Monday, 12 January 2026

افسانچہ کیا ہے ____علیم طاہر

علیم طاہر کی نئی کتاب 

*** افسانچہ کیا ہے***

 پڑھیے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
          ***علیم طاہر***
____________________________________________

کتاب: افسانچہ کیا ہے؟

مصنف: علیم طاہر

---

فہرستِ مضامین:

1. پیش لفظ

2. افسانچہ کیا ہے؟ (تعریف و اہمیت)

3. افسانچے کی ابتدا اور تاریخ

4. منٹو سے جدید افسانچے تک

5. افسانچے کی ساخت اور تکنیک

6. پنچ لائن: روحِ افسانچہ

7. اردو کے نمایاں افسانچہ نگار

8. علاقائی زبانوں میں افسانچہ

9. افسانچہ اور ڈیجیٹل میڈیا

10. افسانچے کا مستقبل

11. افسانچے پر تنقیدی آرا

12. نمونۂ افسانچے (منتخب افسانچے از علیم طاہر)

13. اختتامی نوٹ

 باب :01 : افسانچہ کیا ہے؟

از علیم طاہر

ادب کی دنیا میں ہر صنف کا ایک مخصوص رنگ، آہنگ اور دائرہ ہوتا ہے، مگر کچھ اصناف ایسی بھی ہیں جو مختصر ہونے کے باوجود مکمل کہانی کا بوجھ اٹھاتی ہیں۔ افسانچہ بھی ایسی ہی ایک صنفِ ادب ہے۔ یہ محض چند سطور پر مشتمل ہوتا ہے، لیکن ان سطور میں پوری کائنات سمو دی جاتی ہے۔ ایک لمحہ، ایک منظر، ایک احساس، ایک چبھن، جو قاری کو چونکا دیتی ہے، سوچنے پر مجبور کر دیتی ہے، اور کبھی کبھار تو قاری کے اندر کچھ توڑ بھی دیتی ہے۔

افسانچہ، افسانے کا چھوٹا روپ نہیں
یہ غلط فہمی عام ہے کہ افسانچہ دراصل مختصر افسانہ یا مِنی کہانی کا دوسرا نام ہے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ افسانچہ، ایک مکمل اور منفرد صنف ہے۔ افسانچے کی شناخت اس کی پنچ لائن ہے، جو نہ صرف کہانی کو انجام تک پہنچاتی ہے بلکہ قاری کے ذہن میں ایک دیرپا تاثر بھی چھوڑ جاتی ہے۔

مختصر مگر مکمل
افسانچہ اپنی تمام تر مختصری کے باوجود مکمل ہوتا ہے۔ اس میں:

ایک موضوع ہوتا ہے،

ایک کردار یا کیفیت،

ایک واقعہ یا منظر،

اور ایک غیر متوقع انجام جو سادہ جملوں میں ایک گہرا پیغام سمو دیتا ہے۔

یہی وہ خوبی ہے جو افسانچے کو عام نثر سے ممتاز کرتی ہے۔

کیوں ضروری ہو گیا افسانچہ؟
ہم ایک ایسی دنیا میں جی رہے ہیں جہاں رفتار ہی سب کچھ ہے۔ وقت کی قلت، مصروف زندگی، ڈیجیٹل اسکرینوں پر تیزی سے بدلتے مناظر نے قاری کو بھی مختصر اور جاندار تحریروں کی جانب مائل کر دیا ہے۔ ایسے میں افسانچہ نہ صرف ایک ادبی تسکین ہے بلکہ جدید عہد کے قاری کی ضرورت بھی۔

افسانچہ: ادب کی "سوئی"
جیسے ایک سوئی کپڑے کو چیرتی ہے مگر پیوند بھی لگاتی ہے، ویسے ہی افسانچہ انسانی احساسات کو چیر کر دکھاتا ہے، مگر ساتھ ہی کسی بڑی سچائی سے جوڑ بھی دیتا ہے۔ وہ سچائی جو کسی طویل ناول یا افسانے میں بھی شاید نہ آ سکے، افسانچہ دو جملوں میں کہہ دیتا ہے۔

---
باب 02 : افسانچے کی ابتدا اور تاریخ

ادبی اصناف ہمیشہ کسی نہ کسی ضرورت، تجربے یا جمالیاتی شعور کے تحت جنم لیتی ہیں۔ افسانچہ بھی ایک فطری ارتقاء کا نتیجہ ہے، جس کی جڑیں انسانی تاریخ کے ابتدائی بیانیوں میں تلاش کی جا سکتی ہیں۔

قدیم روایات میں افسانچے کی جھلک

کہتے ہیں، جب انسان نے پہلی بار الفاظ کا سہارا لے کر اپنی سوچ کو دوسروں تک پہنچایا، تو سب سے پہلا تجربہ مختصر بیانیے کا ہی تھا۔ اس کی ایک عمدہ مثال قدیم یونان کے غلام ایسوپ کی کہانیاں ہیں، جنہیں "ایسوپ فیبُل" کہا جاتا ہے۔ یہ نہایت مختصر، سبق آموز اور علامتی کہانیاں تھیں جن میں جانوروں، پرندوں یا اشیاء کو کردار بنا کر انسانوں کی فطرت، حرص، حسد، حماقت یا حکمت کو عیاں کیا جاتا تھا۔

اسی طرح قدیم ہندوستان میں جاتک کتھائیں اور پنج تنتر کی حکایات، مختصر مگر اثر انگیز کہانیوں کی عمدہ مثالیں ہیں۔

فارسی ادب میں گلستان و بوستان

1258 میں شیخ سعدی کی شہرۂ آفاق کتاب گلستان منظرِ عام پر آئی۔ اس میں مختصر حکایات، تمثیلی انداز اور زندگی کے گہرے تجربات کا نچوڑ نظر آتا ہے۔ اگرچہ یہ کہانیاں مکمل افسانچے کی تعریف پر پوری نہیں اترتیں، مگر ان میں وہ روح ضرور موجود ہے جو افسانچے کو جنم دینے کا محرک بنی۔

افسانچے کی شناخت اور نام

اردو میں مختصر کہانیوں کو مختلف ناموں سے یاد کیا جاتا رہا، جیسے مِنی کہانی، مختصر افسانہ، چٹکی، چٹکلا، یا تمثیل۔ مگر جس ساخت اور شدت کو آج ہم "افسانچہ" کہتے ہیں، وہ ایک باقاعدہ ادبی شعور کے ساتھ وجود میں آئی۔

برج موہن دتریہ کیفی کا نام تاریخ میں اس لحاظ سے محفوظ ہے کہ انھوں نے "افسانچہ" کے عنوان سے ایک مجموعہ شائع کیا، جس میں مختصر افسانے شامل تھے۔ اگرچہ ان میں ادبی چمک کم تھی، مگر اس کوشش نے افسانچے کو ایک واضح شناخت دی۔

منٹو: افسانچے کے اصل معمار

سنہ 1948 میں سعادت حسن منٹو نے اپنی مختصر تحریروں کا مجموعہ سیاہ حاشیہ کے نام سے لاہور سے شائع کیا۔ یہ افسانچے دراصل تقسیمِ ہند کے پس منظر میں انسانی نفسیات، سفاکی، اور معاشرتی سچائیوں کا نچوڑ تھے۔ منٹو کی ان کہانیوں میں وہ چونکانے والی "پنچ لائن" موجود تھی جو آج افسانچے کا طرۂ امتیاز ہے۔

یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ اردو ادب میں افسانچے نے ایک ادبی صنف کی حیثیت منٹو کے قلم سے ہی پائی۔

افسانچے کا ارتقائی سفر

منٹو کے بعد جن شخصیات نے افسانچے کو جِلا بخشی ان میں خواجہ اعجاز بٹ، ڈی ایچ شاہ، اخلاق گیلانی، سرور غزالی اور ابنِ عاصی کے نام نمایاں ہیں۔ ان تمام ادیبوں نے افسانچے کی مختلف جہات کو دریافت کیا، اور اس صنف کو عوامی سطح پر مقبول بنانے میں کردار ادا کیا۔

پاکستان: افسانچے کا وطن

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ افسانچہ اردو کی واحد صنف ہے جس نے باقاعدہ طور پر پاکستان میں جنم لیا۔ لاہور کو افسانچے کی ابتدائی نرسری کہا جا سکتا ہے جہاں یہ صنف پروان چڑھی، سنورتی گئی، اور آج دنیا بھر کے اردو ادیبوں میں مقبول ہو چکی ہے۔

---
 ---

باب 03 : منٹو سے جدید افسانچے تک

از علیم طاہر

افسانچے کی تاریخ میں اگر سعادت حسن منٹو کو معمارِ اول کہا جائے تو یہ ہرگز مبالغہ نہ ہوگا۔ منٹو نے نہ صرف مختصر بیانیے کی طاقت کو پہچانا بلکہ اسے ایک ایسی ادبی ساخت دی جو آج بھی افسانچے کا بنیادی سانچہ سمجھی جاتی ہے۔

منٹو کی انفرادیت

منٹو کے افسانچے کا انداز سیدھا، بے باک اور چونکا دینے والا تھا۔ سیاہ حاشیہ جیسے مجموعے میں انہوں نے معاشرتی منافقت، فسادات کے المیے، انسانی جبلتوں اور سیاسی دھوکے کو چند جملوں میں بے نقاب کیا۔ ان کا افسانچہ محض مختصر کہانی نہ تھا بلکہ ایک "ادبی تھپڑ" تھا جو قاری کو بیدار کر دیتا۔

ان کے افسانچوں کی خاص بات یہ تھی کہ ہر کہانی اپنے اختتام پر قاری کے ذہن میں سوالات چھوڑتی تھی، یا کسی ایسی سچائی کو عیاں کرتی تھی جسے دیکھنا لوگ پسند نہیں کرتے۔

افسانچے کی نئی سمتیں

منٹو کے بعد افسانچہ خاموشی کی دھند میں گم سا ہو گیا۔ مگر جلد ہی کچھ ادیبوں نے اس چراغ کو دوبارہ روشن کیا۔ خواجہ اعجاز بٹ کا نام یہاں سب سے پہلے آتا ہے، جنہوں نے دو عمدہ مجموعے پیش کیے۔ ان کے بعد ڈی ایچ شاہ، اخلاق گیلانی اور سرور غزالی نے نہ صرف افسانچے کی روایت کو آگے بڑھایا بلکہ اسے عصری تقاضوں سے ہم آہنگ بھی کیا۔

جدید افسانچہ: وسعت اور تجربہ

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ افسانچے نے موضوعات اور اسلوب دونوں میں وسعت اختیار کی۔ اب یہ صرف معاشرتی مسائل یا سیاسی تنقید تک محدود نہ رہا بلکہ نفسیاتی پیچیدگیوں، رشتوں کے الجھاؤ، داخلی احساسات، اور جدید انسان کی تنہائی کو بھی اپنے دائرے میں سمیٹنے لگا۔

جدید افسانچہ نگاروں نے علامت، تجرید اور تجرباتی اسلوب کو بھی شامل کیا۔ زبان میں چستی، تاثر میں گہرائی، اور اختتام میں چونکانے کی روایت قائم رہی مگر اسے نئے فکری زاویے بھی دیے گئے۔

ڈیجیٹل دور اور افسانچہ

سوشل میڈیا اور آن لائن پلیٹ فارمز نے افسانچے کو ایک نئی زندگی بخشی۔ اب اسے صرف کتابوں یا ڈائجسٹوں تک محدود نہیں رکھا گیا بلکہ فیس بک، انسٹاگرام، یوٹیوب اور واٹس ایپ جیسے پلیٹ فارمز پر بھی پیش کیا جانے لگا۔

مبشر زیدی کی "سو لفظی کہانیاں" نے اسے صحافت میں بھی مقبول کر دیا۔ ان کہانیوں نے یہ ثابت کیا کہ مختصر بیانیہ نہ صرف ادب بلکہ ابلاغ کا مؤثر ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔

خواتین اور افسانچہ

خواتین قلمکار بھی اس صنف میں بڑی تعداد میں شامل ہوئیں۔ نشاط یاسمین خان، حنا خراسانی، صدف آصف جیسی خواتین نہ صرف افسانچے لکھ رہی ہیں بلکہ یوٹیوب اور سوشل میڈیا کے ذریعے ان کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔

بین الاقوامی سطح پر افسانچہ

آج افسانچہ صرف پاکستان ہی نہیں، بھارت، بنگلہ دیش اور دنیا کے دیگر ممالک میں بھی اردو ادیبوں کے ہاتھوں مقبول ہو رہا ہے۔ ساتھ ہی، پنجابی، سندھی، ہندکو اور دیگر علاقائی زبانوں میں بھی مختصر کہانیوں کے مجموعے شائع ہو رہے ہیں۔

 باب 04 : افسانچے کی ساخت اور اسلوب

از علیم طاہر

افسانچہ بظاہر مختصر ہوتا ہے مگر اس کی ساخت میں گہرائی اور تہہ داری ہوتی ہے۔ یہ ایک ایسا فن ہے جو کم سے کم الفاظ میں زیادہ سے زیادہ بات کہنے کا مطالبہ کرتا ہے۔ افسانچے کی ساخت، اسلوب اور پنچ لائن ہی وہ عناصر ہیں جو اسے عام تحریر سے ممتاز کرتے ہیں۔

افسانچے کی ساخت

افسانچے کی ساخت عام طور پر تین بنیادی اجزاء پر مشتمل ہوتی ہے:

1. آغاز (ابتدائیہ):
افسانچے کا پہلا جملہ قاری کی توجہ حاصل کرنے کے لیے بہت اہم ہوتا ہے۔ یہ وہ بنیاد ہے جس پر ساری عمارت کھڑی ہوتی ہے۔ یہ ایک سوال، منظر، یا کشش پیدا کرنے والا بیان ہو سکتا ہے۔

2. بدن (وسطی حصہ):
یہ وہ جگہ ہے جہاں کہانی کی تھوڑی سی جھلک، کردار کی کیفیت، یا مسئلے کا عکس ظاہر ہوتا ہے۔ لیکن یہاں بھی تفصیل سے گریز کیا جاتا ہے—اشارہ کافی ہوتا ہے۔

3. اختتام (پنچ لائن):
افسانچے کا سب سے طاقتور حصہ۔ یہ چونکاتا ہے، جھنجھوڑتا ہے، یا مسکراہٹ دے جاتا ہے۔ یہ جملہ ایسا ہونا چاہیے جو قاری کے ذہن میں دیر تک گونجتا رہے۔

اسلوب کی اہمیت

افسانچے میں اسلوب سادہ، چست اور بے لاگ ہوتا ہے۔ الجھے جملے، بھاری الفاظ یا طویل بیانیہ افسانچے کے حسن کو کم کر دیتے ہیں۔ زبان میں سادگی مگر معنی میں گہرائی اس کا اصل حسن ہے۔

اشارتیت:
افسانچے میں براہِ راست کہنے کے بجائے اشاروں، علامتوں اور مختصر منظر نگاری کے ذریعے بات کہی جاتی ہے۔

اجتناب اور حذف:
غیر ضروری جملوں، کرداروں یا مکالموں کو شامل نہیں کیا جاتا۔ افسانچہ نگار کو "کیا نہ کہا جائے؟" کا ہنر آنا چاہیے۔

بیانیہ کا تاثر:
کہانی اگرچہ مختصر ہوتی ہے مگر اس کا تاثر وسیع ہوتا ہے۔ چند الفاظ سے پوری دنیا کا دکھ، محبت، سچ، یا طنز پیش کیا جا سکتا ہے۔

پنچ لائن: افسانچے کی جان

افسانچے کا اختتام ہی وہ مقام ہے جہاں ساری کہانی سمیٹی جاتی ہے۔ یہی جملہ افسانچے کو یا تو کامیاب بناتا ہے یا ناکام۔
مثلاً:

> "اس نے چُھری دھو کر واپس دراز میں رکھ دی۔ رات کو ماں نے پھر خود کو زخمی کر لیا۔"

یہ جملہ نہ صرف چونکاتا ہے بلکہ ایک پوری کہانی کا پس منظر قاری کے ذہن میں کھول دیتا ہے۔

افسانچے کی تکنیکی خوبیاں

وحدتِ تاثر

معنویت

تجریدی جہت

سسپنس

علامت نگاری

تہہ داری

افسانچہ اپنی ساخت میں جتنا مختصر ہے، معنویت میں اتنا ہی وسیع۔ یہ وہ صنف ہے جو سادگی میں گہرائی، کم الفاظ میں پوری زندگی، اور سکوت میں چیخ چھپا سکتی ہے۔

باب 05 : افسانچے کے مشہور نمونے اور تجزیہ

از علیم طاہر

افسانچہ اپنی مختصر ساخت کے باوجود ایک مکمل کہانی کا تاثر دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس باب میں ہم چند مشہور افسانچوں کا مطالعہ کریں گے اور ان کا تجزیہ پیش کریں گے تاکہ افسانچے کے فن کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے۔

---

1. سعادت حسن منٹو کا افسانچہ

عنوان: سچ

> "اس نے کہا، میں مسلمان ہوں۔ دوسرے نے بھی کہا، میں بھی مسلمان ہوں۔
بندوق چلی، ایک مر گیا۔"

تجزیہ:
یہ افسانچہ فرقہ وارانہ منافرت، تشدد اور عدم رواداری پر شدید طنز ہے۔ صرف تین جملوں میں مذہب کے نام پر قتل کی حقیقت عیاں کر دی گئی ہے۔ پنچ لائن قاری کو جھنجھوڑ دیتی ہے۔

---

2. مبشر زیدی کی سو لفظی کہانی

عنوان: ملاقات

> "دس سال بعد اچانک وہ سامنے آ گیا۔ وہی مسکراہٹ، وہی آنکھیں۔
میں تڑپ گئی، وہ خاموش رہا۔
میں آگے بڑھی، اُس نے کہا:
'آپ کون؟'"

تجزیہ:
یادداشت، جذبات اور وقت کے بدلتے رویے کو انتہائی سادگی اور درد مندی سے بیان کیا گیا ہے۔ اختتام میں اچانک جھٹکا، ایک مکمل المیہ بن کر ابھرتا ہے۔

---

3. خواجہ اعجاز بٹ کا افسانچہ

عنوان: آئینہ

> "بچی آئینے کے سامنے کھڑی اپنی ماں کی طرح بال بنا رہی تھی۔
باپ نے چیخ کر کہا:
'کب سمجھو گی کہ وہ اب اس گھر میں نہیں!'"

