Saturday, 27 December 2025

میڈیا، نظریہ اور سماج: مکالمے سے تصادم تک کا خطرناک سفر علیم طاہر______________________________ڈیجیٹل میڈیا کے عروج نے اظہارِ رائے کو بلاشبہ آسان بنایا، مگر اسی کے ساتھ ایک نیا بحران بھی جنم لیا: مکالمے کی جگہ تصادم اور سوال کی جگہ سنسنی۔ آج میڈیا کا ایک بڑا حصہ سماج کو جوڑنے کے بجائے اسے نظریاتی خیموں میں بانٹنے کا کام کر رہا ہے _ مذہب، شناخت اور عقیدے جیسے نازک موضوعات کو اس انداز میں پیش کیا جاتا ہے کہ نتیجہ فہم و تدبر نہیں بلکہ اشتعال اور پولرائزیشن نکلتا ہے۔یہ سوال اب محض یہ نہیں رہا کہ خدا ہے یا نہیں، مذہب جدیدیت سے ہم آہنگ ہے یا نہیں—بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کون، کس نیت سے، کن شرائط پر یہ سوالات اٹھا رہا ہے؟ جب موضوعات کی تشکیل ہی ایجنڈا سیٹنگ کے تحت ہو، تو بحث کا انجام پہلے سے طے شدہ ہوتا ہے۔ ایسے پروگرام بظاہر فلسفیانہ دکھائی دیتے ہیں، مگر درحقیقت وہ سماجی نفسیات میں دراڑیں ڈالنے کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔میڈیا کا بنیادی فریضہ یہ تھا کہ وہ عوامی مفاد کے سوالات—تعلیم، صحت، روزگار، مہنگائی—کو مرکز میں رکھے۔ مگر آج ہم دیکھتے ہیں کہ شناختی سیاست کو مرکزی دھارے میں لا کر اصل مسائل کو پسِ پشت ڈال دیا جاتا ہے۔ یہ حکمتِ عملی وقتی طور پر ریٹنگ اور ویورشپ تو بڑھا دیتی ہے، لیکن طویل مدت میں سماج کو عدمِ اعتماد اور خوف کی طرف دھکیلتی ہے۔ اختلافِ رائے جمہوریت کی روح ہے، مگر اختلاف کو دشمنی میں بدل دینا جمہوری زوال کی علامت ہے۔ایک خطرناک رجحان یہ بھی ہے کہ پینل ڈسکشنز کو اس طرح ڈیزائن کیا جاتا ہے کہ توازن کا گمان پیدا ہو، مگر حقیقت میں ایک فریق کو علامتی نمائندگی دے کر دوسرے کو غالب دکھایا جائے۔ اس سے نہ تو علم میں اضافہ ہوتا ہے اور نہ ہی ناظرین کو سچ تک رسائی ملتی ہے۔ نتیجتاً، عوام کے ذہن میں پیچیدہ سماجی سوالات سادہ، تعصبی بیانیوں میں ڈھل جاتے ہیں۔ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کا ’سافٹ پروپیگنڈا‘ اس پورے منظرنامے میں سب سے زیادہ تشویشناک ہے۔ غیر رسمی زبان، دوستانہ انداز اور ’کول‘ پریزنٹیشن کے پیچھے چھپا ہوا نظریاتی انتخاب زیادہ دیرپا اثر ڈالتا ہے، کیونکہ یہ غیر جانبداری کے لبادے میں پیش کیا جاتا ہے۔ یہاں مسئلہ صرف مواد کا نہیں، مواد کے انتخاب کا ہے—کہ کن سوالات کو بار بار اٹھایا جا رہا ہے اور کنہیں مسلسل نظرانداز کیا جا رہا ہے۔میڈیا کی اس سمت کے پیچھے کارپوریٹ مفادات اور سیاسی قربتوں کا کردار بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ جب میڈیا ادارے چند بڑے کاروباری گروپس کے ہاتھوں میں مرتکز ہو جائیں، تو ادارتی آزادی دباؤ میں آ جاتی ہے۔ سرکاری اشتہارات اور پالیسی مفادات ایک ایسا معاشی شکنجہ بناتے ہیں جس میں صحافت رفتہ رفتہ نگہبان سے تابع دار بن جاتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں صحافی سوال کرنے کے بجائے بیانیہ آگے بڑھانے لگتے ہیں۔اس کا سب سے گہرا اثر نوجوان نسل پر پڑتا ہے۔ جب سنجیدہ مسائل کو سطحی اور اشتعال انگیز مباحث میں بدل دیا جائے، تو تنقیدی سوچ کمزور پڑ جاتی ہے۔ نوجوان دلیل کے بجائے شناخت کے ساتھ کھڑے ہونے لگتے ہیں، اور یہی وہ لمحہ ہے جہاں سماج فکری بانجھ پن کا شکار ہو جاتا ہے۔حل کیا ہے؟حل سنسرشپ نہیں، بلکہ ادارتی ذمہ داری ہے۔ میڈیا کو چاہیے کہ وہ مکالمے کی شرطیں خود طے کرے—برابری، احترام اور علمی دیانت۔ اختلاف کو جگہ دے، مگر نفرت کو نہیں۔ مذہب اور فلسفے جیسے موضوعات پر گفتگو ہو، مگر اس نیت سے کہ فہم بڑھے، نہ کہ خلیج گہری ہو۔ صحافت کا اصل مذہب سچ ہے، اور اس کی عبادت سوال سے ہوتی ہے_ سنسنی سے نہیں۔اگر میڈیا نے اپنے نظریاتی جھکاؤ کو عوامی مفاد پر فوقیت دی، تو یہ بحران صرف خبروں تک محدود نہیں رہے گا؛ یہ سماج کی رگوں میں اتر جائے گا۔ اور پھر تاریخ گواہ ہے کہ ایسے زہر کا تریاق نسلوں میں بھی مشکل سے ملتا ہے۔