


_______________________________


لوبانوں سی خوشبو جیسی مہکے تیری یاد

دھڑکن‌دھڑکن سلگ رہا ہے مدھم سااحساس


 مجھ کو تیرے سنگ چلائے جانے کتنی دور

 تیری پیاری باتوں میں ہے ہمدم سا احساس

       

________________________________


 گاہک سی ہو گئی ہے اچٹتی سی ہر نگاہ

 خواہش کی دل آویز دکاں رخ پہ سجی ہے


 رگ رگ میں تیری زندہ ہے احساسِ زندگی

 نایاب سراپا لیے تو کتنی دھنی ہے ________________________________


 چکنی مٹی سے جب نیند پھسلی مری

 خواب  موتی  بنا  اور  اجالا  ہوا


 لاش کمرے سے میری نکالی گئی 

چھوڑ کر عشق  بستر پہ  روتا  ہوا


________________________________


 ہے اعتماد مجھ کو یوں میرے یقین کا

 عزت یقین کرتا ہے میرے قیاس کی


 اس چھاؤں میں تو ا کے مرا جسم جل گیا

 پچھتا رہا ہوں دھوپ سے کیوں التماس کی


________________________________ 


میرے کمرے کی کھڑکی کھلی رہ گئی

 خالی بستر کا تکیہ تھا بھیگا ہوا 


تیرے احساس کی دل نے دستک سنی

 دھڑکنوں میں عجب شور برپا ہوا


________________________________


 بے حسی ہے کہ نہیں کھولتی دروازے کو

 دے کے دستک میرا احساس کھڑا رہتا ہے


 ذہن و دل سے وہ نکلتا ہی نہیں ہے طاہر

 پھانس کی طرح تخیل میں گڑھا رہتا ہے


________________________________


میرے کمرے میں ہراک حرف تیری یادوں کا 

سوچ دربار میں چپ چاپ کھڑا رہتا ہے


 ہر ایک سٹیج پہ ایک روپ ہے طاہر دیکھو

 میرا کردار کہانی میں ڈھلا رہتا ہے

_______________________________

 

ہاں جدائی میں مرا دل تو خفا رہتا ہے

 یاد میلہ بھی  مگر  ساتھ  لگا  رہتا  ہے


 تیری یادوں نے عجب بھیس بدل رکھے ہیں

 دل کی درگاہ پہ مجمع سا لگا رہتا ہے


________________________________


 یہیں پہ جھوٹوں کو قدردانی ہوئی میسر

 یہاں کی منڈی میں کھوٹے سکےکھرےہوئے ہیں


 ستم ہزاروں یہ سہ رہے ہیں خموش رہ کر

 یہ لوگ زندہ جو دکھ رہے ہیں مرے ہوئے ہیں

________________________________


 لاکھ دھوئیں سے بھی تصویر نہ بن پائی تری

 اب میں سگریٹ بجھاتے ہوئے تھک جاتا ہوں


 دستکیں کون یہ دیتا ہے مسلسل دل پر

 میں تو اندازہ لگاتے ہوئے تھک جاتا ہوں


________________________________


 نیند ٹوٹی تو بجھ گئے سارے

 جیسے پانی کے بلبلے ہیں خواب


 روز بنتے ہیں فنا ہونے کو 

میرے پاؤں کے ابلے ہیں خواب


 ایک تذبذب ہے نیند کو طاہر 

آج جانے کہاں مرے ہیں خواب


________________________________


 جاگے جاگے دیکھ رہا ہوں کیسے کیسے خواب

 پیشنگوئی کر دیتے ہیں اکثر میرے خواب


 نیند کی پیتل الماری میں جھلمل کرتے ہیں

 چمکیلے سونے چاندی سے جیسے گہنے خواب


_______________________________


 کمرہ بستر اور تکیے کے یہ محتاج کہاں؟

 جاگی جاگی آنکھوں میں ہیں سوئے سوئے خواب


 مل جل کر ہر خواب بنائے خود سے ایک کہانی 

 پھر مجھ سے کردار نبھائے رستے رستے خواب


_______________________________


 اندھیرا اوڑھ کر بیٹھا اجالا

 بدل  کر  آ گیا   چولا  اجالا 


وہ اک آواز کیا اتری ہے مجھ میں

 میں  سر  سے  پا  ہوا  پورا  اجالا


_______________________________


 میرا وجود چاک سے اتر گیا

 جو گردشوں کا وقت تھا گزر گیا


 جو خود کو آسمان کہہ رہا تھا پھر

 زمین پہ پارہ پارہ کیوں بکھر گیا


_____________________________


 ہر دل کی دھڑکن امید 

آنکھوں میں روشن امید

 