تجزیہ:
یہ افسانچہ المیے، جدائی اور معصومیت کی عکاسی کرتا ہے۔ بچی کی حرکت ایک مکمل پس منظر ظاہر کر دیتی ہے، اور باپ کا جملہ اس منظر کو خنجری بنا دیتا ہے۔

---

4. نشاط یاسمین خان کا افسانچہ

عنوان: سزا

> "ماں نے بیٹے کی پھانسی کی خبر سنی، چپ چاپ کمرے میں چلی گئی،
اور دیوار سے لگی وہ چھڑی نکالی جس سے بچپن میں مارا کرتی تھی۔
اور خود کو مارنے لگی۔"

تجزیہ:
ماں کی ممتا، پچھتاوا، اور جذباتی کرب کو محض چند جملوں میں شاندار انداز سے بیان کیا گیا ہے۔ اختتام قاری کے دل میں گہرا اثر چھوڑتا ہے۔

---

5. اقبال خورشید کا افسانچہ

عنوان: قید

> "وہ برسوں قید میں رہا۔
جب رہا ہوا تو اخبار میں خبر پڑھی:
'جس جرم میں قید تھا، وہ جرم اب قانونی ہو گیا ہے۔'"

تجزیہ:
یہ افسانچہ قانون، وقت، اور معاشرتی تغیرات پر گہرا طنز ہے۔ قاری کو سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے کہ انصاف کیا ہے اور قانون کس کے لیے ہے۔

---

خلاصہ:

ان افسانچوں میں ہم دیکھتے ہیں کہ:

پنچ لائن کتنا طاقتور ہتھیار ہے۔

چند جملے بھی پورے المیے یا سماجی حقیقت کو بیان کر سکتے ہیں۔

افسانچہ نہ صرف ادب ہے بلکہ ایک گہرا آئینہ ہے جس میں زمانہ، جذبات، نظام اور انسان سب کچھ نظر آتے ہیں۔

---

باب 06 : افسانچہ نگاری کی تکنیک

از علیم طاہر

افسانچہ لکھنا بظاہر آسان معلوم ہوتا ہے، لیکن اس مختصر ترین صنفِ ادب میں وہی لکھاری کامیاب ہوتا ہے جو الفاظ کے چناؤ میں غیر معمولی مہارت رکھتا ہو۔ اس باب میں ہم اُن تکنیکی نکات کا جائزہ لیں گے جو ایک افسانچے کو مؤثر اور یادگار بناتے ہیں۔

---

1. اختصار میں کمال

افسانچہ میں ایک ایک لفظ قیمتی ہوتا ہے۔ بلا ضرورت الفاظ کا استعمال اس کی چمک کو ماند کر دیتا ہے۔ لہٰذا:

غیر ضروری جملوں سے گریز کیا جائے۔

ہر لفظ کہانی میں معنی اور وزن رکھتا ہو۔

مثال:
"وہ آیا، دیکھا، اور لوٹ گیا۔ دل وہیں چھوڑ گیا۔"

---

2. پنچ لائن کی اہمیت

پنچ لائن افسانچے کا دل ہوتی ہے۔ یہ وہ آخری جملہ ہوتا ہے جو قاری کو جھنجھوڑتا، چونکاتا یا مسکرا دیتا ہے۔

یہ چونکانے والی، حیران کن یا کربناک ہو سکتی ہے۔

اس میں "ٹوسٹ" یا "موڑ" لازمی ہونا چاہیے۔

مثال:
"اس نے کہا، مجھے چھوڑ دو، میں مر چکی ہوں۔ میں نے قبر کی مٹی پر پھول رکھ دیے۔"

---

3. تاثر اور موضوع کی تہ داری

افسانچے کا موضوع چاہے جتنا مختصر ہو، اس میں گہرائی ضروری ہے:

ایک واقعے کے پیچھے پوری زندگی کا تاثر ہو۔

علامتی انداز یا تجریدی تکنیک کا سہارا بھی لیا جا سکتا ہے۔

مثال:
"گھڑی چلتی رہی، ماں سوتی رہی، بچہ روتا رہا۔"

---

4. کرداروں کا حد درجہ اختصار

افسانچہ میں مکمل کردار سازی ممکن نہیں ہوتی، اس لیے:

کرداروں کو اشاراتی انداز میں پیش کیا جاتا ہے۔

ان کی شناخت یا حیثیت عمل سے ظاہر کی جاتی ہے۔

مثال:
"سفید کوٹ نے نس چبھو دی۔ ماں کے آنسو تھم گئے۔"

---

5. ماحول کی جھلک

تفصیلی منظر کشی ممکن نہیں، لیکن ایک دو جملوں میں قاری کو ماحول کا تاثر ضرور دیا جا سکتا ہے۔

مثال:
"رات کی بارش میں وہ تنہا بینچ پر بیٹھا تھا، جیب میں طلاق نامہ لیے۔"

---

6. اختتام کے بعد آغاز

اچھا افسانچہ وہ ہوتا ہے جس کے ختم ہوتے ہی قاری کے ذہن میں ایک نئی کہانی جنم لے:

اختتام، آغاز بھی بن جائے۔

سوال چھوڑ جائے یا مکمل خامشی۔

---

7. تجربات اور نیاپن

روایتی موضوعات میں بھی نیا پن پیدا کرنا افسانچے کی روح ہے:

زبان، اسلوب، یا نقطۂ نظر میں جدت لائیں۔

عام بات کو غیر معمولی طریقے سے بیان کریں۔

---

8. زبان کی سادگی

سادہ اور عام فہم زبان افسانچے کی جان ہے:

ثقیل یا مبہم زبان افسانچے کو بوجھل کر دیتی ہے۔

جملے چھوٹے، مگر چبھتے ہوئے ہوں۔

---

نتیجہ

افسانچہ ایک چمکتا ہوا ستارہ ہے جو پل بھر میں قاری کے ذہن میں اتر جاتا ہے۔ اس کے لیے زبان کی مہارت، خیال کی گہرائی، اور اختصار کا شعور ہونا لازمی ہے۔ افسانچہ نگاری محض لکھنا نہیں، ایک فن ہے — کم سے کم میں زیادہ کہنے کا فن۔

---

باب 07 : اردو افسانچے کی موجودہ صورتِ حال

از علیم طاہر

اردو افسانچے کی موجودہ صورتِ حال نہایت حوصلہ افزا اور امید افزا ہے۔ ایک وقت تھا جب افسانچہ ادب کی حدود میں مشکوک سمجھا جاتا تھا، بعض نقاد اسے "ادب کے قابل" ہی نہ سمجھتے تھے، مگر آج یہ اردو ادب کی ایک تسلیم شدہ، مقبول اور موثر صنف بن چکی ہے۔

---

افسانچے کا فروغ

گزشتہ دو دہائیوں میں افسانچے کا غیر معمولی فروغ ہوا ہے۔ پرنٹ میڈیا، سوشل میڈیا، اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز نے اس صنف کو عالمی سطح پر متعارف کرایا ہے۔ افسانچہ نگار اب صرف کتابوں تک محدود نہیں، بلکہ واٹس ایپ، فیس بک، انسٹاگرام، یوٹیوب اور ویب سائٹس کے ذریعے لاکھوں قارئین تک رسائی حاصل کر چکے ہیں۔

پاکستان میں:
پرویز بلگرامی، سرور غزالی، اقبال خورشید، نشاط یاسمین، اور مبشر زیدی جیسے مصنفین نے افسانچے کو مقبول عام بنانے میں مرکزی کردار ادا کیا ہے۔ مبشر زیدی کے سو لفظی افسانچے ’100 لفظوں کی کہانی‘ کے نام سے اخبارات اور سوشل میڈیا پر وائرل ہوئے، جنہوں نے نئے لکھنے والوں کو اس میدان میں قدم رکھنے کا حوصلہ دیا۔

بھارت میں:
ڈاکٹر بلراج منرا، جمیل احمد، اور پرمود کمار جیسے نام افسانچے کے فروغ میں نمایاں ہیں۔ وہاں ادبی رسائل اور ویب جریدے اس صنف کو باقاعدہ جگہ دیتے ہیں۔ ہندوستانی اردو ادب میں افسانچے کو بطور باقاعدہ ادبی صنف تسلیم کیا جا چکا ہے۔

دیگر ممالک میں:
امریکہ، کینیڈا، برطانیہ اور مشرق وسطیٰ میں مقیم اردو مصنفین بھی افسانچہ نگاری میں دلچسپی لے رہے ہیں، خصوصاً اردو بلاگز اور آن لائن ویب میگزینز کے ذریعے افسانچے کا دائرہ وسیع ہو رہا ہے۔

---

ادبی حلقوں میں افسانچے کی حیثیت

ادبی رسائل، تنقیدی جرائد اور یونیورسٹیوں کے اردو شعبہ جات میں افسانچے پر تحقیق ہو رہی ہے۔ کچھ جامعات میں افسانچہ نگاری پر مقالے لکھے جا چکے ہیں۔ تنقیدی حلقے اب اس صنف کو سنجیدگی سے دیکھ رہے ہیں اور اسے ادب کی "عصری ضرورت" تسلیم کرتے ہیں۔

---

افسانچے کی مقبولیت کی وجوہات

1. مصروف زندگی: قاری کے پاس طویل افسانے یا ناول پڑھنے کا وقت نہیں، افسانچہ کم وقت میں اثر ڈال دیتا ہے۔

2. ڈیجیٹل میڈیا: سوشل میڈیا نے مختصر مواد کو اولیت دی، افسانچے اس کا بہترین نمونہ ہیں۔

3. نفسیاتی گہرائی: کم الفاظ میں گہری بات کہنا افسانچے کی قوت ہے، جو قاری کو چونکا دیتی ہے۔

4. آسان ترسیل: افسانچے موبائل میسج، اسٹیٹس یا پوسٹ کی صورت میں فوری شئیر ہو سکتے ہیں۔

---

نئے لکھنے والوں کا رجحان

نئی نسل کے کئی لکھاری افسانچہ نگاری کی طرف مائل ہو چکے ہیں۔ ان کی تحریروں میں زندگی کے مختلف پہلو—جیسے تنہائی، سماجی المیے، رشتوں کی پیچیدگیاں، ذہنی دباؤ، اور طبقاتی تفریق—کو مختصر اور مؤثر انداز میں پیش کیا جا رہا ہے۔ ان نوجوانوں نے ثابت کیا ہے کہ مختصر تحریر میں بھی تخلیقی وفور ممکن ہے۔

---

افسانچے کا مستقبل

افسانچے کا مستقبل روشن ہے۔ ادب کا رخ بدل رہا ہے، مختصر صنفیں مقبول ہو رہی ہیں۔ آج کا قاری مختصر مگر گہرا ادب چاہتا ہے، اور افسانچہ اسی ضرورت کو پورا کرتا ہے۔ آنے والے دنوں میں افسانچہ مزید ترقی کرے گا، اور ممکن ہے کہ اردو ادب کی سب سے مقبول صنف بن جائے۔

 باب 08: افسانچے — ایک نئی جہت

از علیم طاہر

وقت بدلتا ہے تو انسان کے خیالات، طرزِ زندگی، پسند و ناپسند، اور مطالعے کے رجحانات بھی تبدیل ہو جاتے ہیں۔ اسی تبدیلی نے ادب کی دنیا میں بھی نئی جہتیں پیدا کی ہیں۔ جس طرح روایتی افسانہ، ناول اور نظم نے مختلف ادوار میں قارئین کو متاثر کیا، اسی طرح عصرِ حاضر میں "افسانچہ" ایک نئی ادبی جہت بن کر ابھرا ہے—مختصر، جامع، اور چونکا دینے والا۔

---

سو لفظی افسانچہ: کثافت میں لطافت

افسانچے کی اس نئی جہت کو عام طور پر "سو لفظی کہانی" یا "مائیکرو فکشن" کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ وہ صنف ہے جو صرف سو الفاظ (یا اس کے آس پاس) میں ایک مکمل کہانی، ایک مکمل منظر، اور ایک گہرا تاثر چھوڑ جاتی ہے۔

مبشر زیدی کے سو لفظی افسانچے، جنھوں نے روزنامہ "ایکسپریس" میں باقاعدہ جگہ پائی، اس صنف کے مقبول ترین نمونے بن چکے ہیں۔ ان کے بعد کئی لکھاریوں نے اس فارم کو اپنایا اور خوب تجربات کیے۔ سو لفظی کہانی نے نہ صرف قارئین بلکہ ناقدین کو بھی متوجہ کیا۔

---

ڈیجیٹل دور اور افسانچے کی تقویت

افسانچے کی اس نئی جہت کو سب سے زیادہ قوت ڈیجیٹل میڈیا نے بخشی۔ آج کا قاری انسٹاگرام پر تصویری کہانی، واٹس ایپ پر تحریری اسٹیٹس، اور یوٹیوب پر ویژوئل فکشن کی صورت میں افسانچے کو قبول کر رہا ہے۔

یوٹیوب چینلز جیسے حنا خراسانی اور صدف آصف کا "مائیکرو فکشن" پر کام افسانچے کے فروغ کی عمدہ مثال ہے۔ اس طرح افسانچہ صرف پڑھا نہیں جا رہا بلکہ سنا، دیکھا اور محسوس بھی کیا جا رہا ہے۔

---

مائیکرو فکشن اور بین الاقوامی رجحان

دنیا بھر کی زبانوں میں مائیکرو فکشن کو سراہا جا رہا ہے۔ انگریزی میں "ڈرافٹ"، "پوسٹ کارڈ فکشن"، اور "فلیش فکشن" کے نام سے یہ صنف برسوں سے موجود ہے۔ لیکن اردو میں اس نے جو تہہ دار اور جذباتی رنگ اختیار کیا ہے، وہ اسے عالمی ادب میں نمایاں بناتا ہے۔

---

تخلیقی چیلنج

افسانچے کی اس نئی جہت میں لکھاری کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ ہوتا ہے کہ وہ کم سے کم الفاظ میں زیادہ سے زیادہ تاثر کیسے قائم کرے؟
ایک کامیاب سو لفظی افسانچہ نہ صرف قاری کو چونکاتا ہے بلکہ اسے چند لمحے کے لیے سوچنے پر مجبور بھی کرتا ہے۔

---

ادبی افق پر ابھرتے نام

اس وقت اردو ادب میں کئی نوجوان قلمکار ہیں جو افسانچے کی اس نئی صورت پر باقاعدہ کام کر رہے ہیں۔ آن لائن مقابلے، فیس بک گروپس، بلاگز، اور ویب میگزینز پر ان کے افسانچے باقاعدگی سے شائع ہو رہے ہیں۔

مثالیں:

کئی افسانچوں کے مجموعے سامنے آ رہے ہیں۔

ادبی تنظیمیں افسانچہ نویسی پر ورکشاپس اور مقابلے منعقد کر رہی ہیں۔

---

نتیجہ:

افسانچے کی یہ نئی جہت محض ایک تجربہ نہیں بلکہ ایک تسلیم شدہ ادبی ارتقاء ہے۔ جہاں ایک طرف یہ صنف سادگی، اختصار اور گہرائی کا حسین امتزاج پیش کرتی ہے، وہیں یہ عصرِ حاضر کے قاری کی فوری تسکین کی خواہش کو بھی پورا کرتی ہے۔

یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ "افسانچے کا مستقبل اسی سو لفظی کہانی میں پوشیدہ ہے"—جہاں کم لفظوں میں مکمل جہان آباد کیے جا سکتے ہیں۔

---
 باب 09: افسانچے کی تنقیدی جہت

از علیم طاہر

ادب صرف تخلیق کا نام نہیں، بلکہ تنقید اس کی روح ہوتی ہے۔ اگر تخلیق جسم ہے تو تنقید اس کا شعور۔ افسانچہ—جو بظاہر مختصر ترین بیانیہ ہے—جب تنقید کی کسوٹی پر پرکھا جاتا ہے تو اس کی پرتیں کھلتی ہیں، اس کے مفاہیم گہرے ہوتے چلے جاتے ہیں۔ اس باب میں ہم افسانچے کی تنقیدی جہت کو سمجھنے کی کوشش کریں گے۔

---

افسانچہ: صنفی اعتبار سے

تنقیدی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو سب سے پہلا سوال یہی اٹھتا ہے:
"کیا افسانچہ ایک الگ صنفِ ادب ہے؟"

اکثر نقاد اسے مختصر افسانے کی ایک ذیلی قسم قرار دیتے ہیں، لیکن بہت سے ماہرین اسے مکمل الگ صنف مانتے ہیں۔ ان کے نزدیک افسانچہ نہ صرف تکنیکی بنیادوں پر منفرد ہے بلکہ اس کا اسلوب، تاثر، اور مقصد بھی مختلف ہے۔

پرویز بلگرامی کے مطابق:

> "افسانچہ ایک مکمل افسانہ ہوتا ہے، اس میں ابتدا بھی ہوتی ہے، کہانیت بھی، اور اختتام کا تو جواب نہیں۔"

یہی جملہ افسانچے کو ایک باقاعدہ صنف قرار دینے کے لیے کافی ہے۔

---

ساختیاتی تجزیہ

افسانچے کا ڈھانچہ مختصر ہے، لیکن اس کی ساخت پیچیدہ ہو سکتی ہے۔ تنقیدی طور پر افسانچہ تین بنیادی عناصر پر کھڑا ہوتا ہے:

1. پنچ لائن:
یہ افسانچے کا مرکز ہے۔ وہ ایک جملہ جو پورے متن کو ایک دھماکے کی صورت میں ختم کرتا ہے اور قاری کو چونکا دیتا ہے۔

2. کہانیت:
افسانچہ چھوٹا ہو سکتا ہے، لیکن اگر اس میں کہانی پن نہ ہو، تو وہ محض خیال بن کر رہ جاتا ہے۔

3. تاثر اور علامت:
ایک کامیاب افسانچہ علامتوں، اشاروں اور تجریدی کیفیت کے ذریعے بہت کچھ کہہ جاتا ہے۔

---

موضوعاتی تنقید

افسانچوں پر کی گئی تنقید کا ایک پہلو موضوعات کی جانچ پر مبنی ہوتا ہے۔
جدید افسانچے:

دہشت گردی

صنفی نابرابری

تنہائی

منافقت

طبقاتی فرق

سماجی تضادات

جیسے موضوعات کو انتہائی چابک دستی سے چند سطروں میں سمیٹ لیتے ہیں۔ اس پر تنقید کرنے والا قاری یا نقاد نہ صرف اس کے پیغام کو دیکھتا ہے بلکہ اس کے اظہار کے طریقے کو بھی پرکھتا ہے۔

---

اسلوبیاتی تنقید

افسانچے کا اسلوب عام طور پر:

براہِ راست

مختصر جملوں پر مشتمل

علامتی یا تجریدی

غیر متوقع انجام پر مبنی ہوتا ہے۔

نقاد اس بات پر بھی نظر رکھتے ہیں کہ افسانچہ قاری کو کس حد تک اپنی گرفت میں لیتا ہے، اور اس میں کتنی "کہنے سے زیادہ دکھانے" کی صلاحیت ہے۔

---

نقادوں کے خیالات

ڈاکٹر گوپی چند نارنگ افسانے اور اس کی دیگر اصناف پر کافی لکھ چکے ہیں، ان کے مطابق:

> "جدیدیت نے ادب کو مختصر اور کثیف بنا دیا ہے، افسانچہ اسی تبدیلی کی ایک نمایاں علامت ہے۔"

اقبال خورشید کے مطابق:

> "افسانچہ ادب کی اہم صنف بن چکی ہے، اس پر تنقید بھی ہونی چاہیے اور اس کا تجزیہ بھی، تاکہ اسے محض لطیفہ یا خیال نہ سمجھا جائے۔"

---

نتیجہ

تنقید کا بنیادی مقصد یہ ہوتا ہے کہ وہ فن پارے کی تہوں کو کھولے، اس کے فنی، موضوعاتی اور اسلوبی پہلوؤں پر روشنی ڈالے۔
افسانچہ تنقید کی دنیا کے لیے ایک نیا اور چیلنجنگ میدان ہے، کیونکہ اس میں مختصر ترین بیانیہ میں سب کچھ سمویا ہوتا ہے۔

ہم کہہ سکتے ہیں کہ:

> "افسانچہ مختصر ہوتا ہے، مگر اس پر تنقید وسیع ہو سکتی ہے۔"

*** باب 10 : افسانچے اور جدید میڈیا

وقت کے ساتھ ساتھ جہاں زندگی کے انداز بدلے، وہیں ادب کے اظہار کے ذرائع بھی تبدیل ہو گئے۔ آج کا زمانہ ڈیجیٹل میڈیا کا ہے—جہاں ہر چیز برق رفتاری سے دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک پہنچتی ہے۔ ایسے میں افسانچہ جیسی مختصر، گہرے اثرات کی حامل صنف کے لیے یہ دور گویا ایک سنہری موقع ہے۔

