Saturday, 27 December 2025
میڈیا، نظریہ اور سماج: مکالمے سے تصادم تک کا خطرناک سفر علیم طاہر______________________________ڈیجیٹل میڈیا کے عروج نے اظہارِ رائے کو بلاشبہ آسان بنایا، مگر اسی کے ساتھ ایک نیا بحران بھی جنم لیا: مکالمے کی جگہ تصادم اور سوال کی جگہ سنسنی۔ آج میڈیا کا ایک بڑا حصہ سماج کو جوڑنے کے بجائے اسے نظریاتی خیموں میں بانٹنے کا کام کر رہا ہے _ مذہب، شناخت اور عقیدے جیسے نازک موضوعات کو اس انداز میں پیش کیا جاتا ہے کہ نتیجہ فہم و تدبر نہیں بلکہ اشتعال اور پولرائزیشن نکلتا ہے۔یہ سوال اب محض یہ نہیں رہا کہ خدا ہے یا نہیں، مذہب جدیدیت سے ہم آہنگ ہے یا نہیں—بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کون، کس نیت سے، کن شرائط پر یہ سوالات اٹھا رہا ہے؟ جب موضوعات کی تشکیل ہی ایجنڈا سیٹنگ کے تحت ہو، تو بحث کا انجام پہلے سے طے شدہ ہوتا ہے۔ ایسے پروگرام بظاہر فلسفیانہ دکھائی دیتے ہیں، مگر درحقیقت وہ سماجی نفسیات میں دراڑیں ڈالنے کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔میڈیا کا بنیادی فریضہ یہ تھا کہ وہ عوامی مفاد کے سوالات—تعلیم، صحت، روزگار، مہنگائی—کو مرکز میں رکھے۔ مگر آج ہم دیکھتے ہیں کہ شناختی سیاست کو مرکزی دھارے میں لا کر اصل مسائل کو پسِ پشت ڈال دیا جاتا ہے۔ یہ حکمتِ عملی وقتی طور پر ریٹنگ اور ویورشپ تو بڑھا دیتی ہے، لیکن طویل مدت میں سماج کو عدمِ اعتماد اور خوف کی طرف دھکیلتی ہے۔ اختلافِ رائے جمہوریت کی روح ہے، مگر اختلاف کو دشمنی میں بدل دینا جمہوری زوال کی علامت ہے۔ایک خطرناک رجحان یہ بھی ہے کہ پینل ڈسکشنز کو اس طرح ڈیزائن کیا جاتا ہے کہ توازن کا گمان پیدا ہو، مگر حقیقت میں ایک فریق کو علامتی نمائندگی دے کر دوسرے کو غالب دکھایا جائے۔ اس سے نہ تو علم میں اضافہ ہوتا ہے اور نہ ہی ناظرین کو سچ تک رسائی ملتی ہے۔ نتیجتاً، عوام کے ذہن میں پیچیدہ سماجی سوالات سادہ، تعصبی بیانیوں میں ڈھل جاتے ہیں۔ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کا ’سافٹ پروپیگنڈا‘ اس پورے منظرنامے میں سب سے زیادہ تشویشناک ہے۔ غیر رسمی زبان، دوستانہ انداز اور ’کول‘ پریزنٹیشن کے پیچھے چھپا ہوا نظریاتی انتخاب زیادہ دیرپا اثر ڈالتا ہے، کیونکہ یہ غیر جانبداری کے لبادے میں پیش کیا جاتا ہے۔ یہاں مسئلہ صرف مواد کا نہیں، مواد کے انتخاب کا ہے—کہ کن سوالات کو بار بار اٹھایا جا رہا ہے اور کنہیں مسلسل نظرانداز کیا جا رہا ہے۔میڈیا کی اس سمت کے پیچھے کارپوریٹ مفادات اور سیاسی قربتوں کا کردار بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ جب میڈیا ادارے چند بڑے کاروباری گروپس کے ہاتھوں میں مرتکز ہو جائیں، تو ادارتی آزادی دباؤ میں آ جاتی ہے۔ سرکاری اشتہارات اور پالیسی مفادات ایک ایسا معاشی شکنجہ بناتے ہیں جس میں صحافت رفتہ رفتہ نگہبان سے تابع دار بن جاتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں صحافی سوال کرنے کے بجائے بیانیہ آگے بڑھانے لگتے ہیں۔اس کا سب سے گہرا اثر نوجوان نسل پر پڑتا ہے۔ جب سنجیدہ مسائل کو سطحی اور اشتعال انگیز مباحث میں بدل دیا جائے، تو تنقیدی سوچ کمزور پڑ جاتی ہے۔ نوجوان دلیل کے بجائے شناخت کے ساتھ کھڑے ہونے لگتے ہیں، اور یہی وہ لمحہ ہے جہاں سماج فکری بانجھ پن کا شکار ہو جاتا ہے۔حل کیا ہے؟حل سنسرشپ نہیں، بلکہ ادارتی ذمہ داری ہے۔ میڈیا کو چاہیے کہ وہ مکالمے کی شرطیں خود طے کرے—برابری، احترام اور علمی دیانت۔ اختلاف کو جگہ دے، مگر نفرت کو نہیں۔ مذہب اور فلسفے جیسے موضوعات پر گفتگو ہو، مگر اس نیت سے کہ فہم بڑھے، نہ کہ خلیج گہری ہو۔ صحافت کا اصل مذہب سچ ہے، اور اس کی عبادت سوال سے ہوتی ہے_ سنسنی سے نہیں۔اگر میڈیا نے اپنے نظریاتی جھکاؤ کو عوامی مفاد پر فوقیت دی، تو یہ بحران صرف خبروں تک محدود نہیں رہے گا؛ یہ سماج کی رگوں میں اتر جائے گا۔ اور پھر تاریخ گواہ ہے کہ ایسے زہر کا تریاق نسلوں میں بھی مشکل سے ملتا ہے۔
Thursday, 27 November 2025
ڈرامہ نمبر 03 ریڈیو ڈراما اسکرپٹ اسٹرگلرس اڈا
ڈرامہ نمبر: 03
ریڈیو ڈراما اسکرپٹ
عنوان: اسٹرگلرس اڈا
افسانہ نگار: علیم طاہر
ریڈیو اسکرپٹ رائٹر: علیم طاہر
---------------
[اوپننگ میوزک – نرم سا بولی ووڈ طرز کا انسٹرومنٹل، جو خوابوں کے شہر کی جھلک دے]
نیریٹر (آہستہ اور پراثر لہجہ):
ممبئی… ایک ایسا شہر جہاں خواب بُنتے ہیں… اور بکھرتے بھی۔ ہر چہرہ… ایک کہانی، ہر نظر… ایک امید۔
اسی شہر کے دل میں واقع ہے — شانتی نگر کا ایک ہوٹل، جسے سب جانتے ہیں اسٹرگلرس اڈا کے نام سے۔
[پس منظر میں ہوٹل کا ہلکا سا شور، برتنوں کی آوازیں، ہنسی کے قہقہے، ہلکی موسیقی]
نیریٹر:
یہ صرف ایک ہوٹل نہیں… ایک امید کا مرکز ہے۔
جہاں نوجوان فنکار آتے ہیں… اور اپنے خوابوں کو سانس دیتے ہیں۔
یہاں ہر چائے کے کپ کے ساتھ ایک کہانی، ہر سگریٹ کے کش کے ساتھ ایک فسانہ۔
[کمرے کی آواز، کرسی کھسکنے کی ہلکی آواز، گفتگو کی دھیمی گونج]
شلپا (سگریٹ کا کش لیتے ہوئے):
یہ وہی ہے نا؟ جس نے "گمنام سوسائٹی" میں چائے والے کا رول کیا تھا؟
آکاش (ہنستے ہوئے):
ہاں چرکٹ ماسٹر! بڑا مشہور ہوا تھا وہ سین۔
شلپا:
چاہو تو ابھی بلا لیتی ہوں۔
[قدموں کی آواز، چرکٹ ماسٹر کی آمد]
چرکٹ ماسٹر (خوش دلی سے):
نمستے بھائی لوگ!