ہر دکھ اس سے کوسوں دور 

ہر سکھ کی درپن امید


_____________________________


 یاد تری ایک لوکل ٹرین کے جیسی ہے

 لمحہ لمحہ اتے جاتے رہتی ہے

 

میٹرو جیسا سفر ہے تیرا اور میرا

 مالیگاؤں سا میں ہوں اور تو ممبئی ہے


 دادر کی ایک بھیڑ کے جیسا تیرا غم

 نیرول اسٹیشن سی مجھ میں چپی ہے


________________________________


 ٹوٹ ٹوٹ کر بکھر رہے تھے تانے بانے جملوں سے

 

دل سے دل جو بچھڑ رہا تھا رنگ اڑے تھے لفظوں سے


 تیری میری رگ رگ میں اب عشق پھر محلول بنا 

فلک دھواں سا ابھر رہا ہے ہم دونوں کے رشتوں سے


________________________________


 عشق کی دھن میں آوازوں کا پیکر کھوتا جاتا ہے

 لفظوں کے شیتل پانی سے لہجہ دھوتا جاتا ہے


 دستک تھک کر ہانپ رہی ہے امیدیں دم توڑ رہیں 

سبز سنہرا موسم مجھ میں پت جڑ ہوتا جاتا ہے


 ادھڑی ادھڑی نیندوں میں ہے بکھرے بکھرے خواب

 ملبے جیسے ادھر ادھر ہے سہمے سہمے خواب


 مجھ کو محبوبہ سے ملنے چاند پہ جانا ہے

 میں سستا ہوں پھر بھی دیکھوں مہنگے مہنگے خواب

______________________________


 ہو بہو ہرا بھرا مرا خواب ہے

 ترے حسین روپ سا مرا خواب ہے


 میری نیند طاقچے کی اک چراغ سی

 ہوا ہوا گھلا ہوا مرا خواب ہے


_______________________________


جھیلوں سی آنکھوں سے چھلکے سرگم سا احساس

 تم ائے تو خوشی بنا ہے ہر غم سا احساس


 میرے سارے زخم مٹے ہیں تیرے چھونے سے

 تیرے طلسمی ہاتھ میں پایا مرہم سا احساس


________________________________


 تیری آنکھوں کا جادو بولتا ہے

 میں سنتا ہوں وہ اردو بولتا ہے


 نہیں ہیں چاند اور تارے فلک پر

 اندھیری شب ہے جگنو بولتا ہے

________________________________


 آس پر  جب گرا  وقت  لٹکا  ہوا 

ٹوٹ کر پھر تو وہ لمحہ لمحہ ہوا


 تیرے احساس کی دل نے دستک سنی

 دھڑکنوں میں عجب شور برپا ہوا


 میری مٹی چھوا تیرے ہاتھوں نے جب

  چاک تھمتے ہی میں بھی تو پورا ہوا

____________________________


 اترا ہے درد آنکھوں میں نمناک دکھی ہے

 دل ٹوٹنے کی دل نہیں آواز سنی ہے


 اک عمر میں اندھیروں سے لڑتا ہی رہا ہوں

  تب جا کے روشنی میری مٹھی میں چھپی ہے 

____________________________


ظرف  ہربار مرا ضد پہ اڑا رہتا ہے

 حق بجانب ہے جو دنیا سے لڑا رہتا ہے


 نیند لٹکی ہوئی رہتی ہے کلینڈر پہ مری

    روز بستر پہ  میرا  خواب پڑا  رہتا  ہے

_____________________________


 بات بے رنگ ہے لفظوں میں دلکشی بھی نہیں

 تیرے لہجے میں طلسماتی روشنی بھی نہیں 

 