---

سوشل میڈیا پر افسانچہ

فیس بک، انسٹاگرام، ٹوئٹر (یا اب X)، واٹس ایپ، اور دیگر سوشل پلیٹ فارمز نے افسانچے کو ایک نئی زندگی عطا کی ہے۔ اب ہر مصنف براہِ راست قاری تک پہنچنے کے قابل ہے۔ یہ چند سطریں:

جلدی پڑھی جا سکتی ہیں

تیزی سے شیئر ہوتی ہیں

فوری ردِ عمل حاصل کرتی ہیں

اس تیز رفتار ڈیجیٹل دور میں افسانچہ، قاری کے محدود وقت میں گہرا اثر ڈالنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

---

یوٹیوب اور ویژوئل افسانچہ

ویژوئل میڈیا نے افسانچے کو ایک نیا رنگ دیا ہے۔ اب:

افسانچے کو مختصر ویڈیوز میں پیش کیا جا رہا ہے

ڈرامائی انداز میں اس کی قرأت کی جا رہی ہے

اس کی ادائیگی اور میوزک کے ذریعے اثر کو دوچند کیا جا رہا ہے

صدف آصف اور حنا خراسانی جیسے ادباء نے یوٹیوب پر افسانچے کے ویڈیو فارمیٹ متعارف کروا کر اسے عام قارئین سے ناظرین تک پہنچایا۔

---

ڈیجیٹل رسائل اور بلاگز

بہت سے آن لائن میگزین اور ادبی بلاگز اب افسانچے شائع کر رہے ہیں، جیسے:

ریختہ اردو بلاگ

ادب ڈاٹ پی کے

اردو پوائنٹ

نئے نئے ذاتی بلاگز

یہ ویب سائٹس اور بلاگز نوجوان اور نئے لکھنے والوں کو اپنی تحریریں پیش کرنے کا پلیٹ فارم فراہم کر رہے ہیں۔

---

آڈیوبکس اور پوڈکاسٹس

افسانچوں کی آڈیو شکل میں اشاعت کا رجحان بھی بڑھ رہا ہے۔ کئی لکھاری اور اداکار اپنی آواز میں افسانچے پڑھ کر پوڈکاسٹ چینلز پر اپلوڈ کرتے ہیں۔ یہ رجحان خاص طور پر:

مصروف افراد

سفر کرنے والوں

آنکھوں سے کمزور قارئین

کے لیے بہت موزوں ہے۔

---

ڈیجیٹل کامیابی کی مثالیں

مبشر زیدی کی "سو لفظی کہانیاں" پہلے ایک بڑے روزنامے میں شائع ہوئیں، پھر سوشل میڈیا پر چھا گئیں، اور بعد ازاں کتابی صورت میں بھی شائع ہوئیں۔ ان کا ماڈل یہ ثابت کرتا ہے کہ مختصر ادب کو اگر درست پلیٹ فارم دیا جائے تو وہ عوامی سطح پر بھی مقبول ہو سکتا ہے۔

---

چیلنجز

ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر موجود بے شمار مواد میں معیاری افسانچے کو نمایاں کرنا ایک چیلنج ہے۔ اس کے لیے:

سخت ادارتی نگرانی

ادب فہمی کی تربیت

قارئین میں تنقیدی شعور کی بیداری

ضروری ہے۔

---

نتیجہ

جدید میڈیا نے افسانچے کو نہ صرف نیا قاری دیا ہے بلکہ ایک عالمی پہچان بھی عطا کی ہے۔ اب یہ کمرے کے کونے میں رکھی ایک کتاب کی قید سے نکل کر دنیا بھر میں بہتا ہوا لفظ بن چکا ہے۔

آج ہم کہہ سکتے ہیں کہ:

> "ڈیجیٹل میڈیا افسانچے کا نیا کاغذ ہے، اور اسکرین اس کا روشن حرف!"

 باب 11: افسانچہ نگاری کے اصول و آداب

از علیم طاہر

افسانچہ ایک ایسا نازک، مگر جاندار ادبی فن ہے جو بظاہر مختصر الفاظ پر مشتمل ہوتا ہے مگر معنی کی گہرائی اور شدت میں کسی ناول سے کم نہیں ہوتا۔ افسانچہ نگاری محض چند جملے لکھنے کا عمل نہیں بلکہ ایک مکمل فنی اور فکری تربیت کا تقاضا کرتی ہے۔ آئیے اس فن کے بنیادی اصول و آداب کا جائزہ لیتے ہیں:

---

1. اختصار (Brevity) — کم الفاظ، زیادہ اثر

افسانچہ کا پہلا اصول "کم میں زیادہ کہنا" ہے۔ ایک کامیاب افسانچہ وہی ہوتا ہے جو چند جملوں میں مکمل کہانی، کردار، منظر، اور انجام کو سمیٹ دے۔

> "لفظوں کی کفایت شعاری، معنوں کی فراوانی سے ہو۔"

---

2. پنچ لائن کی اہمیت

ہر افسانچے کا ایک "جھٹکا" ہوتا ہے—ایک چونکا دینے والا اختتام، جسے پنچ لائن کہا جاتا ہے۔ یہ قاری کے ذہن کو جھنجھوڑتا ہے اور مکمل تاثر قائم کرتا ہے۔

> "افسانچہ بغیر پنچ لائن کے، بدن میں روح کے بغیر ہے۔"

---

3. کہانی پن (Story Element)

ایک اچھا افسانچہ صرف جذباتی واردات نہیں ہوتا، بلکہ اس میں کسی واقعے یا صورت حال کا منطقی تسلسل ہوتا ہے—آغاز، ارتقاء، اور انجام۔

---

4. علامت اور تجرید کا استعمال

افسانچے میں علامتی زبان، استعارے، اور تجریدی انداز اکثر زیادہ مؤثر ثابت ہوتے ہیں، کیونکہ محدود الفاظ میں گہرے مفہوم کو سمیٹنے میں یہ بہت مددگار ہوتے ہیں۔

---

5. غیر ضروری تفصیل سے گریز

افسانچہ نگاری میں اضافی توضیحات کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔ ہر لفظ کو اس طرح برتنا ہوتا ہے جیسے زیور میں نگینہ۔

> "افسانچہ وہ غزل ہے جس میں ہر شعر نکتہ ہو۔"

---

6. عنوان کا انتخاب

افسانچے کا عنوان مختصر، بامعنی اور بعض اوقات علامتی ہوتا ہے۔ یہ قاری کی توجہ کھینچنے اور کہانی کا مرکزی نکتہ واضح کرنے میں مددگار ہوتا ہے۔

---

7. اخلاقی پیغام کی باریک رو

اگرچہ افسانچہ کو نصیحتی تحریر نہیں ہونا چاہیے، مگر اس میں اخلاقی یا فکری جھلک لازماً ہو، جو قاری کو سوچنے پر مجبور کر دے۔

---

8. زبان و بیان کی نزاکت

افسانچہ میں سادہ، مگر ادبی زبان استعمال کی جاتی ہے۔ زبان ایسی ہو کہ عام قاری بھی سمجھ سکے اور ادب فہم بھی محظوظ ہو۔

---

9. وقت، مقام اور کردار کی محدودگی

افسانچے میں وقت اور جگہ کی قید مختصر ہوتی ہے اور کردار عموماً ایک یا دو ہوتے ہیں۔ اسی میں اس کا حسن پوشیدہ ہے۔

---

10. قاری کو فعال رکھنا

ایک عمدہ افسانچہ قاری کو سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔ اکثر افسانچے کا اختتام "اوپن" رکھا جاتا ہے تاکہ قاری خود تشریح کرے۔

---

نتیجہ

افسانچہ لکھنا آسان معلوم ہوتا ہے، لیکن درحقیقت یہ ایک باریک فن ہے۔ ہر لفظ، ہر وقفہ، اور ہر خاموشی میں ایک سوچ چھپی ہوتی ہے۔ افسانچہ لکھنے والا دراصل سکوت میں چیخنے کا فن جانتا ہے۔

------

*** باب 12 : اردو افسانچے کے اہم لکھاری

از علیم طاہر

اردو ادب میں افسانچہ ایک نئی مگر تیزی سے مقبول ہوتی صنفِ سخن ہے، اور اس کی ارتقائی راہ میں کئی نامور اور صاحبِ طرز ادیبوں نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس باب میں ہم اُن ادیبوں اور افسانچہ نگاروں کا تذکرہ کریں گے جنہوں نے اس صنف کو اعتبار بخشا اور ادبی افق پر اپنی شناخت قائم کی۔

---

1. سعادت حسن منٹو

اردو افسانچے کا پہلا قابلِ ذکر نام۔ منٹو نے سادہ مگر چونکا دینے والے مختصر افسانوں کے ذریعے اس صنف کو بنیاد فراہم کی۔ اُن کا مجموعہ "سیاہ حاشیے" افسانچوں کی ایک لازوال مثال ہے، جس میں فسادات کی سفاکی کو چند جملوں میں قاری کے ذہن پر نقش کیا گیا۔

---

2. خواجہ اعجاز بٹ

منٹو کے بعد افسانچے کی روایت کو آگے بڑھانے والوں میں خواجہ اعجاز بٹ کا نام نمایاں ہے۔ ان کے افسانچوں میں معاشرتی پہلوؤں کو نیا زاویہ دیا گیا، اور اُنھوں نے اس صنف کو وقار بخشا۔

---

3. ڈی ایچ شاہ

انہوں نے افسانچے کو فنی نکھار دیا۔ ان کی تحریروں میں زبان کی نزاکت، اختصار اور گہرائی کا بہترین امتزاج ملتا ہے۔

---

4. اخلاق گیلانی

افسانچے کی فکری جہتوں کو پھیلانے والے قلمکار۔ ان کے افسانچوں میں فلسفہ، طنز اور معاشرتی حقیقتوں کی عکاسی ملتی ہے۔ انہوں نے افسانچے کو محض واقعہ نہیں بلکہ خیال کی سطح پر بھی بلند کیا۔

---

5. سرور غزالی

نئے دور کے ممتاز افسانچہ نگار جنہوں نے افسانچے کو جدت، علامت اور تخیل کی نئی بلندیوں سے روشناس کرایا۔ اُن کے افسانچوں میں جذبات کی چپ سسکی اور حالات کی خاموش چیخ سنائی دیتی ہے۔

---

6. ابنِ عاصی

ان کے افسانچے مزاح، فکر اور حقیقت کے خوبصورت امتزاج سے بھرپور ہوتے ہیں۔ ان کی تحریروں نے ثابت کیا کہ افسانچہ صرف سنجیدہ نہیں بلکہ دل لبھانے والا بھی ہو سکتا ہے۔

---

7. زیب سندھی، ساجد سومرو، خوشبو بلوچ

علاقائی زبانوں خصوصاً سندھی، پنجابی اور ہندکو میں افسانچے کی مقبولیت کا سہرا ان کے سر ہے۔ انھوں نے مقامی ثقافت، رسم و رواج، اور زبان کی چاشنی کو افسانچے میں منتقل کیا۔

---

8. پرویز بلگرامی

نہ صرف خود افسانچے لکھے بلکہ بہت سے نو آموز لکھاریوں کی رہنمائی کی۔ ان کی ادارت میں افسانچہ ایک باقاعدہ ادبی شناخت حاصل کرنے لگا۔

---

9. نشاط یاسمین خان

نئی نسل کی معروف افسانچہ نگار۔ ان کے افسانچوں میں نرمی، درد، اور عورت کی داخلی دنیا کی عکاسی نہایت خوبصورتی سے ہوتی ہے۔ وہ افسانچے کو بطور "احساس" برتتی ہیں۔

---

10. صدف آصف و حنا خراسانی

انھوں نے افسانچے کو سوشل میڈیا، یوٹیوب اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر فروغ دیا۔ ان کی کوششوں سے افسانچہ نوجوان نسل میں مقبول ہوتا جا رہا ہے۔

---

11. مبشر زیدی

انھوں نے سو لفظوں کی کہانی کو ایک نئے انداز میں متعارف کروایا۔ ان کی تحریریں بامعنی، مختصر اور چونکا دینے والی ہوتی ہیں۔ روزنامہ میں ان کا سلسلہ بے حد مقبول ہوا۔

---

نتیجہ

افسانچے کی یہ مختصر فہرست اس صنف کے تنوع، گہرائی اور اثرپذیری کی غماز ہے۔ ان سب قلمکاروں نے مل کر افسانچے کو نہ صرف زندہ رکھا بلکہ اسے ادب کے افق پر ایک روشن ستارے کی حیثیت دلائی۔
---

باب 13 : افسانچے کا عالمی منظرنامہ

از علیم طاہر

افسانچے کو اگرچہ اردو ادب کی مخصوص صنف کے طور پر پہچانا جاتا ہے، لیکن مختصر کہانی (Short-Short Story یا Flash Fiction) کا تصور دنیا بھر کے ادب میں موجود ہے۔ مختلف زبانوں اور تہذیبوں میں مختصر ترین کہانی لکھنے کا رجحان عرصہ دراز سے موجود رہا ہے، اور آج کے ڈیجیٹل دور میں تو یہ صنف عالمی ادب میں ایک مقبول میڈیم بن چکی ہے۔

---

یونانی اساطیر سے آغاز

افسانچے جیسی مختصر کہانیاں قدیم یونان میں "ایسوپ" کے ذریعے مشہور ہوئیں، جنہوں نے عبرت آموز چھوٹی چھوٹی حکایات پیش کیں۔ یہ کہانیاں جانوروں کی زبان میں اخلاقی سبق دیتی تھیں۔

---

فارسی ادب میں گلستان و بوستان

شیخ سعدی کی گلستان و بوستان میں شامل مختصر حکایات بھی افسانچے کے ابتدائی عالمی سانچوں سے ملتی جلتی ہیں۔ ان کہانیوں میں حکمت، طنز، اور اخلاقی اقدار کی جھلک ملتی ہے۔

---

انگریزی ادب میں فلیش فکشن (Flash Fiction)

فلیش فکشن یا مائیکرو فکشن انگریزی ادب میں بہت مقبول صنف ہے۔ ارنست ہیمنگوے کی 6 الفاظ پر مشتمل کہانی:

> For sale: baby shoes, never worn.

افسانچے کی عالمی مقبولیت کی بہترین مثال ہے۔ یہ کہانی نہ صرف مختصر ہے بلکہ درد، حیرت اور سوال اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے۔

---

فرانسیسی اور روسی ادب میں مختصر کہانیاں

گی ڈی موپاساں (Guy de Maupassant) اور چیخوف جیسے ادیبوں نے مختصر کہانی کو خوب فروغ دیا۔ اگرچہ ان کی کہانیاں کلاسیکی افسانہ کہلاتی ہیں، لیکن ان میں مختصر بیانیہ اور چونکا دینے والا انجام وہی افسانچہ کی روح رکھتے ہیں۔

---

ہسپانوی ادب اور بورخیس

ارجنٹائن کے مصنف "خورخے لوئیس بورخیس" نے مختصر فکشن کو فلسفے اور خیال کی بلندی پر لے جا کر اسے عالمی ادب میں ایک الگ مقام دیا۔ ان کی مختصر تحریریں محض کہانیاں نہیں بلکہ خیالات کی labyrinth ہوتی ہیں۔

---

جاپانی "ہائیبو" اور چینی "زن کہانیاں"

جاپان اور چین میں مختصر کہانیاں فلسفے، روحانیت اور مراقبے سے جڑی ہوئی ہیں۔ زن کہانیاں (Zen koans) چند جملوں پر مشتمل ہوتی ہیں لیکن ان کا اثر قاری کے دل و دماغ پر دیرپا ہوتا ہے۔

---

عرب دنیا میں حکایات

"الف لیلہ و لیلہ" جیسی داستانیں اگرچہ طویل تھیں، لیکن ان میں چھپی ہوئی مختصر حکایات اور تمثیلیں، افسانچہ کی صورت حال سے مماثلت رکھتی ہیں۔

---

جدید دنیا میں افسانچہ کی ترویج

سوشل میڈیا، ویب سائٹس، موبائل ایپس اور ڈیجیٹل میگزینز کے ذریعے دنیا بھر میں مختصر کہانیوں کا ایک نیا جنون پیدا ہو چکا ہے۔ آج فلیش فکشن مقابلے، ای بکس، اور پبلک ریڈنگز عام ہو چکی ہیں۔

"Twitterature" یعنی ٹویٹر پر 280 حروف میں کہانی لکھنے کا رجحان بھی اس کی جدید شکل ہے۔

---

اردو افسانچہ کا مقام

اردو افسانچہ، اگرچہ علاقائی صنف ہے، مگر اس کی گونج عالمی ادبی میدان میں بھی سنی جا رہی ہے۔ برصغیر کے باہر اردو لکھنے والے ادیب، خصوصاً یورپ، امریکہ، اور مشرق وسطیٰ میں، افسانچے کو اپنا رہے ہیں اور نئی نسل کو اس سے جوڑ رہے ہیں۔

---

نتیجہ

افسانچہ ایک عالمی جذبہ بن چکا ہے۔ زبان، جغرافیہ، یا قومیت کی قید سے آزاد ہو کر یہ صنف انسان کے مشترکہ جذبات، سوالات، اور حیرانیوں کو بیان کر رہی ہے۔ اردو افسانچہ بھی اسی عالمی قافلے کا حصہ ہے، اور مستقبل میں یہ سفر مزید وسعت اختیار کرے گا۔

---
 ---

باب 14: افسانچہ نگاری کے اصول و رموز

از علیم طاہر

افسانچہ لکھنا بظاہر ایک آسان کام محسوس ہوتا ہے، کیونکہ اس میں الفاظ کم استعمال ہوتے ہیں۔ لیکن درحقیقت، افسانچہ نگاری ایک نہایت نازک، محتاط اور فنکارانہ عمل ہے، جس میں کم الفاظ میں زیادہ کہنے کی صلاحیت درکار ہوتی ہے۔ ہر لفظ قیمتی ہوتا ہے اور ہر جملہ اپنے اندر معنی کا جہاں سمیٹے ہوتا ہے۔

آئیے افسانچہ لکھنے کے بنیادی اصولوں اور رموز کا جائزہ لیتے ہیں:

---

1. جامعیت و اختصار

افسانچہ کی سب سے پہلی اور بنیادی شرط اختصار ہے۔ کہانی چند جملوں یا سطور پر مشتمل ہو، لیکن اس میں ایک مکمل احساس، واقعہ یا تصور موجود ہو۔
"کم میں زیادہ کہنا" اس فن کا بنیادی ہنر ہے۔

---

2. پلاٹ کا وجود

اگرچہ افسانچہ مختصر ہوتا ہے، لیکن اس میں ایک واضح پلاٹ (واقعہ یا صورتِ حال) ہونا چاہیے۔
شروع، درمیان اور انجام کی ترتیب اگرچہ محدود ہوتی ہے، لیکن کہانی پن ضرور ہونا چاہیے۔

---

3. پنچ لائن کی طاقت

افسانچہ کی جان اُس کی پنچ لائن ہوتی ہے۔
آخری جملہ چونکا دینے والا، اداس کر دینے والا، یا مسکراہٹ بکھیر دینے والا ہو سکتا ہے —
مگر اسے قاری کے دل میں ٹھہر جانا چاہیے۔

---

4. کردار نگاری (Minimal Characterization)

افسانچہ میں کردار زیادہ نہیں ہوتے، اور جو ہوتے ہیں، اُنہیں چند الفاظ میں متعارف کرایا جاتا ہے۔
ان کی شناخت، رویہ یا مسئلہ، سب کچھ فوری قاری تک پہنچنا چاہیے۔

---

5. مکالمہ یا بیانیہ؟

افسانچہ میں مکالمہ بھی ہو سکتا ہے، اور مکمل بیانیہ بھی۔ بعض اوقات ایک جملہ کا مکالمہ ہی پوری کہانی بیان کر دیتا ہے۔
البتہ ہر لفظ ضروری اور غیر ضروری کی کسوٹی پر پرکھا جانا چاہیے۔