شلپا جی نے بتایا، آکاش جی آپ فلم بنا رہے ہیں؟
آکاش:
جی، ایک نئی فلم پر کام شروع کرنے والا ہوں۔ رہنمائی کی تلاش میں ہوں۔
چرکٹ ماسٹر:
رہنمائی بھی ملے گی، اور شاید کوئی راستہ بھی نکل آئے۔
[کسی ٹیبل پر ہنسی کی آواز، ویٹر کی آواز میں آرڈر]
ویٹر:
دو پنیر پراٹھے، ایک پانی کی بوتل… اور سگریٹ کا پیکٹ۔
[ہوٹل میں ہلکی موسیقی – جاز طرز کی، خاموشی میں ایک وقفہ]
نیریٹر:
وہیں ایک کونے میں بیٹھے ہیں… وجو بھائی…
اصل نام وجے چوہان…
ایک بزنس مین، جو یہاں آ کر خوابوں کے ساتھ جیتے ہیں۔
سادگی میں چھپی بصیرت… اور آنکھوں میں چمکتی امید۔
آکاش (دھیرے سے):
شلپا، یہ بزرگ کون ہیں؟
شلپا:
بس، یہاں کے سب سے زیادہ پرانے "گاہک"… فلمی نہیں، لیکن دل سے ہم سب کے ساتھ۔
[ایک تھکی ہاری لڑکی کی آواز، پس منظر میں آہستہ ہنسی اور باتیں جاری]
لڑکی:
یہ کاسٹنگ ڈائریکٹرز بس خواب دکھاتے ہیں… موقع کوئی نہیں دیتا۔
توصیف:
ہم بھی یہی سوچتے تھے، پر اب عادت ہو گئی ہے۔
جابر:
ارے، وقت سب کا آتا ہے۔ ہمت نہ ہارو!
[اوور ہیڈ اسپیکر کی آواز: اسٹینڈ اپ کامیڈی شو کا اعلان]
اعلان:
پندرہ منٹ بعد، اوپری منزل پر اسٹینڈ اپ کامیڈی شو — جادھو جی کے ساتھ!
سب کے لیے مفت داخلہ!
[لوگوں کی چہل پہل، قدموں کی آواز، سیڑھیوں کی کھڑکھڑاہٹ]
نیریٹر:
سب اوپر جاتے ہیں…
ہنسی کی کچھ قسطیں، اور مایوسی کے کچھ لمحے، ایک ساتھ بانٹے جاتے ہیں۔
آکانشا (اداسی سے):
لگتا ہے… مرنے کے بعد ہی کچھ ہوگا…
شلپا (پیار سے):
ایسا نہ کہو… وقت سب کا آتا ہے۔
[خاموشی… اور پھر ایک مضبوط، مگر نرم آواز]
وجو بھائی (کھڑے ہو کر):
میں صرف وجو بھائی نہیں…
میں وجے چوہان ہوں — ایک بزنس مین۔
میں نے آپ سب کی آنکھوں میں وہ روشنی دیکھی ہے…
جس سے ایک فلم بن سکتی ہے۔
اور وہ فلم ہم سب مل کر بنائیں گے۔ بغیر باس، صرف شریک۔
[پَر امید موسیقی، جذباتی لمحہ، لوگوں کی سانسیں رکی ہوئی سی]
نیریٹر:
سب حیران…
پھر ماریا آتی ہے… نیلی ساڑھی، لیپ ٹاپ تھامے۔
ماریا:
یہ رہا پروجیکٹ… آپ سب اس کے شریک ہوں گے۔
[موسیقی کی شدت، گوگل سرچ کی ٹِک ٹِک، پھر ایک شور کی سی خوشی]
نیریٹر:
اور لیپ ٹاپ پر ابھرتا ہے وہ جملہ…
جو ان سب کی زندگیوں میں روشنی بن کر اُترتا ہے۔
ماریا (پڑھتی ہے):
"سب سَمے کا کھیل ہے…
سَمے پر یقین رکھو…
سَمے سب کا آتا ہے…"
[میوزک آہستہ ہوتا ہے، نیریٹر کی آخری آواز]
نیریٹر:
یہ تھا… اسٹرگلرس اڈا۔
ایک ایسی جگہ… جہاں امید زندہ ہے…
اور خواب… کبھی نہیں مرتے۔
[اختتامی میوزک – مدھم، خوابناک اور پُر امید دُھن]
________________________________
وائس اوور کاسٹ اور ہدایات
1. نیریٹر (Narrator):
آواز: مرد یا خاتون، نرم، جذباتی، شاعرانہ لہجہ
انداز: اداس، امید بھرا، وقفوں کے ساتھ گفتگو
مثال: نصیر الدین شاہ، یا رتی اگنی ہوتری جیسی آواز
---
2. شلپا (Struggler Actress):
آواز: نوجوان لڑکی، خواب دیکھنے والی، تھوڑا تھکی ہوئی مگر مضبوط
انداز: سگریٹ پینے والی، تجربہ کار مگر حساس
---
3. آکاش (نوجوان ہدایتکار):
آواز: نوجوان مرد، امید سے بھرپور، تھوڑا نروس مگر کریٹیو
انداز: درمیانی رفتار، گفتگو میں الجھن اور جستجو
---
4. چرکٹ ماسٹر (چھوٹے موٹے رول والا ایکٹر):
آواز: دلچسپ، نچلی طبقے کی زبان، گرمجوش لہجہ
انداز: ملنسار، فنی، بولی وڈ نقالی کے انداز میں
---
5. ویٹر:
آواز: معمولی اسٹاف، جلد باز، آسانی سے ایڈجسٹ ہو جانے والا
انداز: ہلکا مزاح، ایکسپریس ڈیلیوری
---
6. وجو بھائی (وجے چوہان):
آواز: سنجیدہ بزرگ، گہری، پراثر
انداز: وقار بھرا، سادگی میں گہرائی، آخر میں جذباتی جوش
---
7. آکانشا (مایوس اداکارہ):
آواز: حساس، اداس، نوجوان
انداز: دل شکستہ، شاعرانہ ٹون
---
8. توصیف / جابر (پس منظر کے جدوجہد کرنے والے):
آواز: ممبئی کے لہجے والے نوجوان، تھوڑے طنزیہ، مگر ساتھ دینے والے
انداز: فنی، مزاحیہ، حقیقت پسند
---
9. ماریا (پروجیکٹ مینجر):
آواز: پروفیشنل، پُراعتماد، جذباتی خاتون
انداز: تیز، مستعد، گرمجوش انداز
---
10. اسپیکر وائس / اعلان:
آواز: روبوٹک یا ڈیجیٹل انداز میں مردانہ
انداز: ایونٹ ایناؤنسمنٹ جیسا، جیسے کسی شو یا اسٹینڈ اپ کی اطلاع
---
آڈیو ساؤنڈ ایفیکٹس (SFX) & میوزک گائیڈ
---
ریکارڈنگ کے لیے مشورہ:
ہر کردار اپنی لائن ریکارڈ کرے اور وقفہ (pause) دے تاکہ ایڈیٹر آسانی سے جگہ بدل سکے۔
نیریٹر کی آواز میں "خاموشیاں" اور "جملوں کے بیچ تھوڑی دیر" لازمی رکھیں تاکہ جذبات ابھر سکیں۔
وجو بھائی کے "خطاب والے سین" میں بیک گراؤنڈ میوزک بہت مدھم بجائیں تاکہ آواز غالب رہے۔
اسٹوڈیو میں تین مائک استعمال کریں — ایک نیریٹر کے لیے، ایک مکالماتی کرداروں کے لیے، ایک ساؤنڈ ایفیکٹس کے لیے۔
________________________________
ریڈیو اسکرپٹ: اسٹرگلرس اڈا
مصنف: علیم طاہر
فارمیٹ: وائس ریکارڈنگ / ریڈیو ڈرامہ
دورانیہ: تقریباً 20-25 منٹ
---
[اوپننگ سین]
[SFX: ہلکی ہلکی بولی وڈ طرز کی انسٹرومنٹل میوزک، بیک گراؤنڈ میں ہلکی گفتگو اور چائے کی چسکیاں]
نیریٹر (نرم آواز میں):
یہ ممبئی ہے... خوابوں کی شہزادی... جہاں ہر گلی، ہر دیوار، ہر کھڑکی کسی نہ کسی جدوجوہد کی گواہ ہے۔
یہاں ایک ہوٹل ہے... کچھ پرانے اسٹول، کچھ دھندلے شیشے، اور کچھ تھکے ہوئے خواب...