موسموں کا بھی ہے کردار رقیبوں جیسا

 کوئی موسم کو طبیعت سے دلبری بھی نہیں


_____________________________


 خواب ہے نہ خواب کی تعبیر ہے

 کیوں میرے احساس میں زنجیر ہے 


 داستان غم میری آنکھوں میں ہے

 ہر  خموشی  چیختی  تفسیر  ہے 


_______________________________


ہر پل میرے احساس میں شدت تھی پیاس کی

 پھر بھی سمندروں سے کہاں میں نے آس کی


 یوں اس نے لفظیات کو برتا سر محفل

 لہجے سے ٹپکتی رہی لذت مٹھاس کی


________________________________


 وہ زندگی وہ عیش وہ رتبے بھلا دیے

 تیری سزا نے نفرتی لہجے  بھلا  دیے


 ایک خوش لباس وقت مرے ساتھ چل پڑا

 پھر یوں ہوا کہ سارے ہی رستے بھلا دیے

_______________________________


 جب پڑ جائے پھیکا لہجہ دبے دبے الفاظ

 پیلے پیلے پڑ جاتے ہیں ہرے بھرے الفاظ


 سامنے آ کر جب ہم دونوں کہتے ہیں دل کی

 گڈ مڈ گڈ مڈ ہو جاتے ہیں تیرے  میرے الفاظ


_______________________________


ہزار عیب ہیں ہم میں بھی اعتراف ہمیں

 برا لگے جو کسی کو کرے معاف ہمیں


جنون منزل احساس ایسا لگتا ہے 

تمام دنیا کا کروائے گا طواف ہمیں

______________________________


مقدر   کو   میرے   بگڑنا  پڑا 

مجھے تم سے اخر بچھڑنا پڑا


 رہا میرا گلشن کہاں سرخرو 

چلی آندھیاں اور اجڑنا پڑا 


مجھے پیار سے ساری دنیا ملی

 تمہیں ہر قدم صرف لڑنا پڑا


________________________________


سدا پیڑ سے پھل جڑے کب رہے

 ہوئے جب رسیلے تو جھڑنا  پڑا


 یونہی آپ منزل پہ پہنچے کہاں 

مصیبت میں  طاہر  کو  پڑنا پڑا

_______________________________


زندگانی کا خواب ختم ہوا 

ایک کہانی کا باب ختم ہوا 


روح پرواز کر گئی آخر 

دھڑکنوں کا حساب ختم ہوا


 کتنا پژمردہ ہو گیا  گلشن

 گلستاں کا گلاب ختم ہوا

___________________________


اٹھا کر نگاہیں جو ہم دیکھتے ہیں

 ستم ہی ستم ہی ستم دیکھتے ہیں 


 ابھی دور منزل ہے چلیے گا صاحب

 ابھی کتنا باقی ہے دم دیکھتے ہیں


_______________________________


اے محبت جو میرے دل میں تو مہکتی ہے

  نفاستوں کی فضا چار سو مہکتی ہے


 یہ زندگانی کا گلشن عجیب گلشن ہے

 ہر ایک  سانس  نئی  آرزو  مہکتی  ہے


________________________________


تیرے احساس میں مضمر ہے شگفتہ موسم

 چمن کی خوشبو تیرے ہو بہو مہکتی ہے


 کہ غنچہ غنچہ چٹختا ہے تیرے لہجے میں

 گلوں کی طرح تیری گفتگو مہکتی ہے


 زبانیں یوں تو کئی ہیں جہان میں طاہر

 زبان اردو مگر کوب کو مہکتی ہے


_______________________________


تم غم پر نہ غم رکھو

 زخموں پر مرہم رکھو


 اپنے مخاطب جھوم اٹھیں

 لہجے میں سرگم رکھو


 کچھ بھی کرنے سے پہلے 

نظروں میں عالم رکھو

_______________________________


روز سورج سے ہوتا جنم دھوپ کا

 ہے خدا کے کرم سے کرم دھوپ کا

 