---

6. علامت و استعارہ کا استعمال

افسانچے میں علامتی زبان اکثر زیادہ مؤثر ثابت ہوتی ہے۔
استعارہ، تمثیل، اور اشاریت سے کہانی کا وزن بڑھتا ہے، اور قاری کو سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔

---

7. موضوع کی انفرادیت

موضوع چاہے روزمرہ کا ہو یا غیرمعمولی، اُسے ایک نئے زاویے سے دیکھنا ضروری ہے۔
افسانچہ معمولی بات کو غیر معمولی طریقے سے بیان کرنے کا نام ہے۔

---

8. جذبات کی شدت

چونکہ طوالت کا موقع نہیں، اس لیے جذبات کو چند جملوں میں شدت کے ساتھ ظاہر کرنا لازم ہے۔
قاری کو ایک لمحے میں ہنسا دینا یا رُلا دینا — یہی افسانچہ نگار کا اصل امتحان ہے۔

---

9. مبہم نہیں، موثر ہو

بعض اوقات افسانچے کو اتنا پیچیدہ بنا دیا جاتا ہے کہ قاری سمجھ نہیں پاتا۔
وضاحت اور رمز کے درمیان توازن ضروری ہے تاکہ تاثیر برقرار رہے۔

---

10. اختتام کی چونکاہٹ

اچھا افسانچہ وہ ہے جس کا اختتام قاری کے دل و دماغ کو ہلا دے۔
وہ چونک جائے، رک جائے، پلٹ کر پھر سے کہانی کو پڑھے —
تب ہی افسانچہ کامیاب ہے۔

---

اختتامی کلمات

افسانچہ نگاری فن کا نچوڑ ہے۔ یہ ہر کسی کے بس کی بات نہیں، لیکن سیکھنے، مطالعہ کرنے، اور مشق کرنے سے یہ ہنر سیکھا جا سکتا ہے۔
یہ نہ صرف مختصر لکھنے کا فن ہے بلکہ سوچنے، محسوس کرنے اور بیان کرنے کا نیا زاویہ بھی فراہم کرتا ہے۔

باب 15: جدید افسانچہ نگاری میں رجحانات

از علیم طاہر

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ادب کی تمام اصناف میں ارتقا ہوا ہے۔ افسانچہ نگاری بھی اس ترقیاتی عمل سے گزر رہی ہے اور اس میں نئے رجحانات جنم لے چکے ہیں جو نہ صرف قاری کی نفسیات بلکہ عصرِ حاضر کے فکری و سماجی تقاضوں کی ترجمانی بھی کرتے ہیں۔

آج کے افسانچے ماضی کی نسبت کہیں زیادہ بصری، معنوی اور فکری طور پر گہرے اور متنوع ہو چکے ہیں۔

---

1. ڈیجیٹل عہد کا افسانچہ

سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز نے افسانچے کو ایک نیا آسمان عطا کیا ہے۔
اب افسانچے صرف رسائل یا کتابوں تک محدود نہیں رہے، بلکہ فیس بک، انسٹاگرام، یوٹیوب، اور واٹس ایپ پر بھی ان کی مقبولیت میں اضافہ ہو رہا ہے۔

"ویژوئل افسانچہ" (Visual Microfiction) کی شکل میں مختصر ویڈیوز، آڈیو کلپس اور پوسٹرز میں بھی افسانچے سنائے اور دکھائے جا رہے ہیں۔

---

2. سو لفظی کہانی (100-Word Story)

ایک رجحان جو تیزی سے ابھرا ہے، وہ ہے سو لفظی کہانی۔
مبشر زیدی جیسے قلمکاروں نے اس صنف کو مقبولِ عام بنایا۔
اب اخبارات، ویب سائٹس اور بلاگز میں سو لفظی کہانیوں کو مستقل جگہ دی جا رہی ہے۔

---

3. ہائپر ریئلزم اور روزمرہ کے موضوعات

جدید افسانچے اکثر روزمرہ کے عام سے واقعات، چھوٹے چھوٹے المیوں اور لمحاتی وارداتوں پر مبنی ہوتے ہیں۔
یہی حقیقت پسندی (Hyperrealism) افسانچے کو قارئین کے قریب لاتی ہے۔

---

4. سادہ زبان، گہرا مفہوم

جدید افسانچے میں زبان عام فہم ہوتی جا رہی ہے، مگر اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ مفہوم بھی سطحی ہو۔
سنجیدہ موضوعات کو سادہ زبان میں بیان کرنا ایک چیلنج بھی ہے اور ہنر بھی۔

---

5. غیر روایتی موضوعات

اب افسانچے میں صرف محبت، تنہائی یا فساد کے موضوعات ہی نہیں ہوتے، بلکہ

سائنس فکشن

ماحولیاتی مسائل

عورت کا مقام

ذہنی صحت

شناخت اور جنس
جیسے جدید و نازک موضوعات کو بھی چُھوا جا رہا ہے۔

---

6. تجرباتی انداز

کئی افسانچہ نگار اب ساخت، اسلوب اور بیانیے کے ساتھ تجربات کر رہے ہیں۔
کبھی ایک جملہ ہی پورا افسانچہ بن جاتا ہے،
کبھی ایک منظر یا صرف ایک خاموشی سب کچھ کہہ دیتی ہے۔

---

7. علاقائی اثرات

جدید افسانچے میں علاقائی زبانوں، لہجوں اور ثقافتوں کا رنگ بھی جھلک رہا ہے۔
سندھی، پنجابی، پشتو، اور دیگر زبانوں میں افسانچے لکھے جا رہے ہیں جو علاقائی مسائل اور جمالیات کو اجاگر کرتے ہیں۔

---

8. ویمن رائٹنگ کی نمائندگی

خواتین افسانہ نگار بڑی تعداد میں اس صنف کی طرف راغب ہو رہی ہیں۔
نشاط یاسمین، حنا خراسانی، صدف آصف جیسے نام افسانچہ نگاری میں ایک نئی شناخت لا ?

Saturday, 27 December 2025

میڈیا، نظریہ اور سماج: مکالمے سے تصادم تک کا خطرناک سفر علیم طاہر______________________________ڈیجیٹل میڈیا کے عروج نے اظہارِ رائے کو بلاشبہ آسان بنایا، مگر اسی کے ساتھ ایک نیا بحران بھی جنم لیا: مکالمے کی جگہ تصادم اور سوال کی جگہ سنسنی۔ آج میڈیا کا ایک بڑا حصہ سماج کو جوڑنے کے بجائے اسے نظریاتی خیموں میں بانٹنے کا کام کر رہا ہے _ مذہب، شناخت اور عقیدے جیسے نازک موضوعات کو اس انداز میں پیش کیا جاتا ہے کہ نتیجہ فہم و تدبر نہیں بلکہ اشتعال اور پولرائزیشن نکلتا ہے۔یہ سوال اب محض یہ نہیں رہا کہ خدا ہے یا نہیں، مذہب جدیدیت سے ہم آہنگ ہے یا نہیں—بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کون، کس نیت سے، کن شرائط پر یہ سوالات اٹھا رہا ہے؟ جب موضوعات کی تشکیل ہی ایجنڈا سیٹنگ کے تحت ہو، تو بحث کا انجام پہلے سے طے شدہ ہوتا ہے۔ ایسے پروگرام بظاہر فلسفیانہ دکھائی دیتے ہیں، مگر درحقیقت وہ سماجی نفسیات میں دراڑیں ڈالنے کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔میڈیا کا بنیادی فریضہ یہ تھا کہ وہ عوامی مفاد کے سوالات—تعلیم، صحت، روزگار، مہنگائی—کو مرکز میں رکھے۔ مگر آج ہم دیکھتے ہیں کہ شناختی سیاست کو مرکزی دھارے میں لا کر اصل مسائل کو پسِ پشت ڈال دیا جاتا ہے۔ یہ حکمتِ عملی وقتی طور پر ریٹنگ اور ویورشپ تو بڑھا دیتی ہے، لیکن طویل مدت میں سماج کو عدمِ اعتماد اور خوف کی طرف دھکیلتی ہے۔ اختلافِ رائے جمہوریت کی روح ہے، مگر اختلاف کو دشمنی میں بدل دینا جمہوری زوال کی علامت ہے۔ایک خطرناک رجحان یہ بھی ہے کہ پینل ڈسکشنز کو اس طرح ڈیزائن کیا جاتا ہے کہ توازن کا گمان پیدا ہو، مگر حقیقت میں ایک فریق کو علامتی نمائندگی دے کر دوسرے کو غالب دکھایا جائے۔ اس سے نہ تو علم میں اضافہ ہوتا ہے اور نہ ہی ناظرین کو سچ تک رسائی ملتی ہے۔ نتیجتاً، عوام کے ذہن میں پیچیدہ سماجی سوالات سادہ، تعصبی بیانیوں میں ڈھل جاتے ہیں۔ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کا ’سافٹ پروپیگنڈا‘ اس پورے منظرنامے میں سب سے زیادہ تشویشناک ہے۔ غیر رسمی زبان، دوستانہ انداز اور ’کول‘ پریزنٹیشن کے پیچھے چھپا ہوا نظریاتی انتخاب زیادہ دیرپا اثر ڈالتا ہے، کیونکہ یہ غیر جانبداری کے لبادے میں پیش کیا جاتا ہے۔ یہاں مسئلہ صرف مواد کا نہیں، مواد کے انتخاب کا ہے—کہ کن سوالات کو بار بار اٹھایا جا رہا ہے اور کنہیں مسلسل نظرانداز کیا جا رہا ہے۔میڈیا کی اس سمت کے پیچھے کارپوریٹ مفادات اور سیاسی قربتوں کا کردار بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ جب میڈیا ادارے چند بڑے کاروباری گروپس کے ہاتھوں میں مرتکز ہو جائیں، تو ادارتی آزادی دباؤ میں آ جاتی ہے۔ سرکاری اشتہارات اور پالیسی مفادات ایک ایسا معاشی شکنجہ بناتے ہیں جس میں صحافت رفتہ رفتہ نگہبان سے تابع دار بن جاتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں صحافی سوال کرنے کے بجائے بیانیہ آگے بڑھانے لگتے ہیں۔اس کا سب سے گہرا اثر نوجوان نسل پر پڑتا ہے۔ جب سنجیدہ مسائل کو سطحی اور اشتعال انگیز مباحث میں بدل دیا جائے، تو تنقیدی سوچ کمزور پڑ جاتی ہے۔ نوجوان دلیل کے بجائے شناخت کے ساتھ کھڑے ہونے لگتے ہیں، اور یہی وہ لمحہ ہے جہاں سماج فکری بانجھ پن کا شکار ہو جاتا ہے۔حل کیا ہے؟حل سنسرشپ نہیں، بلکہ ادارتی ذمہ داری ہے۔ میڈیا کو چاہیے کہ وہ مکالمے کی شرطیں خود طے کرے—برابری، احترام اور علمی دیانت۔ اختلاف کو جگہ دے، مگر نفرت کو نہیں۔ مذہب اور فلسفے جیسے موضوعات پر گفتگو ہو، مگر اس نیت سے کہ فہم بڑھے، نہ کہ خلیج گہری ہو۔ صحافت کا اصل مذہب سچ ہے، اور اس کی عبادت سوال سے ہوتی ہے_ سنسنی سے نہیں۔اگر میڈیا نے اپنے نظریاتی جھکاؤ کو عوامی مفاد پر فوقیت دی، تو یہ بحران صرف خبروں تک محدود نہیں رہے گا؛ یہ سماج کی رگوں میں اتر جائے گا۔ اور پھر تاریخ گواہ ہے کہ ایسے زہر کا تریاق نسلوں میں بھی مشکل سے ملتا ہے۔

Thursday, 27 November 2025

ڈرامہ نمبر 03 ریڈیو ڈراما اسکرپٹ اسٹرگلرس اڈا

 

ڈرامہ نمبر: 03


ریڈیو ڈراما اسکرپٹ


عنوان: اسٹرگلرس اڈا


افسانہ نگار: علیم طاہر


ریڈیو اسکرپٹ رائٹر: علیم طاہر 


---------------


         [اوپننگ میوزک – نرم سا بولی ووڈ طرز کا انسٹرومنٹل، جو خوابوں کے شہر کی جھلک دے]


نیریٹر (آہستہ اور پراثر لہجہ):

ممبئی… ایک ایسا شہر جہاں خواب بُنتے ہیں… اور بکھرتے بھی۔ ہر چہرہ… ایک کہانی، ہر نظر… ایک امید۔

اسی شہر کے دل میں واقع ہے — شانتی نگر کا ایک ہوٹل، جسے سب جانتے ہیں اسٹرگلرس اڈا کے نام سے۔


[پس منظر میں ہوٹل کا ہلکا سا شور، برتنوں کی آوازیں، ہنسی کے قہقہے، ہلکی موسیقی]


نیریٹر:

یہ صرف ایک ہوٹل نہیں… ایک امید کا مرکز ہے۔

جہاں نوجوان فنکار آتے ہیں… اور اپنے خوابوں کو سانس دیتے ہیں۔

یہاں ہر چائے کے کپ کے ساتھ ایک کہانی، ہر سگریٹ کے کش کے ساتھ ایک فسانہ۔


[کمرے کی آواز، کرسی کھسکنے کی ہلکی آواز، گفتگو کی دھیمی گونج]


شلپا (سگریٹ کا کش لیتے ہوئے):

یہ وہی ہے نا؟ جس نے "گمنام سوسائٹی" میں چائے والے کا رول کیا تھا؟


آکاش (ہنستے ہوئے):

ہاں چرکٹ ماسٹر! بڑا مشہور ہوا تھا وہ سین۔


شلپا:

چاہو تو ابھی بلا لیتی ہوں۔


[قدموں کی آواز، چرکٹ ماسٹر کی آمد]


چرکٹ ماسٹر (خوش دلی سے):

نمستے بھائی لوگ!

شلپا جی نے بتایا، آکاش جی آپ فلم بنا رہے ہیں؟


آکاش:

جی، ایک نئی فلم پر کام شروع کرنے والا ہوں۔ رہنمائی کی تلاش میں ہوں۔


چرکٹ ماسٹر:

رہنمائی بھی ملے گی، اور شاید کوئی راستہ بھی نکل آئے۔


[کسی ٹیبل پر ہنسی کی آواز، ویٹر کی آواز میں آرڈر]


ویٹر:

دو پنیر پراٹھے، ایک پانی کی بوتل… اور سگریٹ کا پیکٹ۔


[ہوٹل میں ہلکی موسیقی – جاز طرز کی، خاموشی میں ایک وقفہ]


نیریٹر:

وہیں ایک کونے میں بیٹھے ہیں… وجو بھائی…

اصل نام وجے چوہان…

ایک بزنس مین، جو یہاں آ کر خوابوں کے ساتھ جیتے ہیں۔

سادگی میں چھپی بصیرت… اور آنکھوں میں چمکتی امید۔


آکاش (دھیرے سے):

شلپا، یہ بزرگ کون ہیں؟


شلپا:

بس، یہاں کے سب سے زیادہ پرانے "گاہک"… فلمی نہیں، لیکن دل سے ہم سب کے ساتھ۔


[ایک تھکی ہاری لڑکی کی آواز، پس منظر میں آہستہ ہنسی اور باتیں جاری]


لڑکی:

یہ کاسٹنگ ڈائریکٹرز بس خواب دکھاتے ہیں… موقع کوئی نہیں دیتا۔


توصیف:

ہم بھی یہی سوچتے تھے، پر اب عادت ہو گئی ہے۔


جابر:

ارے، وقت سب کا آتا ہے۔ ہمت نہ ہارو!


[اوور ہیڈ اسپیکر کی آواز: اسٹینڈ اپ کامیڈی شو کا اعلان]


اعلان:

پندرہ منٹ بعد، اوپری منزل پر اسٹینڈ اپ کامیڈی شو — جادھو جی کے ساتھ!

سب کے لیے مفت داخلہ!


[لوگوں کی چہل پہل، قدموں کی آواز، سیڑھیوں کی کھڑکھڑاہٹ]


نیریٹر:

سب اوپر جاتے ہیں…

ہنسی کی کچھ قسطیں، اور مایوسی کے کچھ لمحے، ایک ساتھ بانٹے جاتے ہیں۔


آکانشا (اداسی سے):

لگتا ہے… مرنے کے بعد ہی کچھ ہوگا…


شلپا (پیار سے):

ایسا نہ کہو… وقت سب کا آتا ہے۔


[خاموشی… اور پھر ایک مضبوط، مگر نرم آواز]


وجو بھائی (کھڑے ہو کر):

میں صرف وجو بھائی نہیں…

میں وجے چوہان ہوں — ایک بزنس مین۔

میں نے آپ سب کی آنکھوں میں وہ روشنی دیکھی ہے…

جس سے ایک فلم بن سکتی ہے۔

اور وہ فلم ہم سب مل کر بنائیں گے۔ بغیر باس، صرف شریک۔


[پَر امید موسیقی، جذباتی لمحہ، لوگوں کی سانسیں رکی ہوئی سی]


نیریٹر:

سب حیران…

پھر ماریا آتی ہے… نیلی ساڑھی، لیپ ٹاپ تھامے۔


ماریا:

یہ رہا پروجیکٹ… آپ سب اس کے شریک ہوں گے۔


[موسیقی کی شدت، گوگل سرچ کی ٹِک ٹِک، پھر ایک شور کی سی خوشی]


نیریٹر:

اور لیپ ٹاپ پر ابھرتا ہے وہ جملہ…

جو ان سب کی زندگیوں میں روشنی بن کر اُترتا ہے۔


ماریا (پڑھتی ہے):

"سب سَمے کا کھیل ہے…

سَمے پر یقین رکھو…

سَمے سب کا آتا ہے…"


[میوزک آہستہ ہوتا ہے، نیریٹر کی آخری آواز]


نیریٹر:

یہ تھا… اسٹرگلرس اڈا۔

ایک ایسی جگہ… جہاں امید زندہ ہے…

اور خواب… کبھی نہیں مرتے۔


[اختتامی میوزک – مدھم، خوابناک اور پُر امید دُھن]


________________________________


وائس اوور کاسٹ اور ہدایات


1. نیریٹر (Narrator):

آواز: مرد یا خاتون، نرم، جذباتی، شاعرانہ لہجہ

انداز: اداس، امید بھرا، وقفوں کے ساتھ گفتگو

مثال: نصیر الدین شاہ، یا رتی اگنی ہوتری جیسی آواز


---


2. شلپا (Struggler Actress):

آواز: نوجوان لڑکی، خواب دیکھنے والی، تھوڑا تھکی ہوئی مگر مضبوط

انداز: سگریٹ پینے والی، تجربہ کار مگر حساس


---


3. آکاش (نوجوان ہدایتکار):

آواز: نوجوان مرد، امید سے بھرپور، تھوڑا نروس مگر کریٹیو

انداز: درمیانی رفتار، گفتگو میں الجھن اور جستجو


---


4. چرکٹ ماسٹر (چھوٹے موٹے رول والا ایکٹر):

آواز: دلچسپ، نچلی طبقے کی زبان، گرمجوش لہجہ

انداز: ملنسار، فنی، بولی وڈ نقالی کے انداز میں


---


5. ویٹر:

آواز: معمولی اسٹاف، جلد باز، آسانی سے ایڈجسٹ ہو جانے والا

انداز: ہلکا مزاح، ایکسپریس ڈیلیوری


---


6. وجو بھائی (وجے چوہان):

آواز: سنجیدہ بزرگ، گہری، پراثر

انداز: وقار بھرا، سادگی میں گہرائی، آخر میں جذباتی جوش


---


7. آکانشا (مایوس اداکارہ):

آواز: حساس، اداس، نوجوان

انداز: دل شکستہ، شاعرانہ ٹون


---


8. توصیف / جابر (پس منظر کے جدوجہد کرنے والے):

آواز: ممبئی کے لہجے والے نوجوان، تھوڑے طنزیہ، مگر ساتھ دینے والے

انداز: فنی، مزاحیہ، حقیقت پسند


---


9. ماریا (پروجیکٹ مینجر):

آواز: پروفیشنل، پُراعتماد، جذباتی خاتون

انداز: تیز، مستعد، گرمجوش انداز


---


10. اسپیکر وائس / اعلان:

آواز: روبوٹک یا ڈیجیٹل انداز میں مردانہ

انداز: ایونٹ ایناؤنسمنٹ جیسا، جیسے کسی شو یا اسٹینڈ اپ کی اطلاع


---


آڈیو ساؤنڈ ایفیکٹس (SFX) & میوزک گائیڈ


---


ریکارڈنگ کے لیے مشورہ:


ہر کردار اپنی لائن ریکارڈ کرے اور وقفہ (pause) دے تاکہ ایڈیٹر آسانی سے جگہ بدل سکے۔


نیریٹر کی آواز میں "خاموشیاں" اور "جملوں کے بیچ تھوڑی دیر" لازمی رکھیں تاکہ جذبات ابھر سکیں۔


وجو بھائی کے "خطاب والے سین" میں بیک گراؤنڈ میوزک بہت مدھم بجائیں تاکہ آواز غالب رہے۔


اسٹوڈیو میں تین مائک استعمال کریں — ایک نیریٹر کے لیے، ایک مکالماتی کرداروں کے لیے، ایک ساؤنڈ ایفیکٹس کے لیے۔


________________________________


ریڈیو اسکرپٹ: اسٹرگلرس اڈا


مصنف: علیم طاہر

فارمیٹ: وائس ریکارڈنگ / ریڈیو ڈرامہ

دورانیہ: تقریباً 20-25 منٹ


---


[اوپننگ سین]


[SFX: ہلکی ہلکی بولی وڈ طرز کی انسٹرومنٹل میوزک، بیک گراؤنڈ میں ہلکی گفتگو اور چائے کی چسکیاں]


نیریٹر (نرم آواز میں):

یہ ممبئی ہے... خوابوں کی شہزادی... جہاں ہر گلی، ہر دیوار، ہر کھڑکی کسی نہ کسی جدوجوہد کی گواہ ہے۔

یہاں ایک ہوٹل ہے... کچھ پرانے اسٹول، کچھ دھندلے شیشے، اور کچھ تھکے ہوئے خواب...