اس ہوٹل کا نام کوئی نہیں جانتا... مگر ہر اسٹروگلر اسے "اسٹرگلرس اڈا" کہہ کر پکارتا ہے۔
---
[سین 2 – ہوٹل کے اندر]
[SFX: دروازے کی چرچراہٹ، قدموں کی آہٹ، چائے کی پیالی رکھے جانے کی آواز]
ویٹر:
شلپا جی، آپ کا اسپیشل چائے۔ بغیر شکر کے۔
شلپا (سگریٹ کا کش لیتے ہوئے):
تھینک یو راجو… تمھیں بھی یاد ہے میری چائے کی عادت؟
ویٹر (مسکرا کر):
یہاں سب کو یاد ہے… اسٹروگلرز کا ذائقہ چائے سے زیادہ خوابوں میں ہوتا ہے۔
---
[سین 3 – نوجوان ہدایتکار کا داخلہ]
[SFX: تیز قدموں کی آواز، کرسی گھسیٹنے کی آواز]
آکاش:
مجھے ایک نئی لڑکی چاہیے... چہرے پر وہ کرب ہو جو اسکرین سے باہر نکل آئے...
شلپا (سگریٹ کا کش لیتے ہوئے):
کرب صرف چہرے پر نہیں ہوتا... کبھی اندر بھی محسوس کر کے دیکھو...
---
[سین 4 – چرکٹ ماسٹر کا انٹری]
[SFX: ہلکی ہنسی، دروازے کی کھڑکھڑاہٹ]
چرکٹ ماسٹر:
سنو سنو... آج بھی آڈیشن میں "پولس والا" بن کے آیا تھا...
مگر لائن تھی صرف ایک: "چلو تھانے!"
توصیف (ہنستے ہوئے):
بس! اور دیالو ڈیریکٹر نے وہ بھی کاٹ دی ہوگی؟
چرکٹ ماسٹر:
نہیں بھائی... وہ تو بولے "ابھے تو ریئل لگتا ہے، تھانے میں ہی جا!"
---
[سین 5 – آکانشا کا منظر]
[SFX: ہوا کے جھونکے، دروازہ کھلنے کی آواز]
آکانشا (اداسی سے):
مجھے اپنا پتہ نہیں معلوم... میں شاید کسی ریجیکشن کی گلی میں رہتی ہوں...
شلپا (نرمی سے):
یہاں سب کی رہائش عارضی ہے... کوئی خواب میں رہتا ہے، کوئی ڈائلاگ میں...
---
[سین 6 – وجو بھائی کی آمد]
[SFX: اسٹک کی ٹک ٹک، خاموشی کا وقفہ، ہلکی بیک گراؤنڈ میوزک]
نیریٹر:
یہ وجو بھائی ہیں... اصل نام وجے چوہان۔ کبھی سائڈ رول کے بادشاہ تھے۔ اب... اسٹروگلرز کے استاد۔
وجو بھائی:
ہاں بچو... سنیما صرف کیمرے کی آنکھ نہیں دیکھتی...
اسے دل کا ویژن چاہیے... ورنہ ہر اسٹروگل صرف شکست ہے۔
---
[سین 7 – ان سب کی کہی ان کہی آوازیں]
[SFX: سب کردار ہلکے ہلکے بولتے ہیں، جیسے دھیما شور ہو]
شلپا (خود سے):
کیا کبھی کوئی رول... میرے نام کا بھی ہوگا؟
آکاش (نوٹس بک بند کرتے ہوئے):
کہانی میں درد کم ہے… چلو کسی اور اسٹروگلر سے ملتا ہوں۔
آکانشا (آنسو پونچھتے ہوئے):
ریجیکشن اب عادت بن چکی ہے…
---
[کلائمکس – وجو بھائی کا خطاب]
[SFX: خاموشی، میوزک تھوڑا بڑھتا ہے، وجو بھائی کی آواز گونجتی ہے]
وجو بھائی:
بچو... ایک دن، یہی ہوٹل کسی کی بائیوپک کا پہلا سین بنے گا۔
یہ اسٹروگلرس اڈا نہیں... یہ سنیما کا جنم استھان ہے!
---
[اختتامی منظر]
نیریٹر (پُرجوش مگر نرم انداز میں):
تو یاد رکھنا... اگر تم بھی کبھی ممبئی آؤ... اور ایک چائے، ایک خواب، اور ایک ڈائلاگ تمھارے پاس ہو...
تو "اسٹرگلرس اڈا" تمھارا ہے۔
[SFX: دھیرے دھیرے میوزک بلند ہوتا ہے اور fade out]
رابطہ مصنف : - علیم طاہر
موبائل: 9623327923
________________________________
(C) Ragisterd:
Writer:
Aleem Tahir
Email id aleemtahir12@gmail.com
Mobile no. 9623327923.
-----------
Sunday, 9 November 2025
___ یوم اردو کے موقع پر
اردو کی بقا، فروغ اور ہماری اجتماعی
ذمہ داری
مقالہ نگار: علیم طاہر
----
تمہید:
زبان کسی قوم کی شناخت ہوتی ہے۔ اس سے تہذیب کا شعور، معاشرت کی پہچان، اور فکر کا زاویہ جھلکتا ہے۔ اردو زبان برصغیر کی وہ حسین روایت ہے جس نے مذہب، نسل اور علاقے کے امتیاز سے بلند ہو کر سب کو ایک لڑی میں پرویا۔ آج جب دنیا کی تیز رفتار ترقی کے ساتھ مادری اور قومی زبانیں دباؤ میں آ رہی ہیں، تو یہ سوال شدت سے ابھرتا ہے کہ ہم اردو کے لیے کیا کر رہے ہیں؟
---
اردو کی تاریخی جڑیں اور ارتقائی سفر _
اردو کی ابتدا بارہویں صدی کے آس پاس دہلی اور گنگا–یامنا کے علاقے میں ہوئی۔ مختلف بولیوں جیسے خاری، برج، اور فارسی، عربی و ترکی اثرات کے امتزاج سے ایک نئی زبان نے جنم لیا جسے ابتدا میں ’’ریختہ‘‘ کہا گیا۔
دکن کے شعرا ولیؔ، محمد قلی قطب شاہؔ اور نصرتیؔ نے اسے نیا ذائقہ دیا۔ دہلی میں میرؔ، سوداؔ، غالبؔ، ذوقؔ، مومنؔ نے اسے کلاسیکی بلندی بخشی۔
یوں اردو ایک فوجی، درباری اور عوامی زبان سے ترقی کرتے کرتے ادب، صحافت، فلسفہ، سائنس اور سیاست کی زبان بن گئی۔
---
اردو کا تہذیبی و ادبی کردار
اردو زبان کا سب سے روشن پہلو یہ ہے کہ اس میں روحانی وسعت اور فکری رواداری شامل ہے۔
یہ وہ زبان ہے جس نے میر تقی میرؔ کے غم، غالبؔ کے فلسفے، اقبالؔ کے خواب اور فیضؔ کی انقلابی فکر کو آواز دی۔
اردو نے نہ صرف برصغیر کے مسلمانوں کو بلکہ غیر مسلم شعرا و ادبا کو بھی اپنی آغوش میں جگہ دی — دیال شرماؔ، جگن ناتھ آزادؔ، راجندر سنگھ بیدیؔ، کرشن چندرؔ _ سب نے اردو کو اپنا اظہار بنایا۔
اردو ادب کا دامن نثر، شاعری، ڈراما، تنقید، سفرنامہ اور جدید افسانے تک وسیع ہے۔ یہ زبان آج بھی انسان دوستی، محبت، برداشت اور ہم آہنگی کا پیغام دیتی ہے۔
---
اردو کی موجودہ صورتِ حال
بدقسمتی سے اردو کو وہ ادارہ جاتی توجہ حاصل نہیں جو کسی قومی یا عالمی زبان کو ملنی چاہیے۔
اسکولوں میں اردو ذریعۂ تعلیم کے ادارے کم ہو رہے ہیں۔
انگریزی اور مقامی بولیوں کے دباؤ نے اردو کے فروغ کو محدود کیا ہے۔
نئی نسل میں اردو لکھنے، پڑھنے اور سمجھنے کا رجحان کم ہوتا جا رہا ہے۔
اردو اخبارات و رسائل کی قارئین تعداد گھٹ رہی ہے۔
ڈیجیٹل میڈیا پر اردو رسم الخط کی تکنیکی مشکلات اب بھی موجود ہیں۔
یہ صورتِ حال محبانِ اردو کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔
---
اردو کے فروغ کے امکانات اور مواقع
اس کے باوجود اردو کے امکانات وسیع ہیں۔
دنیا کے درجنوں ممالک میں اردو بولی اور سمجھی جاتی ہے۔
پاکستان میں یہ قومی زبان ہے، بھارت میں کروڑوں لوگ اسے مادری یا ثانوی زبان کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔
عرب دنیا، خلیجی ممالک، برطانیہ، کینیڈا، امریکا اور جاپان تک اردو کی تدریس کے مراکز قائم ہیں۔
ڈیجیٹل دور نے اردو کے لیے نئے در وا کیے ہیں —
ریختہ، اردو پوائنٹ، بی بی سی اردو، اور جامعۂ ملیہ اسلامیہ جیسے ادارے اردو کو عالمی سطح پر متعارف کروا رہے ہیں۔
---
انفرادی سطح پر ہماری ذمہ داریاں
1. گھر سے آغاز: بچوں سے اردو میں گفتگو کریں، انہیں کہانیاں، نظمیں اور لوک حکایات سنائیں۔
2. مطالعہ کی عادت: اردو کتابیں، افسانے، شاعری اور صحافتی مضامین پڑھیں۔
3. ڈیجیٹل اردو کا فروغ: سوشل میڈیا، بلاگز، ایپس اور ویب سائٹس پر اردو رسم الخط میں مواد لکھیں۔
4. زبان کا وقار: سرکاری و نجی تقریبات میں اردو میں گفتگو کرنے کو باعثِ فخر سمجھیں۔
5. تحقیق و تحریر: نوجوان نسل کو اردو میں مقالہ نگاری، تخلیق اور ترجمہ کی جانب راغب کریں۔
---
ادارہ جاتی سطح پر تجاویز
اردو میڈیم اسکولوں کو جدید سائنسی اور ٹیکنالوجی مضامین سے جوڑا جائے۔
اردو ٹیچرز کی تربیت کے لیے جدید کورسز متعارف ہوں۔
اردو یونیورسٹیوں اور تحقیقی اداروں کو فنڈنگ دی جائے۔
اردو کی عالمی کانفرنسیں اور مشاعرے ہر سطح پر منعقد کیے جائیں۔
اردو کتب کی ڈیجیٹلائزیشن، ای لائبریریز اور آن لائن ڈیٹا بیسز قائم ہوں۔
---
اجتماعی اور قومی سطح پر شعور کی بیداری
ہمیں اردو کے فروغ کو محض ایک ثقافتی مہم نہیں بلکہ قومی فریضہ سمجھنا چاہیے۔
جب قومیں اپنی زبان کو چھوڑ دیتی ہیں تو ان کی تہذیب مٹنے لگتی ہے۔
اردو صرف مذہبی یا سیاسی زبان نہیں — یہ رواداری، محبت، اور شعور کی زبان ہے۔
اردو ہماری اجتماعی شناخت ہے؛ اس کی حفاظت ہماری اخلاقی، تہذیبی اور تاریخی ذمہ داری ہے۔
----
اردو کا مستقبل — امید کی کرن
اردو آج بھی زندہ ہے، اور اس کے چاہنے والے ہر جگہ موجود ہیں۔
آن لائن ذرائع، عالمی مشاعرے، اور نوجوان نسل کی بیداری اردو کے لیے نئی توانائی پیدا کر رہے ہیں۔
اگر ہم نے اردو کو جدید تعلیم، سائنس، ٹیکنالوجی اور میڈیا سے جوڑ لیا، تو اس کی بقا یقینی ہے۔
اردو کی روح آج بھی زندہ ہے _
> “یہ زبان عشق ہے، یہ زبان انسانیت ہے، یہ زبان ہمارا کلچر ہے۔”
--
اردو کے فروغ کے لیے ہمیں حکومت سے زیادہ خود کو بدلنے کی ضرورت ہے۔
زبان محبت سے زندہ رہتی ہے، حکم سے نہیں۔
آیئے اس یومِ اردو کے موقع پر یہ عہد کریں کہ:
“اردو ہماری زبان ہے، اس کی حفاظت ہمارا ایمان ہے۔”
---
کاپی رائٹ) : مقالہ نگار )
علیم طاہر
Wednesday, 22 October 2025
Urdu ki bahar
🌿 उर्दू की बहार या दिखावे की फसल?
लेखक: अलीम ताहिर
---
🎉 उर्दू अकादमी का गोल्डन जुबली उत्सव
महाराष्ट्र स्टेट उर्दू अकादमी ने अपनी गोल्डन जुबली (50 साल पूरे होने) पर
“बहार-ए-उर्दू” के नाम से बहुत बड़ा कार्यक्रम किया।
ऊपर से तो यह उर्दू भाषा के प्रचार का उत्सव लग रहा था,
लेकिन असल में इसने बहुत से सवाल खड़े कर दिए —
ऐसे सवाल जो हमारे समाज, संस्कृति और खुद उर्दू की आत्मा से जुड़े हैं।
---
📜 निमंत्रण पत्र और बैनर — उर्दू कहाँ है?
जब कार्यक्रम का निमंत्रण पत्र लेखकों और शायरों के पास पहुँचा,
तो सबसे पहला सवाल यही उठा —
उर्दू का लिपि (रूप) कहाँ गया?
महाराष्ट्र उर्दू अकादमी के 50 साल पूरे होने वाले इस निमंत्रण पत्र में
90% हिस्सा उर्दू लिपि से खाली था।
ऐसा लगा जैसे उर्दू के अपने घर में ही उर्दू बेगानी हो गई हो।
क्या यह “उर्दू की बहार” है?
या उर्दू की “खबर” पर बहार का पर्दा डाला गया है?
---
🗣️ भाषा की राजनीति और उर्दू की चुप्पी
आज महाराष्ट्र में मराठी समाज अपनी भाषा के लिए बहुत सक्रिय है —
दुकानों, दफ्तरों, स्कूलों और कॉलेजों के नाम मराठी में लिखने की माँग ज़ोरों पर है।
लेकिन दूसरी ओर, उर्दू के सरकारी संस्थान
अपने ही कार्ड और बैनर पर उर्दू छोड़कर मराठी या अंग्रेज़ी में गर्व महसूस करते हैं।
यह विरोधाभास केवल भाषा का नहीं,
बल्कि हमारी संस्कृति के पतन का संकेत है।
---
🎬 साहित्यिक उत्सव या फिल्मी मेला?
कहा गया कि “उर्दू की बहार” का बजट 10 करोड़ रुपये का है।
लेकिन असली फायदा किसे हुआ?
जो लेखक, कवि, और शोधकर्ता
अपनी ज़िंदगी उर्दू के लिए समर्पित कर चुके हैं,
उन्हें मिले 15,000 से 1 लाख रुपये।
और पुराने फिल्मी कलाकारों को 10–30 लाख रुपये और आलीशान सुविधाएँ!
ऐसा लगा जैसे यह “उर्दू का उत्सव” नहीं,
बल्कि फिल्मी चमक का शो बन गया हो।
---
✍️ साहित्यकार कहाँ हैं?
अगर “उर्दू साहित्य अकादमी” का उत्सव
उर्दू के साहित्यकारों के बिना हो —
तो वह उत्सव नहीं, मज़ाक है।
उर्दू का असली ख़ज़ाना उसके लेखक, कवि और आलोचक हैं,
न कि वो लोग जिन्हें उर्दू का उच्चारण भी ठीक से नहीं आता।
अगर किसी फिल्मी चेहरे को “उर्दू की बहार” का प्रतिनिधि बना दिया जाए,
तो यह न सिर्फ भाषा का, बल्कि साहित्य की आत्मा पर हमला है।
---
🍂 बहार-ए-उर्दू या ज़वाल-ए-उर्दू?
यह “बहार” नहीं, बल्कि “ज़वाल” (पतन) की कहानी है।
जब उर्दू को ही उसके मंच, कार्ड और संस्थान से हटा दिया जाए —
तो उर्दू की रक्षा का उत्सव किस मुँह से मनाया जाए?
अगर यह “बहार” है,
तो फिर पतझड़ कैसी होगी?
---
🔦 निष्कर्ष (अंत में)
उर्दू की असली बहार तब आएगी
जब अकादमियाँ शोहरत नहीं, अध्ययन और साहित्य को केंद्र बनाएँ।
जब पुरस्कार पाने की नहीं, विचार और ईमानदारी की भूख हो।
और जब उर्दू के उत्सव से पहले
उर्दू लिपि को सम्मान दिया जाए।
क्योंकि अगर उर्दू अपनी पहचान खो दे —
तो कोई भी फिल्मी चेहरा,
कोई सरकारी कार्यक्रम,
उसे जिंदा नहीं रख सकता।
> तेरी आँखों का जादू बोलता है,
मैं सुनता हूँ — वो उर्दू बोलता है।
---
🌕 “उर्दू का उत्सव या उर्दू की परीक्षा?”
