Monday, 2 February 2026

جب خواب کیمرہ مانگیں _ مالیگاؤں کے سپر بوائز اور سنیما کی ضد_____تجزیاتی مضمون نگار: علیم طاہر ____سنیما صرف روشنیوں، بڑے سیٹ اور شہرت کا نام نہیں _کبھی کبھی سنیما ایک ضد ہوتی ہے_ایسی ضد جو محدود وسائل، معاشی مجبوریوں اور سماجی بے اعتنائی کے باوجود زندہ رہتی ہے۔Superboys of Malegaon میرے نزدیک ایسی ہی ایک فلم ہے، جو دیکھنے کے بعد ناظر کو محض متاثر نہیں کرتی بلکہ اسے سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ خواب آخر کہاں جنم لیتے ہیں اور کن قیمتوں پر زندہ رکھے جاتے ہیں۔یہ فلم مالیگاؤں جیسے ایک چھوٹے، صنعتی اور محنت کش شہر سے اٹھنے والے اُن لوگوں کی کہانی ہے جنہوں نے بغیر فلمی تعلیم، بغیر سرمائے اور بغیر کسی ادارہ جاتی سہولت کے فلم بنانے کا فیصلہ کیا۔ یہ فیصلہ کسی رومانوی خیال سے زیادہ ایک عملی بغاوت تھا_زندگی کی یکسانیت کے خلاف، اور اس تصور کے خلاف کہ سنیما صرف بڑے شہروں کی میراث ہے۔کہانی جو حقیقت سے نکلتی ہےریما کاگتی کی ہدایت کاری میں بننے والی یہ فلم ناصر شیخ اور اس کے ساتھیوں کی حقیقی زندگی سے متاثر ہے۔نوّے کی دہائی کے اواخر میں شروع ہونے والا یہ سفر ہمیں دکھاتا ہے کہ کس طرح ایک چھوٹا سا ویڈیو پارلر، چند دوست، ایک سائیکل پر رکھا کیمرہ اور بے پناہ جذبہ آہستہ آہستہ ایک شہر کی شناخت بن جاتا ہے۔یہاں فلمیں پیروڈی ضرور ہیں، مگر ان میں طنز کے ساتھ ساتھ محبت بھی ہے۔ شعلے، شان اور سپرمین جیسی کہانیاں صرف ہنسانے کے لیے نہیں بلکہ اپنے گردوپیش کی حقیقتوں کو سمجھنے کے لیے بنائی جاتی ہیں۔ یہ لوگ اپنے شہر سے فرار نہیں چاہتے_ یہ اسے کیمرے کے فریم میں نئی شکل دینا چاہتے ہیں۔دوستی، نقصان اور تخلیقاس فلم کا سب سے مضبوط پہلو اس کی دوستی ہے۔شفیق، علیم ، فروغ اور اکرم جیسے کردار محض کہانی کے مہرے نہیں بلکہ ایک اجتماعی خواب کے نگہبان ہیں۔ بیماری، موت اور ناکامی اس داستان کا حصہ ہیں، مگر کہیں بھی خود ترسی یا شکایت کا شور نہیں۔ یہاں دکھ بھی وقار کے ساتھ جیا جاتا ہے۔فلم بہت واضح طور پر یہ بات کہتی ہے کہ سنیما اکیلے نہیں بنتا۔ایک فلم بنانے کے لیے واقعی ایک گاؤں درکار ہوتا ہے_اور مالیگاؤں اس کا جیتا جاگتا ثبوت ہے۔“علیم” _ یعنی (علیم طاہر) کردار سے آگے ایک شناختاس فلم کا ایک پہلو میرے لیے ذاتی بھی ہے۔پلو سنگھ کے ذریعے ادا کیا گیا “علیم” کا کردار دراصل میری اپنی موجودگی، میری رفاقت اور اس تخلیقی سفر کی علامت ہے جسے میں نے ان لوگوں کے ساتھ جیا۔یہ محض ایک اسکرین کردار نہیں بلکہ اس خواب کا وہ حصہ ہے جو کیمرے کے سامنے کم اور پس منظر میں زیادہ سانس لیتا ہے۔اسی لیے یہ بات محض رسمی نہیں کہ فلم کے اختتام پر ٹائٹل اسکرین پر میرے نام اور تصویر کے ساتھ مجھے اسکرین کریڈٹ دیا گیا۔ یہ اس اجتماعی جدوجہد کا اعتراف ہے جس میں کئی لوگ روشنی سے دور رہ کر بھی سنیما کو ممکن بناتے ہیں۔