اس ہوٹل کا نام کوئی نہیں جانتا... مگر ہر اسٹروگلر اسے "اسٹرگلرس اڈا" کہہ کر پکارتا ہے۔


---


[سین 2 – ہوٹل کے اندر]


[SFX: دروازے کی چرچراہٹ، قدموں کی آہٹ، چائے کی پیالی رکھے جانے کی آواز]


ویٹر:

شلپا جی، آپ کا اسپیشل چائے۔ بغیر شکر کے۔


شلپا (سگریٹ کا کش لیتے ہوئے):

تھینک یو راجو… تمھیں بھی یاد ہے میری چائے کی عادت؟


ویٹر (مسکرا کر):

یہاں سب کو یاد ہے… اسٹروگلرز کا ذائقہ چائے سے زیادہ خوابوں میں ہوتا ہے۔


---


[سین 3 – نوجوان ہدایتکار کا داخلہ]


[SFX: تیز قدموں کی آواز، کرسی گھسیٹنے کی آواز]


آکاش:

مجھے ایک نئی لڑکی چاہیے... چہرے پر وہ کرب ہو جو اسکرین سے باہر نکل آئے...


شلپا (سگریٹ کا کش لیتے ہوئے):

کرب صرف چہرے پر نہیں ہوتا... کبھی اندر بھی محسوس کر کے دیکھو...


---


[سین 4 – چرکٹ ماسٹر کا انٹری]


[SFX: ہلکی ہنسی، دروازے کی کھڑکھڑاہٹ]


چرکٹ ماسٹر:

سنو سنو... آج بھی آڈیشن میں "پولس والا" بن کے آیا تھا...

مگر لائن تھی صرف ایک: "چلو تھانے!"


توصیف (ہنستے ہوئے):

بس! اور دیالو ڈیریکٹر نے وہ بھی کاٹ دی ہوگی؟


چرکٹ ماسٹر:

نہیں بھائی... وہ تو بولے "ابھے تو ریئل لگتا ہے، تھانے میں ہی جا!"


---


[سین 5 – آکانشا کا منظر]


[SFX: ہوا کے جھونکے، دروازہ کھلنے کی آواز]


آکانشا (اداسی سے):

مجھے اپنا پتہ نہیں معلوم... میں شاید کسی ریجیکشن کی گلی میں رہتی ہوں...


شلپا (نرمی سے):

یہاں سب کی رہائش عارضی ہے... کوئی خواب میں رہتا ہے، کوئی ڈائلاگ میں...


---


[سین 6 – وجو بھائی کی آمد]


[SFX: اسٹک کی ٹک ٹک، خاموشی کا وقفہ، ہلکی بیک گراؤنڈ میوزک]


نیریٹر:

یہ وجو بھائی ہیں... اصل نام وجے چوہان۔ کبھی سائڈ رول کے بادشاہ تھے۔ اب... اسٹروگلرز کے استاد۔


وجو بھائی:

ہاں بچو... سنیما صرف کیمرے کی آنکھ نہیں دیکھتی...

اسے دل کا ویژن چاہیے... ورنہ ہر اسٹروگل صرف شکست ہے۔


---


[سین 7 – ان سب کی کہی ان کہی آوازیں]


[SFX: سب کردار ہلکے ہلکے بولتے ہیں، جیسے دھیما شور ہو]


شلپا (خود سے):

کیا کبھی کوئی رول... میرے نام کا بھی ہوگا؟


آکاش (نوٹس بک بند کرتے ہوئے):

کہانی میں درد کم ہے… چلو کسی اور اسٹروگلر سے ملتا ہوں۔


آکانشا (آنسو پونچھتے ہوئے):

ریجیکشن اب عادت بن چکی ہے…


---


[کلائمکس – وجو بھائی کا خطاب]


[SFX: خاموشی، میوزک تھوڑا بڑھتا ہے، وجو بھائی کی آواز گونجتی ہے]


وجو بھائی:

بچو... ایک دن، یہی ہوٹل کسی کی بائیوپک کا پہلا سین بنے گا۔

یہ اسٹروگلرس اڈا نہیں... یہ سنیما کا جنم استھان ہے!


---


[اختتامی منظر]


نیریٹر (پُرجوش مگر نرم انداز میں):

تو یاد رکھنا... اگر تم بھی کبھی ممبئی آؤ... اور ایک چائے، ایک خواب، اور ایک ڈائلاگ تمھارے پاس ہو...

تو "اسٹرگلرس اڈا" تمھارا ہے۔


[SFX: دھیرے دھیرے میوزک بلند ہوتا ہے اور fade out]


رابطہ مصنف : - علیم طاہر 

موبائل: 9623327923

________________________________


(C) Ragisterd:

Writer:

Aleem Tahir 

Email id aleemtahir12@gmail.com 

Mobile no. 9623327923.

-----------

Wednesday, 22 October 2025

Urdu ki bahar

🌿 उर्दू की बहार या दिखावे की फसल?


लेखक: अलीम ताहिर



---


🎉 उर्दू अकादमी का गोल्डन जुबली उत्सव


महाराष्ट्र स्टेट उर्दू अकादमी ने अपनी गोल्डन जुबली (50 साल पूरे होने) पर

“बहार-ए-उर्दू” के नाम से बहुत बड़ा कार्यक्रम किया।

ऊपर से तो यह उर्दू भाषा के प्रचार का उत्सव लग रहा था,

लेकिन असल में इसने बहुत से सवाल खड़े कर दिए —

ऐसे सवाल जो हमारे समाज, संस्कृति और खुद उर्दू की आत्मा से जुड़े हैं।



---


📜 निमंत्रण पत्र और बैनर — उर्दू कहाँ है?


जब कार्यक्रम का निमंत्रण पत्र लेखकों और शायरों के पास पहुँचा,

तो सबसे पहला सवाल यही उठा —

उर्दू का लिपि (रूप) कहाँ गया?


महाराष्ट्र उर्दू अकादमी के 50 साल पूरे होने वाले इस निमंत्रण पत्र में

90% हिस्सा उर्दू लिपि से खाली था।

ऐसा लगा जैसे उर्दू के अपने घर में ही उर्दू बेगानी हो गई हो।


क्या यह “उर्दू की बहार” है?

या उर्दू की “खबर” पर बहार का पर्दा डाला गया है?



---


🗣️ भाषा की राजनीति और उर्दू की चुप्पी


आज महाराष्ट्र में मराठी समाज अपनी भाषा के लिए बहुत सक्रिय है —

दुकानों, दफ्तरों, स्कूलों और कॉलेजों के नाम मराठी में लिखने की माँग ज़ोरों पर है।

लेकिन दूसरी ओर, उर्दू के सरकारी संस्थान

अपने ही कार्ड और बैनर पर उर्दू छोड़कर मराठी या अंग्रेज़ी में गर्व महसूस करते हैं।


यह विरोधाभास केवल भाषा का नहीं,

बल्कि हमारी संस्कृति के पतन का संकेत है।



---


🎬 साहित्यिक उत्सव या फिल्मी मेला?


कहा गया कि “उर्दू की बहार” का बजट 10 करोड़ रुपये का है।

लेकिन असली फायदा किसे हुआ?


जो लेखक, कवि, और शोधकर्ता

अपनी ज़िंदगी उर्दू के लिए समर्पित कर चुके हैं,

उन्हें मिले 15,000 से 1 लाख रुपये।

और पुराने फिल्मी कलाकारों को 10–30 लाख रुपये और आलीशान सुविधाएँ!


ऐसा लगा जैसे यह “उर्दू का उत्सव” नहीं,

बल्कि फिल्मी चमक का शो बन गया हो।



---


✍️ साहित्यकार कहाँ हैं?


अगर “उर्दू साहित्य अकादमी” का उत्सव

उर्दू के साहित्यकारों के बिना हो —

तो वह उत्सव नहीं, मज़ाक है।


उर्दू का असली ख़ज़ाना उसके लेखक, कवि और आलोचक हैं,

न कि वो लोग जिन्हें उर्दू का उच्चारण भी ठीक से नहीं आता।


अगर किसी फिल्मी चेहरे को “उर्दू की बहार” का प्रतिनिधि बना दिया जाए,

तो यह न सिर्फ भाषा का, बल्कि साहित्य की आत्मा पर हमला है।



---


🍂 बहार-ए-उर्दू या ज़वाल-ए-उर्दू?


यह “बहार” नहीं, बल्कि “ज़वाल” (पतन) की कहानी है।

जब उर्दू को ही उसके मंच, कार्ड और संस्थान से हटा दिया जाए —

तो उर्दू की रक्षा का उत्सव किस मुँह से मनाया जाए?


अगर यह “बहार” है,

तो फिर पतझड़ कैसी होगी?



---


🔦 निष्कर्ष (अंत में)


उर्दू की असली बहार तब आएगी

जब अकादमियाँ शोहरत नहीं, अध्ययन और साहित्य को केंद्र बनाएँ।

जब पुरस्कार पाने की नहीं, विचार और ईमानदारी की भूख हो।

और जब उर्दू के उत्सव से पहले

उर्दू लिपि को सम्मान दिया जाए।


क्योंकि अगर उर्दू अपनी पहचान खो दे —

तो कोई भी फिल्मी चेहरा,

कोई सरकारी कार्यक्रम,

उसे जिंदा नहीं रख सकता।


> तेरी आँखों का जादू बोलता है,

मैं सुनता हूँ — वो उर्दू बोलता है।





---


🌕 “उर्दू का उत्सव या उर्दू की परीक्षा?”


महाराष्ट्र अकादमी, साहित्य और संस्थागत पतन की कहानी

✍️ अलीम ताहिर



---


💭 जब साहित्य का उत्सव सोच से खाली हो जाए...


जब “साहित्य का उत्सव” सोच और भावना से खाली हो जाता है,

तो रोशनी की महफ़िलें भी अंधेरे पैदा करती हैं।

महाराष्ट्र स्टेट उर्दू साहित्य अकादमी के 50 साल पूरे हुए —

यह पल उर्दू के लिए गर्व और खुशी का होना चाहिए था,

लेकिन अफसोस, यह विवाद और दिखावे का रूप बन गया।


10 करोड़ रुपये के भारी बजट के बावजूद

लोगों के चेहरों पर मुस्कान नहीं,

सवाल हैं।


क्या यह “जश्न-ए-उर्दू” है?

या “उर्दू की परीक्षा”?



---


🌟 गोल्डन जुबली — सुनहरा मौका या काला सवाल?


1975 में जब उर्दू अकादमी बनी थी,

तब उसके आस-पास कृष्णचंद्र, इस्मत चुगताई, ख्वाजा अहमद अब्बास, सरदार जाफरी जैसे नाम थे।

वे लोग साहित्य को इंसानियत और सच्चाई का आईना मानते थे।


लेकिन आज, 50 साल बाद,

उसी अकादमी ने अपने पुराने दीपक खुद बुझा दिए।


10 करोड़ का बजट,

जो पूरे राज्य के साहित्यिक केंद्रों तक पहुँचना चाहिए था,

वो मुंबई की चमक-दमक में खो गया।


यह सिर्फ पैसों का नहीं,

विश्वास का बँटवारा भी है।



---


🎭 उर्दू अकादमी या एंटरटेनमेंट कंपनी?


जब साहित्य का उत्सव

मंच, रोशनी, और ग्लैमर का शो बन जाए,

तो समझ लीजिए शब्द मर गए हैं।


अब उर्दू भाषा नहीं, सजावट बन गई है।

लेखक अब सहभागी नहीं, शोपीस बन गए हैं।


जब कवि की जगह “ब्रांड” बोले,

तो अकादमी का असली उद्देश्य खत्म हो जाता है।



---


🏙️ मुंबई का एकाधिकार — बाकी शहरों की उपेक्षा


महाराष्ट्र में नांदेड़, मालेगांव, औरंगाबाद, शोलापुर —

ये सभी उर्दू के ज़िंदा केंद्र हैं।

यहाँ उर्दू बोली, समझी और लिखी जाती है।


फिर भी यह सारे शहर इस जश्न से बाहर क्यों रखे गए?

क्या उर्दू सिर्फ मुंबई की है?


अगर 10 करोड़ का बजट दस शहरों में बाँटा जाता,

तो यह सच में “राज्य स्तरीय” उर्दू उत्सव बनता।

लेकिन अब यह सिर्फ “मुंबई शो” बन गया है।



---


🏆 साहित्यिक पुरस्कार या फिल्मी शो?


जब पुरस्कार देने वाले के हाथ में किताब की जगह कैमरा हो,

और लेखक अपने लेखन की जगह “सेल्फी” में व्यस्त हो —

तो साहित्य की आत्मा खतरे में है।


पुरस्कार साहित्य की गरिमा बढ़ाते हैं,

पर अगर वे “रेड कार्पेट” पर दिए जाएँ,

तो वे सम्मान नहीं, अपमान बन जाते हैं।



---


✒️ उर्दू लिपि की बेदखली — एक खामोश खतरा


अगर सरकारी उर्दू अकादमी के निमंत्रण पत्र से ही

उर्दू लिपि गायब हो जाए,

तो यह गलती नहीं, बल्कि भाषाई निष्कासन (बेदखली) है।


जब कोई भाषा अपने लिपि से वंचित होती है,

तो केवल अक्षर नहीं मरते —

पूरी संस्कृति मर जाती है।



---


❓ अब भी बाकी हैं कुछ सवाल...


10 करोड़ का हिसाब कहाँ गया?


महाराष्ट्र के दूसरे जिलों को क्यों नज़रअंदाज़ किया गया?


अकादमी का साहित्यिक उद्देश्य “फिल्मी इवेंट” में क्यों बदला?


और सबसे बड़ा सवाल — उर्दू लिपि को क्यों हटाया गया?



ये सवाल सिर्फ उर्दू के नहीं,

बल्कि हमारे ज़मीर के सवाल हैं।



---


🌱 उर्दू का असली उत्सव क्या होता?


अगर यह बजट सच में उर्दू पर खर्च होता,

तो क्या-क्या नहीं हो सकता था?


राज्य स्तर पर साहित्यिक सम्मेलन


कॉलेजों में उर्दू के व्याख्यान और काव्य-गोष्ठियाँ


युवाओं के लिए लेखन कार्यशालाएँ


हर जिले में “उर्दू घर” और पुस्तक मेले



यही होता “उर्दू का सच्चा उत्सव” —

जहाँ पुराने दीपक बुझाए नहीं जाते,

बल्कि नए दीपक जलाए जाते हैं।



---


🕊️ अंतिम संदेश


साहित्य की शक्ति केवल शब्दों में नहीं,

बल्कि इरादे और ईमान में है।

अगर अकादमियाँ राजनीति का औज़ार बन जाएँ,

तो उर्दू का भविष्य “कार्यक्रमों” में नहीं,

“विचारों” में ढूँढना होगा।


> “उर्दू का उत्सव, उर्दू की परीक्षा” —

यह सिर्फ एक घटना नहीं, एक आईना है,

जिसमें हमें अपना चेहरा देखना होगा।




> ज़र्फ़ हर बार मरा ज़िद पे अड़ा रहता है,

हक़-ब-जानिब है जो दुनिया से लड़ा रहता है।




– अलीम ताहिर

🌿 Spring of Urdu or a Season of Show?


By Aleem Tahir



---


🎉 The Golden Jubilee of the Urdu Academy


On the occasion of its Golden Jubilee (50 years), the Maharashtra State Urdu Academy organized a grand celebration titled “Bahār-e-Urdu” (The Spring of Urdu).

At first glance, it seemed to be a festival dedicated to the promotion of the Urdu language.

But in reality, it raised many troubling questions —

questions connected not only to our society and culture, but also to the very soul of Urdu.



---


📜 Invitation and Banners — Where is Urdu?


When the invitation for this grand event reached writers and poets,

the first question that arose was —

Where has Urdu disappeared?


In the official invitation of the Urdu Academy’s 50th anniversary,

almost 90% of the text was not in Urdu script.

It seemed as if Urdu itself had become a stranger in its own home.


Is this the “Spring of Urdu”?

Or has a floral curtain been drawn over Urdu’s funeral?



---


🗣️ Language Politics and the Silence of Urdu


In Maharashtra today, the Marathi community is actively demanding

that the names of shops, offices, schools, and colleges be written in Marathi.

But on the other hand, Urdu’s own state institutions

are proudly issuing invitations in Marathi or English,

completely excluding Urdu from their own documents.


This is not just a linguistic contradiction —

it is a symbol of cultural decline.



---


🎬 A Literary Celebration or a Film Fair?


The so-called “Festival of Urdu” had a budget of ten crore rupees.

But the question remains — who actually benefited?


The writers, poets, and scholars who have devoted their lives to Urdu

were given between ₹15,000 and ₹1 lakh,

while fading Bollywood personalities were paid ₹10–30 lakh,

along with luxurious travel and vanity vans.


It appeared that this event was not meant to revive Urdu —

but to showcase glamour under Urdu’s name.

The festival turned from a celebration of thought

into a parade of publicity.



---


✍️ Where Are the Writers?


If the Urdu Sahitya (Literary) Academy organizes a festival

without the presence of Urdu’s own writers and thinkers,

then it is not a festival — it is mockery.


The true wealth of Urdu lies in its authors, poets, and critics,

not in people who can’t even pronounce Urdu properly.