महाराष्ट्र अकादमी, साहित्य और संस्थागत पतन की कहानी
✍️ अलीम ताहिर
---
💭 जब साहित्य का उत्सव सोच से खाली हो जाए...
जब “साहित्य का उत्सव” सोच और भावना से खाली हो जाता है,
तो रोशनी की महफ़िलें भी अंधेरे पैदा करती हैं।
महाराष्ट्र स्टेट उर्दू साहित्य अकादमी के 50 साल पूरे हुए —
यह पल उर्दू के लिए गर्व और खुशी का होना चाहिए था,
लेकिन अफसोस, यह विवाद और दिखावे का रूप बन गया।
10 करोड़ रुपये के भारी बजट के बावजूद
लोगों के चेहरों पर मुस्कान नहीं,
सवाल हैं।
क्या यह “जश्न-ए-उर्दू” है?
या “उर्दू की परीक्षा”?
---
🌟 गोल्डन जुबली — सुनहरा मौका या काला सवाल?
1975 में जब उर्दू अकादमी बनी थी,
तब उसके आस-पास कृष्णचंद्र, इस्मत चुगताई, ख्वाजा अहमद अब्बास, सरदार जाफरी जैसे नाम थे।
वे लोग साहित्य को इंसानियत और सच्चाई का आईना मानते थे।
लेकिन आज, 50 साल बाद,
उसी अकादमी ने अपने पुराने दीपक खुद बुझा दिए।
10 करोड़ का बजट,
जो पूरे राज्य के साहित्यिक केंद्रों तक पहुँचना चाहिए था,
वो मुंबई की चमक-दमक में खो गया।
यह सिर्फ पैसों का नहीं,
विश्वास का बँटवारा भी है।
---
🎭 उर्दू अकादमी या एंटरटेनमेंट कंपनी?
जब साहित्य का उत्सव
मंच, रोशनी, और ग्लैमर का शो बन जाए,
तो समझ लीजिए शब्द मर गए हैं।
अब उर्दू भाषा नहीं, सजावट बन गई है।
लेखक अब सहभागी नहीं, शोपीस बन गए हैं।
जब कवि की जगह “ब्रांड” बोले,
तो अकादमी का असली उद्देश्य खत्म हो जाता है।
---
🏙️ मुंबई का एकाधिकार — बाकी शहरों की उपेक्षा
महाराष्ट्र में नांदेड़, मालेगांव, औरंगाबाद, शोलापुर —
ये सभी उर्दू के ज़िंदा केंद्र हैं।
यहाँ उर्दू बोली, समझी और लिखी जाती है।
फिर भी यह सारे शहर इस जश्न से बाहर क्यों रखे गए?
क्या उर्दू सिर्फ मुंबई की है?
अगर 10 करोड़ का बजट दस शहरों में बाँटा जाता,
तो यह सच में “राज्य स्तरीय” उर्दू उत्सव बनता।
लेकिन अब यह सिर्फ “मुंबई शो” बन गया है।
---
🏆 साहित्यिक पुरस्कार या फिल्मी शो?
जब पुरस्कार देने वाले के हाथ में किताब की जगह कैमरा हो,
और लेखक अपने लेखन की जगह “सेल्फी” में व्यस्त हो —
तो साहित्य की आत्मा खतरे में है।
पुरस्कार साहित्य की गरिमा बढ़ाते हैं,
पर अगर वे “रेड कार्पेट” पर दिए जाएँ,
तो वे सम्मान नहीं, अपमान बन जाते हैं।
---
✒️ उर्दू लिपि की बेदखली — एक खामोश खतरा
अगर सरकारी उर्दू अकादमी के निमंत्रण पत्र से ही
उर्दू लिपि गायब हो जाए,
तो यह गलती नहीं, बल्कि भाषाई निष्कासन (बेदखली) है।
जब कोई भाषा अपने लिपि से वंचित होती है,
तो केवल अक्षर नहीं मरते —
पूरी संस्कृति मर जाती है।
---
❓ अब भी बाकी हैं कुछ सवाल...
10 करोड़ का हिसाब कहाँ गया?
महाराष्ट्र के दूसरे जिलों को क्यों नज़रअंदाज़ किया गया?
अकादमी का साहित्यिक उद्देश्य “फिल्मी इवेंट” में क्यों बदला?
और सबसे बड़ा सवाल — उर्दू लिपि को क्यों हटाया गया?
ये सवाल सिर्फ उर्दू के नहीं,
बल्कि हमारे ज़मीर के सवाल हैं।
---
🌱 उर्दू का असली उत्सव क्या होता?
अगर यह बजट सच में उर्दू पर खर्च होता,
तो क्या-क्या नहीं हो सकता था?
राज्य स्तर पर साहित्यिक सम्मेलन
कॉलेजों में उर्दू के व्याख्यान और काव्य-गोष्ठियाँ
युवाओं के लिए लेखन कार्यशालाएँ
हर जिले में “उर्दू घर” और पुस्तक मेले
यही होता “उर्दू का सच्चा उत्सव” —
जहाँ पुराने दीपक बुझाए नहीं जाते,
बल्कि नए दीपक जलाए जाते हैं।
---
🕊️ अंतिम संदेश
साहित्य की शक्ति केवल शब्दों में नहीं,
बल्कि इरादे और ईमान में है।
अगर अकादमियाँ राजनीति का औज़ार बन जाएँ,
तो उर्दू का भविष्य “कार्यक्रमों” में नहीं,
“विचारों” में ढूँढना होगा।
> “उर्दू का उत्सव, उर्दू की परीक्षा” —
यह सिर्फ एक घटना नहीं, एक आईना है,
जिसमें हमें अपना चेहरा देखना होगा।
> ज़र्फ़ हर बार मरा ज़िद पे अड़ा रहता है,
हक़-ब-जानिब है जो दुनिया से लड़ा रहता है।
– अलीम ताहिर
🌿 Spring of Urdu or a Season of Show?
By Aleem Tahir
---
🎉 The Golden Jubilee of the Urdu Academy
On the occasion of its Golden Jubilee (50 years), the Maharashtra State Urdu Academy organized a grand celebration titled “Bahār-e-Urdu” (The Spring of Urdu).
At first glance, it seemed to be a festival dedicated to the promotion of the Urdu language.
But in reality, it raised many troubling questions —
questions connected not only to our society and culture, but also to the very soul of Urdu.
---
📜 Invitation and Banners — Where is Urdu?
When the invitation for this grand event reached writers and poets,
the first question that arose was —
Where has Urdu disappeared?
In the official invitation of the Urdu Academy’s 50th anniversary,
almost 90% of the text was not in Urdu script.
It seemed as if Urdu itself had become a stranger in its own home.
Is this the “Spring of Urdu”?
Or has a floral curtain been drawn over Urdu’s funeral?
---
🗣️ Language Politics and the Silence of Urdu
In Maharashtra today, the Marathi community is actively demanding
that the names of shops, offices, schools, and colleges be written in Marathi.
But on the other hand, Urdu’s own state institutions
are proudly issuing invitations in Marathi or English,
completely excluding Urdu from their own documents.
This is not just a linguistic contradiction —
it is a symbol of cultural decline.
---
🎬 A Literary Celebration or a Film Fair?
The so-called “Festival of Urdu” had a budget of ten crore rupees.
But the question remains — who actually benefited?
The writers, poets, and scholars who have devoted their lives to Urdu
were given between ₹15,000 and ₹1 lakh,
while fading Bollywood personalities were paid ₹10–30 lakh,
along with luxurious travel and vanity vans.
It appeared that this event was not meant to revive Urdu —
but to showcase glamour under Urdu’s name.
The festival turned from a celebration of thought
into a parade of publicity.
---
✍️ Where Are the Writers?
If the Urdu Sahitya (Literary) Academy organizes a festival
without the presence of Urdu’s own writers and thinkers,
then it is not a festival — it is mockery.
The true wealth of Urdu lies in its authors, poets, and critics,
not in people who can’t even pronounce Urdu properly.
If the faces of film and fashion are made the representatives of “Urdu’s Spring,”
then it is not just language that suffers —
it is literature’s very soul being wounded.
---
🍂 Spring of Urdu or Fall of Urdu?