بڑا بجٹ، مگر چھوٹی روح نہیںیہ بات قابلِ ذکر ہے کہ Superboys of Malegaon کسی معمولی سطح کی فلم نہیں۔یہ فلم تقریباً بیس سے تیس کروڑ روپے کی لاگت سے تیار کی گئی اور اس کے پروڈیوسرز میں رتیش سدھوانی، فرحان اختر اور زویا اختر جیسے نمایاں نام شامل ہیں۔اس کے باوجود، فلم اپنی روح میں کسی بڑے بجٹ کی نمائش نہیں بلکہ چھوٹے لوگوں کی بڑی کہانی بن کر سامنے آتی ہے۔عالمی اسکرین پر مالیگاؤںیہ فلم محض مقامی تجربہ نہیں رہی۔کینیڈا، برطانیہ، سعودی عرب اور دیگر ممالک میں اس کی نمائش اور پذیرائی نے یہ ثابت کر دیا کہ چھوٹے شہروں کی کہانیاں بھی عالمی زبان رکھتی ہیں۔دنیا بھر میں ریلیز ہونے کے بعد، فلم نے مختلف ثقافتوں کے ناظرین کو یہ احساس دلایا کہ خوابوں کی جدوجہد جغرافیہ نہیں دیکھتی۔فن، طبقہ اور سوالSuperboys of Malegaon ایک بنیادی سوال اٹھاتی ہے:فن پر حق کس کا ہے؟کیا وہی کہانیاں معتبر ہیں جو شہری اشرافیہ کے دائرے میں جنم لیں،یا وہ بھی جو پاور لومز کے شور، چھوٹے گھروں اور محدود امکانات میں پیدا ہوں؟یہ فلم کسی کا مذاق نہیں اڑاتی، نہ ہی ترس بیچتی ہے۔یہ صرف اتنا کہتی ہے کہ اگر نیت سچی ہو تو کرنج بھی تخلیقی ہو سکتا ہے۔________میرے نزدیک Superboys of Malegaon صرف فلم بنانے کی کہانی نہیں، بلکہ اس سوال کا جواب ہے کہ لوگ آخر فلمیں کیوں بناتے ہیں۔شہرت کے لیے نہیں،پیسے کے لیے نہیں،بلکہ اس لیے کہ کچھ کہانیاں کہے بغیر رہا نہیں جاتا۔یہ اُن لوگوں کی داستان ہے جو یہ ماننے کے لیے کافی دیوانے تھے کہ وہ اپنی فلم خود بنا سکتے ہیں—جبکہ ان کے پاس نہ وسائل تھے، نہ علم، اور نہ کسی کی اجازت۔اور بعض اوقات،دنیا بدلنے کے لیےاتنی سی دیوانگی ہی کافی ہوتی ہے۔_________باب دوم:--------کیمرہ، شہر اور وہ لوگ جو پس منظر میں رہ جاتے ہیںبابِ اوّل میں جن خوابوں، ضد اور اجتماعی جذبے کا ذکر ہوا، وہ محض نظری تصورات نہیں تھے۔ان خوابوں کی ایک جغرافیہ تھی، ایک سماجی ساخت تھی، اور سب سے بڑھ کر—ایک شہر تھا۔وہ شہر مالیگاؤں تھا۔مالیگاؤں محض ایک لوکیشن نہیں، بلکہ اس فلم کا خاموش کردار ہے۔ پاور لومز کی آواز، تنگ گلیاں، محنت کش چہرے، دن بھر کی تھکن اور رات کی امید—یہ سب کچھ Superboys of Malegaon میں محض پس منظر نہیں بنتا بلکہ بیانیے کا حصہ ہو جاتا ہے۔ یہاں سنیما کسی خوابناک فرار کا راستہ نہیں بلکہ روزمرہ زندگی سے مکالمہ کرتا ہے۔کیمرہ بطور ہتھیارِ اظہاراس فلم میں کیمرہ کسی تکنیکی کمال کی نمائش نہیں کرتا۔یہ اکثر کانپتا ہے، کبھی زاویہ بگڑ جاتا ہے، کبھی روشنی پوری نہیں ملتی—مگر یہی خامیاں اسے سچا بناتی ہیں۔یہ کیمرہ اُن لوگوں کے ہاتھ میں ہے جن کے لیے اظہار ایک عیاشی نہیں بلکہ ضرورت ہے۔یہاں کیمرہ تفریح کا آلہ نہیں، اپنی موجودگی درج کرانے کا ذریعہ ہے۔ایک ایسا ذریعہ جو یہ اعلان کرتا ہے کہہم بھی یہاں ہیں، ہماری بھی کہانی ہے۔