If the faces of film and fashion are made the representatives of “Urdu’s Spring,”

then it is not just language that suffers —

it is literature’s very soul being wounded.



---


🍂 Spring of Urdu or Fall of Urdu?


This was not the “Spring of Urdu,”

but a chronicle of its decline.

When Urdu is erased from the stage, the invitation,

and even from its own Academy —

how can one celebrate the survival of Urdu?


If this is what we call “spring,”

then what would autumn look like?



---


🔦 In Conclusion


The true spring of Urdu will arrive

only when academies focus on research and literature,

not on glitter and showbiz.

When the hunger for ideals replaces the hunger for awards.

And when every Urdu celebration begins

with respect for the Urdu script itself.


Because if Urdu loses its identity —

no film star, no government event,

and no luxury van can bring it back to life.


> “The magic of your eyes speaks,

and the sound I hear — is Urdu itself.”





---


🌕 “Festival of Urdu or Test of Urdu?”


The Story of the Maharashtra Academy, Literature, and Institutional Decay

✍️ By Aleem Tahir



---


💭 When Literature Loses Its Thought...


When a “literary festival” loses its soul,

even a gathering full of light begins to create darkness.

The Maharashtra State Urdu Sahitya Academy completed 50 years —

a moment that should have been filled with pride and honor for Urdu.

Yet sadly, it turned into a spectacle of show and controversy.


Despite a massive ₹10 crore budget,

there was no joy — only questions.


Is this truly a “Festival of Urdu”?

Or is it a test of Urdu’s endurance?



---


🌟 Golden Jubilee — A Golden Moment or a Dark Question?


When the Academy was founded in 1975,

it was surrounded by names like Krishan Chander, Ismat Chughtai,

Khwaja Ahmad Abbas, and Sardar Jafri —

people who viewed literature as a light of truth, humanity, and freedom of thought.


But today, fifty years later,

the same Academy has dimmed those lights itself.


The ₹10 crore budget,

which should have strengthened literary centers across the state,

got lost in Mumbai’s glitter.


This is not just a misallocation of funds —

it is a division of trust.



---


🎭 Urdu Academy or Entertainment Company?


A literary event carries meaning

only when it nurtures thought, dialogue, and reading.

But when such events turn into corporate shows

filled with microphones, lights, and glamour —

then words begin to die.


Urdu is no longer treated as a language, but as a decoration.

The writer is no longer a participant, but a showpiece.

When “brands” start speaking instead of poets —

the Academy has lost its purpose.



---


🏙️ Mumbai’s Monopoly — The Neglect of Other Cities


Cities like Nanded, Malegaon, Aurangabad, and Solapur

are living centers of Urdu in Maharashtra.

Urdu is spoken, taught, and written there passionately.


Then why were these cities excluded from the Golden Jubilee?

Is Urdu now considered the property of Mumbai alone?


If the ₹10 crore budget had been shared across ten cities,

this would have been a true state-level celebration of Urdu.

Instead, it became a Mumbai-centric show,

leaving the rest of the state as silent spectators.



---


🏆 Awards or Glamour Shows?


When those who give awards hold cameras instead of books,

and the recipients prefer selfies with celebrities

over their own literary work —

then literature’s spirit is in danger.


Awards are meant to honor literature,

but when given on the red carpet of showbiz,

they turn into insults.


The dignity of literature lies in its words,

not under the spotlights of the stage.



---


✒️ The Silent Danger — Exile of the Urdu Script


If the official Urdu Academy itself

removes Urdu script from its invitations,

that is not a small oversight —

it is an act of linguistic exile.


When a language loses its script,

not only its letters die —

its entire civilization begins to fade.



---


❓ Unanswered Questions


Where did the ₹10 crore go?


Why were other Urdu-rich districts ignored?


Why was the Academy’s literary purpose turned into a film event?


And why was Urdu script removed from its own invitation?



These are not just questions for Urdu —

they are questions for our collective conscience.



---


🌱 What Would a True Festival of Urdu Look Like?


If that budget had truly served Urdu,

imagine what could have been achieved:


State-level symposia on Urdu fiction, poetry, and criticism


Literary lectures and mushairas in schools and colleges


Writer residencies and youth workshops


“Urdu Houses” and book fairs across districts



That would have been the true celebration of Urdu —

where old lamps are not extinguished,

but new lamps are lit.



---


🕊️ Final Message


The existence of literature lies not just in words,

but in intention, light, and integrity.

If academies serve politics instead of literature,

then Urdu’s future will not be found in ceremonies,

but in conscience and creativity.


> “The Festival of Urdu, The Test of Urdu” —

is not merely an event, but a mirror,

in which we must all see our own reflection.




> “My spirit always stands firm in defiance —

for truth belongs to those who dare to fight the world.”




– Aleem Tahir

Friday, 10 October 2025

ناصر شیخ مالیگاؤں کے منفرد ڈائریکٹر

🎬 ناصر شیخ — مالی ووڈ کے منفرد ڈائیریکٹر ، جنہوں نے مالیگاؤں کا نام دنیا کے پردے پر روشن کیا
تحریر: علیم طاہر

> "جہاں ممبئی خوابوں کا شہر ہے، وہیں مالیگاؤں خوابوں کا جنون ہے —
اور اس جنون کا نام ہے ناصر شیخ۔"




---

🌟 ابتداء: پرنس ویڈیو پارلر سے شروع ہوا خواب

مالیگاؤں کی قدوائی روڈ پر ناصر شیخ کا ایک چھوٹا سا تھیٹر تھا — “پرنس ویڈیو پارلر”۔
1993 میں وہ وہاں چارلی چیپلن، بروس لی اور آرٹ فلمیں دکھایا کرتے تھے۔
یہی سے ان کے دل میں فلم سازی کا شوق اور تجسس جاگا۔

رفتہ رفتہ انہوں نے وی سی آر چلانا، فلم ایڈیٹنگ اور کیمرہ آپریٹنگ سیکھ لی۔
مالیگاؤں کے عوام کے لیے یہ ایک نیا اور منفرد تفریحی ذریعہ بن گیا۔
اسی دوران ان کے ذہن میں ایک خیال آیا —
“کیوں نہ مالیگاؤں کی اپنی فلم بنائی جائے؟”


---

🎥 "مالیگاؤں کے شعلے" — پہلا خواب حقیقت بنا

1997 میں ناصر شیخ نے مالیگاؤں کی پہلی مقامی فلم بنائی —
نام تھا “مالیگاؤں کے شعلے”۔
یہ مشہور فلم “شعلے” کا مالیگاؤں ورژن تھی۔

فلم میں مقامی فنکاروں نے کام کیا۔
نہ بڑا بجٹ تھا، نہ بڑے اداکار —
صرف جذبہ، محنت، اور ہنر تھا۔

جب فلم پرنس ویڈیو پارلر میں دکھائی گئی،
تو عوام نے ہاتھوں ہاتھ لے لیا۔
دو مہینے تک فلم ہاؤس فل رہی۔
لوگ بڑے سینما چھوڑ کر چھوٹے پارلر میں یہ فلم دیکھنے آتے۔
یہ ہنسی اور مزاح سے بھرپور فلم لوگوں کے دلوں میں گھر کر گئی۔


---

🎭 فلم کے فنکار

فلم میں
دھرمندر کا کردار علیم طاہر نے ادا کیا،
امیتابھ بچن کا رول شفیق بچن نے،
گبر سنگھ بنے عرفان الیاس،
بسنتی کا کردار ممبئی کی تھیٹر آرٹسٹ آکانشا نے کیا،
اور جگدیپ بنے شفیق پیٹر۔
ڈاکو کا کردار مقیم مینا نگری نے ادا کیا۔

مصنف تھے — اکرم شیخ اور حامد سُہانی۔
یہ فلم ناصر شیخ کی سوچ، ہمت اور محنت کا نتیجہ تھی
جس نے مالیگاؤں میں فلم سازی کی ایک نئی راہ دکھائی۔


---

🌠 "مالیگاؤں کی شان" سے "سپر مین آف مالیگاؤں" تک

پہلی فلم کی کامیابی کے بعد ناصر شیخ نے کئی فلمیں بنائیں —
“مالیگاؤں کی شان”, “مالیگاؤں کا سپر مین” جیسی فلموں میں
انہوں نے مزاح، سماج اور پیغام کو خوبصورتی سے جوڑا۔

“سپر مین آف مالیگاؤں” میں انہوں نے محدود وسائل کے باوجود
سپر مین کو اُڑتے ہوئے دکھایا —
یہ منظر آج بھی ناظرین کے ذہنوں میں تازہ ہے۔


---

🌍 دنیا بھر میں شہرت — "Supermen of Malegaon"

وقت گزرتا گیا۔
ناصر شیخ کی قابلیت نے ممبئی کے مشہور فلمسازوں کو متوجہ کیا۔
پونے فلم فیسٹیول میں زویا اختر نے ان سے ملاقات کی
اور وعدہ کیا کہ ایک دن وہ ان پر فلم بنائیں گی۔

کچھ سال بعد زویا اختر، فرحان اختر، ریتیش سدھوانی اور ریما کاغتی کی پروڈکشن میں
“Superboys of Malegaon” کے نام سے ایک بڑی ڈاکیومینٹری فلم بنی۔
اس کا بجٹ تقریباً 30 کروڑ روپے تھا۔

یہ فلم کینیڈا، لندن اور دیگر بین الاقوامی فلمی میلوں میں دکھائی گئی۔
دنیا بھر کے تھیٹروں میں ریلیز ہوئی اور زبردست کامیاب رہی۔
جاوید اختر کے بقول:

> “پندرہ سالہ فلم انڈسٹری میں ایسی شاندار فلم نہیں دیکھی۔”



یہ مالیگاؤں کے لیے بہت بڑی کامیابی تھی۔

“مالیگاؤں کے شعلے” کے بعد ناصر شیخ کو "کرنال کمپنی" سے
“خانदेश کی بارات، خانदेश کا جَوائی” نامی فلم کی پیشکش ملی
جسے ناصر شیخ نے بہترین انداز میں بنایا،
اور وہ فلم بھی بے حد پسند کی گئی۔

مشہور فلم ساز ڈپٹی بھٹناآگر کی کمپنی کی طرف سے
انہیں سیریل “مالیگاؤں کا چنٹو” کا آفر ملا
جو دنیا کے مختلف ممالک میں فلمایا گیا۔

اس سیریل کی ہدایتکاری ناصر شیخ نے کی —
جو ان کا بڑا کارنامہ مانا جاتا ہے۔
“مالیگاؤں کا چنٹو” میں ناصر شیخ نے خاموش مزاح کے ذریعے
ناظرین کو ہنسا ہنسا کر لوٹ پوٹ کر دیا۔
ان کا ٹیلنٹ پوری دنیا میں گونج اٹھا۔


---

💬 ناصر شیخ کا فلسفہ — ہنسی میں چھپا پیغام

ناصر شیخ کی فلموں میں صرف مزاح نہیں ہوتا،
بلکہ ہر کہانی میں ایک سماجی پیغام چھپا ہوتا ہے۔
وہ ہمیشہ کہتے ہیں —

> “میری کامیابی میری نہیں، مالیگاؤں کے فنکاروں کی کامیابی ہے۔”




---

🌈 اختتامیہ — مالیگاؤں سے دنیا تک کا سفر

ناصر شیخ کی کہانی صرف ایک فلم میکر کی نہیں،
بلکہ ایک خواب اور جدوجہد کی کہانی ہے۔
انہوں نے یہ ثابت کیا کہ
اگر لگن، جنون اور تخیل ہو،
تو مالیگاؤں جیسے چھوٹے شہر کا فنکار بھی
دنیا کے پردے پر اپنی شناخت بنا سکتا ہے۔


---

📍 تحریر: علیم طاہر
(فلم و ادب کے محقق، مالیگاؤں)

Friday, 12 September 2025

Aleem Tahir ki pachchees nazme

ٹایٔٹل:

 "علیم طاہر کی نظمیں" 
       (ادب اطفال)
 
("بطور خاص بچوں کے لئے،
 علیم طاہر کی پچیس(25)
 نظموں کا دلچسپ مجموعہ")
(حصۂ اول) 
________________________________
 
کتاب کا نام:  "علیم طاہر کی نظمیں"
(ادب اطفال)
بطور خاص بچوں کے لئے ،علیم طاہر کی پچیس (٢٥) ، نظموں کا دلچسپ مجموعہ)

________________________________

           ( ادب اطفال )
 
فہرست:

01...........حمد
02...........بچہ اور اردو
03۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بارش
04۔۔۔۔۔۔۔۔مثالی مدرس 
05۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔گھوڑا اور بکرا
06۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔باپ
07۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ماں
08۔۔۔۔۔۔۔‌شیر اور خرگوش
09۔۔۔۔۔۔۔۔۔صبح سویرے
10۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جھاڑو والا
11۔۔۔۔۔۔۔۔میرا پیارا پیارا گاؤں
12۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مری اردو زباں
13۔۔۔۔۔۔۔۔ بیٹیاں
14۔۔۔۔۔۔۔۔۔چڑیا اور جگنو
15۔۔۔۔۔۔۔۔۔دھوپ
16۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔طوطا
17۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پیارے گاندھی جی 
18.......شیر اور چوہا
19.......تتلی اور بچّہ
20.........پیاسا کوّا
21..... اک بچّے نے چاند سے بولا
22......... ابّا ابّا سنو تو ابّا
23.........چیتا اور گدھا
24...........ایک بیٹی کی پیاری باتیں
25............دو بلیاں

________________________________
:::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::

( ادب اطفال)

 نمبر 01:
حمد........................علیم طاہر

قلب میں دھڑکن بن کر اترا نام ترا
سارے ناموں میں ہے پہلا نام ترا

ساگر ساگر بولیں موجیں یا اللہ
ورد کرے ہے دریا دریا نام ترا

رات اور دن پر تیرا نام مسلط ہے
لے کر نکلے سورج چندا نام ترا

صبح ہوئی تو پھول پھول کے چہرے پر
شبنم کے قطروں میں چمکا نام ترا

بادل بادل سرد ہوا کے جھو نکو ں سے
قطرہ قطرہ بول کے برسا نام ترا

اڑتے اڑتے پنجھی ہر دم لیتے ہیں
وادی وادی صحرا صحرا نام ترا

کیڑوں کو دی تو نے غذائیں پتھر میں 
پتھر کے اندر بھی گونجا نام ترا

مستانے انداز میں پل پل یاد کرے
شجر شجر کا پتہ پتہ نام ترا

روشن لعل و گوہر تیرے نام سے ہیں
لے کر چمکے پل پل مولا نام ترا

جگنو تتلی بھنو رے تیرا ذکر کرے
ہر گل میں ہیں مہکا مہکا نام ترا

صدف کھلی تو پھیلا نور اندھیرے میں
طاہر نے بھی روشن پایا نام ترا

(C):Aleem Tahir
Adab e Atfaal
Hamd no.01.
Email id: aleemtahir12@gmail.com
Mobile no.9623327923.

.........................................۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 02:( ادب اطفال )
نظم نمبر:02۔۔۔۔۔" بچہ اور اردو " 
                                       علیم طاہر

تو  چاہت سکھاتی  ہے،  چاہوں گا  اردو
ترے   ساتھ   رشتہ   نبھاؤں   گا   اردو
دیوانہ ہوں تجھ کو ہی سوچوں گا اردو
لکھوں گا پڑھوں گا میں بولوں گا  اردو۔۔۔۔۔

بزرگوں کا ماضی تجھی  سے  ملے  گا
 مرا دل ہے غنچہ ،تجھی سے  کھلے گا
جو دل زخمی ہو گا تجھی سے سلے گا
چلوں گا  ترے  ساتھ  ٹھہروں گا  اردو
لکھوں گا پڑھوں گا میں بولوں گا اردو۔۔۔۔۔

زمانے  میں   یوں  تو کئی  ہیں  زبانیں 
تجھی  پر  مگر سب لٹاتے  ہیں  جانیں
سبھی تجھکو بولے سبھی تجھکو مانیں
ترانوں سے  تیرے  میں بہلوں گا  اردو
لکھوں گا پڑھوں گا میں بولوں گا اردو۔۔۔۔۔۔

زباں  مادری  میری   تو  ہی  زباں  ہے 
زباں ترے جیسی کوئی بھی  کہاں ہے
تو ہی میرا دل ہے  تو میرا  جہاں  ہے
لگا کر گلے تجھ کو  چوموں  گا  اردو
لکھوں گا پڑھوں گا میں بولوں گا اردو۔۔۔۔۔۔۔

                       علیم طاہر 

(C: 02:
Aadab e Atfaal
Nazm no:02
"Bachcha Aur Undu"
Aleem Tahir.
Email id: aleemtahir12@gmail.com
Mobile no.9623327923.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 03:  ( ادب اطفال )
        نظم ۔۔۔۔۔نمبر 02  " بارش  "
                                  علیم طاہر

دھوم مچائے رنگ جمائے 
 رنگ   برنگے  گل  مہکائے
 جنگل جھومے اور مسکائے
 پنچھی پنچھی شور مچائے
 ہر جانب جل  تھل ہو جائے
 جب بھی چھم چھم بارش آئے 

 دریا   دریا  آئی  روانی
 ہر ذرے پر چھائی جوانی
 یوں ہی دنیا نہیں دیوانی
 بارش کی خوش رنگ کہانی
 خوشیوں کے سب تحفے لائے
 جب بھی چھم چھم بارش آئے 

 فلک   فلک    بادل   گرجے   ہیں
 دھنک دھنک جلوے بکھرے ہیں
 چھنک چھنک قطرے ٹپکے ہیں
 مور      تھرکتے   پر     پھیلائے
 جب بھی چھم چھم  بارش آئے

امبر پر ہلکی لالی ہے
ہر سو چھائی ہریالی ہے
 رنگ برنگی خوشحالی ہے
شاخیں جھومیں ،کوئل گاۓ
جب بھی چھم چھم بارش آئے

(C) : 03
(Aadab e Atfaal)
Nazm no.03
Aleem Tahir.
Mob no.9623327923
Email id: aleemtahir12@gmail.com

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 نمبر 04:ادب اطفال
         نظم نمبر 04:مثالی مدرس
                                       علیم طاہر

خدا کی ہے رحمت مثالی مدرس
 ہےدولت ہی دولت مثالی مدرس

 منور کرے علم کی روشنی سے
مشرف کرے دل کو ہر اک خوشی سے

 کرے ہم میں پیدا جو خود اعتمادی 
قدم ہر قدم جس نے  ہم کو  دعا  دی

 بحسن عمل   جو    فرائض   نبھائے
 ہمیں سچ کی راہوں پہ چلنا سکھائے 

جو ماہر ہے تحریر و تقریر میں بھی
 جو ظاہر ہے ہستی کی تفسیر میں بھی

 رکھے قوت فیصلہ بھی جو محکم
 کرے پست ہمت نہ جس کی کوئی غم

 جو طلبہ کی فکروں کو پہچانتا ہو
 عبادت جو تدریس کو جانتا ہو

 بدل دے جو فکروں کو حسب ضرورت
 جو ہم کو سکھائے معیاری خطابت

 جو واقف ہو رجحان تعلیم سے بھی
 رکھے منسلک خود کو تسلیم سے بھی

 رہے  باخبر  سب کی  سرگرمیوں  سے
 مخاطب جو طلبہ سے ہو نرمیوں سے 

جو صبر و تحمل کا دامن نہ چھوڑے
 کرے جو بھی وعدہ تو وعدہ نہ توڑے

 جو ہے باشعور اور وسیع النظر بھی
 جو ہے مستند علم کا ہم سفر بھی

 جو مرکز ہے علم و عمل کے جہاں کا
 اہم ایک کردار ہے داستاں کا

 کرے استفادہ جو ہر تجربے سے
 بڑھے ہر قدم  علم کا حوصلے سے

 لچکدار جس کا رویہ ہو سب سے
 کرم پائے مخصوص جو اپنے رب سے

 سراپا شرافت مثالی مدرس
اے طاہر حقیقت مثالی مدرس

 ( C )Aleem Tahir.
04:Aadab e Atfaal
Nazm no 04: Misali Mudarris
By Aleem Tahir.
Mobile no.9623327923
Email id.aleemtahir1@gmail.com.
________________________________