This was not the “Spring of Urdu,”
but a chronicle of its decline.
When Urdu is erased from the stage, the invitation,
and even from its own Academy —
how can one celebrate the survival of Urdu?
If this is what we call “spring,”
then what would autumn look like?
---
🔦 In Conclusion
The true spring of Urdu will arrive
only when academies focus on research and literature,
not on glitter and showbiz.
When the hunger for ideals replaces the hunger for awards.
And when every Urdu celebration begins
with respect for the Urdu script itself.
Because if Urdu loses its identity —
no film star, no government event,
and no luxury van can bring it back to life.
> “The magic of your eyes speaks,
and the sound I hear — is Urdu itself.”
---
🌕 “Festival of Urdu or Test of Urdu?”
The Story of the Maharashtra Academy, Literature, and Institutional Decay
✍️ By Aleem Tahir
---
💭 When Literature Loses Its Thought...
When a “literary festival” loses its soul,
even a gathering full of light begins to create darkness.
The Maharashtra State Urdu Sahitya Academy completed 50 years —
a moment that should have been filled with pride and honor for Urdu.
Yet sadly, it turned into a spectacle of show and controversy.
Despite a massive ₹10 crore budget,
there was no joy — only questions.
Is this truly a “Festival of Urdu”?
Or is it a test of Urdu’s endurance?
---
🌟 Golden Jubilee — A Golden Moment or a Dark Question?
When the Academy was founded in 1975,
it was surrounded by names like Krishan Chander, Ismat Chughtai,
Khwaja Ahmad Abbas, and Sardar Jafri —
people who viewed literature as a light of truth, humanity, and freedom of thought.
But today, fifty years later,
the same Academy has dimmed those lights itself.
The ₹10 crore budget,
which should have strengthened literary centers across the state,
got lost in Mumbai’s glitter.
This is not just a misallocation of funds —
it is a division of trust.
---
🎭 Urdu Academy or Entertainment Company?
A literary event carries meaning
only when it nurtures thought, dialogue, and reading.
But when such events turn into corporate shows
filled with microphones, lights, and glamour —
then words begin to die.
Urdu is no longer treated as a language, but as a decoration.
The writer is no longer a participant, but a showpiece.
When “brands” start speaking instead of poets —
the Academy has lost its purpose.
---
🏙️ Mumbai’s Monopoly — The Neglect of Other Cities
Cities like Nanded, Malegaon, Aurangabad, and Solapur
are living centers of Urdu in Maharashtra.
Urdu is spoken, taught, and written there passionately.
Then why were these cities excluded from the Golden Jubilee?
Is Urdu now considered the property of Mumbai alone?
If the ₹10 crore budget had been shared across ten cities,
this would have been a true state-level celebration of Urdu.
Instead, it became a Mumbai-centric show,
leaving the rest of the state as silent spectators.
---
🏆 Awards or Glamour Shows?
When those who give awards hold cameras instead of books,
and the recipients prefer selfies with celebrities
over their own literary work —
then literature’s spirit is in danger.
Awards are meant to honor literature,
but when given on the red carpet of showbiz,
they turn into insults.
The dignity of literature lies in its words,
not under the spotlights of the stage.
---
✒️ The Silent Danger — Exile of the Urdu Script
If the official Urdu Academy itself
removes Urdu script from its invitations,
that is not a small oversight —
it is an act of linguistic exile.
When a language loses its script,
not only its letters die —
its entire civilization begins to fade.
---
❓ Unanswered Questions
Where did the ₹10 crore go?
Why were other Urdu-rich districts ignored?
Why was the Academy’s literary purpose turned into a film event?
And why was Urdu script removed from its own invitation?
These are not just questions for Urdu —
they are questions for our collective conscience.
---
🌱 What Would a True Festival of Urdu Look Like?
If that budget had truly served Urdu,
imagine what could have been achieved:
State-level symposia on Urdu fiction, poetry, and criticism
Literary lectures and mushairas in schools and colleges
Writer residencies and youth workshops
“Urdu Houses” and book fairs across districts
That would have been the true celebration of Urdu —
where old lamps are not extinguished,
but new lamps are lit.
---
🕊️ Final Message
The existence of literature lies not just in words,
but in intention, light, and integrity.
If academies serve politics instead of literature,
then Urdu’s future will not be found in ceremonies,
but in conscience and creativity.
> “The Festival of Urdu, The Test of Urdu” —
is not merely an event, but a mirror,
in which we must all see our own reflection.
> “My spirit always stands firm in defiance —
for truth belongs to those who dare to fight the world.”
– Aleem Tahir
Friday, 10 October 2025
ناصر شیخ مالیگاؤں کے منفرد ڈائریکٹر
Friday, 12 September 2025
Aleem Tahir ki pachchees nazme
علیم طاہر کے مشہور پسندیدہ ایک سو پچاس اشعار ۔۔علیم طاہر ۔۔قسط نمبر 01 ۔۔
علیم طاہر کے مشہور پسندیدہ ایک سو پچاس اشعار ۔۔۔۔۔علیم طاہر ۔
قسط نمبر:01
_______________________________
لوبانوں سی خوشبو جیسی مہکے تیری یاد
دھڑکندھڑکن سلگ رہا ہے مدھم سااحساس
مجھ کو تیرے سنگ چلائے جانے کتنی دور
تیری پیاری باتوں میں ہے ہمدم سا احساس
________________________________
گاہک سی ہو گئی ہے اچٹتی سی ہر نگاہ
خواہش کی دل آویز دکاں رخ پہ سجی ہے
رگ رگ میں تیری زندہ ہے احساسِ زندگی
نایاب سراپا لیے تو کتنی دھنی ہے ________________________________
چکنی مٹی سے جب نیند پھسلی مری
خواب موتی بنا اور اجالا ہوا
لاش کمرے سے میری نکالی گئی
چھوڑ کر عشق بستر پہ روتا ہوا
________________________________
ہے اعتماد مجھ کو یوں میرے یقین کا
عزت یقین کرتا ہے میرے قیاس کی