پس منظر کے کردار اور اصل کہانیہر فلم میں کچھ لوگ ہوتے ہیں جو پوسٹر پر نہیں ہوتے،جن کے نام تالیاں نہیں سمیٹتے،مگر جن کے بغیر فلم مکمل نہیں ہوتی۔Superboys of Malegaon ان ہی لوگوں کی طرف اشارہ کرتی ہے—وہ دوست جو شوٹنگ کے بعد سیٹ سمیٹتے ہیں،وہ فنکار جو دن میں مزدوری کرتے ہیں اور رات کو اداکار بنتے ہیں،وہ لوگ جو اسکرین پر کم اور حقیقت میں زیادہ موجود ہوتے ہیں۔یہ فلم بڑی دیانت داری سے دکھاتی ہے کہ تخلیق کا سفر ہمیشہ رومانوی نہیں ہوتا۔یہاں اختلاف بھی ہے، انا بھی ہے، مایوسی بھی—مگر ان سب کے بیچ ایک مشترک بات ہے:چھوڑ نہ دینے کی ضد۔فن اور روزگار کے بیچ پھنسی زندگیمالیگاؤں کے سپر بوائز ایک ایسے سماج سے آتے ہیں جہاں فن کو پیشہ ماننے میں ہچکچاہٹ ہے۔یہاں خوابوں کی قیمت اکثر روزگار سے چکانی پڑتی ہے۔اسی لیے فلم میں بار بار یہ کشمکش ابھرتی ہے:کام یا خواب؟ذمہ داری یا جنون؟یہ سوال کسی فلسفیانہ مباحثے کی طرح نہیں آتا بلکہ روزمرہ کی سطح پر سامنے آتا ہے—کرایہ، گھر، بیماری، شادی، موت_سب کچھ تخلیق کے ساتھ ساتھ چلتا رہتا ہے۔وہ “علیم” جو فریم کے کنارے کھڑا ہےاس باب میں ایک بات کا ذکر ضروری ہے جو اکثر نظرانداز ہو جاتی ہے۔فلم میں “علیم” کا کردار محض ایک فرد کی نمائندگی نہیں کرتا بلکہ اُن سب لوگوں کی علامت ہے جو تخلیق کے مرکز میں رہتے ہوئے بھی شہرت کے دائرے سے باہر ہوتے ہیں۔مقیم ارشد ایسے ہی ایک نوجوان اداکار ہیں۔ جو کیریکٹر رول میں پچیس سالوں پہلے بھی شامل تھے انہیں کو آج بھی شامل کیا گیا ہے ۔ یہ مقیم ارشد کے لیے انفرادی شناخت ہے۔یہ وہ لوگ ہیں جو نظریہ سنبھالتے ہیں، بات چیت جوڑتے ہیں، اختلاف کو سلجھاتے ہیں،اور اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ خواب بکھرنے نہ پائیں۔یہ کردار اس بات کی یاد دہانی ہے کہسنیما صرف اسکرین پر نظر آنے والوں کا فن نہیں—یہ ایک اجتماعی عمل ہے جس میں ہر موجودگی معنی رکھتی ہے۔شہر سے عالمی اسکرین تکدلچسپ بات یہ ہے کہ جس شہر کو اکثر حاشیے پر رکھا جاتا ہے،اسی شہر کی کہانی نے عالمی اسکرین پر جگہ بنائی۔کینیڈا، برطانیہ، سعودی عرب اور دیگر ممالک میں اس فلم کی پذیرائی اس بات کا ثبوت ہے کہکہانیاں جب سچائی سے کہی جائیں تو زبان اور سرحد کی محتاج نہیں ہوتیں۔مالیگاؤں کی گلیوں سے نکلنے والی یہ آواز دنیا کو یہ بتانے میں کامیاب رہی کہچھوٹے شہروں کے خواب بھی عالمی معنویت رکھتے ہیں۔باب کا حاصلیہ باب ہمیں یہ سمجھاتا ہے کہSuperboys of Malegaon صرف افراد کی کہانی نہیں،یہ ایک شہر، ایک طبقے اور ایک نظرانداز شدہ تخلیقی قوت کی داستان ہے۔یہ اُن لوگوں کی کہانی ہےجو فریم کے اندر بھی ہیں اور باہر بھی،جو اسکرین پر نظر آتے بھی ہیں اور نہیں بھی،مگر جن کے بغیر کوئی فلم ممکن نہیں۔تجزیاتی مضمون نگار:علیم طاہر__________________(C)Aleem Tahir Email id aleemtahir12@gmail.com ___________________