 نمبر 05(ادب اطفال)

        نظم نمبر 05 " گھوڑا اور بکرا "
                             نظم نگار : علیم طاہر 

اک   گھوڑا    ہٹا   کٹا  تھا
 ساتھ اسکے مالک رہتا تھا
 گھوڑا  اب  بیمار  ہوا  جو 
صحت  سے لاچار  ہوا  جو
 مالک  نے  ڈاکٹر  کو   بلایا
 پھر گھوڑے  کا  ڈاکٹر  آیا 
دیکھا , پڑا   ہوا  ہے  گھوڑا
 لاغر  سا , ادھمرا ہے گھوڑا
 ڈاکٹر نے پھر کھولا, جھولا
 دوا دیا ، دس دن  کی، بولا
 دس دن میں ہو ٹھیک تو، بہتر
 مار دو  ورنہ ، زہر  ہی  دے  کر 
ساتھ   وہیں ،  بکرا    بیٹھا   تھا 
 غور سے سب کچھ دیکھ رہا تھا
 گھوڑا  اٹھ  پایا  نہ، دوا   سے
 بولا  بکرا  کان  میں   جا   کے 
بھائی  تھوڑی  کوشش کر  کے
 کھڑا ہی ہو جا ،جان کے ڈر  سے
 مار ہی دیں گے، ورنہ، تجھ   کو
 فکر   لگی  ہے   تیری  مجھ   کو
 اٹھا نہ گھوڑا ،دس دن  بیتے
 مالک   نکلا  ، زہر    کو   لینے
 ایک  دفعہ ،  پھر   بولا   بکرا 
مرے گا اب تو، کھڑا ہی ہو جا 
مار ہی دیں گے , آج  تجھے  یہ
 خبر ہوئی ہے, ابھی مجھے  یہ
 گھوڑے میں کچھ  ہمت   آئی
 موت  کے  ڈر  سے  قوت   آئی
 دھیرے دھیرے کھڑا ہوا  وہ
 ذرا چلا ،  پھر  دوڑ   پڑا  وہ
 مالک   زہر   جو  لے   کر   آیا 
دوڑ   رہا   ہے   گھوڑا    دیکھا
 جھوم اٹھا, خوشیوں میں آ کر
 بولا    یاروں    سے،   چلا    کر
 اچھی  گھوڑے  کی  صحت  ہے!
 رات کو  بکرے  کی   دعوت  ہے!
 اس  قصے  سے  سیکھا  ہم   نے
 عقل  کے  ذریعے  دیکھا  ہم   نے
 خوب  کرو   اوروں   کی    پروا
 اپنی   پرواہ   بھول   نہ     جانا

                    
(C):
(05)Aadab e Atfaal 
"Ghoda Aur Bakra "
By Aleem Tahir
Email id:
aleemtahir12@gmail.com
Mobile no.9623327923.
________________________________

 ادب اطفال 06:
(باپ).....نظم نمبر 06...علیم طاہر

(ماں کے موضوع پر کافی شاعری اور نثردنیائے ادب میں موجود ہے  لیکن باپ کے موضوع پر خال خال ہی مواد ملتا ہے جبکہ کہا گیا ہے کہ  ماں کے قدموں کے نیچے جنّت ہے تو باپ جنّت کا دروازہ ـ  یہ گیت باپ کے نام ،  فخر و انبساط کے ساتھ ـ ( علیم طاہر ).....

(ادب اطفال) نظم۔نمبر 06 ......…...  " باپ " 
                                علیم طاہر 

    رنگ برنگے ہیں کھلونے باپ سے
    پیارے سپنے ہیں سلونے باپ سے 
    باپ سے جواں ہیں سارے حوصلے
    باپ  سے  آسان   اپنے    راستے
      گھر کی  جگمگاتی  شان  باپ ہے 
   خواب، فخر اور دھیان باپ  ہے

  باپ ہی ہے  دیپ باپ تیل ہے
  باپ ہی سے ہنستے گاتے کھیل  ہے
  آرزؤ ں   کا   ہے   آسمان   باپ
  ہر گھڑی  ہے  ہم پہ مہربان  باپ 
       مسکراہٹوں کی جان  باپ ہے  
     گھر کی  جگمگاتی شان باپ ہے 
      خواب،فخر اور دھیان باپ ہے

  باپ ہی سے زندگی کے رنگ و روپ
  باپ ہی سے چھاؤں بنے ،سخت دھوپ
  باپ  دکھ  کو سہہ  کے سکھ عطا کرے
  رحمتیں  ہوں  با پ    پر   خدا  کرے
    ماں  کے  اپنے  درمیان  باپ   ہے 
     گھر کی جگمگاتی شان  باپ  ہے
     خواب، فخر اور دھیان باپ ہے

Topic (Baap)  a geet by Aleem Tahir .

________________________________

 (ادب اطفال) نمبر 07

        نظم نمبر  : 07    (ماں)
                                     علیم طاہر

گھنیرے پیڑ کی ٹھنڈی ہوا سی چھاؤں لاگے ماں
سدا سورج نکلنے سے ہی پہلے گھر میں جاگے ماں

 نہیں کھانے کی ضد میں بھاگ پڑتا ہے کبھی بچّہ 
نوالہ لے کے اس بچّے کے پیچھے دیکھو بھاگے ماں

سنبھالےرہتی ہےکس طرح نا زک رشتے ناطوں کو
کبھی بھی ٹوٹنے  دیتی نہیں  یہ کچےّ  دھا گے  ما ں

بہو  بیٹی  ہو  یا   پھر  ہو  بہن   بیو ی  ،  کوئی  رشتہ
 قطاروں میں بھی  رشتوں کی یہاں ہے سب سے آگے ماں

اے  طاہر  جو  ملا  ہم  کو ، ملا  ما ں  کی  دعا ؤ ں  سے
 جو  تیری  قدر  نہ  جانے  وہ  ہے  کتنے   ا بھاگے  ماں 

(c)...(maan)...by...AleemTahir.
_______________________________

 ادب اطفال نمبر 08 ۔۔
   نظم نمبر 08 "شیر اور خرگوش"
                                 علیم طاہر

جنگل کی ویران راہ سے اک خرگوش چلا تھا
 شیر ادھر جو آ نکلا تو رک کر بہت ڈرا تھا 

شیر نے پھر خرگوش سے پوچھا کہاں چلے خرگوش 
تھر تھر تھر تھر کانپ کےچپ تھا اڑے تھے اس کے ہوش

 سمجھ گیا تھا خیر نہیں ہے جائے گی اب تو جان
 اک ترکیب سمجھ میں آئی کہنے لگی زبان

 کنویں کے ایک شیر نے مجھ کو بلوایا ہے آج 
کنویں میں رہ کر کرتا ہے وہ جنگل پر راج

 شیر دہاڑا، کنویں کا بھی کوئی شیر یہاں ہے ؟
کبھی تو ہم نے نہیں سنا تھا اور دیکھا بھی کہاں ہے؟

 تب خرگوش نے بات بنائی! بولا  مرے حضور! 
وہ کنویں میں رہتا, ورنہ آتا نظر ضرور

 اک اک کر کے سب کو بلاتا ،کھاتا ،موج اڑاتا
 اب جو یقیں نہ آئے تو خود چل کر میں دکھلاتا

 شیر نے پوچھا کیسے آیا وہ کنویں کا شیر
 بولا پھر خرگوش ،نہ جانوں، چلیے ہوگی دیر

 گرجا! بولا, شیر گرج کر۔ ," مزہ چکھاؤں گا"
 جس نے سب کوکھایا اس کو موت دکھاؤں گا

 بولا یہ خرگوش ادب سے وہاں چلیں نہ آپ 
بہت ہی موٹا تازہ ہے وہ، کیے ہیں اس نے پاپ

 کہیں آپ کو وہ کوئی نقصان نہ پہنچا دے
 یہی  سوچ  کر  دل  میرا  اندر  اندر  کانپے 

چلا کر پھر  شیر نے  بولا  ہمیں  ڈراتے  ہو
 چلو بتاؤ کہاں ہے وہ ،کیوں وقت بتاتے ہو

 نہیں مانتے آپ تو  چلیے،  ابھی بتاؤں گا
 پاس کنویں کے لےجا کرمیں اسے دکھاؤں گا

 ایک کنویں کے پاس رکا، اور بولا پھر خرگوش
 اس میں رہتا ہے وہ دیکھو، بھرا ہے اس میں جوش

 شیر نے کنویں میں جو جھانکا ،اپنا عکس ہی پایا 
وہ سمجھا کوئی دوسرا  شیر  ہے اس کو غصہ آیا 

دیکھ کے اس نے خوب دہاڑا، جیسے ہی وہ ٹھہرا 
ویسی ہی آواز  آئی تھی کنواں بہت تھا گہرا 

 یہ سن کر غصے میں آیا  اور   کودا   اندر
 احمق شیر تو  ڈوب گیا پر سبق دیا مر کر 

پیارے بچو! جوش میں اپنا ہوش نہیں کھونا 
احمق شیر کی طرح جان سے ہاتھ نہیں دھونا 

(C)Nazm:
"Sher Aur khargosh "
By:
Aleem Tahir
Email id: aleemtahir12@gmail.com
________________________________

 ادب اطفال نمبر 09.

  نظم نمبر 09۔۔۔صبح سویرے

آنکھیں کھولو، چھوڑو بستر, صبح سویرے
پیارے  بچو  ،  دیکھو  باہر , صبح  سویرے

بابا امبر، صوفی دھرتی ,  اڑتے  پنچھی
 کیا کیا ہے ،نورانی منظر,  صبح سویرے

غسل سے فارغ، ہو کر لو ،تھوڑی ورزش
کام یہی ہے ،سب سے بہتر, صبح سویرے

فجر نمازیں ادا کرو ، مسجد میں جا کر
کرو دعائیں ہاتھ اٹھا کر , صبح سویرے

جو مانگو گے ،تمہیں ملے گا،کرو دعائیں 
سب کے لئے ہے،  اللہ اوپر,  صبح سویرے 

جلد اٹھے جو، نہیں پڑے بیمار  کبھی  وہ
 ہاتھ پھرے قدرت کا سرپر , صبح سویرے

رات کو  جلدی   سونا ہو گا  ،پیارے بچو !
آنکھ کھلے گی تب ہی جاکر ,صبح سویرے
                   
                                          علیم طاہر 

(C)Aleem Tahir 
Adab e Atfaalno. 09
Nazm no.09.
"Subh Sawere "
Email id: aleemtahir12@gmail.com
Mobile no:
9623327923.
________________________________

 ادب اطفال نمبر:10
: نظم نمبر  10 " جھاڑو والا "

                       * علیم طاہر

دیکھو  جھاڑو  والا   آیا 
اچھی اچھی جھاڑو لایا 

لمبی ،چھوٹی،موٹی،  پتلی
کتنی جھاڑو ،اچھی، اچھی

گلی گلی   آواز      لگا   کر
 پھرتا ہے سائیکل پر آ   کر

رک رک کر آگے بڑھ جا ۓ
گردن  پر  جھاڑو   لٹکاۓ 

کوئی  بلاۓ  تو   رک  جائے 
رک کر ہر  جھاڑو  دکھلاۓ

لمبی،  پتلے  ریشے  والی
یہ ہے فرش پہ دینے والی

آنگن    والی  موٹی  جھاڑو 
لے لو اچھی چھوٹی جھاڑو

خوبی  جھاڑو  کی  گنواۓ
دل جیتے  اور  قیمت  پاۓ

                             علیم طاہر

(C):Adab e Atfaal: no.10
Nazm no.10:  "Jhadu wala"
Email id: aleemtahir12@gmail.com
Mobile no.9623327923.
________________________________

 ادب اطفال نمبر 11.
نظم نمبر: 11
"میرا پیارا پیارا گاؤں"

                          *  علیم طاہر

میرا   پیارا   پیارا   گاؤں
 جنت   کا   نظارا   گاؤں

جب بھی گھر سےنکلوں میں
 کیا کیا منظر  دیکھوں  میں

چاروں جانب ٹیلے ہیں
 سب منظر رنگیلے ہیں

صبح نکلتا وہ سورج
 کھلا ہوا ہے ہر پنکج
 
 پگڈنڈی   ہے   کھیتوں  میں
سوندھی خوشبورستوں میں

برگد  کے  نیچے    ٹھہرو 
پنگھٹ   کا منظر  دیکھو
 
فلک فلک اڑتے پنچھی
 دھرتی پر باجے بنسی

جھرنوں سے گرتا پانی
ندیا بھی  ہے  مستانی

جھیل کی اپنی دنیا ہے
منظر  منظر  سپنا   ہے

 پیڑوں کے گہرے سائے 
گرمی میں ٹھہرے ساۓ

جب  چھاۓ   کالے  بادل
فلک سے برسے ٹھنڈا جل

جب ہو سردی کا موسم
تب   ہو  خوابیدہ  عالم

لہکے  ،    مہکے     ہریالی
مرے گاؤں میں خوشحالی

میرا  پیارا   پیارا    گاؤں
جنت۔  کا   نظارا    گاؤں

                     علیم طاہر

(C): Nazm no.11.
Email id:
aleemtahir12@gmail.com.

________________________________

 "ادب اطفال نمبر 12"

      نظم نمبر 12:میری اردو زباں
                               علیم طاہر 

 دنیا کی زبانوں میں دیکھا تجھ جیسی کوئی بھی ملی کہاں ؟
میری پیاری زباں ،میری اردو زباں ،میری پیاری زباں میری اردو زباں

 
 رہتی دنیا تک رہے صدا ایسے ہی ہیں سرتال ترے
 حالی ,والی ,اعجاز, داغ, میر و غالب, اقبال, ترے 
محفوظ ہیں تجھ میں تاریخیں, خود میں رکھے، صدیوں کے نشاں
 میری پیاری زباں, میری اردو زباں, میری پیاری زباں میری اردو زباں

 

 تیرا لہجہ ہے جادو جیسا, گھنگرو تجھ میں خوشبو تجھ میں
 گل ،شبنم، تتلی، تجھ میں ہے, چندہ تارے جگنو تجھ میں
 محفوظ ہیں تجھ میں تاریخیں، خود میں رکھے، صدیوں کے نشاں 
میری پیاری زباں میری اردو زباں میری پیاری زباں میری اردو زباں

                              علیم طاہر 

(C) Abab e Atfaal no.12.
Nazm:"Meri Urdu zubaa "
By Aleem Tahir
Email id: aleemtahir12@gmail.com
9623327923.
________________________________

 ادب اطفال نمبر: 13
نظم نمبر13:
              'بیٹیاں '
                    علیم طاہر 

پریاں  ہیں پیاری پیاری، پریاں،  بیٹیاں
 ننھی شاخوں پہ کھلتی، کلیاں، بیٹیاں

 ان کے  آنے  سے  آیا,  نور , خدا  کا
 ان کے ہونے سے چمکا, رنگ, وفا کا
 ان کے رہنے سے مہکا , باغ,  ادا  کا 
پریاں ہیں پیاری پیاری پریاں، بیٹیاں
 ننھی شاخوں پہ کھلتی کلیاں، بیٹیاں

 ان کے سبب سب گھر میں اجالے ہیں
 ان  کے  سبب  جنت  کے  حوالے  ہیں
 ان  کے  سبب  تقدیر  میں  نوالے  ہیں
 پریاں ہیں پیاری پیاری پریاں ، بیٹیاں
 ننھی شاخوں پہ کھلتی ,کلیاں ،بیٹیاں

 ماؤں کے ہونٹوں  مسکان ان سے ہے
 باپوں کی آن, بان, شان, ان سے ہے
 اپنے گھروں کی, پہچان, ان سے ہے
 پریاں ہیں پیاری پیاری ، پریاں ،بیٹیاں
 ننھی شاخوں پہ کھلتی ،کلیاں، بیٹیاں

(C):Adab e Atfaal no ۔13
Nazm no.13:
By Aleem Tahir
Email id: aleemtahir12@gmail.com.
Mobile no.9623327923.
________________________________

 ادب اطفال نمبر: 14
                   "چڑیا اور جگنو"
                      علیم طاہر

 صبح ہوئی اور گھونسلے سے نکلی چڑیا
 اڑتے  اڑتے   دور   جنگل   پہنچی   چڑیا

 کھانے پینے میں گزرا دن سارا  اس  کا 
آ ہی گیا بن کر دشمن  اندھیارا  اس  کا

 اس نے سوچا اب میں کیسےگھر جاؤں گی
 اندھیارے  میں کہاں کہاں پر  ٹکراؤ ں  گی

 جب وہ چڑیا بہت دکھی تھی دیکھااس کو
 اک جگنو نے   ہمدردی سے  پوچھا  اس کو

 بی چڑیا غمگین ہو اتنی کیوں تم بولو ؟
کیا ہے غم کا راز ذرا یہ  مجھ پر کھولو

 بولی  چڑیا "  بھائی  کتنا    اندھیارا   ہے "
"گھر جاؤں گی کیسے اس کا دکھ سارا ہے"

 جگنو بولا  "بی  چڑیا بس  بات ہے  اتنی"
" میں رستہ دکھلاؤں گا یہ رات ہے جتنی"

 جگنو کہہ کر اڑا ہی  تھا کہ  ہوئی  روشنی
 پیچھے پیچھے اڑی تھی چڑیا ملی روشنی

 آہی گیا  پھر  اڑتے  اڑتے  گھر  چڑیا  کا 
ختم ہوا تھا دل میں جو تھا ڈر چڑیا کا 

بولی چڑیا ، " جگنو بھائی  !   تم اچھے  ہو"
 نیک بھی ہو ہمدرد بھی ہو اور اک سچے ہو

 جو اچھے رہتے ہیں وہ آتے ہیں کام
 اچھائی کا رب سے پاتے  ہیں  انعام

 ہنس  کر  اڑتے   اڑتے  نکلا   آگے  جگنو
" ننھا نور فرشتہ "   جیسا   لاگے  جگنو

(C): Adab e Atfaal no.14:
Nazm no:14. 
"Chidiya Aur Jugnoo"
Email id: aleemtahir12@gmail.com
Mobile no.9623327923.
________________________________

 ادب اطفال نمبر: 15
       نظم نمبر: 15
                  " دھوپ " 
                           علیم طاہر

روز سورج سے ہوتا جنم دھوپ کا
ہے خُدا کے کرم سے کرم دھوپ کا

دھوپ بهی جلتی رہتی ہے غم میں سدا
دُھوپ میں جلتا رہتا ہے غم دُھوپ کا 

دھوپ سردی میں ملتی رہے تو مزا
لطف گرمی میں ملتا ہے کم دھوپ کا

بھاگ جائے گی ظلمت بھی تب رات کی
جب بھی بکھرے گا دھرتی پہ دم دھوپ کا

اپنی  اسکول   پھر  جلد  کل  جائیں گے
صبح دیکھیں گے چہرہ جو ہم دھوپ کا

دھوپ رکھے ہیں سب کا بھرم دوستو
اور رکھا ہے سب نے بھرم دھوپ کا

اس میں ملتا نہیں ہے تعصب کبھی
صرف انسانیت ہے  علم  دھوپ  کا

دل لگی کتنی گہری ہے جگ سے  اسے
جیسے طاہر یہ جگ ہے  حشم دھوپ کا

(C):Adab e Atfaal no.15.
A Nazm"Dhoop" no.15.
 by ALEEM TAHIR
Email id: aleemtahir12@gmail.com
Mobile no.9623327923.
________________________________