اس چھاؤں میں تو ا کے مرا جسم جل گیا
پچھتا رہا ہوں دھوپ سے کیوں التماس کی
________________________________
میرے کمرے کی کھڑکی کھلی رہ گئی
خالی بستر کا تکیہ تھا بھیگا ہوا
تیرے احساس کی دل نے دستک سنی
دھڑکنوں میں عجب شور برپا ہوا
________________________________
بے حسی ہے کہ نہیں کھولتی دروازے کو
دے کے دستک میرا احساس کھڑا رہتا ہے
ذہن و دل سے وہ نکلتا ہی نہیں ہے طاہر
پھانس کی طرح تخیل میں گڑھا رہتا ہے
________________________________
میرے کمرے میں ہراک حرف تیری یادوں کا
سوچ دربار میں چپ چاپ کھڑا رہتا ہے
ہر ایک سٹیج پہ ایک روپ ہے طاہر دیکھو
میرا کردار کہانی میں ڈھلا رہتا ہے
_______________________________
ہاں جدائی میں مرا دل تو خفا رہتا ہے
یاد میلہ بھی مگر ساتھ لگا رہتا ہے
تیری یادوں نے عجب بھیس بدل رکھے ہیں
دل کی درگاہ پہ مجمع سا لگا رہتا ہے
________________________________
یہیں پہ جھوٹوں کو قدردانی ہوئی میسر
یہاں کی منڈی میں کھوٹے سکےکھرےہوئے ہیں
ستم ہزاروں یہ سہ رہے ہیں خموش رہ کر
یہ لوگ زندہ جو دکھ رہے ہیں مرے ہوئے ہیں
________________________________
لاکھ دھوئیں سے بھی تصویر نہ بن پائی تری
اب میں سگریٹ بجھاتے ہوئے تھک جاتا ہوں
دستکیں کون یہ دیتا ہے مسلسل دل پر
میں تو اندازہ لگاتے ہوئے تھک جاتا ہوں
________________________________
نیند ٹوٹی تو بجھ گئے سارے
جیسے پانی کے بلبلے ہیں خواب
روز بنتے ہیں فنا ہونے کو
میرے پاؤں کے ابلے ہیں خواب
ایک تذبذب ہے نیند کو طاہر
آج جانے کہاں مرے ہیں خواب
________________________________
جاگے جاگے دیکھ رہا ہوں کیسے کیسے خواب
پیشنگوئی کر دیتے ہیں اکثر میرے خواب
نیند کی پیتل الماری میں جھلمل کرتے ہیں
چمکیلے سونے چاندی سے جیسے گہنے خواب
_______________________________
کمرہ بستر اور تکیے کے یہ محتاج کہاں؟
جاگی جاگی آنکھوں میں ہیں سوئے سوئے خواب
مل جل کر ہر خواب بنائے خود سے ایک کہانی
پھر مجھ سے کردار نبھائے رستے رستے خواب
_______________________________
اندھیرا اوڑھ کر بیٹھا اجالا
بدل کر آ گیا چولا اجالا
وہ اک آواز کیا اتری ہے مجھ میں
میں سر سے پا ہوا پورا اجالا
_______________________________
میرا وجود چاک سے اتر گیا
جو گردشوں کا وقت تھا گزر گیا
جو خود کو آسمان کہہ رہا تھا پھر
زمین پہ پارہ پارہ کیوں بکھر گیا
_____________________________
ہر دل کی دھڑکن امید
آنکھوں میں روشن امید
ہر دکھ اس سے کوسوں دور
ہر سکھ کی درپن امید
_____________________________
یاد تری ایک لوکل ٹرین کے جیسی ہے
لمحہ لمحہ اتے جاتے رہتی ہے
میٹرو جیسا سفر ہے تیرا اور میرا
مالیگاؤں سا میں ہوں اور تو ممبئی ہے
دادر کی ایک بھیڑ کے جیسا تیرا غم
نیرول اسٹیشن سی مجھ میں چپی ہے
________________________________
ٹوٹ ٹوٹ کر بکھر رہے تھے تانے بانے جملوں سے
دل سے دل جو بچھڑ رہا تھا رنگ اڑے تھے لفظوں سے
تیری میری رگ رگ میں اب عشق پھر محلول بنا
فلک دھواں سا ابھر رہا ہے ہم دونوں کے رشتوں سے
________________________________
عشق کی دھن میں آوازوں کا پیکر کھوتا جاتا ہے
لفظوں کے شیتل پانی سے لہجہ دھوتا جاتا ہے
دستک تھک کر ہانپ رہی ہے امیدیں دم توڑ رہیں
سبز سنہرا موسم مجھ میں پت جڑ ہوتا جاتا ہے
ادھڑی ادھڑی نیندوں میں ہے بکھرے بکھرے خواب
ملبے جیسے ادھر ادھر ہے سہمے سہمے خواب
مجھ کو محبوبہ سے ملنے چاند پہ جانا ہے
میں سستا ہوں پھر بھی دیکھوں مہنگے مہنگے خواب
______________________________
ہو بہو ہرا بھرا مرا خواب ہے
ترے حسین روپ سا مرا خواب ہے
میری نیند طاقچے کی اک چراغ سی
ہوا ہوا گھلا ہوا مرا خواب ہے
_______________________________
جھیلوں سی آنکھوں سے چھلکے سرگم سا احساس
تم ائے تو خوشی بنا ہے ہر غم سا احساس
میرے سارے زخم مٹے ہیں تیرے چھونے سے
تیرے طلسمی ہاتھ میں پایا مرہم سا احساس
________________________________
تیری آنکھوں کا جادو بولتا ہے
میں سنتا ہوں وہ اردو بولتا ہے
نہیں ہیں چاند اور تارے فلک پر
اندھیری شب ہے جگنو بولتا ہے
________________________________
آس پر جب گرا وقت لٹکا ہوا
ٹوٹ کر پھر تو وہ لمحہ لمحہ ہوا
تیرے احساس کی دل نے دستک سنی
دھڑکنوں میں عجب شور برپا ہوا
میری مٹی چھوا تیرے ہاتھوں نے جب
چاک تھمتے ہی میں بھی تو پورا ہوا
____________________________
اترا ہے درد آنکھوں میں نمناک دکھی ہے
دل ٹوٹنے کی دل نہیں آواز سنی ہے
اک عمر میں اندھیروں سے لڑتا ہی رہا ہوں
تب جا کے روشنی میری مٹھی میں چھپی ہے
____________________________
ظرف ہربار مرا ضد پہ اڑا رہتا ہے
حق بجانب ہے جو دنیا سے لڑا رہتا ہے
نیند لٹکی ہوئی رہتی ہے کلینڈر پہ مری
روز بستر پہ میرا خواب پڑا رہتا ہے
_____________________________
بات بے رنگ ہے لفظوں میں دلکشی بھی نہیں
تیرے لہجے میں طلسماتی روشنی بھی نہیں
موسموں کا بھی ہے کردار رقیبوں جیسا
کوئی موسم کو طبیعت سے دلبری بھی نہیں
_____________________________
خواب ہے نہ خواب کی تعبیر ہے
کیوں میرے احساس میں زنجیر ہے
داستان غم میری آنکھوں میں ہے
ہر خموشی چیختی تفسیر ہے
_______________________________
ہر پل میرے احساس میں شدت تھی پیاس کی
پھر بھی سمندروں سے کہاں میں نے آس کی
یوں اس نے لفظیات کو برتا سر محفل
لہجے سے ٹپکتی رہی لذت مٹھاس کی
________________________________
وہ زندگی وہ عیش وہ رتبے بھلا دیے
تیری سزا نے نفرتی لہجے بھلا دیے
ایک خوش لباس وقت مرے ساتھ چل پڑا
پھر یوں ہوا کہ سارے ہی رستے بھلا دیے
_______________________________
جب پڑ جائے پھیکا لہجہ دبے دبے الفاظ
پیلے پیلے پڑ جاتے ہیں ہرے بھرے الفاظ
سامنے آ کر جب ہم دونوں کہتے ہیں دل کی
گڈ مڈ گڈ مڈ ہو جاتے ہیں تیرے میرے الفاظ
_______________________________
ہزار عیب ہیں ہم میں بھی اعتراف ہمیں
برا لگے جو کسی کو کرے معاف ہمیں
جنون منزل احساس ایسا لگتا ہے
تمام دنیا کا کروائے گا طواف ہمیں
______________________________
مقدر کو میرے بگڑنا پڑا
مجھے تم سے اخر بچھڑنا پڑا
رہا میرا گلشن کہاں سرخرو
چلی آندھیاں اور اجڑنا پڑا
مجھے پیار سے ساری دنیا ملی
تمہیں ہر قدم صرف لڑنا پڑا
________________________________
سدا پیڑ سے پھل جڑے کب رہے
ہوئے جب رسیلے تو جھڑنا پڑا
یونہی آپ منزل پہ پہنچے کہاں
مصیبت میں طاہر کو پڑنا پڑا
_______________________________
زندگانی کا خواب ختم ہوا
ایک کہانی کا باب ختم ہوا
روح پرواز کر گئی آخر
دھڑکنوں کا حساب ختم ہوا
کتنا پژمردہ ہو گیا گلشن
گلستاں کا گلاب ختم ہوا
___________________________
اٹھا کر نگاہیں جو ہم دیکھتے ہیں
ستم ہی ستم ہی ستم دیکھتے ہیں
ابھی دور منزل ہے چلیے گا صاحب
ابھی کتنا باقی ہے دم دیکھتے ہیں
_______________________________
اے محبت جو میرے دل میں تو مہکتی ہے
نفاستوں کی فضا چار سو مہکتی ہے
یہ زندگانی کا گلشن عجیب گلشن ہے