اس میں ملتا نہیں ہے تعصب کبھی

 صرف انسانیت ہے دھرم دھوپ کا


بھاگ جائے گی ظلمت بھی تب رات کی

 جب بھی بکھرے گا دھرتی پہ دم دھوپ کا


________________________________


چھوٹے چھوٹے اسٹیشن پر رکتے رکتے چلتی ہے

 بیٹھے ہیں جس ریل میں ہم یہ دھیرے دھیرے چلتی ہے


 جنسی سکینڈل شہروں میں پھیل گیا ہے کچھ ایسا 

شہر کی گلیوں سے ہر عورت ڈرتے ڈرتے چلتی ہے

______________________________


 قسمت کا یہ راز عجب ہے چھین لی بچپن میں ٹانگیں 

گاؤں میں میرے اک لڑکی ہے بیٹھے بیٹھے چلتی ہے


 اونچائی پر کوشش کر کے پا جاتی ہے منزل تو 

چیونٹی منہ میں دانا لے کر گرتے گرتے چلتی ہے

______________________________


گلی گلی میں چھیڑ چھیڑ کر جب بھی ستایا بچوں نے

 پگلی بوڑھی عورت گالی بکتے بکتے چلتی ہے


لاوارث لاشوں میں شک ہے اس کا بیٹا بھی نکلے 

سات پولیس کے وہ عورت جو روتے روتے چلتی ہے

_______________________________


رہ کر دیکھا ایک مہینہ ممبئی میں

 جینے کا مشکل ہے کرینہ ممبئی میں


علم و ہنر کاوش کو جس نے اپنایا 

رہتا ہے وہ تان کے سینہ ممبئی میں


 تدبیروں کے ہاتھ بڑھا کر دیکھ ذرا

 قدم قدم پر چھپا دفینہ ممبئی میں

_______________________________


جینا جس کو آتا ہے وہ جیتا ہے

 سب کو کہاں آتا ہے جینا ممبئی میں


 محنت کے ہاتھوں نے تراشا کچھ ایسا

 کنکر تھا وہ بنا نگینہ ممبئی میں

________________________________


 جیبوں کو خالی کرنے میں ماہر ہے

 ممبئی کا ہر ایک کمینہ مبئی میں


 طاہر صاحب بات یہی اب سچی ہے 

اپنا فن ہے اپنا خزینہ ممبئی میں

____________________________


انسان جب بھی سچے اصولوں سے ہٹ گیا

 پھیلے ہوئے شعور کا دامن سمٹ گیا


 یہ حادثہ ہے اپنی ہی سوچوں کا نتیجہ

 ایک آدمی ہزار قبیلوں میں بٹ گیا 


________________________________


منڈپ میں کل امیر کی عزت نہیں رہی

 نیت نہیں تھی صاف تو کھانا بھی گھٹ گیا


طاہر ہوس نے چھین لیے زندگی کے سکھ

 کانٹوں میں پھنس کے ادمی پھولوں سے

 ہٹ گیا

________________________________


آج بھی اس ملک میں افلاس کے مارے ملے

 ریل کے ڈبوں میں پانی بیچتے بچے ملے


 اچھی بیوی کا بھی ملنا قسمتوں کی بات ہے

 جو بری تھیں لڑکیاں شوہر انہیں اچھے ملے


 لڑکیاں مجبوریوں میں بکتی ہیں طاہر یہاں

 جیسے مہنگے عام بھی بازار میں سستے ملے


_______________________________


ہم نے مٹی کو سونے کا مول دیا 

تم نے سونے کو مٹی میں تول دیا


 تم نے وطن کو نفرت کا ہر بول دیا

 ہم نے پیارا تاج محل انمول دیا

________________________________


 تعبیریں سب الٹی نکلی خوابوں کی

 آزادی نے ہاتھوں میں کشکول دیا 


سچ بولو غدار وطن تم ہو یا ہم

 تم نے وطن کے رازوں کو بھی کھول دیا


 ہم نے وطن کو نغمے بخشے عزت کے

 تم نے وطن کو بدنامی کا ڈھول دیا

________________________________


پھینک دو ہاتھوں سے ترشول

 سوچوں میں گوتم رکھو


 مت چھڑکو انگاروں پر

 پھولوں پر شبنم رکھو


 بات کرو تو لفظوں میں

 میں کے بدلے ہم رکھو

__________________________


جو مانگ کے کھاتا رہا ٹکڑے میرے در سے

 وہ دیکھتا ہے مجھ کو حقارت کی نظر سے


 ظالم سے کبھی ڈرتے نہیں ہیں وہ جہاں میں 

جو لوگ ڈرا کرتے ہیں اللہ کے ڈر سے