 ادب اطفال نمبر :16
نظم نمبر: 16۔

          "طوطا "

                      علیم طاہر

مٹھو مٹھو سب کہتے ہیں میں طوطا  ہوں
 ساتھ مرے، بچے رہتے ہیں میں طوطا  ہوں

 چونچ  لال  ہے  ,جسم ہرا  ہے,  پیلے   پاؤں
 میری آنکھیں, رنگ بدلتی, دھوپ ، چھاؤں

 دہراؤں گا , نقل کروں  گا,  جو    بولو  گے
 پیرو مجھ کو, بہت پسند ہے, لا کر دو گے؟

 مجھ کو "پنجرہ گھر"، دے کر تم پال رہے ہو
  وقت  وقت  پر  ، کھانا  پانی ،ڈال  ر ہے ہو

 کیا لینا  دینا  ہے  مجھ  کو  اب  جنگل  سے
 میں توخوش ہوں آیا ہوں پچھلے منگل سے
 
تم اچھے انسان ہو, میں ہوں, اچھا, پنچھی
 دل  بہلانے   والا ,  دل  کا  ,  بچہ ,  پنچھی

 بولو پیار سے مٹھو مٹھو  منہ تو کھول
 بولو    پیار   سے    اللہ   اللہ  اللہ    بول

(C) Adab e Atfaal no: 16
Nazm no: 16
"Tota "
By:Aleem Tahir
Email id aleemtahir12@gmail.com
Mobile no.9623327923.
________________________________

 ادب اطفال نمبر: 17

نظم نمبر: 17

            "پیارےگاندھی جی"
                                          علیم طاہر

آن،بان اور شان  تھے  پیارے  گاندھی  جی
 بھارت کی پہچان تھے پیارے گاندھی جی

 دھوتی، لاٹھی، چشمہ، چپل، تھی پہچان
 اک رہبر انسان تھے  پیارے  گاندھی  جی

 چپل  پہنے   میلوں   پیدل   چلتے  تھے
 وہ پختہ ارمان تھے پیارے گاندھی جی 

ان   کا   ہر  اک   کام   کرشمہ   جیسا   تھا 
ہم سب پر احسان تھے پیارے گاندھی جی

 سارے   فرنگی  ہار   گئے   ان   کے   آگے 
دشمن کو نقصان تھے پیارے گاندھی جی

 پیار سے ان کو باپو بھی کہتے ہیں سب
 نفرت سے انجان تھے پیارے گاندھی جی

 وہ  چرخے  سے  سوت  کو  کاتا  کرتے  تھے
 محنت کی پہچان تھے پیارے گاندھی جی

 امن  و  سکوں  کے   سچے   پکے   شیدائی 
صبر و عمل کا گیان تھے پیارے گاندھی جی 

بھارت      کو     آزاد      کرایا       زندہ  باد
 بھارت کی سنتنان تھے پیارے گاندھی جی

 ستہ گرہ ہو،    مون برت،    یا     آندولن
 ہمت میں بلوان تھے پیارے گاندھی جی

 ہر   مذہب  سے   الفت  ان  کا   شیوہ  تھا
 انساں کی پہچان تھے، پیارے گاندھی جی

 سب  کو    جہالت     سے   دلوائی    آزادی
 علم کی اعلیٰ شان تھے پیارے گاندھی جی

 ہندو ، مسلم      اتحاد    کے  حامی    تھے
 یکجہتی کی جان تھے، پیارے گاندھی جی

 علم کے  اک ہتھیار  سے  جیتا  جنگوں کو
 سمجھو تو آسان تھے، پیارے گاندھی جی

 اچھی   اسکیموں   کے    پرچم    لہرائے
 طاہر  عالیشان تھے ، پیارے گاندھی  جی

(C): Adab e Atfaal no 17:
Nazm:no:17. "Peyare Gandhi Ji "
By:Aleem Tahir
Email id:
 aleemtahir12@gmail.com
Mobile no.9623327923.
________________________________
  
 

 (بچوں کی نظم) ....  ( شیر اور چوہا ) نمبر: 18

سویا   تھا   جنگل   کا   راجہ   اک  برگد   کے   نیچے
پڑا   ہوا   تھا  ضدّی   چوہا   یوں   ہی اس کے  پیچھے

شیر کے تن  پر  اُچھل  اُچھل  کر   چوہا   دوڑ   لگا تا
لیکن   شیر   کے   پنجّے   میں  وہ  جلد  ہی  پکڑا جاتا

شیر  نے  بولا  چھوٹے  چوہے  تیری  اتنی    جراءت
نیند  سے  تُو  نے   مجھے  جگایا   ایسی    تیری    ہمّت

اب میں  تجھ  کو  کھا  جاؤں  گا  کروں  گا قصّہ پاک
چوہا  بولا مجھ  چوہے  سے  بھوک   مٹے   گی   خاک

آج  مجھے  جو  چھوڑو   گے  تو  کل   آؤں  گا   کام
رحم   کرو   جنگل    کے    راجہ  اور    کرو   آرام

چوہے سے یہ سن کر چھوڑا بخش  دی اس  کی  جان
شیر  نے  اپنی  نیند  کی   چادر   دوبارا    لی    تان

اُس   دن   ایک   شکاری   آیا   شیر  پہ  ڈالا  جال
شیر  جال  میں پھنس کر  تڑپا  برا  تھا اس  کا  حال

گیا   شکاری   سرکس  کی   اک   لاری   کو   لانے
تھوڑی   دیر  ہی گزری  ہو گی  بس  اس  کو جانے

اپنی    بل   سے    چوہا    نکلا    دیکھا    یہ    منظر
سب چوہوں کو  دعوت  دی  کہ  آؤ  سارے  مل کر

میرا  اک  احسان   چکا    دو   آج    کتر   دو   جا ل
جس  نے  میری  جاں بخشی تھی برا ہے  اس کا  حال

سب  چوہوں   نے  جال  کو  کترا   شیر   ہوا   آزا د
رحم کے  بدلے  رحم  ہی    پایا   ہوا    کہاں    بربا د

ایک سبق  ملتا  ہے  اس   سے    رحم  کرو    سب   پر
رب  بھی  ہم  پر  رحم   کرے  گا یقیں  رکھو  رب  پر

 (Bachchon ki nazm)

( sher aurchuhaa)
Nazm no.
no.18....by..Aleem Tahir.

_______________________________

 بچّوں کی نظم..
(تتلی اور بچّہ) ..نمبر.....19

تتلی    بولی    ننّھے    راجہ یوں   بھاگو    نہ    پیچھے
گرِ   نہ   جاؤ    دائیں    بائیں    دیکھو    اوپر   نیچے

رنگ برنگے  باغ  میں میر ے پیچھے  پڑ گئے   کیوں؟
مجھ کو چُھُونے  کی  خواہش میں ضد پر  اڑ گئے کیوں؟

بولا    بچّہ    پیاری   تتلی   سنو     نا    میری   بات
میرے دل میں  خواہش جا گی   تمہیں   لگاؤں    ہاتھ

رنگ  برنگی    پیاری    پیاری   تم   وہ    رنگیلی    ہو
چُھونے  کی  خواہش  جاگی   ہے  تم   وہ    چمکیلی    ہو

بولی    تتلی     اچّھے    بچّے      دیکھو     لطف     اٹھاؤ
کچّے  رنگ ہیں  میرے  مجھ  کو  ہاتھ    ذرا    نہ   لگاؤ

چُھونے   کی   ضِد  چھوڑو    اور   کرو     ِمرا    دیدا ر 
رنگ  برنگی   دِکھتی  ہوں   تو    دِکھنے     دو    نا   یا ر

بولا     بچّہ      تتلی       رانی      سمجھ     مجھے      آیا  
میری    نادانی    تھی   تم    کو   چُھُو نے     کو      للچایا

بس   تم  کو   دیکھوں    گا     ا پنا   جی      بہلاؤں     گا   
اب  ہر گز   کچّے    رنگوں  کے   پاس    نہ     آؤں    گا 

اُڑتے     اُڑتے      ُگل     پر     بیٹھی      تتلی   مسکا   ئی 
اپنے   پروں   کو    پھیلا  کر  پھر   رنگ     نئے     دکھلائی

تتلی     نے    پر     پھیلائے     تو    فضا     ہوئی    متوالی
چمک   اٹھیں  بچّے   کی   آنکھیں   بجا     دیا     پھر      تالی

(Bachchon ki nazm) " titli aur bachcha"....no.19...by...Aleem Tahir...
________________________________

    نمبر :20.............
   پیاسا کّوا.......علیم طاہر

اڑتے اڑتے جنگل سے اک کوّا آیا
پانی پینے کی خواہش وہ ساتھ ہی لایا

کچّے گھر کے باہر تھا اک مٹکا خالی
لیکن اس کے اندر دیکھا تھوڑا پانی

مٹکے میں جب چونچ کو ڈالا چونچ نہ پہنچی
لگی ہوئی تھی زور کی اس کو پیاس بھی ایسی

اس نے سوچا چونچ میں پانی کیسے آئے
پیاس کی شدّت دیکھو کیسے عقل جگائے

ڈال رہا تھا مٹکے میں وہ اک اک کنکر
اِس تدبیر سے تھوڑا پانی آیا اوپر

جی بھر کے کوّے نے اپنی پیاس بجھائی
کیسے سوچ سمجھ کے من کی منزل پائی

پیارے بچّو سوچ سمجھ کر کام کرو سب
تدبیروں سے ہو جاتا ہے چاہے جو رب

(Bachon ki nazm) payasa kawwa...no.20
by...Aleem Tahir....
________________________________

  نمبر :21 :
 "اک بچّے نے چاند سے بولا"
.................علیم طاہر

اک    بچّے  نے   چاند  سے    بولا   چندا  ماما  سُن 
جب  آتی ہے رات   اندھیری   سب   گائیں ترے گُن 
بدلی   میں  تُو چھپ  جائے  تو  ناچ  دکھائے تارے
جگمگ جگمگ جگمگ جگمگ چاندنی جیسے سارے
تُو بدلی  سے جب   نکلے تو    تارے    منہ    لٹکائے
تیرے   اجیاروں   کے   آگے   شرما   کے چھپ جائے
دل   تاروں  کا   تُو  نے   دُ کھایا   کر لے  یہ احساس
مانا   تاروں   سے   بھی   زیادہ  نور  ہے تیرے پاس

اپنا   سمجھے جو  اوروں  کو   وہی  بڑا   ہے   چاند
تاک رہا ہے سُن  کے ابھی  تک   اور   کھڑا   ہے   چاند
جا   جا   کر   تاروں   کو   منا لے   تیرے   اپنے   ہیں
ان  بیچاروں  کے  دل  میں  بھی  پیارے  سپنے  ہیں

تُو     نے    میرا     کہنا      مانا    جاتا    ہے    ما ما 
میر ا    دل    بھی اب   تیرے گن    گاتا    ہے  ما ما

 (bachchon ki nazm)
Nazm no.no.21.....by...Aleem Tahir
______________________________

(بچّوں کی نظم)..

" ابّاابّا سنو  توابّا "..نمبر..22
.علیم طاہر.

ابّا   ابّا   سُنو   تو   ابّا ! 
  گاؤں   میں   اک   میلا   آیا
میں نے سُنا ہے اس میلے نے 
دنیا بھر کی خوشیاں لایا

چھُک چھُک کرتی ریل وہاں ہے
بندوقوں کا کھیل وہاں ہے

جھولے بجلی سے چلتے ہیں
بچّے رسّی پہ چلتے ہیں

اچھل کود کو سُرکنڈی ہے
نئے کھلونوں کی منڈی ہے

ایک کنواں ہے موت کا گہرا
چاروں جانب اس کے پہرا

اس میں موٹر سائیکل والا 
نیچے سے اوپر کو آتا

اوپر سے نیچے کو جاتا 
ہاتھ چھوڑ کے  خوب  چلاتا

اک بچّوں کی دنیا بھی ہے
رستہ بھول بھلیّا بھی ہے

اک آئینہ خانہ بھی ہے
بس ہنستے ہی جانا بھی ہے

میری  دلچسپی کا  سبب ہے
بولو آپ کو چھٹّی کب ہے؟؟؟

ابّا ابّا  سنو  تو ابّا! 
گاؤں میں اک میلا آیا
میں نے سنا ہے اس میلے نے
دنیا بھر کی خوشیاں لایا

سنڈے  کو پکّا جی ابّا 
وعدہ ہے وعدہ جی ابّا

 (Bachchon ki nazm)
A Nazm no: 22.....................     by Aleem Tahir.....
________________________________

 (بچّوں کی نظم) 
( چیتا اور گدھا )...نمبر:23..
علیم طاہر

گدھے سے بولا اک چیتا بیٹھ جا میرے سنگ
اور   بتا  دے  کیسا   ہے  آسمان  کا  رنگ 

میرا یہی سوال ہے دے دے سہی جواب
 اپنی عقل کا پا لے تُو مجھ سے بڑا خطاب

گدھے  نے  بولا  کالا ہے آسمان  کا  رنگ
چیتا  بولا  نیلا  ہے عقل  ہوئی  تری  بھنگ

بحث بڑھی جب دونوں کی پھر یہ طئے پایا
دھیان   شیر  سے  ملنے   کا   چیتا  کو آیا

جنگل  کا  ہے  راجہ  شیر  چیتا  بولا  چل
وہی نکالے  گا  اپنی  اس  اُلجھن  کا  حل

شیر نے  دیکھا دونوں کو بولا  کیا ہے  بات؟
تم دونوں ملنے  مجھ سے کیوں آئے ہو ساتھ؟

چیتے   نے    فریاد   کی   مائی  باپ   سرکار
آسمان  ہے   نیلا   پر  گدھا  کرے    انکا ر

گدھے سے میں نے پوچھا  تھا فلک کا کیسا  رنگ
بول  رہا  ہے   کالا ہے  بحث کرے مرے سنگ

دودھ  کا    کر دو   دودھ  تم    پانی    کا   پانی
پھر جنگل میں  کوئی  بھی  کرے  نہ من    ما نی

سُن  کر    چیتے    کی  باتیں ،   غصّے    میں    آیا  
حکم   دیا  اور   چیتے  کو ،   جیل    میں    ڈلو ا یا

گدھے   سے  بولا  شیر  نے    جاؤ     تم    آزاد
یہی  مرا   انصاف   ہے   رکّھو    مجھ    کو   یا د

 چیتا  بولا   شیر   سے    دل    کو  کیا  سمجھا ؤ ں؟
سچ  بھی میں ہی  بولوں اور جیل بھی میں ہی جاؤں!

بولا  شیر  نہیں  ہے  یہ  سچ  اور  جھوٹ  کی بات!
بحث گدھے سے  کی تم  نے گدھے کی  کیا اوقات؟

بحث  گدھے  سے  نہ  کرتے  نہ  پاتے  تم  جیل
سزا  جیل  میں    کا ٹو   اب  ختم  ہوا  یہ  کھیل

اس    قصّے   سے    بچّو   تم   ایک   سبق   لینا
جس  کی  جتنی   عزّت   ہو    اُتنی    ہی    دینا

(Bachchon ki nazm) (cheeta aur gadha)
Nazm no:
23...by.....AleemTahir
_______________________________

 (بچّوں کی نظم )"
 اک بیٹی کی پیاری باتیں" 
نمبر .. 24                         علیم طاہر

ابّا   ابّا   آج   ہے   سنڈ  ے
پورے کرنے ہوں گے وعدے

صبح سے میں تیاّر ہوئی ہوں
دیکھو میں کیسی لگتی ہوں

امّی چائے  بنا رہی  ہے  
پاؤ پہ  مسکا  لگا  رہی ہے

آنکھیں کھولو اٹھو نا جلدی
سرکس میں ہو جائے گی گردی

سنا ہے سرکس بہت بڑی ہے
تمبو  گاڑے  دور کھڑی  ہے

 کیا کیا سرکس میں جلوے ہیں
چلیے ناں جلدی چلتے ہیں

سنا ہے  رہتے ہیں مل جل کے
جنگل کے خوںخوار درندے

بھا لو  بندر چیتے بھی ہیں
کار میں کھاتے پیتے بھی ہیں

شیر ڈرائیور بن جاتا  ہے 
ساتھ ہی بندر تن جاتا  ہے

اک   رسّی   پر   چلتی   لڑکی
دیکھیں کیسے سنھبلتی لڑکی

الگ الگ بجلی کے جھولیں
یوں لگتا ہے فلک کو چھو لیں

بچوّں کا کشمیری  گھر ہے
اندر برف کا ہر منظر ہے

سنا ہے موت کا ایک کنواں ہے
جس میں ہمّت والا جواں ہے

وہ کنواں کی دیواروں پر 
بائیک سے کاٹے ہے چکّر

خدا کرے وہ رہے سلامت 
وہ کتنی رکھتا  ہے ہمّت

خوب دکانیں لگی ہوئیں ہیں
رنگ برنگی سجی ہوئیں ہیں

موسیقی کا رقص وہاں  ہے
جوکر جیسا شخص وہاں ہے

گرتا    اور  سنبھلتا   ہے   وہ
 پھُدک پھُد ک کر چلتا ہے وہ

امّی   بھی  تیّار  ہوئی  ہے
آپ کی ٹائی خوب لگی ہے

یاد کرو کیا کچھ بھولے ہیں
میں نے سینڈل پہن لئے ہیں 

چلو   لگا   دو   تالا    باہر
نظر  رکھیں  گی  خالہ باہر

ابّا    ابّا       آج   ہے   سنڈ ے
پورے  کرنے  ہوں  گے  وعدے ....

Bachchon ki Nazm...
No.24...
by..Aleem Tahir.
Email id:
 aleemtahir12@gmail.com
________________________________

بچّوں کی نظم..نمبر :25
دو بلیاّں....علیم طاہر.....

رات کو اک گھر کی کھڑکی سے کودی بلّی
اس کے پیچھے دھم سے آئی دوجی بلّی

چپکے چپکے کچن کے اندر دونوں پہنچیں
ان  دونوں نے گیہوں کی اک روٹی پائیں

روٹی لے کر پیڑ کے نیچے دونوں بیٹھیں
یہ میری روٹی ہے مل کر دونوں بولیں

پہلی بلّی بولی اس کو میں کھاؤں گی
دوجی بولی دے دے ورنہ لڑ جاؤں گی

دیکھ رہا تھا پیڑ پہ بیٹھا بھورا بندر
بولا میں انصاف کروں گا نیچے آکر

ایک ترازو لے کر آیا بندر نیچے
اک اک پلڑے میں رکھّے دو ٹکڑے کر کے

جو پلڑا جھکتا تھا اس کا ٹکڑا توڑے
توڑ کے ٹکڑا بندر اپنے منہ میں ڈالے

دھیرے دھیرے پوری روٹی کھائی اس نے
اپنی عقل سے اپنی بھوک مٹائی اس نے

منہ تکتے رہ گئیں دونوں بھورے  بندر کا
جھانک رہا تھا آنکھ سے ان کے غم اندر کا

بچّو آپس میں لڑنے سے ہوتا ہے نقصان
مل جل کر رہنے سے ہوتا جینا بھی آسان
 

(C):Bachchon ki nazm ..do billiyaan .
Nazm no.....25..by...Aleem Tahir.

Abba abba aaj hai sunday......sheri majmuaa....
Adab e atfaal
by
Aleem Tahir.
________________________________

Kitaab ka Naam:
" Aleem Tahir ki Nazmen "
(Adab e Atfaal)

(  Khas Bachchon ke liye, Pachchhees Nazmon ki Dilchasp kitaab)

________________________________

(Bachchon ke)
Shayer o Adeeb:
Aleem Tahir.