ہر ایک سانس نئی آرزو مہکتی ہے
________________________________
تیرے احساس میں مضمر ہے شگفتہ موسم
چمن کی خوشبو تیرے ہو بہو مہکتی ہے
کہ غنچہ غنچہ چٹختا ہے تیرے لہجے میں
گلوں کی طرح تیری گفتگو مہکتی ہے
زبانیں یوں تو کئی ہیں جہان میں طاہر
زبان اردو مگر کوب کو مہکتی ہے
_______________________________
تم غم پر نہ غم رکھو
زخموں پر مرہم رکھو
اپنے مخاطب جھوم اٹھیں
لہجے میں سرگم رکھو
کچھ بھی کرنے سے پہلے
نظروں میں عالم رکھو
_______________________________
روز سورج سے ہوتا جنم دھوپ کا
ہے خدا کے کرم سے کرم دھوپ کا
اس میں ملتا نہیں ہے تعصب کبھی
صرف انسانیت ہے دھرم دھوپ کا
بھاگ جائے گی ظلمت بھی تب رات کی
جب بھی بکھرے گا دھرتی پہ دم دھوپ کا
________________________________
چھوٹے چھوٹے اسٹیشن پر رکتے رکتے چلتی ہے
بیٹھے ہیں جس ریل میں ہم یہ دھیرے دھیرے چلتی ہے
جنسی سکینڈل شہروں میں پھیل گیا ہے کچھ ایسا
شہر کی گلیوں سے ہر عورت ڈرتے ڈرتے چلتی ہے
______________________________
قسمت کا یہ راز عجب ہے چھین لی بچپن میں ٹانگیں
گاؤں میں میرے اک لڑکی ہے بیٹھے بیٹھے چلتی ہے
اونچائی پر کوشش کر کے پا جاتی ہے منزل تو
چیونٹی منہ میں دانا لے کر گرتے گرتے چلتی ہے
______________________________
گلی گلی میں چھیڑ چھیڑ کر جب بھی ستایا بچوں نے
پگلی بوڑھی عورت گالی بکتے بکتے چلتی ہے
لاوارث لاشوں میں شک ہے اس کا بیٹا بھی نکلے
سات پولیس کے وہ عورت جو روتے روتے چلتی ہے
_______________________________
رہ کر دیکھا ایک مہینہ ممبئی میں
جینے کا مشکل ہے کرینہ ممبئی میں
علم و ہنر کاوش کو جس نے اپنایا
رہتا ہے وہ تان کے سینہ ممبئی میں
تدبیروں کے ہاتھ بڑھا کر دیکھ ذرا
قدم قدم پر چھپا دفینہ ممبئی میں
_______________________________
جینا جس کو آتا ہے وہ جیتا ہے
سب کو کہاں آتا ہے جینا ممبئی میں
محنت کے ہاتھوں نے تراشا کچھ ایسا
کنکر تھا وہ بنا نگینہ ممبئی میں
________________________________
جیبوں کو خالی کرنے میں ماہر ہے
ممبئی کا ہر ایک کمینہ مبئی میں
طاہر صاحب بات یہی اب سچی ہے
اپنا فن ہے اپنا خزینہ ممبئی میں
____________________________
انسان جب بھی سچے اصولوں سے ہٹ گیا
پھیلے ہوئے شعور کا دامن سمٹ گیا
یہ حادثہ ہے اپنی ہی سوچوں کا نتیجہ
ایک آدمی ہزار قبیلوں میں بٹ گیا
________________________________
منڈپ میں کل امیر کی عزت نہیں رہی
نیت نہیں تھی صاف تو کھانا بھی گھٹ گیا
طاہر ہوس نے چھین لیے زندگی کے سکھ
کانٹوں میں پھنس کے ادمی پھولوں سے
ہٹ گیا
________________________________
آج بھی اس ملک میں افلاس کے مارے ملے
ریل کے ڈبوں میں پانی بیچتے بچے ملے
اچھی بیوی کا بھی ملنا قسمتوں کی بات ہے
جو بری تھیں لڑکیاں شوہر انہیں اچھے ملے
لڑکیاں مجبوریوں میں بکتی ہیں طاہر یہاں
جیسے مہنگے عام بھی بازار میں سستے ملے
_______________________________
ہم نے مٹی کو سونے کا مول دیا
تم نے سونے کو مٹی میں تول دیا
تم نے وطن کو نفرت کا ہر بول دیا
ہم نے پیارا تاج محل انمول دیا
________________________________
تعبیریں سب الٹی نکلی خوابوں کی
آزادی نے ہاتھوں میں کشکول دیا
سچ بولو غدار وطن تم ہو یا ہم
تم نے وطن کے رازوں کو بھی کھول دیا
ہم نے وطن کو نغمے بخشے عزت کے
تم نے وطن کو بدنامی کا ڈھول دیا
________________________________
پھینک دو ہاتھوں سے ترشول
سوچوں میں گوتم رکھو
مت چھڑکو انگاروں پر
پھولوں پر شبنم رکھو
بات کرو تو لفظوں میں
میں کے بدلے ہم رکھو
__________________________
جو مانگ کے کھاتا رہا ٹکڑے میرے در سے
وہ دیکھتا ہے مجھ کو حقارت کی نظر سے
ظالم سے کبھی ڈرتے نہیں ہیں وہ جہاں میں
جو لوگ ڈرا کرتے ہیں اللہ کے ڈر سے
_______________________________
جس نے در چھوڑا خدا کا کچھ نہ اس کو مل سکا
ہاتھ خالی ہی رہے دردر طلب کرتا رہا
پھر وہی رہزن صفت رہبر طلب کرتا رہا
کانچ کے ہاتھوں میں وہ پتھر طلب کرتا رہا
جب تلک زردار تھا تو آبرو مانگا کیا
آبرو اس کو ملی تو زر طلب کرتا رہا
آج تک اس کو نہیں آیا پرکھنے کا ہنر
اصلی ہیرے چھوڑ کر کنکر طلب کرتا رہا
_______________________________
ہم سے پیچھے چلنے والے اگے ہیں
ہم سوئے ہیں سونے والے جاگے ہیں
خوفزدہ ہیں ہم یوں بزدل کتوں سے
شیر کے ڈر سے جیسے غزالے بھاگے ہیں
سن انچاس سے اب تک ہم سب سوئے تھے
ڈوب گیا ہے سورج تب ہم جاگے ہیں
راہنمائی کی راہوں پہ اے طاہر
آنکھوں والے پیچھے اندھے آگے ہیں
________________________________
موت سے کچھ کم نہیں ہے دل میں آنا یاس کا
بھول سے بھی چھوڑ مت دینا تو دامن آس کا
چلتا رہتا ہے برابر زندگی کے ساتھ ساتھ
ان گنت مایوسیوں میں آسرا اک اس کا
نا امیدی موت ہے اور زندگانی ہے امید
زہر نہ پھیلاؤ اپنے دل میں طاہر یاس کا
________________________________
زندگی پر نہ اس قدر اترا
زندگی ہے حباب کی مانند
کل رہے وقت کے سکندر ہم
آج کھانا خراب کی مانند
________________________________
آدمی جھوٹی خوشی کے واسطے
گر گیا ہے برتری کے واسطے
کس قدر حالات ابتر ہو گئے
رو رہا ہے دل ہنسی کے واسطے
ساری بستی میں اندھیرا کر دیا
اپنے گھر کی روشنی کے واسطے
______________________________
لٹ گئے راہ میں راہزن بھی نہیں
خود فریبی سے بچنے کا فن بھی نہیں
اپنی طاقت پہ جن کو گماں تھا بہت
وہ مرے تو میسر کفن بھی نہیں
________________________________
پہلے کی لڑکیوں میں تعلیم کی کمی تھی
تعلیم یافتہ ہیں اب شرم کی کمی ہے
________________________________
ہمدردی کی باتیں کرنا دنیا کی مکاری ہے
مطلب کے سب چاہنے والے مطلب کی غم خواری ہے
پیار سے مل کر گھات کرے ہے ہم نے دیکھا ہے اکثر
اپنا کسی کو یار سمجھنا سب سے بڑی بیماری ہے
ہونے لگی ہیں سارے جہاں میں امن و سکوں کی باتیں پھر
صلح کے پردے میں اے طاہر جنگوں کی تیاری ہے
______________________________
بغیر مقصد کوئی کسی سے کب ملتا ہے
پڑتی ہے جب کوئی ضرورت تب ملتا ہے
آج کسی کو پیار کسی سے کھوٹی بات
بھائی خود بھائی کا دشمن اب ملتا ہے
_______________________________
یاد رکھنا کہ آج کا انساں
موسموں کی طرح بدلتا ہے
جس کو میں نے نوازا پھولوں سے
وہ میرے حق میں اگ اگلتا ہے
جو اشارے پہ میرے چلتا تھا
وہ بھی اب مجھ پہ چال چلتا ہے
_______________________________
جس نے کھویا ہے ہاتھ سے موقع
زندگی بھر وہ ہاتھ ملتا ہے
وقت کے ساتھ تو بھی چلتا جا
وقت رکتا نہیں ہے چلتا ہے
______________________________
جب ارادہ عمل میں ڈھلتا ہے
تب کوئی راستہ نکلتا ہے
پھیر لیتے ہیں منہ پرندے بھی
جب شجر کا شباب ڈھلتا ہے
________________________________
یہ دنیا ہے یہاں منزل نہ ڈھونڈو
یہاں چلتے رہو بس راستے ہیں
________________________________
(C):Aleem Tahir:
"150/Aleem Tahir ke mashoor pasandeeda Ashaar"
Email id: aleemtahir12@gmail.com
Mobile no.9623327923.