_______________________________


جس نے در چھوڑا خدا کا کچھ نہ اس کو مل سکا 

ہاتھ خالی ہی رہے دردر طلب کرتا رہا 


پھر وہی رہزن صفت رہبر طلب کرتا رہا

 کانچ کے ہاتھوں میں وہ پتھر طلب کرتا رہا


 جب تلک زردار تھا تو آبرو مانگا کیا

 آبرو اس کو ملی تو زر طلب کرتا رہا


 آج تک اس کو نہیں آیا پرکھنے کا ہنر

 اصلی ہیرے چھوڑ کر کنکر طلب کرتا رہا


_______________________________


ہم سے پیچھے چلنے والے اگے ہیں

 ہم سوئے ہیں سونے والے جاگے ہیں


 خوفزدہ ہیں ہم یوں بزدل کتوں سے

 شیر کے ڈر سے جیسے غزالے بھاگے ہیں


 سن انچاس سے اب تک ہم سب سوئے تھے

 ڈوب گیا ہے سورج تب ہم جاگے ہیں


 راہنمائی کی راہوں پہ اے طاہر

 آنکھوں والے پیچھے اندھے آگے ہیں


________________________________


موت سے کچھ کم نہیں ہے دل میں آنا یاس کا

 بھول سے بھی چھوڑ مت دینا تو دامن آس کا 


چلتا رہتا ہے برابر زندگی کے ساتھ ساتھ 

ان گنت مایوسیوں میں آسرا اک اس کا


 نا امیدی موت ہے اور زندگانی ہے امید 

زہر نہ پھیلاؤ اپنے دل میں طاہر یاس کا


________________________________


زندگی پر نہ اس قدر اترا 

زندگی ہے حباب کی مانند


 کل رہے وقت کے سکندر ہم

 آج کھانا خراب کی مانند


________________________________


آدمی جھوٹی خوشی کے واسطے

 گر گیا ہے برتری کے واسطے


 کس قدر حالات ابتر ہو گئے

 رو رہا ہے دل ہنسی کے واسطے 


ساری بستی میں اندھیرا کر دیا 

اپنے گھر کی روشنی کے واسطے

______________________________


 لٹ گئے راہ میں راہزن بھی نہیں

 خود فریبی سے بچنے کا فن بھی نہیں


 اپنی طاقت پہ جن کو گماں تھا بہت 

وہ مرے تو میسر کفن بھی نہیں


________________________________


پہلے کی لڑکیوں میں تعلیم کی کمی تھی

 تعلیم یافتہ  ہیں  اب  شرم کی  کمی  ہے


________________________________


ہمدردی کی باتیں کرنا دنیا کی مکاری ہے

 مطلب کے سب چاہنے والے مطلب کی غم خواری ہے


 پیار سے مل کر گھات کرے ہے ہم نے دیکھا ہے اکثر 

اپنا کسی کو یار سمجھنا سب سے بڑی بیماری ہے


 ہونے لگی ہیں سارے جہاں میں امن و سکوں کی باتیں پھر

 صلح کے پردے میں اے طاہر جنگوں کی تیاری ہے 

______________________________


بغیر مقصد کوئی کسی سے کب ملتا ہے

  پڑتی ہے جب کوئی ضرورت تب ملتا ہے 


آج کسی کو پیار کسی سے کھوٹی بات

 بھائی خود بھائی کا دشمن اب ملتا ہے

_______________________________


  یاد رکھنا کہ آج کا انساں 

موسموں کی طرح بدلتا ہے


 جس کو میں نے نوازا پھولوں سے

 وہ میرے حق میں اگ اگلتا ہے


 جو اشارے پہ میرے چلتا تھا 

وہ بھی اب مجھ پہ چال چلتا ہے

_______________________________


  جس نے کھویا ہے ہاتھ سے موقع

 زندگی بھر وہ ہاتھ ملتا ہے


 وقت کے ساتھ تو بھی چلتا جا

 وقت رکتا نہیں ہے چلتا ہے

______________________________


جب ارادہ عمل میں ڈھلتا ہے

 تب کوئی راستہ نکلتا ہے

 

پھیر لیتے ہیں منہ پرندے بھی

 جب شجر کا شباب ڈھلتا ہے

________________________________


یہ دنیا ہے یہاں منزل نہ ڈھونڈو

 یہاں چلتے رہو بس راستے ہیں


________________________________


(C):Aleem Tahir:


"150/Aleem Tahir ke mashoor pasandeeda Ashaar"


Email id: aleemtahir12@gmail.com

Mobile no.9623327923.